آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایرانی میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ کا دعویٰ کہ ایران پسپائی اختیار کر رہا ہے

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ عراق میں واقع دو امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا صرف کچھ املاک کو معمولی سا نقصان ہوا ہے۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، حسن زیدی، عابد حسین, عمیر سلیمی and تابندہ کوکب

  1. ایران نے امریکیوں کی ہلاکت سے گریز کیا: سی این این

    سی این این کے نامہ نگار جیک ٹیپر نے پینٹاگان کے اہلکار سے ملاقات کے بعد رپورٹ کیا کہ ایران نے عراق میں کیے جانے والے حملوں کے لیے جان بوجھ کر ایسے اہداف چُنے جہاں کم سے کم جانی نقصان ہو خاص کر امریکیوں کا۔

  2. شام کی جانب سے ایران کی حمایت ’امریکی تکبر‘ کی مذمت

    شام کے وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ مکمل یک جہتی اظہار کیا ہے۔ شام کی نیوز ایجسنی صنعا کی جانب سے نشر کیے جانے والے بیان کے مطابق شام نے امریکی حملوں اور دھمکیوں کے پیش نظر ایران کے حق دفاع کی حمایت کی۔

    شامی وزیرِ خارجہ نے میزائل حملوں کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

    بیان کے مطابق ’شام ان تمام نتائج کے لیے امریکہ حکومت کو ذمہ دار قرار دیتا ہے جن کی وجہ اس کی لاپرواہ پالیسیز اور متکبرانہ رویہ ہے۔‘

  3. ایران نے اب تک کیا کہا ؟؟

    • ایران کا کہنا ہے کہ کوئی بھی علاقہ جو ایران کے خلاف جارحیت کا نقطۂ آغاز بنے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا تاہم ایران کے وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا ملک جنگ کو بڑھاوا نہیں دینا چاہتا۔

    • ایران نے بدھ کی صبح عراق میں دو امریکی فضائی اڈوں پر راکٹ حملے کیے جو ان کے بقول قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی ہے۔

    • جواد ظریف نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'ہم نہیں چاہتے کہ تناؤ مزید بڑھے یا یہ جنگ میں تبدیل ہو جائے۔'

    • ایران کی افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ یہ حملہ ایرانی برّی افواج کی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دیتا ہے۔

    • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ: 'قاسم سلیمانی بہادر اور حکمت عملی میں مہارت رکھتے تھے۔ انھوں نے مغربی ایشیا میں امریکی منصوبوں کو ناکام بنایا تھااور ان کی مدد سے عراق، شام اور لبنان میں امریکی منصوبے ناکام بنائے گئے۔'

    • ایران کے صدر حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں امریکہ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ایران جنرل سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ خطے سے امریکہ کو نکال کر لے گا۔ ان کا کہنا تھا 'تم نے جنرل سلیمانی کا ہاتھ ان کے جسم سے قطع کیا۔ اب اس خطے سے تمہارے قدم اکھاڑ دیے جائیں گے۔'

    • ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے نائب کمانڈر برائے آپریشنز عباس نیلفروش نے کہا ہے: 'ہمارے پاس معلومات تھیں کہ الاسد فوجی اڈے اور خطے میں امریکی افواج تیار ہیں لیکن وہ ہمارے ایک بھی بلیسٹک میزائل کا رخ بدلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ہمارے میزائل ٹھیک اپنے نشانے پر لگے۔'

    • ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع کا کہنا تھا 'ہم شدت پسند نہیں اور یہ ہمارا قانونی حق ہے کہ اگر امریکہ اس حملے کا جواب دیتا ہے تو ہم جواب میں مزید کارروائیاں کریں۔'

    • ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کے صدر حسن روحانی آج قوم سے خطاب کریں گے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا خطاب کس وقت نشر ہوگا۔

  4. نیٹو سربراہ کی جانب سے حملوں کی مذمت

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل یانس سٹالٹن برگ نے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل حملوں کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد کو مزید نہ بڑھائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو فوجی اتحاد کا تربیتی مشن عراق میں جاری رہے گا۔

  5. بورس جانسن: ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات لے

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایران کی جانب سے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں فوراً کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات لے۔

    انھوں نے بدھ کو برطانوی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ایران کو ایسے خطرناک اور لاپرواہ حملے نہیں دھرانے چاہیے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ اب تک حملوں میں کسی بھی امریکی یا برطانوی شہری کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی پر کیا جانے والا حملہ ’قانونی‘ تھا تو بورس جانسن نے کہا کہ اس حملے کی قانونی حیثیت کے بارے میں برطانیہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ ان کا آپریشن نہیں تھا۔

