کورونا وائرس: ایرانی پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی میں وائرس کی تصدیق

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 9 لاکھ 40 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے 47 ہزار سے زیادہ ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مکہ اور مدینہ میں 24 گھنٹوں کے کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایمرٹس ایئر لائن کا پروازوں کی بحالی کا اعلان

    ایمرٹس ایئر لائنز چھ اپریل سے متحدہ عرب امارات سے محدود تعداد میں اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دے گی۔

    ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو شیخ احمد بن سعید المخطوم نے ٹویٹر پر لکھا: ’چھ اپریل سے یہ پروازیں ابتدائی طور پر متحدہ عرب امارات سے باہر جانے والے مسافروں کو لے کر جائیں گی۔ تفصیلات کا اعلان جلد کیا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے 25 مارچ سے اپنی تمام مسافر پروازیں منسوخ کر دی تھیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. چین نے کورونا وائرس سے متعلق اعدادوشمار پر شکوک کو مسترد کر دیا

    چین

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    چین کے سرکاری میڈیا نے کورونا وائرس سے متعلق اعدادوشمار پر شکوک و شہبات کو مسترد کرتے ہوئے ان کا دفاع کیا ہے۔

    دو اپریل کو چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے آن لائن ایک رپورٹ شائع کی کہ مغرب کے چند ذرائع ابلاغ نے چین پر کورونا وائرس کے ’اصل اعدادوشمار کو چھپانے‘ کا الزام عائد کرنا شروع کر دیا ہے۔

    یہ اس وقت سامنے آیا جب حال ہی میں اٹلی، سپین، امریکہ اور فرانس نے کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں چین کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    گلوبل ٹائمز کے مطابق فرانس میں چین کے سفیر لو شائے نے کہا ہے کہ سوائے ’اکا دکا کیسز‘ کے کورونا وائرس کی وبا کو ’بنیادی طور پر چینی حکومت نے کنٹرول کر لیا ہے۔‘

    فرانس میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ سنہ 2019 میں ’ووہان میں تقریباً دس ہزار افراد کی اموات کورونا وائرس کے علاوہ دوسری وجوہات سے ہوئی۔‘

  3. کورونا وائرس: آسٹریلیا میں دو نئی ویکسینز پر کام شروع

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہCSIRO

    آسٹریلیا میں سائنسدان دو ایسی ویکسین ٹیسٹ کرنا شروع کر رہے ہیں جو کورونا وائرس کے خلاف مدد کر سکتی ہیں۔

    ایک ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوسری امریکی دواساز کمپنی اینویو نے بنائی ہے اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جانوروں پر ان کے تجربے کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    آسٹریلیا کی قومی سائنس ایجنسی یہ جانچے گی کہ آیا یہ ویکسین انسانوں کے لیے قابل استعمال ہے یا نہیں۔

    گذشتہ ماہ امریکہ میں اس ویکسین کا انسانوں پر پہلے تجربہ ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ یہ دنیا میں تیار کی جانے والی واحد ویکسین نہیں اور اس وقت کئی ملکوں میں کووڈ 19 کو شکست دینے کے لیے کئی سائنسان دن رات کام کر رہے ہیں۔

    آسٹریلیا کی قومی سائنس ایجنسی کے ڈاکٹر راب گرینفیل نے کہا کہ کسی بھی ویکسین کو اس مرحلے تک پہنچنے میں عموماً ایک سے دو سال لگتے ہیں۔

  4. سپین میں بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ

    سپین میں بے روزگاری کے دورن حکومتی امداد سے فائدہ اٹھانے کے لیے دی جانے والی درخواستوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

    ملک میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے مارچ کے مہینے میں تین لاکھ افراد حکومتی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔

  5. حسن روحانی:’کورونا کئی ماہ تک ہمارے ساتھ رہ سکتا ہے‘

    حسن روحانی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر حسن روحانی نے ایک بار پھر اس پیشگوئی کو تبدیل کر دیا ہے کہ ان کا ملک کب تک کورونا وائرس سے دوچار رہے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ مارچ سنہ 2021 تک یہ مرض ایران کے لیے تشویش کا باعث بنا رہے۔

    کورونا وائرس سے اب تک ایران میں تین ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

    تہیران میں کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے نیشنل ہیڈکوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’کورونا کئی ماہ تک ہمارے ساتھ رہ سکتا ہے شاید اس برس کے اختتام تک۔‘

    گذشتہ ماہ حسن روحانی نے کورونا وائرس سے منسلک خدشات کو ’دشمن کی سازش‘ سے منسوب کیا تھا تاہم بعد میں انھوں نے اعتراف کیا کہ یہ مہلک وبا دو ماہ تک ختم نہیں ہو سکتی۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس پر کنٹرول کے اقدامات میں توسیع سے متعلق حتمی فیصلہ 5 اپریل کو کیا جائے گا۔

