متاثرین 12 لاکھ سے زائد، اٹلی میں شرح اموات دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 12 لاکھ 37 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار سے زائد ہے۔ اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 525 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی اموات کی کم ترین سطح ہے۔

لائیو کوریج

  1. سنسان لندن کے مناظر!

    لندن

    ،تصویر کا ذریعہSOPHIE RAWORTH

    گذشتہ دو ہفتوں سے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے باعث بی بی سی کی نیوز پریزینٹرسوفی رےورتھ دوپہر کو گھر سے دفتر دوڑ کر آتی ہیں تاکہ بی بی سی نیوز ایٹ سکس اور ٹین پیش کر سکیں۔

    تاہم وہ راستے میں جب بھی کسی اہم مقام سے گزرتی ہیں تو وہ تصویریں بھی ضرور بناتی ہیں۔

    لندن

    ،تصویر کا ذریعہSOPHIE RAWORTH

    وہ بتاتی ہیں کہ ’لندن کی سڑکوں پر ایک پراسرار سی خاموشی ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر عرصہ اسی شہر میں گزارا ہے اور میں گلیوں میں لوگوں سے بچتے بچاتے، ٹیوب ٹرینوں میں ساتھی مسافروں کے ساتھ پھنس کر دفتر پہنچا کرتی تھی۔‘

    مناظر

    ،تصویر کا ذریعہSOPHIE RAWORTH

    وہ لکھتی ہیں کہ ’مجھے ہمیشہ سے ہی لندن کی گہما گہمی پسند تھی جس میں دنیا بھر سے آئے لوگوں کی آوازیں شامل تھیں، اب وہ سب ختم ہو گیا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز برطانیہ میں اب تک کی سب سے زیادہ اموات سامنے آئی تھیں۔

    مناظر

    ،تصویر کا ذریعہSOPHIE RAWORTH

  2. فائیو جی اور کووڈ 19 میں تعلق کے سازشی نظریات کی حقیقت, ریئلٹی چیک

    فائیو جی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سائنسدانوں نے ایسے سازشی نظریات کو مسترد کیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا وائرس فائیو جی ٹیکنالوجی کی مدد سے پھیلتا ہے۔

    ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے ایسے دعوؤں کے علاوہ برمنگھم اور مرسی سائیڈ میں موبائل فون کے کھمبے نذر آتش کیے گئے ہیں۔

    یہ ویڈیوز فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پر دیکھی گئیں اور انھیں کئی لوگوں نے شیئر بھی کیا۔

    لیکن سائنسدانوں نے کہا ہے کہ فائیو جی اور کووڈ 19 کے درمیان تعلق کے کوئی شواہد نہیں اور یہ معلومات غلط ہے۔

    این ایچ ایس کے ماہرین نے ان سازشی نظریات کو جھوٹی خبروں کی بدترین قسم کہا ہے۔

  3. کورونا وائرس: دنیا بھر کی صورتحال

    Coronavirus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 لاکھ 95 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ عالمی سطح پر 64 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    برطانیہ میں ایک ہی دن میں اب تک کی سب سے زیادہ 708 اموات ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پانچ سال کا بچہ بھی شامل تھا۔

    برطانیہ کےعلاقے مڈ لینڈز سمیت دیگر علاقوں میں ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے کے پیش نظر انگلینڈ کے صحت عامہ کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروسز کے سربراہ نے کہا کہ کورونا کے خلاف لڑائی کا سفر طویل ہے اور انھوں نے عوام سے جہاں تک مممکن ہو سکے گھر پر رہنے کی اپیل کی ہے۔

    برطانوی حکومت کی جانب سے کورونا کے متعلق دی جانے والی روزانہ کی بریفنگ میں وزیر مائیکل گوو نے فائیو جی موبائل فون نیٹ ورک کے کورونا وائرس سے منسلک سازشی نظریات کو ’خطرناک اور فضول‘ قرار دیا ہے۔

    امریکہ کی ریاست نیو یارک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 630 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امداد کی توجہ زیادہ تر ان علاقوں پر مرکوز رکھی جائے گی جو سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔

    صرف نیو یارک میں اب تک 3500 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔

    Sapin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جبکہ اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 15000 سے بڑھ گئی ہے۔ جبکہ ملک کے شہری تحفظ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلی مرتبہ مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جو کہ ملک کے لیے ایک مثبت خبر ہے۔ جبکہ گذشتہ آٹھ دنوں سے اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    سپین میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 809 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔ اور گذشتہ تین دنوں میں یہ پہلی مرتبہ ہےکہ ہلاکتوں کی تعداد 900 سے کم رہی۔ سپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک ’انفیکشن کے عروج کو پار کرنے کے قریب ہے‘ لیکن لاک ڈاؤن کے اقدامات میں توسیع 26 اپریل تک کردی گئی ہے۔

    فرانس میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی کل تعداد 7560 تک پہنچ گئی ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں دبئی میں کورونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔

    Dubai

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  4. کورونا وائرس: ’سماجی فاصلہ اپنانے سے فرق پڑ رہا ہے‘

    Fauci

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے قومی ادارہ برائے الرجی اور متعدی امراض کے سربراہ ، ڈاکٹر انتھونی فوسی نے وائٹ ہاوس میںکورونا وائرس ٹاسک فورس بریفنگ کے دوران ایک بار پھر امریکی عوام کو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے ہدایات پر عمل کرنےپر زور دیا ہے۔

    انھوں نے کہا ’جیسا کہ آپ دیکھ درہے ہیں اور ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے، کورونا وائرس کے باعث اموات ہوں گی اور ان کی تعداد بھی بڑھے گی۔ میں نے متعدد بار عوام سے کہا ہے سماجی فاصلے کی ہدایات پر عمل کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بیک وقت نئی مریض ہسپتال منتقل ہو رہے ہیں اور انتہائی نگہداشت میں اموات بھی ہو رہی ہے۔ اس سب میں اہم یہ ہے کہ اپنی توجہ ہسپتال میں نئے مریضوں کی تعداد کو محدود کرنے پر مرکوز رکھیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے ہم سماجی فاصلہ برقرار رکھنے جیسے اقدامات کو اپنا کر نئے متاثرین کی تعداد کو محدود کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات سود مند ثابت ہو رہے ہیں اور جن ملکوں نے ان سخت اقدامات پر عمل کیا ہے وہاں کورونا مریضوں کی تعداد میں واضح طور پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔‘

    ڈاکٹر فوسی نے مزید کہا کہ ’میں امریکی عوام سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ہم بھی ان اقدامات پر عمل کرتےہوئے فرق لا سکتے ہیں اور ہمیں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کو اپنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

  5. اس وبا سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد لی جا رہی ہے، صدر ٹرمپ

    coronavirus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ہم اس وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے فوج، ہزاروں فوجیوں، طبی عملے اور پیشہ ور افراد کی ایک بہت بڑی تعداد کو شامل کرنے جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ فوجی جوانوں کو ’جلد ہی‘ اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا۔ ان کامزید کہنا تھا کہ ’ایک ہزار فوجی اہلکاروں‘ کو نیویارک شہر میں تعینات کیا گیا ہے۔

    وائٹ ہاوس میں کورونا ٹاسک فورس کی روزانہ دی جانے والی بریفنگ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے 40000 پھنسے ہوئے امریکی شہریوں کو ملک واپس بلا لیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے کامیابی کے ساتھ ’75 ممالک میں 400 پروازوں‘ کے ذریعے امریکی شہریوں کی واپسی ممکن بنائی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے ممالک نے ہماری بہت مدد کی اور میں اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

  6. ’بدقسمتی سے بہت اموات ہو رہی ہیں اور ہوں گیں‘: صدر ٹرمپ

    coronavirus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کی روزانہ دی جانے والی بریفنگ میں امریکی عوام سے کہا ہے کہ ’ہم آپ کے لیے لڑ رہے ہیں اور ہم سب ملک کر اس کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے عوام سے محبت، ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں ’بدقسمتی سے بہت اموات ہو رہی ہیں۔ بدقسمتی سے بہت سی اموات ہوں گیں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وفاقی امداد اب ان علاقوں پر مرکوز ہوگی جن کو اس کی زیادہ ضرورت ہے اور جو سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔

  7. کورونا وائرس: اٹلی میں انتہائی تشویشناک مریضوں میں پہلی مرتبہ کمی

    Coronavirus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی کے محکمہ شہری تحفظ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ انتہائی تشویشناک مریضوں کی تعداد میں پہلی مرتبہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    سنیچر کو اٹلی میں 681 مزید ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی جس کے بعد ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 15362 ہو گئی ہے۔ تاہم محکمہ شہری تحفظ کے سربراہ انگیلو بوریلی کا کہنا تھا کہ ملک میں پہلی مرتبہ انتہائی تشویشناک مریضوں کی تعداد 4068 سے کم ہو کر 3994 ہو گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار بہت اہم ہیں کیونکہ پہلی مرتبہ مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

  8. بریکنگ, فرانس میں ہلاکتیں 7500 ہو گئیں

    فرانس میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 441 افراد کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ تازہ ہلاکتوں کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5532 ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق ہسپتالوں میں موجود مریضوں کی اموات حالیہ دنوں میں کم ہوئی ہے تاہم معمر افراد کی قیام گاہوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات کے مطابق یہ 2028 تک پہنچ گئی ہیں۔

    مجموعی طور پر ان تک فرانس میں 7560 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں 28143 افراد ہسپتالوں میں زیر علاج رہے۔ جبکہ 6838 انتہائی نگہداشت میں ہیں۔

    ادھر ترکی نے کہا ہے کہ ملک میں اب تک 501 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مجموعی طور پر کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 24000 ہو چکی ہے۔

  9. کورونا وائرس: کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ-19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    corona

    ،تصویر کا ذریعہge

    دنیا میں کووڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں اس سے متاثرہ افراد میں سے دو لاکھ سے زیادہ صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    تاہم ان میں سے کچھ مریض ایسے بھی ہیں جن میں صحت یابی کے بعد دوبارہ کورونا وائرس پایا گیا ہے۔ عام نزلہ زکام جیسے انفیکشن کا شکار ہونے والے مریض میں عموماً ایسی بیماریوں کے لیے قوتِ مدافعت بھی پیدا ہو جاتی ہے سو کورونا وائرس کے معاملے میں مختلف کیا ہے۔

    سپین میں بائیو ٹیکنالوجی کے قومی مرکز سے تعلق رکھنے والے وائرولوجسٹ لوئس اینہوانس کا کہنا ہے کہ کم از کم 14 فیصد مریضوں میں دوبارہ وائرس پایا گیا جن کا صحت یابی کے بعد کورونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔

  10. بریکنگ, , اٹلی میں ہلاکتیں 15 ہزار تجاوز کر گئیں تاہم انفیکشن کے پھیلاؤ میں کمی

    coroma

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی میں حکام نے مزید 681 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 15362 ہو گئی ہیں۔

    اٹلی میں گذشتہ آٹھ روز کے دوران ہلاکتوں ںی بتدریج کمی آئی ہے جبکہ مزید افراد میں انفیکشن کے پھیلاؤ میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2886 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ جس کے بعد بعد اٹلی میں مجموعی طور پر اس وبا کا شکار افراد کی تعداد 88174 ہوگئی ہے۔

    اب تک اٹلی میں 20996 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اٹلی اور سپین دونوں میں اس وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 124000 سے تجاوز کر چکی ہے۔

  11. بریکنگ, امریکی ریاست نیویارک میں ریکارڈ 630 ہلاکتیں

    امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو کا کہنا ہے کہ ریاست میں ایک دن میں ریکارڈ 630 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    کورونا وائرس سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 3565 ہو گئی ہیں۔

    ریاست میں 113704 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس میں صرف نیویارک شہر میں ہی 63306 کیسز ہیں۔

