ایرانی میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ کا دعویٰ کہ ایران پسپائی اختیار کر رہا ہے
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ عراق میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا صرف کچھ املاک کو معمولی سا نقصان ہوا ہے۔
لائیو کوریج
ذیشان حیدر، حسن زیدی، عابد حسین, عمیر سلیمی and تابندہ کوکب
کیا ٹرمپ نے قاسم سلیمانی پر حملہ الیکشن جیتنے کے لیے کیا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا اثر امریکہ صدارتی انتخابی سیاست پر پڑنا ناگزیر ہے۔ آج کل ہر چیز صدارتی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ ایک بہت بڑی خبر تھی۔
بی بی سی کے شمالی امریکہ کے نامہ نگار اینتھونی زرکر کو اس کے اثرات ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں شروع ہونے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے پرائمری انتخابات اور اس سال نومبر میں صدارتی انتخابات پر پہلے ہی پڑتے نظر آ رہے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی طور پر امریکہ میں جس صدر کو خارجہ پالیسی کے محاذ پر کسی بحران کا سامنا ہو اس کی وقتی طور پر عوامی حمایت میں یک دم اضافہ ہو جاتا ہے۔
جرمنی کے وزیرِ دفاع نے عراق میں واقع دو امریکی اڈوں پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور تہران پر زور دیا ہے وہ خطے میں کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کریں۔
بریکنگ, ’بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘, جیریمی بوئن، مدیر برائے مشرقِ وسطیٰ
تاحال ایرانی حملوں میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ اگر یہ بات ایسی ہی رہی تو ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر یہ کہہ سکیں گے ’جنابِ صدر، یہ امریکہ کی جیت ہے۔‘
ممکن ہے کہ وہ (ٹرمپ) بیٹھ کر کہیں ’میں نے ایک اور عظیم فیصلہ کیا ہے۔‘ اور بات فی الوقت وہیں پر رک جائے لیکن امریکہ اور ایران کا یہ بحران، یہ تنازعہ اور باہمی خطرات اپنی جگہ موجود ہیں اور جاری رہیں گے۔
اگر یہ اس مخصوص بحران کا خاتمہ ہو بھی تو اصل اور بنیادی مسائل جو کہ اس کی جڑ میں ہیں وہیں کے وہیں ہیں۔
بریکنگ, ’ہم نے ان کے چہرے پر طمانچہ مارا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا ایران دنیا کے داداگیروں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ رات ہم نے ان کے چہرے پر طمانچہ مارا ہے۔‘
علی خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ ’جب بات محاذ آرائی کی آتی ہے تو اس قسم کی فوجی کارروائی کافی نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ (خطے میں) امریکہ کی موجودگی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے خبردار کیا کہ امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ ایران سے اس کی دشمنی ختم نہیں کرے گا۔
’یہ بہت بڑی غلطی ہے اور واضح غلطی ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم ایک قدم پیچھے ہٹیں اور کچھ پسپائی اختیار کریں تو امریکہ دشمنی ختم کر دے گا۔ دشمنی ان کی فطرت میں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو ہر شعبے میں مضبوط ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ’دشمن ہمیں نشانہ نہ بنا سکے۔‘
اسماعیل قانی: ایران کی قدس فورس کے نئے کمانڈر کون؟
،تصویر کا ذریعہAFP
قاسم سلیمانی کے بعد اسماعیل قانی قدس فورس کے نئے چیف مقرر کیے گئے ہیں۔
63 سالہ اسماعیل قانی ملک کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے تھے جو اس کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔
قاسم سلیمانی کی طرح اسماعیل قانی نے بھی 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی خونی جنگِ ایران و عراق میں حصہ لیا تھا۔