  6. کورونا وائرس: چین کی علاج کے لیے ریچھ کا صفرا استعمال کرنے کی منظوری

    ریچھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین نے کورونا وائرس کے شدید بیمار مریضوں کے علاج کے لیے ریچھ کا صفرا (جگر میں موجود زرد رنگ کا مادہ) استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے کوویڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے تان ری کونگ نامی انجیکشن کو استعمال کرنے کی تجویز دی ہے جس میں ریچھ کا صفرا، بکرے کے سینگ اور جڑی بوٹیاں شامل ہوتی ہیں۔

    تاہم اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ اس مرکب کا کوئی طبی فائدہ ہے۔

    ریچھ کا صفرا جو جگر میں پیدا ہوتا ہے اور معدے میں محفوظ رہتا ہے، سینکڑوں برسوں سے چین کی روایتی طب میں استعمال ہوتا ہے اور غیرقانونی بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی زیادہ قیمت ملتی ہے۔

    اس کے استعمال کی منظوری کے اقدام سے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی جانب سے شدید غصہ سامنے آیا ہے۔

  7. بریکنگ, برطانیہ میں قرض اور کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیاں منجمد کرنے کی ہدایت

    کریڈٹ کارڈ

    ،تصویر کا ذریعہALEXIALEX

    کورونا کی وبا کی روک تھام کے لیے برطانیہ میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران قرض کی اقساط اور اوور ڈرافٹ کی فیس کی ادائیگی کے لیے پریشان افراد کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

    مالیاتی ضوابط کے ادارے نے بینکوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے صارفین کے لیے قرض اور کریڈٹ کارڈ پر موجود رقم کی ماہانہ اقساط تین ماہ کے لیے منجمد کر دیں جنھیں ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  8. یورپ کی تازہ ترین صورتحال

    europe

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    • اٹلی اور سپین میں صحت کے حکام کے مطابق ایسے شواہد ملے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا میں کمی آ رہی ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی اور سپین میں ہوئی ہیں۔ اٹلی میں کل 13155 جبکہ سپین میں 9053 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • فرانسیسی حکام کے مطابق گرینڈ ایسٹ کے خطے میں 570 افراد نرسنگ ہومز میں ہلاک ہوئے ہیں۔ فرانس میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد میں صرف وہ اموات شامل ہیں جو ہسپتالوں میں ہو رہی ہیں اور یہ خدشات بڑھتے جارہے ہیں کہ دیکھ بھال کے مراکز میں بھی بہت سی اموات ہوئی ہیں۔
    • گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس میں کورونا وائرس کے مزید 771 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 3548 ہو گئی ہے۔
  9. کورونا وائرس: مودی حکومت ان سوالوں سے نہیں بچ سکتی ہے

  10. کورونا کی دوسری اور تیسری لہر سے زیادہ متاثر کون: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے

  11. یونان نے تارکین وطن کے کیمپ کو قرنطینہ میں تبدیل کر دیا

    یونان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    20 پناہ گزینوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد یونان نے تارکین وطن کے ایک کیمپ کو قرنطینہ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    حکام نے اس کیمپ میں اس وقت کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ شروع کیے جب ایتھنز کے ہسپتال میں اس کیمپ میں رہنے والی ایک عورت میں بچہ جنم دینے کے بعد وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    ایتھنز کے قریب رٹسونا کیمپ میں تقریباً ڈھائی سو افراد کے رہنے کی گنجائش ہے۔ حکام کے مطابق اس کیمپ کو 14 روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

  12. سائنسدان کووڈ-19 کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

  13. ایئر انڈیا کے پائلٹس کو ’انفیکشن کا خطرہ‘, وکاس پانڈے، بی بی سی نیوز دہلی

    ایئر انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی قومی ایئرلائن ایئر انڈیا نے بیرون ملک پھنسے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے حال ہی میں کچھ خصوصی ریسکیو پروازیں چلائیں ہیں۔

    لیکن پائلٹس کے ایک گروپ نے الزام لگایا ہے کہ ان پروازوں کے دوران ان کی حفاظت پر سمجھوتہ کیا گیا تھا۔

    ایک سینئر پائلٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ذاتی حفاظتی سازوسامان پر مشتمل جو کٹس دی گئیں وہ ’انتہائی نازک‘ اور دوران پرواز ہی ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ ہو گئیں۔

    پائلٹوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے ہر فرد کو 14 دن قرنطینہ میں رکھنے کے قاعدے کا اطلاق پرواز کے عملے پر نہیں کیا گیا۔

