آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: برطانیہ میں جمعرات سے انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگا

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ جمعرات سے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم انسانوں پر کورونا وائرس کی ویکسین کا ٹرائل کرے گی۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل: کورونا وائرس کے سائے میں ہولوکاسٹ کی یاد کا دن کیسے منایا گیا

    آج اسرائیل میں کورونا وائرس کے کے سائے میں ہولوکاسٹ کی یاد کا دن منایا جا رہا ہے۔

    ہولوکاسٹ کے دوران قتل ہونے والے 60 لاکھ یہودیوں کو یاد کرنے کے لیے جب منگل کی صبح سائئنز بجائے گئے تو پورے ملک میں سب کام کاج روک دیے گئے۔

    سڑکوں پر موجود ڈرائیوروں نے اپنی کاریں روک دیں، باہر نکلے اور دو منٹ تک خاموش کھڑے رہے۔

    کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے عائد پابندیوں کی وجہ سے بہت سے اسرائیلی اپنے گھروں میں موجود تھے اور انھوں نے بالکونیوں میں کھڑے ہو کر باقی ملک کے ساتھ ہولوکاسٹ کا دن منایا۔

    پیر کی شب ید واشیم ورلڈ ہولوکاسٹ یادگاری مرکز میں ہونے والی تقریب جس میں عام طور پر ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں، اس مرتبہ اسے پیشگی طور پر ریکارڈ کیا گیا اور صدر ریون ریولن اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے پیغامات شامل کیے گئے۔

    صدرریولن کا کہنا تھا ’آج کے خطرات اس مقدس دن کی عظمت کو کم نہیں کر سکتے۔‘

  2. نائجیریا: تدفین پر ضابطے کی خلاف ورزی پر حکومت کی معافی

    نائجیریا کی حکومت نے صدر کے چیف آف سٹاف آبا کیاری کی تدفین کے موقع پر سماجی دوری کے احکامات کے حوالے سے کی جانے والی غلطیوں پر معافی مانگی ہے۔

    کورونا وائرس کا شکار ہونے والے آبا کیاری کی تدفین 18 اپریل کو ہوئی تھی اس موقع پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی قبر کے گرد لوگ ایک ہجوم کی صورت میں موجود ہیں۔

    حکام نے تسلیم کیا ہے کہ تدفین کی رسم میں حکومت کی جانب سے سماجی دوری کے قوانین اور عوامی اجتماع نہ کرنے کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔

    حکام نے پورے ملک میں لاک ڈاؤن تو نہیں کیا تاہم 30 مارچ سے ابو جا، لاگوس اور ریاست اوگن میں سخت پابندیاں عائد ہیں۔ نئے احکامات کے تحت کاروبار بند ہیں اور اجتماعات پر پابندی ہے اور انتہائی ضرورت کے تحت ہی آپ گھر سے باہر نکل سکتے ہیں۔

    اب تک ملک میں کورونا وائرس کے باعث 22 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ متاثرہ افراد کی کل تعداد 665 بتائی جاتی ہے۔

  3. میانمار میں عالمی ادارہ صحت کا اہلکار ہلاک

    میانمار کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ریاست رخائن میں عالمی ادارہ صحت کا ایک اہلکار اس وقت ہلاک ہو گیا جب ان کی گاڑی فائرنگ کی زد میں آئی۔

    یہ اہلکار ادارے میں بطور ڈرائیور کام کر رہا تھا۔

    جنوبی ایشیا میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کی رپورٹ کے مطابق پیر کو گاڑی جس پر اقوام متحدہ کی مہر چسپاں ہے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے مقامی افراد کے ٹیسٹ کے لیے نمونے لے کر واپس یانگون آ رہے تھے۔

    نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں اس سے پہلے بھی فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ گذشتہ دو سالوں میں اراکن آرمی کی جانب سے رخائن ریاست پر خود ساختہ قبضے کی مہم بڑھی ہے۔

    میانمار میں ریاست رخائن ملک کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے اور یہ ریاست بین الاقوامی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