اسماعیل قانی کے مطابق جنگ کی مشکلات نے جنرل قاسم سلیمانی سے ان کی دوستی مزید مضبوط بنا دی تھی۔
اسماعیل قانی کے لیے بڑا چیلنج اپنے پیشرو کے اثر و رسوخ کے برابر آنا ہوگا۔
امریکہ ایران تعلقات: ایک مختصر تاریخ, سنہ 1953 میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے مرتب کردہ پروگرام کے نتیجے میں ایرانی وزیر اعظم کے ہٹائے جانے سے لے کر صدر ٹرمپ کے دور حکومت کی کشیدگی تک امریکہ اور ایران کے درمیان 65 سالہ پیچیدہ تعلقات پر ایک طائرانہ نظر
1953: محمد مصدق کی معزولی
امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں نے جمہوری طور پر منتخب ایران کے وزیر اعظم محمد مصدق کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے تختہ پلٹنے کا انتظام کیا تھا۔ سیکولر رہنما نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومیانے کی کوشش کی تھی۔
1979:ایرانی انقلاب
امریکہ کی حمایت رکھنے والے ایران کے فرمانروا رضا شاہ پہلوی کو سیکولر اور مذہبی مخالفین کی جانب سے ان کی حکومت کے خلاف مہینوں کے احتجاج اور ہڑتال کے بعد 16 جنوری کو ملک چھوڑنا پڑا۔ اس کے دو ہفتے بعد اسلامی مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی ملک بدری سے واپس آئے اور ایک ریفرینڈم کے نتیجے میں یکم اپریل کو اسلامی جمہوریہ ایران کا اعلان کیا گيا۔
1979-81: امریکی سفارتخانے میں یرغمالیوں کا بحران
تہران میں واقع امریکی سفارتخانے پر مظاہرین نے نومبر سنہ 1979 میں قبضہ کر لیا اور وہاں موجود امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گيا۔ آخری 52 یرغمالیوں کو جنوری سنہ 1981 میں آزاد کیا گیا۔ مزید چھ امریکی جو سفارتخانے سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے انھیں فلم سازوں کے بھیس میں کام کرنے والی ایک ٹیم نے ایران سے باہر نکالا اور اس واقعے کو سنہ 2012 میں آسکر انعام حاصل کرنے والی فلم 'آرگو' میں ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
1985-86: ایران-کونٹرا سکینڈل
امریکہ نے خفیہ طور پر سمندری راستے سے ایران کو اسلحے فراہم کیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلحہ پہنچانا تہران کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے امریکیوں کی رہائی میں معاونت کے بدلے میں تھا۔ اس کے منافع کو نکاراگوا کے باغیوں تک پہنچایا گیا جس نے صدر ریگن کے لیے سیاسی بحران پیدا کر دیا۔
1988: ایران کا مسافر بردار طیار مار گرایا گيا
امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس ونسینس نے تین جولائی کو خلیج فارس میں ایران ایئر کے ایک طیارے کو مار گرایا جس میں 290 افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایئربس اے 300 کو غلطی سے جنگی طیارہ سمجھ لیا گیا تھا۔ زیادہ تر مرنے والے ایرانی زائرین تھے جو حج کے لیے مکہ جا رہے تھے۔
2002: 'برائی کا محور'
صدر جارج ولیم بش نے اپنے سٹیٹ آف یونین کے خطاب میں عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ ایران کو 'برائی کے محور' کا حصہ قرار دیا۔ ان کے خطاب پر ایران میں غم و غصہ ظاہر کیا گیا۔
2000: جوہری اسلحے کا خطرہ اور پابندیاں
سنہ 2002 میں ایرانی حزب اختلاف نے انکشاف کیا کہ ایران جوہری تنصیبات کو فروغ دے رہا ہے جس میں ایک یورینیم کی افزودگی کا پلانٹ بھی شامل ہے۔ امریکہ نے ایران پر پوشیدہ جوہری اسلحے کا پروگرام چلانے کا الزام لگایا جس کی ایران تردید کرتا ہے۔ اس کے بعد ایک دہائی تک وقفے وقفے سے سفارتی سرگرمیاں نظر آئیں جن میں ایران کے ساتھ اقوام متحدہ میں جوہری اسلحے پر نظر رکھنے والوں سے بات چیت جاری رہی۔ لیکن اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کے زیادہ قدامت پسند صدر محمود احمدی ںژاد کی حکومت کے خلاف مرحلہ وار طریقے سے مختلف قسم کی پابندیاں عائد کیں۔ اس کے نتیجے میں ایرانی کرنسی کی قیمت دو سال کے اندر تین گنا گر گئی۔