  6. عراق کے بعض علاقوں کی فضائی حدود پروازوں کے لیے بند

    امریکہ میں ہوابازی کے نگراں ادارے فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے عراق اور خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر ایئرلائنز کو عراق کے بعض علاقوں کے اوپر سے پروازیں نہ چلانے کا کہا ہے۔

    اس کے نتیجے میں اس وقت خلیجی ایئرلائنز جیسا کہ قطر اور اتحاد ایئرویز کی پروازیں تو عراق کے اوپر سے گزر رہی ہیں مگر دوسری فضائی کپمنیاں اس علاقے سے بچ کر اپنی پروزیں گزر رہی ہیں۔

  7. ایرانی میزائلوں نے ’35 اہداف کو نشانہ بنایا‘

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر رمضان شریف نے کہا ہے کہ اس نے عراقی صوبے انبار میں واقع الاسد فضائی اڈے پر 35 اہداف پر میزائل داغے تھے۔

    انھوں نے امریکہ کی ’بوکھلاہٹ‘ پر تنقید کرتے ہوئے ایک ریلی سے خطاب کے دوران کہا: ’انھوں نے جلدی میں ایک ہنگامی میٹنگ کی۔۔۔ پہلے کہا کہ ٹرمپ خطاب کریں گے۔ کچھ ہی دیر بعد انھوں نے اعلان کیا کہ صدر کی تقریر موخر کر دی گئی ہے۔ انھیں یقیناً ہمارا پیغام موصول ہوگیا ہوگا۔‘

  8. عراق میں امریکی افواج کہاں کہاں موجود ہیں؟

    عراق میں موجود الاسد فوجی اڈہ اتنا بڑا ہے کہ ملک میں امریکی فوج کے آنے کے بعد اس میں سینما، سوئمنگ پول، فاسٹ فوڈ ریستوران اور اڈے کے اندر ہی بسوں کی آمدورفت کے لیے ایک نہیں بلکہ دو راستے مختص تھے۔

  9. ’ہمارا حتمی جواب امریکی افواج کو خطے سے باہر نکالنا ہو گا‘

  10. عراق: کچھ میزائل پھٹے ہی نہیں

    عراق کے علاقے اربل میں واقع امریکی فوجی اڈے کے قریب گرنے والے چند ایرانی میزائل پھٹے نہیں اور عراقی سکیوٹی فورسز نے ان کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    بدھ کو جاری ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بڑا ہجوم چند گڑھوں کے گرد جمع ہے۔ دیگر تصاویر میں میزائل کے پُرزے دیکھے جا سکتے ہیں۔

  11. بریکنگ, ’ایران نے بغداد کو حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی‘

    سبکدوش ہونے والے عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو تہران کی جانب سے سرکاری سطح پر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کی انتقامی کارووائی شروع ہونے سے پہلے اس کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔

    اپنے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے بیان میں عادل عبد المہدی نے کہا ہے کہ انھیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ جوابی کارروائی صرف اور صرف امریکی افواج تک محدود ہوگی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک ’اپنی سالمیت کی خلاف ورزی یا اپنی سرزمین پر حملے برداشت نہیں کرے گا۔‘

    انھوں نے کہا: ’یہ بحران عراق سمیت خطے اور پوری دنیا کے لیے ایک تباہ کن عالمی جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔‘

  12. ملیشیا کمانڈر: ’عراقی جوابی کارروائی کا وقت آگیا ہے‘

    عراق کے نیم فوجی عسکری نیٹ ورک حشد الشعبی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں ان کے نائب سربراہ کی ہلاکت کے بعد اب ’عراقی جوابی کارروائی‘ کا وقت آ گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک ٹویٹ میں عراقی ملیشیا کے اہلکار قیس الخزعلی کا کہنا تھا کہ: ’ان کا ردعمل ایرانی جوابی کارروائی سے کم نہیں ہوگا۔‘

    3 جنوری کو امریکہ کے ڈرون حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ حشد الشعبی کے نائب سربراہ اور عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    اس پیغام کے کچھ دیر بعد ان کا ٹوئٹر اکاؤٹ معطل کر دیا گیا تھا۔

  13. ’اسرائیل پر حملہ ہوا تو ایسا جواب دیں گے جس کی گونج دور دور تک سنائی دے گی‘

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتنیاہو نے ایران کو خبردار کیا ہے اگر اس نے اسرائیل پر اس قسم کا کوئی حملہ کرنے کی کوشش کی تو ’ایسا جواب دیں گے جس کی گونج دور دور تک سنائی دے گی۔‘

    گذشتہ دنوں میں نتنیاہو نے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف امریکی حملے کی تعریف کی تھی۔