  12. بریکنگ, چین سے 300 وینٹیلیٹرز برطانیہ پہنچ گئے

    برطانیہ کے کیبنٹ آفس منسٹر مائیکل گوو کا کہنا ہے کہ چین سے تین سو وینٹیلیٹرز برطانیہ پہنچ چکے ہیں جبکہ برطانیہ میں تیار کیے جانے والے وینٹیلیٹرز جلد ہی دستیاب ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بیرون ملک سے وینٹیلیٹرز خرید رہے ہیں جن میں جرمنی اور سوئٹزر لینڈ بھی شامل ہیں تاہم آج چین سے 300 وینٹیلیٹرز پہنچ چکے ہیں۔ اور میں اس کے لیے چین کی حکومت کا شکر گزار ہوں۔ ‘

    اس سے پہلے انھوں نے بتایا کہ ملک میں اب تک طبی عملے کے سات ارکان کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے آج برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے پانچ سالہ بچے کے خااندان سے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔

  13. کورونا نقشہ: دنیا بھر میں کووڈ-19 کے مریض کہاں کہاں ہیں؟

    دنیا بھر میں کووڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے اور جہاں اب چین میں اس کے نئے متاثرین کی تعداد کم ہوئی ہے وہیں امریکہ اس کا نیا مرکز بن چکا ہے۔

    اب تک یہ مرض دنیا کے 180 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے دس لاکھ افراد متاثر اور 50 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

  14. بریکنگ, دنیا بھر میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتیں 60 ہزار ہو گئیں

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتیں 60000 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    اعداد و شمار جمع کرنے والی جان ہاپکنز یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اب تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث 60874 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ان اعداد کی تائید کی ہے۔

    جان ہہاپکنز کے مطابق اس وبا سے متاثر ہونے والے کل افراد کی تعداد 1139000 سے زائد ہے۔

  15. برطانیہ: ’طبی عملے اور نرسوں کی مزید ہلاکتیں ہوں گی‘

    برطانیہ

    برطانیہ میں نرسوں کی سب سے بڑی یونین کا کہنا ہے کہ یہ ’ناگزیر‘ ہو چکا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام اور مریضوں کے علاج میں مصروف نرسوں اور طبی عملے کے مزید اراکین ہلاک ہوں گے۔

    یاد رہے کہ رواں ہفتے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی برطانیہ کی دو نرسیں وائرس کے باعث ہلاک ہو گئی تھیں۔

    رائل کالج آف نرسنگ سکاٹ لینڈ کی ڈائریکٹر تھریسا فائفی نے بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خدشات اب بھی موجود ہیں کہ آیا متاثرین کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کو وہ تمام حفاظتی سامان فراہم کیا گیا ہے جس کی انھیں ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دوران علاج نرسیں متاثرہ مریضوں سے محفوظ فاصلے پر نہیں رہ پاتیں۔

    رائل کالج آف نرسنگ کی چیف ایگزیکٹیو ڈیم ڈونا کہتی ہیں کہ برطانیہ میں نرسین کووِڈ 19 کے مصدقہ مریضوں کا علاج کسی حفاظتی سامان کے بغیر کر رہی ہیں۔ اور ایسا کرنا اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے جیسا ہے

  16. بریکنگ, برطانیہ: 24 گھنٹے میں 700 ہلاکتیں

    برطانوی حکومت نے کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں تین اپریل کو مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک کورونا وائرس کا شکار ہوکر مرنے والوں کی تعداد 4313 ہو گئی ہے جس میں گذشتہ چوبیس گھٹنوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 708 ہے۔

    سنیچرکی صبح نو بجے تک کل 183190 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 41903 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

  17. بریکنگ, سپین میں مزید تین ہفتوں کا لاک ڈاؤن

    لاک ڈاؤن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین یورپ میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کےبعد اٹلی سے آگے نکل گیا ہے۔ سپین کی تازہ صورتحال

