آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانوی وزیر اعظم کی پیر کو کام پر واپسی متوقع، سپین میں یومیہ اموات میں ریکارڈ کمی

کورونا وائرس سے دنیا میں 28 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے نائب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باعث تین ہفتوں تک کام پر نہ جانے کے بعد وزیرِ اعظم اب دفتر میں واپسی کے لیے بے تاب ہیں۔وزیرِ اعظم جانسن ایک ہفتہ ہسپتال میں بشمول تین راتیں انتہائی نگہداشت میں گزارنے کے بعد کل سے ڈاؤننگ سٹریٹ میں کُل وقتی فرائض دوبارہ سنبھالیں گے۔

لائیو کوریج

  1. پنجاب میں اساتذہ سے مساجد کی نگرانی کیوں کروائی جا رہی ہے؟

  2. انڈیا: مسجد پر حملے کی وائرل ویڈیو کی پوری کہانی

  3. دنیا کی مدد کرنے والے چینی ارب پتی کو کس سے خطرہ ہے؟

  4. لاک ڈاؤن کے باوجود قریبی دوستوں سے ملنے کی اجازت ہونی چاہیے؟

  5. فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح میں تعلق

  6. پاکستانی وینٹیلیٹر: ’اس کا معیار عالمی سطح کا ہے اور قیمت کم ہو گی‘

  7. کورونا: پاکستان میں مصدقہ مریضوں میں سے ’27 فیصد متاثرین لاہور میں‘

  8. برطانیہ: ایسٹر کے بعد سے کیئر ہومز میں 4343 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں

  9. کورونا ویکسین کے لیے دنیا کی نظریں انڈیا پر کیوں

  10. 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

  11. کورونا کا ’کرشماتی علاج‘ جو وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے

  12. کیا لاک ڈاؤن کے دوران کھانے پینے کی عادات تبدیل ہونے پر پریشان ہونا چاہیے؟

  13. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی کورونا وائرس کے متعلق لائیو کوریج جاری ہے لیکن یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    باخبر رہنے کے لیے ہمارا نیا لائیو پیج یہاں ملاحظہ کیجیے۔

  14. بریکنگ, نیویارک: 'لوگوں کو غیر معینہ مدت تک گھروں پر نہیں بٹھا سکتے'

    امریکہ کی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے کہا ہے کہ ریاست میں اموات کی شرح میں بتدریج کمی ہو رہی ہے اور سنیچر کو 367 اموات ہوئیں، جبکہ اموات کی تعداد جمعے کو 437 تھی۔

    انھوں نے کہا کہ مرض پھیلنے اور اموات کی شرح سے یہ فیصلہ ہوگا کہ ریاست کو دوبارہ کب اور کیسے کھولا جائے گا۔

    کیومو نے کہا کہ لوگوں کو غیر معینہ مدت تک کے لیے گھروں پر رہنے اور گرمیوں میں کوئی کام نہ کرنے کا کہنا ناممکن ہوگا۔

    انھوں نے گھریلو تشدد، منشیات اور شراب کے زیادہ استعمال، اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کی خبروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ حکام کو یہ مسئلہ بھی درپیش ہے۔

  15. سپین میں بچے ایک مرتبہ پھر باہر کی دنیا سے لطف اندوز ہونے لگے

    اتوار کو چھ ہفتوں میں پہلی مرتبہ سپین میں 14 سال سے کم عمر بچوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد گلیوں میں الگ ہی سماں دیکھنے میں آیا۔

    سپین نے حال ہی میں لاک ڈاؤن کے قواعد میں نرمی کردی ہے جس کے بعد بچے صبح نو سے رات نو کے درمیان ایک گھنٹے کے لیے باہر نکل سکیں گے۔

    بچوں کے گھر سے نکلنے پر 14 مارچ سے پابندی عائد تھی۔

    اب بھی کچھ پابندیاں باقی ہیں، مثلاً بچے عوامی پارکس میں نہیں جا سکتے اور نہ ہی ایک کلومیٹر سے زیادہ دور جا سکتے ہیں۔

  16. بریکنگ, اٹلی: یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 14 مارچ سے اب تک کم ترین سطح پر

    اٹلی میں 14 مارچ سے اب تک ہلاکتوں کی یومیہ تعداد کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔

    حکام نے اتوار کو 260 مزید ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 26 ہزار 644 ہوگئی ہے۔

    یوں اٹلی امریکہ کے بعد ہلاکتوں کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

    آج کے اعداد و شمار گذشتہ تین دن سے کم ہوتی ہلاکتوں کی تعداد کا سلسلہ ہیں اور کل کی 415 ہلاکتوں کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہیں۔

