1953: محمد مصدق کی معزولی
امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں نے جمہوری طور پر منتخب ایران کے وزیر اعظم محمد مصدق کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے تختہ پلٹنے کا انتظام کیا تھا۔ سیکولر رہنما نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومیانے کی کوشش کی تھی۔
امریکہ کی حمایت رکھنے والے ایران کے فرمانروا رضا شاہ پہلوی کو سیکولر اور مذہبی مخالفین کی جانب سے ان کی حکومت کے خلاف مہینوں کے احتجاج اور ہڑتال کے بعد 16 جنوری کو ملک چھوڑنا پڑا۔ اس کے دو ہفتے بعد اسلامی مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی ملک بدری سے واپس آئے اور ایک ریفرینڈم کے نتیجے میں یکم اپریل کو اسلامی جمہوریہ ایران کا اعلان کیا گيا۔
1979-81: امریکی سفارتخانے میں یرغمالیوں کا بحران
تہران میں واقع امریکی سفارتخانے پر مظاہرین نے نومبر سنہ 1979 میں قبضہ کر لیا اور وہاں موجود امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گيا۔ آخری 52 یرغمالیوں کو جنوری سنہ 1981 میں آزاد کیا گیا۔ مزید چھ امریکی جو سفارتخانے سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے انھیں فلم سازوں کے بھیس میں کام کرنے والی ایک ٹیم نے ایران سے باہر نکالا اور اس واقعے کو سنہ 2012 میں آسکر انعام حاصل کرنے والی فلم 'آرگو' میں ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
1985-86: ایران-کونٹرا سکینڈل
امریکہ نے خفیہ طور پر سمندری راستے سے ایران کو اسلحے فراہم کیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلحہ پہنچانا تہران کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے امریکیوں کی رہائی میں معاونت کے بدلے میں تھا۔ اس کے منافع کو نکاراگوا کے باغیوں تک پہنچایا گیا جس نے صدر ریگن کے لیے سیاسی بحران پیدا کر دیا۔
1988: ایران کا مسافر بردار طیار مار گرایا گيا
امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس ونسینس نے تین جولائی کو خلیج فارس میں ایران ایئر کے ایک طیارے کو مار گرایا جس میں 290 افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایئربس اے 300 کو غلطی سے جنگی طیارہ سمجھ لیا گیا تھا۔ زیادہ تر مرنے والے ایرانی زائرین تھے جو حج کے لیے مکہ جا رہے تھے۔
صدر جارج ولیم بش نے اپنے سٹیٹ آف یونین کے خطاب میں عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ ایران کو 'برائی کے محور' کا حصہ قرار دیا۔ ان کے خطاب پر ایران میں غم و غصہ ظاہر کیا گیا۔
2000: جوہری اسلحے کا خطرہ اور پابندیاں
سنہ 2002 میں ایرانی حزب اختلاف نے انکشاف کیا کہ ایران جوہری تنصیبات کو فروغ دے رہا ہے جس میں ایک یورینیم کی افزودگی کا پلانٹ بھی شامل ہے۔ امریکہ نے ایران پر پوشیدہ جوہری اسلحے کا پروگرام چلانے کا الزام لگایا جس کی ایران تردید کرتا ہے۔ اس کے بعد ایک دہائی تک وقفے وقفے سے سفارتی سرگرمیاں نظر آئیں جن میں ایران کے ساتھ اقوام متحدہ میں جوہری اسلحے پر نظر رکھنے والوں سے بات چیت جاری رہی۔ لیکن اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کے زیادہ قدامت پسند صدر محمود احمدی ںژاد کی حکومت کے خلاف مرحلہ وار طریقے سے مختلف قسم کی پابندیاں عائد کیں۔ اس کے نتیجے میں ایرانی کرنسی کی قیمت دو سال کے اندر تین گنا گر گئی۔
ایران کے نئے اعتدال پسند صدر حسن روحانی کے صدر بننے کے ایک ماہ بعد ستمبر سنہ 2013 میں صدر روحانی اور امریکی صدر براک اوباما نے فون پر بات چیت کی جو کہ 30 سال میں پہلی بار دو ممالک کے درمیان اعلی ترین سطح پر کی جانے والی بات چیت تھی۔
اس کے بعد سنہ 2015 میں متواتر سفارتی سرگرمیوں کے بعد ایران اپنے جوہری پروگرام کے تعلق سے پی فائیو پلس ون کہے جانے والے دنیا کے چھ طاقتور ممالک کے ساتھ ایک طویل مدتی معاہدے کے لیے رضامند ہو گیا۔ ان ممالک میں امریکہ کے ساتھ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل تھے۔
اس معاہدے کے تحت ایران اس بات پر راضی ہوا کہ کمر توڑ معاشی پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں وہ اپنی حساس جوہری سرگرمی کو محدود کرے گا اور بین الاقوامی جانچ کرنے والوں کو اپنے یہاں آنے کی اجازت دے گا۔
مئی سنہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر واپس معاشی پابندیاں عائد کر دیں اور جو ایران سے تیل خریدنا جاری رکھیں گے ان ممالک اور کمپنیوں پر بھی وہی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات مئی سنہ 2019 میں اس وقت مزید خراب ہو گئے جب امریکہ نے ایران کے تیل کی برآمدات پر لگائی جانے والی پابندیوں پر سختی کی۔ جواب میں ایران نے جوابی دباؤ کی مہم چھیڑ دی۔ مئی اور جون سنہ 2019 میں خلیج عمان میں چھ تیل بردار جہاز میں دھماکے ہوئے اور امریکہ نے ان کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
20 جون کو ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں تھا جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ان کے سمندری حدود میں تھا۔ اور پھر جولائی میں ایران نے معاہدے کے اہم وعدو سے انحراف شروع کر دیا۔
2020: قاسم سلیمانی کا قتل اور ایران کا ’انتقام‘
تین جنوری سنہ 2020 کو ایران کے ٹاپ فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایران نے ان کی موت پر 'سخت انتقام' کا عہد کیا ہے اور سنہ 2015 میں ہونے والے معاہدے سے خود کو علیحدہ کر لیا ہے۔ سات جنوری کی شب ایران نے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