عالمی ہلاکتیں 1 لاک 24 ہزار سے بڑھ گئیں، کہیں لاک ڈاؤن جاری کہیں پابندیاں نرم

دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین 19 لاکھ اور ہلاکتیں ایک لاکھ 23 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ دنیا کے جو ممالک اب کورونا وائرس کے پیش نظر عائد کی گئی پابندیاں ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں ان کے لیے عالمی ادارہ صحت نے معیار طے کر دیا ہے۔ دریں اثنا برطانیہ میں ہلاکتیں 12 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ورلڈ بنک: جنوبی ایشیا میں ’بدترین معاشی بحران‘ کا خدشہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی بینک نے کورونا وائرسں کی وبا کے باعث انڈیا سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں پچھلے 40 سالوں کے بدترین معاشی بحران کی پیش گوئی کی ہے۔

    اس خطے میں آٹھ ممالک شامل ہیں اور دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ موجود ہے۔ عالمی بنک کے مطابق اس سال خطے میں 1.8 سے 2.8 فیصد کے درمیان شرح نمو کا امکان ہے، جو چھ ماہ پہلے پیش کیے جانے والے 6.3 فیصد سے کم ہے۔

    توقع ہے کہ اپریل میں شروع ہونے والے مالی سال میں انڈیا کی معیشت میں 1.5 فیصد سے 2.8 فیصد تک اضافہ ہوگا۔ عالمی بنک کی پیش گوئی کے مطابق انڈیا کے علاوہ سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش میں بھی اقتصادی ترقی میں کمی نظر آئے گی۔

    عالمی بنک کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور مالدیپ، ان تینوں ممالک میں معاشی بحران کا خدشہ ہے - اور بینک نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں غربت کے خاتمے کے لیے دہائیوں سے لیے جانے والے اقدامات، اب خطرے میں ہیں۔

  2. دنیا بھر میں ہلاکتیں ایک لاکھ 14 ہزار سے زیادہ, متاثرین: 1848503 | اموات: 114185 | صحتیاب: 2805892

    اعداد و شمار

    ،تصویر کا ذریعہJohns Hopkins University

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 18 لاکھ 48 ہزار جبکہ اموات ایک لاکھ 14 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    اس وقت کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں مصدقہ متاثرین کی کل تعداد 556044 ہے۔

    اب تک اس وبا سے 2805892 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

  3. بریکنگ, کورونا: گذشتہ پانچ ہفتوں میں چین میں ایک دن میں متاثرین کی سب بڑی تعداد, چین میں کل متاثرین: 82160 | اموات: 3341

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 108 نئے کیس سامنے آئے ہیں جو کورونا مریضوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہے۔

    یہ گذشتہ پانچ ہفتوں میں چین میں کورونا وائرس کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے جن میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو بیرون ملک سے سفر کر کے آئے ہیں۔

    قومی ہیلتھ کمیشن کے مطابق ان کیسز میں 98 ایسے تھے جو بیرونِ ملک سے آئے تھے۔ اس کے علاوہ 61 افراد ایسے بھی ہیں جن کے ٹیسٹ تو مثبت آئے لیکن ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

    اب تک چین میں مجموعی طور پر 82160 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ 3341 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

  4. کورونا وائرس: میکسیکو میں 442 نئے کیسز، 23 اموات

    میکسیکو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    میکسیکو میں صحت کے حکام کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 442 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ کورونا وائرس سے 23 اموات ہوئیں۔

    ملک میں اب تک 4661 متاثرین اور 296 اموات ہو چکی ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ملک کے ڈپٹی وزیرِ صحت ہیوگو لوپیزگاٹیل نے کہا تھا کہ ملک میں اس 26 ہزار پانچ سو کورونا مریض موجود ہو سکتے ہیں۔

  5. کورونا وائرس: ’امریکہ میں جلد اقدامات لے کر جانیں بچائی جا سکتی تھیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکہ میں متعدی امراض کے سرکاری ماہر ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا کے خدشے کے پیشِ نظر آغاز میں اقدامات اٹھا کر ’جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔‘

    انھوں نے یہ بات امریکی ٹی وی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے کی۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے آغاز میں ہی سب کچھ بند کر دیا ہوتا تو شاید صورتحال کچھ بہتر ہوتی۔‘ تاہم انھوں نےکہا کہ یہ فیصلے لینا بہت پیچیدہ عمل ہے۔

    امریکہ میں اب تک پانچ لاکھ 47 ہزار سے زائد کورونا وائرس کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ ملک میں اموات کی تعداد 21 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    ڈاکٹر فاؤچی نے یہ بھی کہا امریکہ میں کچھ علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں مئی کے آغاز تک بحال ہو جائیں گی۔

  6. آندریا بچیلی کی خالی گرجا گھر میں دل موہ لینی والی پرفارمنس

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہLuca Rossetti/Sugar SRL/Decca Records

    کلاسیکی موسیقار آندریا بچیلی نے ایسٹر کے موقع پر اٹلی کے شہر میلان میں کانسرٹ منقعد کیا لیکن وہ شہر کے اہم گرجا گھر میں اکیلے ہی گاتے رہے۔

    اس کانسرٹ کا نام میوزک فار ہوپ رکھا گیا تھا اور اسے یوٹیوب پر براہ راست نشر کیا گیا۔ بچیلی کی دل موہ لینے والی پرفارمنس کے بعد سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے انھیں داد دی اور شکریہ ادا کیا۔

    بچیلی نے کانسرٹ کے آغاز میں کہا کہ یہ براہ راست دکھائی جانے والا کانسرٹ لاکھوں لوگوں کو اکھٹا کرنے میں مدد کرے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    انھوں نے کہا کہ ’ہم دنیا کے زخمی دل کو گلے لگائیں گے اور پوری دنیا کے لوگوں کو بتائیں گے کہ ہماری موسیقی ہی ہماری پہچان ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    اپنے آحری گانے امیزنگ گریس کے لیے بچیلی گرجا گھر سے باہر آئے اور سنسنان گلیوں کو دیکھتے ہوئے گانا گایا جس کے کلپس ہزاروں لوگوں نے شیئر بھی کیے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

  7. دنیا کی تازہ ترین صورتحال, متاثرین: 1840093 | اموات: 113672 | صحتیاب: 2805892

    اعداد و شمار

    ،تصویر کا ذریعہJohns Hopkins University

    • جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کل متاثرین کی تعداد 18 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد ہو چکی ہیں۔
    • اتوار کے روز مسیحی برادری نے ایسٹر کی تقریبات مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ نت نئے طریقوں سے منائیں۔
    • اتوار کے روز برطانیہ میں 737 ہلاکتوں کے بعد ملک میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
    • برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جونسن کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
    • اٹلی میں تین ہفتوں کے دوران سب سے کم اموات سامنے آئیں ہیں۔
    • یورپی یونین کمیشن کے صدر کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو شاید اگلے برس تک قرنطینہ میں رہنا پڑے۔
    • امریکہ میں متعدی امراض کے سرکاری ماہر ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا ہے ہے امریکہ میں ’جانیں بچائی جا سکتی تھیں اگر آغاز میں کووڈ 19 کا پھیلاؤ روکنے سے متعلق اقدامات کیے جاتے۔
    • نیویارک میں ایک روز میں 758 اموات سامنے آئیں۔
  8. کورونا وائرس: گھریلو کام کاج بڑھنے کے باعث برطانیہ میں آنکھوں کی چوٹوں میں اضافہ

    آنکھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے متعدد ایسے برے نتائج تھے جو اب سامنے آ رہے ہیں اور برطانیہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ گھریلو کام کاج کے بڑھنے کے باعث لوگوں کو آنکھوں میں زیادہ چوٹیں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔

    آکسفورڈ آئی ہسپتال کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جنھیں آپریشن کی ضرورت تھی یا جنھیں آنکھوں میں چوٹیں آئی ہیں ان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ہسپتال میں ایک ہفتے کے دوران چھ ایسے مریض آئے جن کی آنکھوں میں زخم لگے تھے۔ ہسپتال کے مطابق عام طور اس قسم کے ایک یا اس سے زیادہ کیس دو یا تین ہفتے بعد آتے ہیں۔

    ہسپتال کا کہنا تھا کہ جب لوگ گھریلو مرمت یا باغبانی جیسے مشاغل اپنائیں تو انھیں چاہیے کہ وہ آنکھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی چشمے لگائیں۔

  9. ترکی میں کرفیو: طیب اردوان کا وزیر داخلہ کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے وزیرِ داخلہ نے اتوار کی رات کو دو روزہ کرفیو کے اچانک اعلان پر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا لیکن صدر رجب طیب اردوان نے اسے منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    صدر کے دفتر کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیرِ داخلہ اپنا کام کرتے رہیں گے۔

    وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے استعفیٰ دیتے ہوئے بیان دیا تھا کہ وہ کرفیو نافذ کرنے کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں اور ایسا انھوں نے ’اچھی نیت‘ سے کیا تھا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    یاد رہے کہ ترکی کی حکومت نے جمعہ کی رات اچانک 31 بڑے شہروں میں 48 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا تاہم اس کے نتیجے میں دوکانوں پر شہریوں کا شدید رش دیکھنے میں آیا جس کے بعد حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    خیال رہے کہ اتوار تک ترکی میں کورونا وائرس کے 52 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

  10. امریکہ میں کچھ گرجا گھروں میں معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں

    ایسٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں ایسٹر کے موقع پر اکثر گرجا گھر خالی تھے تاہم کچھ میں معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری رہیں۔

    جن گرجا گھروں نے عمارتوں کو عقیدت مندوں کے لیے بند نہیں کیا ان کا مؤقف ہے کہ وہ لوگوں کے درجہ حرارت دیکھ کے انھیں اندر آنے کی اجازت دے رہے ہیں اور ہاتھ سینیٹائز کرنے اور فاصلہ رکھنے جیسی احتیاطی تدابیر پر عمل بھی کر رہے ہیں۔

    ایسٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس کے علاوہ تقریباً آٹھ امریکی ریاستوں میں اب بھی مذہبی اداروں کے لیے گھر تک محدود رہنے کے احکامات جاری نہیں ہوئے اور ایسا ہونے سے قبل قانونی چارہ جوئی عمل میں لانی ہو گی۔

    ایسٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کچھ افراد گرجا گھروں میں تقریبات پر پابندی کو امریکی آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

  11. بریکنگ, تیل معاہدہ: تیل کی عالمی پیداوار میں 10 فیصد کمی پر اتفاق

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی کے پیشِ نظر تیل پیدا کرنے والے ممالک نے عالمی تیل کی پیداوار کو 10 فیصد کم کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔

    خیال رہے کہ رواں برس تیل کی قیمتوں میں اس وقت کمی دیکھنے میں آئی تھی جب کورونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں لاک ڈاؤنز کے باعث اس کی مانگ میں شدید کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

    تیل کی برآمدات کرنے والے ممالک کے ادارے اوپیک کے علاوہ ان مزاکرات میں روس، امریکہ اور میکسیکو بھی شامل تھے۔

    اس معاہدے کے باعث دنیا بھر میں یکم مئی سے تیل کی پیداوار میں یومیہ 97 لاکھ بیرلز کی کمی دیکھنے میں آئے گی۔

    ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد سے تیل کی مانگ میں ایک تہائی کمی واقعہ ہوئی ہے۔

    اس معاہدے کے باعث سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی جنگ اختتام پذیر بھی ہو سکتی ہے۔

  12. انڈیا کی سب سے مشہور اور مہنگی ’دارجلنگ‘ چائے کو کورونا سے کیا خطرہ ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وجہ سے انڈیا میں ملکی سطح پر جاری لاک ڈاؤن نے دنیا بھر میں مشہور دارجلنگ چائے کی ہریالی کو ماند کر دیا ہے۔