  4. انڈیا: پیسے ختم ہونے کے بعد غار میں رہنے والے سیاحوں کو مدد مل گئی

    انڈین حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے چھ سیاحوں کو ایک غار سے ریسکیو کیا ہے۔ یہ سیاح وہاں کورونا وائرس کی وبا سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے تھے۔

    ان چھ میں چار مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔ یہ غار شمالی انڈیا کے علاقے رشی کیش میں واقع ہے۔

    اطلاعات کے مطابق سیاحوں کے پاس پیسے بھی ختم ہو چکے ہیں اور دوسری جانب 24 مارچ سے فضائی اور زمینی سفر کے راستے بند کر دیے گئے تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تمام سیاحوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آئے ہیں اور انھیں ایک نجی قرنطینہ سنیٹر میں رکھا گیا ہے۔

    ان سیاحوں کا تعلق یوکرین، امریکہ، ترکی، فرانس اور نیپال سے ہے اور یہ گذشتہ برس انڈیا آئے تھے۔

    یہ ہمالیہ کے معروف سیاحتی علاقے رشی کیش کے چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں میں رہائش پذیر رہے۔

    وہ 25 دن تک غار میں رہے جب مقامی افراد کو پتا چلا تو انھوں نے پولیس کو اطلاع دی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ چھ سیاحوں میں شامل نیپالی سیاح ہندی بولنا جانتے تھے اور انھوں نے بچی کچھی رقم سے سودا سلف لانے میں اپنے ساتھبں کی مدد کی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سیاحوں نے انھیں بتایا کہ پیسے کم رہ جانے پر انھوں نے غار میں جا کر رہنے کا فیصلہ کیا۔

    مقامی پولیس افسر کاکندرا سنگھ نے مقامی صحافی راجو جسین کو بتایا کہ ان کے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ لیے گئے جو منفی آئے اور انھیں قرنطینہ میں بھجوایا گیا۔

    حکام کا مزید کہنا تھا کہ انھیں رہائش اور کھانا حکومت کی جانب سے دیا جا رہا ہے۔

  5. کورونا کی وبا سے صحافتی آزادی کو ’مزید خطرہ لاحق‘

    عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں آزادی صحافت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

    تنظیم کی جانب سے جاری کی جانے والی تازہ ترین سالانہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس جس میں دنیا کے 180 ممالک شامل ہیں، میں کسی بھی ملک میں صحافتی آزادی اور اس ملک میں وبا سے نمٹنے کے لیے لیے جانے والے اقدامات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

    مثلاً چین اور ایران دونوں نے کورونا کے حوالے سے اعدادوشمار چھپانے کی کوشش کی۔ اس سال کی فہرست میں چین 177 اور ایران 173ویں نمبر پر ہے۔

    اس سال پہلی پوزیشن ناروے اور آخری نمبر شمالی کوریا کا ہے۔

    پاکستان اس فہرست میں 145ویں نمبر پر ہے۔

  6. کم جونگ اُن کی علالت، افواہ یا خبر؟, لورا بئکر بی بی سی نیوز، سئول

    جنوبی کوریا کے حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن دل کے آپریشن کے بعد شدید بیمار ہو گئے ہیں۔

    کم جونگ ان شدید بیمار ہیں ان کا دماغ مفلوج ہو چکا ہے یا وہ آپریشن کے بعد روبہ صحت ہو رہے ہیں، ان شہ سرخیوں کی تصدیق کرنا ہمیشہ ناممکن رہا ہے۔

    لیکن جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق شمال کی جانب سے ایسا کوئی بھی اشارہ نہیں ملا جس سے لگے کہ 36 سالہ کم جونگ ان شدید علیل ہیں۔

    یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ان کی صحت کے بارے میں کوئی افواہ پھیلی ہو اور بعد میں اسے مسترد کر دیا گیا ہو۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ یہ افواہ پھیلی کیسے؟

    کم جونگ ان نے 15 اپریل کو اپنے دادا کی سالگرہ کی تقریب نہیں منائی۔ قوم کے بانی کی سالگرہ کی تقریب سال بھر کا سب سے اہم موقع ہوتا ہے۔

    اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کم نے اس تقریب میں شرکت نہ کی ہو اور ان کی غیر موجودگی نے غیر معمولی افواہوں کو جنم دیا ہے۔

    وہ آخری بار میڈیا پر 12 اپریل کو نظر آئے تھے۔ اس سے پہلے انھوں نے اہم سیاسی اجلاس بھی کیے تھے جو سرکاری میڈیا پر رپورٹ بھی کیے گئے تاہم اس کے بعد سے وہ دکھائی نہیں دیے۔

  7. کورونا وائرس کا ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی پر کیا فرق پڑے گا؟

  8. انگلینڈ، ویلز میں سب سے زیادہ ہلاکتیں

    انگلینڈ اور ویلز میں ہلاکتوں کی تعداد اچانک اس سطح سے بڑھ گئی ہے جس کی عموماً سال کے اس عرصے میں توقع کی جاتی ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار مرتب کرنے والے ادارے کے دفتر کی جانب سے معلوم ہوا ہے کہ 10 اپریل تک کے ہفتے میں 18500 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ توقع تھی کہ ایک ہفتے میں 10 ہزار اموات ہوں گی۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ 6200 ہلاکتیں کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئیں جن میں سے چھ ہلاکتیں ہسپتال سے باہر سے رپورٹ ہوئیں۔

    لیکن یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کے علاوہ بھی دیگر وجوہات بھی اموات کا سبب بن رہی ہیں۔ یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے انسانی صحت پر بلواسطہ اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

  9. ملکہ برطانیہ کو سالگرہ مبارک!

    آج ملکہ برطانیہ کی 94 ویں سالگرہ ہے۔

    اس موقع کو یاد گار بنانے کے لیے کنگسٹن پیلس نے ان کی ایک تصویر شیئر کی ہے۔

    ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی یہ تصویر کورونا وائرس کی وبا سے پہلے گزرے خوشگوار لمحات کی ہے۔

    یہ وہ موقع ہے جب گذشتہ برس ملکہ کو ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج چیلسی کے پھولوں کی نمائش دکھا رہے تھے۔

  10. کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں آؤٹ سورس کام کرنے والوں کے لیے مشکلات

    کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر آؤٹ سورس انڈسٹری یعنی ایک ملک سے دوسرے تک پھیلے ہوئے بزنس اور سروسز مشکلات کا شکار ہیں۔

    بنگلور سے لے کر منیلا میں موجود کاروبار اپنے ہاں موجود نوکریوں کو واپس اپنے ملک میں لے گئے ہیں کیونکہ اب انھیں مزید لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔

    بیرون ممالک میں موجود کارپوریشنز چلانے والوں کے لیے ان ممالک میں لگی پابندیاں کام کے نظام اور منصوبہ بندی کے حوالے سے کال سینٹرز کے مینیجرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہیں۔

    ان کے سٹاف کے لیے گھر سے کام کرنا مشکل ہے کیونکہ ضابطوں کے مطابق حساس مواد جیسا کہ فنانشل ٹرانزیکشنز یعنی مثال کے طور پر سکاٹ لینڈ سے سان فرانسسکو تک پیسوں کی منتقلی کامعاملہ وغیرہ شامل ہے۔

    اسی طرح انڈیا اور فلپائن جیسے ممالک میں بہت سے کام کرنے والے افراد پرہجوم علاقوں میں رہ رہے ہیں۔ وہاں نہ تو فون کنکشن کی سہولیت بہتر ہے اور نہ ہی کچھ فرمز کے اہلکاروں کے پاس گھر سے کام کرنے کے لیے مناسب سامان جیسے لیب ٹاپ وغیرہ موجود ہیں۔

    اپنے کام کے لیے بے چین کچھ فرمز ایسی ہیں جنھوں نے اپنے سٹاف کو کام کی جگہ پر ہی رکھا ہوا ہے۔

  11. امریکہ میں مظاہروں کو روکتا طبّی عملہ

    اتوار کو امریکہ کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں لوگ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے خلاف مظاہرے کے لیے باہر نکلے۔

