انڈیا میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید 19 دنوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ملک میں جاری 21 دن کے لاک ڈاؤن کی مدت منگل کی رات رات ختم ہو رہی تھی لیکن اب اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔
انڈیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 10363 ہو گئی ہے جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 339 ہے۔
منگل کی صبح عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انڈیا کورونا سے ہونے والے نقصان کو کافی حد تک ٹالنے میں کامیاب رہا ہے اور سماجی فاصلے اور لاک ڈاؤن سے ملک کو بہت فائدہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر اقتصادی نقظہ نظر سے دیکھیں تو ملک کو لاک ڈاؤن کی بہت بڑی اقتصادی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے لیکن اس کا موازنہ عوام کی زندگی سے نہیں کیا جا سکتا۔
مودی نے عوام اور بالخصوص ورکرز اور غریب آبادی کو درپیش پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’میں جانتا ہوں کہ آپ کو کتنی دقتوں کا سامنا ہے۔ کسی کو کھانے کی پریشانی ہے، کسی کو آنے جانے کی پریشانی ہے۔ کوئی گھر اور خاندان سے دور ہے لیکن آپ ایک فرض شناس سپاہی کی طرح اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے تکلیف سہہ کر ملک کو بچا لیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے یہاں کورونا کے صرف 550 کیس تھے تو ہم نے اس وقت اکیس دن کے لاک ڈاؤن کا قدم اٹھایا اور مسئلے کے بڑھنےکا انتظار نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں کورونا کے کیسز 25 سے 30 گنا بڑھ چکے ہیں اور ہزاروں لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔
’انڈیا نے تیزی سے فیصلے کیے۔ یہ ایک سچائی ہے اگر ان ملکوں کے اعداد شمار دیکھیں تو آج انڈیا ان کے مقابلے میں بہت سنبھلی ہوئی حالت میں ہے۔‘
نرینرر مودی نے کہا کہ آئندہ ایک ہفتے یعنی بیس اپریل تک لاک ڈاؤن کو مزید سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
’20 اپریل تک ہر ضلعے، ہر شہر، ہر قصبے، ہر تھانے میں اس بات کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا جائے گا کہ لاک ڈاؤن کتنے مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جن ریاستوں میں کورونا کیسز مزید نہیں بڑھیں گے ان ریاستوں میں اہم سرگرمیاں شروع کرنے کی مشروط اجازت دی جائے گی۔