2013-2016
ایران کے نئے اعتدال پسند صدر حسن روحانی کے صدر بننے کے ایک ماہ بعد ستمبر سنہ 2013 میں صدر روحانی اور امریکی صدر براک اوباما نے فون پر بات چیت کی جو کہ 30 سال میں پہلی بار دو ممالک کے درمیان اعلی ترین سطح پر کی جانے والی بات چیت تھی۔
اس کے بعد سنہ 2015 میں متواتر سفارتی سرگرمیوں کے بعد ایران اپنے جوہری پروگرام کے تعلق سے پی فائیو پلس ون کہے جانے والے دنیا کے چھ طاقتور ممالک کے ساتھ ایک طویل مدتی معاہدے کے لیے رضامند ہو گیا۔ ان ممالک میں امریکہ کے ساتھ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل تھے۔
اس معاہدے کے تحت ایران اس بات پر راضی ہوا کہ کمر توڑ معاشی پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں وہ اپنی حساس جوہری سرگرمی کو محدود کرے گا اور بین الاقوامی جانچ کرنے والوں کو اپنے یہاں آنے کی اجازت دے گا۔
2019: خلیج میں کشیدگی
مئی سنہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر واپس معاشی پابندیاں عائد کر دیں اور جو ایران سے تیل خریدنا جاری رکھیں گے ان ممالک اور کمپنیوں پر بھی وہی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات مئی سنہ 2019 میں اس وقت مزید خراب ہو گئے جب امریکہ نے ایران کے تیل کی برآمدات پر لگائی جانے والی پابندیوں پر سختی کی۔ جواب میں ایران نے جوابی دباؤ کی مہم چھیڑ دی۔ مئی اور جون سنہ 2019 میں خلیج عمان میں چھ تیل بردار جہاز میں دھماکے ہوئے اور امریکہ نے ان کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
20 جون کو ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں تھا جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ان کے سمندری حدود میں تھا۔ اور پھر جولائی میں ایران نے معاہدے کے اہم وعدو سے انحراف شروع کر دیا۔
2020: قاسم سلیمانی کا قتل اور ایران کا ’انتقام‘
تین جنوری سنہ 2020 کو ایران کے ٹاپ فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایران نے ان کی موت پر 'سخت انتقام' کا عہد کیا ہے اور سنہ 2015 میں ہونے والے معاہدے سے خود کو علیحدہ کر لیا ہے۔ سات جنوری کی شب ایران نے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عراق میں موجود امریکی فضائی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو تیل کی قیمتیں تقریباً ایک فیصد بڑھ گئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ فی الحال خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے تیل کے ٹینکروں کے گزرنے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے سیکرٹری جنرل کے مطابق عراق میں موجود تیل کی تنصیبات محفوظ ہیں اور تیل کی برآمد معمول کے مطابق ہے۔
خامنہ ای: سلیمانی کی ’شہادت‘ دنیا میں انقلاب لائی
،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’سلیمانی کی شہادت نے دنیا بھر میں انقلاب برپا کیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ انقلاب ایران تک محدود رہ گیا ہے۔ شہید سلیمانی نے خاک میں اپنی آنکھ کھولی ہے۔‘
خامنہ ای: سلیمانی نے امریکی منصوبے ناکام بنائے
،تصویر کا ذریعہPress TV
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ایرانی ردعمل کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا ہے کہ: ’قاسم سلیمانی بہادر اور حکمت عملی میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ ہمت جنگ اور سیاسی دونوں میدانوں میں دیکھی گئی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سلیمانی نے مغربی ایشیا میں امریکی منصوبوں کو ناکام بنایا تھا۔ ’انھوں نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی مدد کی تھی۔۔۔ سلیمانی کی مدد سے عراق، شام اور لبنان میں امریکی منصوبے ناکام بنائے گئے۔‘
کیا آج کے حملے پہلے اور آخری ہوں گے؟