    لیکن جیسے پی یہ مظاہرین ڈین ویر کی مغربی سڑک پر پہنچے دو ہیلتھ ورکرز نے تھوڑی دیر کے لیے ان مظاہروں کے مخالف مظاہرہ کیا۔

    یہ تصاویر فری لانس فوٹوگرافر ایلسن مکلاران نے کھینچی ہیں جو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کی گئی ہیں۔

    بز فیڈ نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ میں تاریخ کو محفوظ کرنا چاہتی تھی۔

  12. امریکہ: امیگریشن پر پابندی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن پر پابندی کے بارے میں اپنی ٹویٹ کے بعد مزید تفصیل نہیں دی ہے۔

    انھوں نے اس فیصلے کو کورونا وائس کے خلاف جنگ اور نوکریوں کے تحفظ سے جوڑا ہے۔

    لیکن ان کے اس اعلان سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس اقدام کا حقیقتاً کیا مطلب ہے اور اس پر کب عملدرآمد ہو گا۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’دکھائی نہ دینے والے دشمن کے حملے کے پیش نظر اور عظیم امریکی شہریوں کی نوکریوں کے تحفظ کے خاطر میں صدارتی حکم کے تحت امریکہ میں امیگریشن پرعارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کروں گا۔‘

    امریکہ نے پہلے ہی کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ سرحدی پابندیوں اور غیر ضروری سفر کو مئی کے درمیان تک بڑھا دیا ہے۔

    سخت سفری پابندیاں چین اور یورپ کے لیے بھی ہیں تاہم عارضی ویزے پر کام کرنے والے اور کاروبار کے لیے سفر کرنے والے اس سے مستثنیٰ ہیں۔

    پیر کو امریکہ نے کہا کہ وہ کم ازکم ایک ماہ کے لیے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ تارکین وطن بے دحل رنے کا عمل جاری رکھے گا۔

  13. انڈیا: ڈاکٹر کی تدفین روکنے والے 20 افراد گرفتار

    جنوبی انڈیا میں کم ازکم 20 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے ایک معروف ڈاکٹر جو کہ کورونا میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گئے تھے کی تدفین کو پرتشدد طریقے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

    ڈاکٹر سیمن ہرکولیس کے خاندان اور دوستوں کو اتوار کی رات اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ان کی نعش کو مدراس سے چنئی لے کر جا رہے تھے۔

    ان کے ایک دوست کو پیر کو صبح کے اوقات میں خاموشی سے ان کی تدفین کرنی پڑی۔ اس موقع پر ان کے اہلخانہ موجود نہیں تھے۔

    ان کے دوست ڈاکٹر پردیپ کا کہنا تھا کہ وہ نیورو سرجن تھا اور وہ آخر میں اس چیز کا حقدار نہیں تھا۔

    ڈاکٹر پردیپ نے نیوز منٹ ویب سائٹ کو بتایا کہ ان کے ساتھ بنیادی انسانی سلوک نہیں برتا گیا۔ ان کی اہلیہ اور بچے ان کا آخری دیدار نہیں کر سکیں گے۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 افراد پر مشتمل ایک گروہ نے ڈاکٹر ہرکولیس کے دوستوں اور خاندان پر ڈنڈوں اور سریوں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں وہاں موجود ایمبولینس کے دو ڈرائیورز بھی زخمی ہوئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تدفین کے مقام کے نواح میں موجود رہنے والے رہائشی افراد نے اس پر پریشانی کا اظہار کیا کہ وہاں تدفین سے اس وائرس کا ان کے علاقے میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔

    ڈاکٹر پردیپ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ہرکولیس نے گھر میں بیٹھنے کے بجائے وبا کے دوران اپنی خدمات سرانجام دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر اسی دوران ان کے دوست میں یہ وائرس منتقل ہوا۔

    تمل ناڈو میں وزیر مملکت برائے صحت سی وجے یباسکر نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کے ساتھ جو ہوا وہ قابل مذمت ہے مستقبل میں اس قسم کے واقعات نہیں ہونے چاہیے۔