    • سپین کے وزیر اعظم نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 26 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔ سپین میں لاک ڈاؤن کو تین ہفتے ہوچکے ہیں۔ ملک میں غیر ضروری باہر نکلنے پر پابندی ہے اور زیادہ تر کاروبار بند ہیں۔
    • گذشتہ 24 گھنٹے میں مزید 809 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11744 ہو چکی ہے۔
    • سپین میں مزید 7026 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور ان تک وائرس کا شکار افراد کی کل تعداد اٹلی سے بھی زیادہ 124736 ہو چکی ہے۔
    • تاہم تین دن میں پہلی مرتبہ روزانہ کی ہلاکتوں کی تعداد 900 سے نیچے آئی ہے۔ اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ کم ترین ہلاکتیں ہیں۔
    • ان اعداد سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ملک میں اس وبا کا عروج ہو چکا ہے۔
  18. سڈنی میں پابندی کے باوجود لوگ ساحلوں پر

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے بعد اب گرم موسم کے باعث سڈنی آسٹریلیا میں بھی لوگ سماجی فاصلے کی پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے ساحل سمندر پر آنے لگے ہیں۔

    سنیچر کے روز سڈنی کی مشہور بیچز پر ہجوم دیکھنے کو ملا۔

    آسٹریلیا کے میڈیا میں دکھائے جانے والے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شمالی سڈنی کے مشہور مقامات پر لوگ دھوپ سینک رہے ہیں اور ساحل پر چہل قدمی اور پانی میں سرفنگ کر رہے ہیں۔

    یہاں دو سے زیادہ افراد کا جمع ہونا منع ہے اگر وہ ایک ہی گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے۔ ( پولیس ایسے افراد کو ایک ہزار ڈالر تک جرمانہ کر سکتی ہے)

    آسٹریلیا میں اب تک کورونا وائرس کے 5500 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے نصف اسی حصے سے ہیں جہاں سڈنی واقعے ہے۔

  19. دنیا بھر میں کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ صورتحال

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث لوگ سماجی فاصلہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بیشتر ممالک میں کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور ہلاکتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

    اس لائیو پیج پر ابھی ابھی آنے والوں کے لیے کچھ شہ سرخیاں:

    • چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے 3000 افراد کے لیے تین منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ووہان جہاں سے اس وائرس کا آغاز ہوا عارضی طور پر تمام ٹریفک لائٹس سرخ کر دی گئیں۔
    • سپین میں چوبیس گھنٹوں میں ہونے والی ہلاکتیں بڑھ کر 809 ہوگئی ہیں۔ تین دن کے بعد روزانہ وائرس کا شکار ہونے والوں کی تعداد 900 سے نیچے رہی۔ اس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید ملک میں وبا اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے۔ سپین میں اب تک کل 124736 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جو اٹلی کے متاثرہ افراد دے بھی زیادہ ہے۔
    • نیدر لینڈز میں ہلاکتوں کی تعداد 164 سے بڑط کر 1651 ہو گئی، جرمنی نے ہمسایہ ریاستوں آسٹریا اور سوئٹرز لینڈ کے علاوہ برطانیہ سمیت متعدد ممگلک کے ساتھ مل کر رابرٹ کوچ کے طبی ادارے میں ایک بین الاقوامی رسک ایرا بنایا گیا ہے۔
    • بیلجیئم میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 140 ہلاکتیں ہوئیں وہاں اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1283 ہو چکی ہے۔
    • برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو دعوت دی ہے کہ وہ وائرس کے حوالے سے ردِ عمل پر بات کریں۔
    • فلپائن میں پھنس جانے والے برطانوی افراد کو سات اپریل کو ایک پرواز کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا۔ فلپائن میں اس وبا سے اب تک 144 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • کویت میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے دوسری جانب جارجیا میں ایک 79 سالہ خاتون کی موت ملک میں کورونا کے باعث ہونے والی پہلی ہلاکت تھی۔
  20. بریکنگ, ایران میں مزید 158 اموات، 4103 مریضوں کی حالت تشویش ناک, ہلاکتیں: 3452 متاثرین: 55743

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 158 مزید اموات ہوئیں جبکہ 2560 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    اس طرح ایران میں اموات کی کل تعداد 3452 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مجموعی طور 55743 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    انھوں نے روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی بریفنگ میں بتایا کہ 4103 مریض تشویش ناک حالت میں ہیں جبکہ صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 19736 ہو گئی ہے۔