عراق میں موجود فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن چند مبصرین کے مطابق حالات اور بگڑیں گے۔
ایرانی نژاد امریکی صحافی یاشر علی نے اپنی چند ٹویٹس میں لکھا کہ ’ایسا سمجھنا بچپنا ہوگا کہ ایران کی جانب سے آج کے حملے پہلے اور آخری ہوں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
انھوں نے مزید لکھا کہ ایرانی حکومت اپنے حساب سے چلتی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ پڑوسی ملک میں چند میزائل داغ کر ایران نے اپنا بدلہ لے لیا تو آپ غلط ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
یاشر لکھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین حالات آج سے نے بلکہ تقریباً سات دہائی سے خراب ہیں جب امریکہ نے 1953 میں اس وقت کے ایرانی وزیر اعظم کا تختہ الٹانے میں مدد کی تھی۔
’ایرانی حکومت انتقام لینے میں جلدی نہیں کرتی بلکہ اسے نسل در نسل چلاتی ہے۔ ان کے مطابق انتقام کا وقت مہینوں، سالوں پر محیط ہوتا ہے۔‘
شاہ محمود قریشی: جنگ کسی کے مفاد میں نہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایران کے جوابی حملے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا یہ بیان کہ ان کا ملک کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا، دانشمندی کا مظہر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیان میں ایک سنجیدگی اور ٹھہراؤ تھا اور وہ سمجھتے ہیں کہ ’امریکہ کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔‘
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’سب کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔ صورتحال میں ٹھہراؤ پیدا ہو کیونکہ یہ خطہ کشیدگی اور جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اس کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ میں بھی ایک بہت بڑا طبقہ جنگ کا حامی نہیں ہے اور امریکی افواج کو ایک نئی جنگ میں جھونکنے کا خواہشمند نہیں ہے سو دونوں آرا اس وقت موجود ہیں۔‘
پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اس بیان کو دہرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور سمجھتا ہے کہ ان معاملات کو گفت وشنید کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔
’پاکستان کی خواہش یہی ہے کہ حالات نہ بگڑیں اور یہ خطہ جنگ کی نئی دلدل میں نہ پھنس جائے اور صورتحال کو سدھارنے کے لیے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو فی الفور اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘
میجر جنرل باقری: حملہ ایران کی دفاعی صلاحیت کی ایک جھلک ہے
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ یہ حملہ ایرانی برّی افواج کی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دیتا ہے۔
برطانوی وزیرِ خارجہ: ایران کا حملہ ’خطرناک اور نتائج کی پروا کے بغیر تھا‘
برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کی جانب سے ان عراقی فوجی اڈوں پر حملوں کی مذمت کرتا ہے جہاں برطانوی، امریکی اور اتحادی افواج کے ارکان مقیم ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں حملوں میں ہلاکتوں اور بیلسٹک میزائلوں کے استعمال کی اطلاعات پر تشویش ہے۔
انھوں نے کہا ’ہم ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے خطرناک اور لاپرواہ حملوں کو نہ دہرائے اور حالات معمول پر لانے کی کوشش کرے۔‘
برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں ایک جنگ صرف داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مدد کرے گی۔‘
کیا ایران مزید جوابی کارروائیاں کرے گا؟, جیرمی بوئن، ایڈیٹر بی بی سی، مشرق وسطیٰ
ایسا معلوم ہو رہا ہے جیسے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران اپنے ردعمل میں مزید آگے بڑھنا نہیں چاہتا۔