  14. انڈونیشیا میں رمضان کے بعد اجتماعت پر پابندی

    انڈونیشیا کے صدر نے رمضان کے بعد مسلمانوں کے اجتماعات ہر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ قدم اٹھانے میں بہت دیر کر دی۔

    خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عید سے پہلے دس لاکھ کے قریب افراد نے جکارتہ سے اپنے آبائی علاقوں کے لیے سفر کیا ہے۔ ملک میں رمضان راوں ہفتے ہی شروع ہو رہا ہے۔

    انڈونیشیا میں دنیا کی سب سے بڑی مسلمان آبادی ہے۔ وہاں عام طور پر یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ لوگ عید پر اپنے اہلِ خانہ اور اپنے گھروں کی جانب نہیں لوٹیں گے۔

    انڈونیشیا میں رمضان کے بعد عید پر ہلال بہ ہلال نامی ایک خاص نوعیت کی تقریب ہوتی ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے معافی طلب کرتے ہیں۔

    عید کا تہوار مئی کے آخر میں ہو گا۔

    عام طور پر عید کی نماز کے بڑے اجتماعات میں لوگ نئے کپڑے پہن کر مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر فٹ بال کے میدانوں میں پارکنگ اور مسجدوں کے باہر بھی عید پڑھی جاتی ہے۔

    ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر دور دراز کے علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے مناسب اقدامات نہ کیے گئے اور ٹیسٹ نہ کیے گئے تو تباہی ہو سکتی ہے۔

  15. جرمنی میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور تازہ ترین اعدادوشمار

    متعدی امراض سے متعلق ادارے رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گذشتہ ایک روز کے دوران جرمنی میں کورونا وائرس کے 1785 مثبت کیسز سامنے آئے۔ اس کے بعد ملک میں کل کیسز کی تعداد 143000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    مزید 194 ہلاکتوں کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 4598 ہو گئی ہے۔

    دو روز میں یہ اعدادوشمار کم ہونے کے بعد ان میں ایک بار پھر تھوڑا سا اصافہ دیکھا گیا ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ وائرس کچھ حد تک کنٹرول میں ہے اور حکومت کچھ چھوٹی دکانوں کو دوبارہ کھولنے اور سکولوں کو اپنی کچھ کلاسز کو رواں ہفتے پھر سے شروع کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔

  16. فیس بک نے سماجی دوری کی خلاف ورزی کرنے والی تقریبات پر پابندی لگا دی

    امریکہ بھر میں گھر میں محدود رہنے کے احکامات کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور ان میں شرکت کی کال بھی دی جا رہی ہے۔ لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے کہا ہے کہ وہ صارفین کو اس قسم کی کسی تقریب کے اندراج کی اجازت نہیں دے سکتی جو سماجی دوری کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرے۔

    پیر کو فیس بک نے کیلی فورنیا، نیو جرزی اور نیبراسکا میں قرنطینہ مخالف لسٹوں کو حذف کیا۔

    اس پر بحث کے بعد بعض افراد میں اشتعال بھی پھیلا۔ ان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے کی جانب سے یہ کہنا بھی شامل ہے کہ اس سے اظہارے رائے کی آزادی صلب ہوئی ہے۔

    فیس بک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں سے رابطہ کر کےفقط ان تقاریب کو اپنی سائٹ سے ہٹائے گی جو کسی بھی ریاست کی گائیڈ لائنز یعنی رہنما اصولوں کے مخالف ہوں گی۔

    سوشل میڈیا کے نیٹ ورک کی انتظامیہ کی جانب سے اپنے اپنے پلیٹ فارمز سے کورونا وائرس سے متعلق غلط اطلاعات کو ہٹانے پر بھی کام ہو رہا ہے۔

    کورونا وائرس سے متعلق جعلی خبروں کے حوالے سے فیس بک کے جارحانہ اقدامات نے کچھ سوالات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ کیوں کمپنی کو اس سے پہلے جھوٹے دعوؤں سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

