سعودی عرب اور ایران کے بعد انڈیا میں بھی علما نے مسلمانوں کو رمضان کے مہینے میں مساجد میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔
انڈیا میں رمضان 23 یا 24 اپریل سے قمری حساب سے شروع ہو گا لیکن فی الحال انڈیا میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے اور ملک بھر میں مساجد بند ہیں۔
انڈیا میں علما سے مشاورت کے بعد مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان کے کچھ رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں:
مساجد کے بجائے مسلمان اپنے گھروں میں نماز پڑھیں اور لاک ڈاؤن کے دوران مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے اذان بھی بند کر دیں۔
رمضان کی مخصوص عبادت نماز تراویح بھی گھروں میں پڑھیں۔
مساجد میں افطار پارٹی کا اہتمام نہ کریں اور رمضان میں خریداری کے لیے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
نیو دہلی کے علاقے مہارانی باغ میں واقع ایک پرانی مسجد کے دروازے پر تالا لگا ہوا ہے۔ اس کی دیکھ بھال کرنے والے معین الحق کا کہنا تھا کہ مسجد بند ہے لیکن پانچ وقت نماز کے اوقات میں لاؤڈ سپیکر سے اذان ہوتی ہے اور اس کے بعد لوگوں سے گھروں پر ہی نماز ادا کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہی عمل رمضان میں بھی جاری رہے گا۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر فرید اقبال کے مطابق یہ مساجد میں ہجوم کا وقت نہیں ہے۔ اس لاک ڈاؤن نے ہمیں پوری توجہ کے ساتھ گھروں میں دعا مانگنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
عام دنوں کے مقابلے رمضان کے مہینے میں نمازیوں کی تعداد میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کا کہنا ہے ’جو لوگ عام دنوں میں مساجد نہیں جاتے ہیں وہ بھی رمضان میں مساجد میں ہوتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ اگر وہ اس مقدس مہینے میں مسجد نہیں جاتے ہیں تو یہ گناہ ہو گا۔