  17. کیا برطانیہ میں مزید ایک لاکھ افراد کورونا سے ہلاک ہو سکتے ہیں؟, ڈیوڈ شکمین، سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز

    برطانیہ کے امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں ایک لاکھ مزید افراد کووِڈ-19 سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔

    یہ اندازے اب شہ سرخیوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔

    محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا ہوگا اگر سب سے زیادہ خطرے کے شکار لوگوں کے سوا سب لوگوں پر سے لاک ڈاؤن کی پابندی اٹھا لی جائے اور صرف عمر رسیدہ یا طبی مسائل کے حامل لوگوں کو ہی حفاظت سے رکھا جائے۔

    امپیریئل کالج کے پروفیسر نیل فرگوسن نے ان ہرڈ نامی ویب سائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ لوگ سب سے زیادہ خطرے کے شکار ہیں اور وہ بھی جنھیں نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔

    اگر اس گروہ کے لیے انفیکشن کی شرح میں 80 فیصد بھی کمی ہوجائے تو ان کے تحقیق کے مطابق ایک لاکھ افراد مزید ہلاک ہو سکتے ہیں۔

    یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ برطانیہ کی حکومت اس حوالے سے کوئی اشارے نہیں دے رہی کہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو کب اٹھایا جائے گا اور کیسے۔ اس کے علاوہ یہ تحقیق بھی ابھی جاری نہیں کی گئی ہے اور یہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔

    اس کے نتائج جو بھی ہوں، لیکن یہ تحقیق اس وائرس کے خطرے کی یاد دہانی کرواتی ہے، اور یہ باور کرواتی ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کرنا کتنا مشکل ہے۔

  18. انڈیا: غیر سرکاری قرنطینے میں خاتون سے اجتماعی زیادتی

    انڈیا کی پولیس نے ان تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر غیر سرکاری قرنطینے میں رکھی گئی ایک خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے کا الزام ہے۔

    معمولی اجرت پر کام کرنے والی یہ خاتون 100 کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں اپنے گھر پہنچنا چاہ رہی تھیں کہ راستہ بھول گئیں۔

    پولیس نے انھیں دیکھ لیا اور ایک مقامی سکول کی سنسان عمارت میں لوگوں سے دور رہ کر رات رکنے کے لیے کہا کہ کہیں انھیں وائرس نہ ہو۔

    مگر وہاں ان کے ساتھ اندھیرا ہونے پر اجتماعی زیادتی کی گئی۔

    انڈیا میں گذشتہ ماہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے کئی کئی دن کا پیدل سفر کرتے رہے ہیں۔

  19. بریکنگ, ملائیشیا نے روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی کو واپس موڑ دیا

    میانمار سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں روہنگیا پناہ گزینوں کی ایک کشتی کو ملائیشیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے کیونکہ حکام کو کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔

    بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ 20 سے 50 کے قریب پناہ گزین ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد بنگلہ دیشی کوسٹ گارڈز نے کشتی کو بچایا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے دیکھا کہ ‘لاشوں کو سمندر میں پھینکا جا رہا ہے۔’

    خیال کیا جا رہا ہے کہ اب بھی سینکڑوں پناہ گزین سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے یقینی طور پر کہا نہیں جا سکتا کہ بنگلہ دیش انھیں قبول کرے گا یا نہیں۔

    میانمار میں نسل کشی سے فرار ہونے والے یہ پناہ گزین کچھ لوگوں کے مطابق بنگلہ دیش میں اپنے کیمپوں سے نکلے تھے۔

  20. 'سماجی دوری کے مثبت نتائج نظر آ رہے ہیں'

    برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے نیشنل میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر سٹیفن پوویس نے کہا ہے کہ سماجی دوری کے فوائد واضح طور پر نظر آ رہے ہیں کیونکہ ہسپتالوں میں داخلوں اور انتہائی نگہداشت میں زیرِ استعمال بستروں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔

    متاثرین سے رابطے میں آنے والے لوگوں کی نشاندہی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سب سے زیادہ مؤثر تب ہوگا جب انفیکشن کی شرح کم ترین سطح پر ہو۔ انھوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی نشاندہی وبا کو روکنے کا ایک ‘آزمودہ’طریقہ کار ہے مگر متاثرین کی تعداد جتنی کم ہو، اس پر عملدرآمد اتنا آسان ہوجاتا ہے۔

    پروفیسر پوویس نے مزید کہا کہ یہ ‘سامنے آتی ہوئی سائنس کی بنا پر ارتقا پذیر حکمتِ عملی ہے۔’