  17. انڈیا میں کیا ہو رہا ہے؟

    • انڈیا میں صدارتی محل میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے بعد 100 افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ خود ساختہ تنہائی اختیار کرلیں۔
    • انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب اوسطً کیسز کو دوگنا ہونے میں سات اعشاریہ پانچ دن لگ رہے ہیں اور کچھ ہفتے پہلے کیسز کی تعداد 3.5 دن کے بعد ہی دوگنی ہو رہی تھی۔
    • انڈین پنجاب میں پھنسے ہوئے 1000 سے زیادہ کشمیریوں کو 20 دن کے بعد بلآخر اپنے علاقے میں واپس بھجوا دیا گیا ہے۔ انھیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے داخلے سے روکا گیا تھا۔
    • انڈین ریاست پنجاب میں پولیس کے لیے خصوصی قرنطینہ سینٹرز بنائے گئے ہیں۔ یہ وہ پولیس اہلکار ہیں جو ملک بھر میں لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے ہر فرنٹ لائن پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔
    • انڈیا میں محکمہ صحت کے اعداد و شمار میں اب تک 18 ہزار سے زیادہ کورونا کیسز اور 600 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
  18. علی بابا کی طرف سے دنیا کے لیے 10 کروڑ ماسک عطیہ

    معروف ملٹی نیشنل کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما نے کہا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او کو 10 کروڑ ماسک، ایک کروڑ این 95 ماسک اور 10 لاکھ ٹیسٹ کٹس فراہم کریں گے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں جیک ما کا کہنا تھا کہ یہ امداد دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں پہچائی جائے گا اور اس کی ترسیل مختلف ممالک میں انتھائی ضرورت کی بنیاد پر پوگی۔

    اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ متحد ہو کر ہمیں تیزی اور پراعتماد طریقے سے اس عالمی چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔

    چینی نژاد جیک ما ارب پتی ہیں انھوں نے اس سے پہلے افریقہ کے 54 ممالک کے لیے حفاظتی سامان اور ٹیسٹ کٹس بھجوائی تھیں۔

  19. سنگا پور میں غیر ملکی ورکرز کی بڑی تعداد کورونا کا شکار

    • سنگا پور میں جیسے جیسے زیادہ کارکنوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں ان غیر ملکی مزدوروں میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سنگا پور میں ہیں۔ یہ تعداد 8014 بتائی گئی ہے۔
    • ہانگ کانگ نے لاک ڈاؤن میں چودہ روز کے لیے توسیع کا کچھ ہی دیر پہلے اعلان کیا ہے۔ بصورتِ دیگر دو روز بعد یعنی 23 اپریل کو لاک ڈاؤن کو ختم ہونا تھا۔ ملک میں جِم اور عوامی تفریحی کے دیگر مقامات بند ہیں۔
    • چین نے پیر کو ملک میں 11 نئے کورونا کیسز کی رپورٹ کی تھی۔ ان میں سے چار بیرونی منتقلی کے کیسز تھے۔ مقامی منتقلی میں چھ کا تعلق روسی سرحد سے منسلک صوبے ہیلونگجیانگ میں سامنے آئے ہیں۔
  20. امریکہ: ہلاکتیں 42000 سے زیادہ، مصدقہ کیسز آٹھ لاکھ کے قریب

    امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 42094 ہو گئی ہے جو کہ عالمی سطح پر دیگر ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

    اسی طرح ملک میں مصدقہ کیسز کی تعداد 784000 ہو گئی ہے۔

    لیکن باوجود اس کے کہ ملک کے کچھ حصوں میں کورونا وائرس کی وبا پھیل رہی ہے، بہت سی ریاستیں لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو یا تو نرم کر رہی ہیں یا پھر ایسا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    جنوبی کیرولینا میں لوگوں کو پرچون کی دکانوں اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    جارجیا میں جِم اور حجام کی دکانیں جمعے کو کھل جائیں گی جس کے بعد پیر سے سنیما اور ریسٹورنٹس بھی کھل جائیں گے۔

    ٹینیسی میں بہت سے کاروبار یکم مئی کو کھلیں گے۔

    تاہم ان تمام ریاستوں میں سماجی دوری کا ضابطہ لاگو رہے گا۔