جواد ظریف نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ تناؤ مزید بڑھے یا یہ جنگ میں تبدیل ہو جائے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
یہاں ٹوئٹر کے ذریعے سفارت کاری ہو رہی ہے۔
ایران کی جانب سے ٹویٹ وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کی تھی۔
میرے خیال میں وہ اس پورے معاملے کے نیچے ایک لکیر کھینچنا چاہ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے ساتھ یہ معاملہ اپنے اختتام کو پہنچا اور یہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھا۔ اس سے پہلی انھوں نے امریکہ کی جانب سے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کو ایک دہشت گردانہ اور جنگے قدم تھا۔
میرے خیال میں وہ اور ایرانی عوام گیند امریکہ کے کورٹ میں ڈالنا چاہ رہے ہیں کیونکہ انھیں اس بات کا اندازہ ہے کہ دونوں ممالک کی افواج کی صلاحیتوں میں واضح فرق ہے۔
ایسے لگتا ہے جیسے وہ امریکیوں کو پیغام دے رہے ہیں: ’اب معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اگر آپ کشیدگی میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔‘
ایرانی میزائل حملوں کے ’مناظر‘
،ویڈیو کیپشنایران کا عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملہ
کیا آپ مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی کے حوالے سے مزید جاننا چاہتے ہیں؟
اس وقت دنیا میں بہت کچھ ہو رہا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ مشرقِ وسطی میں روز ہی کوئی نیا بحران کھڑا ہو جاتا ہے۔
اگر آپ کچھ دیر کے لیے خبروں کی دوڑ سے نکل کر معاملے کو گہرائی میں سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ ویڈیوز اور مضامین آپ ہی کے لیے ہیں!
جنرل قاسم سلیمانی ہیں کون؟
غریب گھرانے سے قدس فورس کی کمان تک: جنرل قاسم سلیمانی کی زندگی پر ایک نظر
کیا حالیہ کشیدگی سے تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے؟
جنرل سلیمانی کو اب کیوں مارا گیا؟
قاسم سلیمانی کی موت پر ایرانی کیا کہہ رہے ہیں؟
ایرانی افواج کتنی طاقتور ہیں؟
الاسد کا فضائی اڈہ کیا ہے
الاسد مغربی عراق میں صوبہ انبار میں واقع ہے اور عراقی فوج کے مطابق ایرانی حملے کے دوران اسے 17 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
الاسد کے فوجی اڈے پر امریکی فوجی تعینات ہیں اور ٹرمپ دسمبر 2018 میں اس کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملے کے پیشِ نظر اڈے پر موجود امریکی فوجیوں نے پہلے ہی احتیاطی اقدامات کر لیے تھے اور ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
22 میزائل فائر کیے گئے
عراقی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے منگل کی شب کیے جانے والے حملے میں کل 22 میزائل استعمال ہوئے۔
فوج کا کہنا ہے کہ 17 میزائلوں سے انبار صوبے میں واقع امریکی فوجی اڈے الاسد کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں سے دو نہیں پھٹے۔
اس کے علاوہ پانچ میزائلوں سے اربیل میں اتحادی افواج کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا
’ایرانی صدر روحانی قوم سے خطاب کریں گے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کے صدر حسن روحانی آج قوم سے خطاب کریں گے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا خطاب کس وقت نشر ہوگا۔
پاکستان کی عراق جانے والے شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’موجودہ حالات اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو عراق سفر کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔‘
’وہ لوگ جو پہلے سے عراق موجود ہیں انھیں بغداد میں پاکستانی سفارتخانہ کے ساتھ رابطے میں رہنے کی تلقین کی جارہی ہے۔‘
انڈیا سمیت کچھ دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر پر عراق جانے سے گریز کرنے کی تنبیہ کی ہے۔