    اس کی وجہ سے پہلے بارش کے بعد پہلی کھیپ کو بہت نقصان ہوا ہے۔ لیکن اس کا کورونا سے کیا تعلق ہے؟ جانیے اس تحریر میں۔

  13. بریکنگ, فرانس: ہسپتالوں میں اموات کی تعداد میں کمی، مجموعی ہلاکتیں 14 ہزار سے زائد

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک میں ہسپتالوں میں اموات اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں لوگوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا اب ہموار سطح پر پہنچ گئی ہے یعنی اس میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔

    فرانس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہسپتالوں میں 315 ہلاکتیں ہوئیں جو سنیچر کے روز کی 353 ہلاکتوں سے کم ہے۔

    چنانچہ مجموعی طور پر فرانس میں ہسپتالوں اور کیئر ہومز میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 14 ہزار 393 ہوچکی ہے جو دنیا کی تیسری سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    اس کے علاوہ ملک میں کووِڈ-19 سے متاثرہ افراد کی انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں موجود تعداد میں مسلسل چوتھے روز بھی کمی آئی ہے اور اب یہ تعداد 6845 ہے۔

    فرانس کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ وبا عروج کو پہنچ چکی ہے لیکن انھوں نے کہا کہ محتاط رہنا ہوگا۔

  14. ایسٹر کے موقع پر پروازوں میں تاریخی کمی

    کورونا، برٹش ایئرویز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایسٹر کا تہوار روایتی طور پر سفر کے اعتبار سے مصروف ترین دورانیہ ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہے۔

    گذشتہ سال ایسٹر کی جمعرات کے موقع پر دو لاکھ 906 پروازیں فضا میں تھی جبکہ اس مرتبہ ایسٹر کی جمعرات کے موقع پر 68 ہزار 621 پروازیں ٹریک کی گئیں۔

    گذشتہ سال اور اس سال ایسٹر کی جمعرات پر برطانیہ کے اوپر فضائی ٹریفک کی صورتحال فلائٹ ریڈار 24 نامی ویب سائٹ کے اس نقشے میں دیکھیے۔

    برطانیہ میں طے شدہ فلائٹس کے تعداد گذشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں90.7 فیصد گھٹ چکی ہےجبکہ اسی دورانیہ میں عالمی طور پر 59.2 فیصد گرواٹ دیکھنے میں آئی ہے۔

    کورونا،

    ،تصویر کا ذریعہFlightRadar24

  15. کورونا وائرس: چین میں افریقی برادری کو تفریق کا سامنا, ڈینی ونسنٹ، بی بی سی نیوز ہانگ کانگ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ ہفتے کے اوائل میں یہ افواہیں سامنے آئیں کہ چین کے شہر گوانگ ژو میں افریقی برادریوں میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    اس کے فوراً بعد طبی حکام نے افریقی تارکینِ وطن کے گھر گھر جا کر ٹیسٹنگ شروع کر دی۔

    اب گھروں کا مالکان اور ہوٹلوں نے سینکڑوں افریقیوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ برادریوں کے رہنماؤں سمیت کئی افراد کو کورونا کا ٹیسٹ منفی آنے کے باوجود قرنطینوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    چین میں کئی افریقی سفیروں نے چینی وزیرِ خارجہ کے نام ایک خط میں اس مبینہ تفریق اور بدنامی کے خلاف شکایت کی ہے۔

    سنیچر کو زمبابوے میں چینی سفارتخانے نے ٹویٹ کے ذریعے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ ‘چین میں چینی اور غیر ملکی، ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔’

    گوانگ ژو میں 2000 کی دہائی کے اواخر میں ایشیا کی سب سے بڑی افریقی برادری آباد تھی مگر حالیہ سالوں میں ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

    کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں بار بار تفریق، ویزا پابندیوں اور کاروبار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