متحدہ عرب امارات: ہم جنگ نہیں دیکھیں گے
متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے کہا ہے: ’ہم جنگ نہیں دیکھیں گے۔‘
’پڑوسی ملک ایران اور ہمارے اتحادی امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھا ہے اور مشرقِ وسطی میں مزید کشیدگی کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔‘
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ عراق میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا صرف کچھ املاک کو معمولی سا نقصان ہوا ہے۔
ذیشان حیدر، حسن زیدی، عابد حسین, عمیر سلیمی and تابندہ کوکب
متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے کہا ہے: ’ہم جنگ نہیں دیکھیں گے۔‘
’پڑوسی ملک ایران اور ہمارے اتحادی امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھا ہے اور مشرقِ وسطی میں مزید کشیدگی کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز نے عراقی فوج کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے راکٹ حملوں میں کسی عراقی شہری کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
چین میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ویبو پر کی گئی پوسٹ میں کہا گیا ہے: ’مغربی ایشیا سے امریکہ کی بُرائی کا زوال شروع ہوگیا ہے۔‘
ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے کو بتایا ہے کہ الاسد بیس پر موجود امریکی فوجیوں کو میزائل حملے کی پیشگی اطلاع ملی تھی اور وہ اپنے تحفظ کے لیے اقدامات لے پائے۔
ایرانی راکٹ حملے سے چند گھنٹے پہلے امریکی سیکٹری دقاع مارک ایسپر نے کہا تھا کہ انھیں جانب سے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کیجوابی کارروائی کا اندیشہ تھا۔
انھوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ’میرے خیال میں ہمیں ان کی جانب سے کسی نہ کسی صورت میں جوابی کارروائی کا سامنا کرنا ہی پڑے گا، چاہے یہ پراکسیز کی مدد سے ہو یا ان کے اپنے ہاتھوں سے۔‘
ایران کے پاس موجود میزائل حملے کرنے کی صلاحیت اس کی فوجی طاقت کا ایک اہم حصہ ہے۔
اس کے سب سے خطرناک میزائل کا نام شہاب تھری (Shahab 3) ہے جو دو ہزار کلو میٹرکی دوری کا سفر کرنے کے بعد اپنے اہداف سے ٹکرا سکتا ہے۔
ایران اپنے میزائل پاکستان، انڈیا، عراق، چین، مصر، روس، ترکی سمیت کئی ہمسایہ ملکوں میں موجود نشانوں پر داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق یوکرین انٹرنیشنل ایئر لائنز کا ایک مسافر بردار بوئنگ طیارہ تہران ایئرپورٹ سے روانگی کے بعد حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔
جہاز میں 180 مسافر موجود تھے لیکن ابھی زخمیوں اور مرنے والوں کے بارے میں اطلاعست سامنے نہیں آئی ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق طیارے کی منزل یوکرین کا دارالحکومت کیئو تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ریسکو اہلکار اس وقت جہاز کے ملبے تک پہنچ چکے ہیں۔
حملے کے پیش نظر امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن انتظامیہ نے امریکی شہری فضائی کمپنیوں کو ایران، عراق، خلیج فارس اور خلیج عمان کے پانیوں پر فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ایک برطانوی تھنک ٹینک کے مطابق ایران میں پانچ لاکھ 23 ہزار فوجی ہیں جن میں سے ساڑھے تین لاکھ روایتی فوج میں جبکہ ڈیڑھ لاکھ پاسدارانِ انقلاب میں ہیں۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس میں 20 ہزار اہلکار بھی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا: ’سب کچھ ٹھیک ہے۔ عراق میں واقع دو فوجی اڈوں پر ایران سے میزائل داغے گئے۔ ہلاکتوں اور نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اب تک سب کچھ بہتر ہے۔ ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور اور مسلح فوج ہے۔ میں کل صبح اپنا بیان دوں گا۔‘
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے: ’ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر 51 کے تحت اپنے دفاع میں مناسب اقدامات اٹھاتے ہوئے اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے ہمارے شہریوں اور اعلیٰ حکام کے خلاف بزدلانہ مسلح حملے کیے جاتے تھے۔ ہم کشیدگی یا جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کریں گے۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اسٹیفنی گریشام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں عراق میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کر رہے ہیں۔‘
ایران نے بدھ کی صبح عراق میں دو امریکی فضائی اڈوں پر راکٹ حملے کرنے کا دعوی کیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر بغداد میں ڈرون حملے میں ملک کے اعلیٰ کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس حملے کا نام ’آپریشن سلیمانی‘ رکھا گیا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ حملے جمعہ کے روز امریکی حملے میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ تھا۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق عراق میں کم از کم دو امریکی فضائی اڈوں پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق میں واقع ایربل اور عین الاسد کے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ابھی تک ان حملوں میں کسی جانی نقصان کے متعلق اطلاعات نہیں ہیں۔