  14. روس میں کورونا کے 771 نئے مریض

    روسی حکام نے کہا ہے کہ ملک میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں 771 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

    اس طرح ملک میں اب متاثرین کی کل تعداد 3500 سے بڑھ گئی ہے۔

    نئے مریض ملک کے 29 مختلف علاقوں میں سامنے آئے ہیں تاہم ان کی اکثریت یعنی 595 کا تعلق ماسکو سے ہے۔

    روس میں کورونا سے مزید چھ اموات بھی ہوئی ہیں جن کے بعد کل تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے۔

    روس میں اب تک 235 افراد اس بیماری سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔

  15. دنیا میں اب تک کیا ہوا ہے؟

    DC

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہمارے صارفین کے لیے پیش ہے چند اہم بین الاقوامی خبروں کا خلاصہ۔

    • امریکہ میں کورونا وائرس سے 5000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کو حفاظتی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
    • آسٹریلیا میں حکام نے بین الاقوامی بحری جہازوں سے اپنے اپنے ملک واپس لوٹنے کا کہا ہے تاکہ مقامی ہسپتالوں پر بوجھ نہ پڑے۔
    • اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تمام شہریوں سے باہر نکلنے سے پہلے ماسک پہننے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ مذہبی تہوار صرف گھر میں قریبی خاندان والوں کے ساتھ ہی منائے جائیں۔
    • مشرق وسطی میں رہنے والے شامی پناہ گزین کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پناہ گزین کیمپوں میں سماجی دوری کا خیال رکھنا ممکن نہیں ہوتا اور ایسی زیادہ تر جگہوں میں طبی سہولیات کا بھی خاطرخواہ انتظام نہیں ہوتا۔
  16. دنیا بھر میں سینیٹائزر کی قلت کی وجہ کیا؟

    سینیٹائزر

    ،تصویر کا ذریعہKOEN VAN WEEL

    کورونا وائرس کی وبا سے محفوظ رہنے کے لیے ماہرین صحت نے دنیا بھر میں لوگوں کو ہاتھ دھونے اور سینیٹائزر استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن بہت سے لوگ سینیٹائزر کی تلاش میں خاصی جدوجہد کر رہے ہیں۔

    دکانوں میں موجود سینیٹائزر ختم ہو چکے ہیں جبکہ آن لائن ان کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

    اگر دنیا میں ہر شخص کے پاس سینیٹائزر کی ایک چھوٹی بوتل ہو تو ہمیں تقریباً 30 کروڑ پچاس لاکھ لیٹر سینیٹائزر کی ضرورت ہو گی۔

    مارکیٹ تجزیہ کار کمپنی اریزٹن ایڈوائزری اینڈ انٹلیجنس کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے قبل دنیا میں تین لاکھ لیٹر سینیٹائزر تیار کیا جا رہا تھا۔ شاید یہیی وجہ ہے کہ یہ وبا پھیلنے کے بعد اب دنیا بھر کو سینیٹائزر کی قلت کا سامنا ہے۔

    اگر آپ ایمازون سے عالمی ادارہ صحت کا تجویز کردہ الکوحل والا سینیٹائزر خریدنے کی کوشش کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ سب اچھے برانڈز کے سینیٹائزر پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔

  17. چین کے شہر شینزین میں ’کتے اور بلیاں کھانے پر پابندی‘

    گوشت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کے شہر شینزین میں کتے اور بلیاں کھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کی خبر کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق یکم مئی سے ہو گا۔

    سائنسدانوں کو شبہ ہے کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ انفیکشن ایسے کچھ افراد میں پایا گیا تھا جن کا تعلق چین کے شہر ووہان کی اس مارکیٹ سے تھا، جہاں چمگادڑ، سانپ اور دوسرے جانور فروخت ہوتے تھے۔

  18. انڈونیشیا: عید کی چھٹیوں پر گھر جانے والوں کے لیے انتظامات

    انڈونیشیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈونیشیا کی حکومت نے رمضان سے قبل ہی داراحکومت جکارتہ سے اپنے اپنے علاقوں کے لیے نکلنے والے افراد کے لیے ایک خصوصی پلان تشکیل دیا ہے تاکہ عید کی چھٹیوں میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ نہ ہو۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق جکارتہ سے عید کے لیے دیگر علاقوں میں جانے والے افراد کے سفر پر پابندی نہیں ہو گی تاہم مختلف مقامات پر ان کا طبی معانئہ کیا جائے گا۔

  19. کورونا وائرس: کیا سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہونا مرض کی علامات ہیں؟

  20. لاک ڈاؤن! کیسا لاک ڈاؤن؟ سویڈن کا انوکھا ردعمل