  14. ’ایران اور امریکہ بات زیادہ بڑھانا نہیں چاہتے‘, جوناتھن مارکس، بی بی سی کے نامہ نگار برائے سفارتی و دفاعی امور

    جنرل سلیمانی کی اہمیت اور ان کی ہلاکت کے بعد بھڑکے ہوئے جذبات کو مدِ نظر رکھا جائے تو ایران کے عراق میں امریکی اڈوں پر حملوں کو ایک محتاط ردعمل کہا جا سکتا ہے۔

    اس حملے کا مقصد یقیناً ہلاکتیں تھا لیکن امریکہ اور ایران اپنی تمام تر شعلہ بیانی کے باوجود اس تنازعے کو بڑھانا نہیں چاہتے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ فی الحال بات یہیں پر رک جائے۔

    کیا یہ ایران کے ردعمل کا اختتام ہے؟ وقت ہی بتائے گا۔ لیکن ایران کی پالیسی میں تبدیلی آنا مشکل ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ وہ اپنے علاقائی مقاصد کے حصول اور ان کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے گا اور عراق سے امریکی فوج کے انخلا سے کم پر نہیں مانے گا۔

    قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے امریکہ کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے لیکن اس بحران کا آغاز ایران نواز شیعہ ملیشیا کی جانب سے امریکی اڈوں پر راکٹ حملوں سے ہوا تھا۔ کیا امریکہ نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی اقدام لیا ہے؟ اگر نہیں تو کیا ایران نواز قوتوں کے حملے دوبارہ شروع ہو جائیں گے؟

  15. ایرانی میزائل کہاں کہاں گرے؟

    عراقی فوج کا کہنا ہے کہ منگل کی شب مقامی وقت کے مطابق پونے دو بجے سے سوا دو بجے کے دوران ایران کی جانب سے 22 میزائل داغے گئے۔

    عراقی فوج کی جوائنٹ آپریشن کمانڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ان میں سے 17 کا ہدف الاسد کا فضائی اڈہ تھا۔ ان میں سے دو اڈے کے قریب حطان کے علاقے میں گرے مگر پھٹے نہیں۔

    فوج کے مطابق ان کے علاوہ پانچ میزائل اربیل میں اتحادی افواج کے ہیڈکوارٹر کی جانب داغے گئے۔

    عراق کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دو ایرانی میزائل اربیل کے گاؤں سیدان میں گرے جبکہ ایک میزائل کا نشانہ دوہک میں بردہرشہ کا علاقہ بنا۔ سیدان اربیل شہر سے 16 کلومیٹر جبکہ بردہرشہ 47 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    عراقی افواج کے مطابق ان حملوں میں کوئی عراقی فوجی ہلاک نہیں ہوا جبکہ امریکی حکام نے بھی کسی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم ایرانی میڈیا 80 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کر رہا ہے۔

  16. ایرانی حکومت: یہ ہمارا قانونی حق تھا

    ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع نے عراق میں امریکی اڈوں پر کامیاب حملے کرنے پر پاسدارانِ انقلاب کی تعریف کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’ہم شدت پسند نہیں اور یہ ہمارا قانونی حق ہے کہ اگر امریکہ اس حملے کا جواب دیتا ہے تو ہم جواب میں مزید کارروائیاں کریں۔‘

  17. پاسدارانِ انقلاب: ہمارے میزائل ٹھیک اپنے نشانے پر لگے

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے نائب کمانڈر برائے آپریشنز عباس نیلفروش نے کہا ہے: ’ہمارے پاس معلومات تھیں کہ الاسد فوجی اڈے اور خطے میں امریکی افواج تیار ہیں لیکن وہ ہمارے ایک بھی بلیسٹک میزائل کا رخ بدلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ہمارے میزائل ٹھیک اپنے نشانے پر لگے۔‘

  18. چین: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کریں گے

    چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بیجنگ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ’ذمہ دارانہ کردار‘ ادا کرے گا۔

    چینی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق ترجمان نے کہا: ’چین کو مشرقِ وسطی کی صورتِ حال پر تشویش ہے۔ ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

  19. قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے ایران کی جوابی کارروائی تک, بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

    گذشتہ چند ہفتوں میں مشرقِ وسطی کا سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔ اس خطے میں رونما ہونے والے واقعات اور ان کی نتائج کے حوالے سے خبروں اور تجزیوں کے لیے بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

  20. تم نے سلیمانی کا ہاتھ کاٹا، اب خطے سے تمہارے قدم اکھڑیں گے: روحانی

    ایران کے صدر حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں امریکہ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ایران جنرل سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ خطے سے امریکہ کو نکال کر لے گا۔

    ان کا کہنا تھا ’تم نے جنرل سلیمانی کا ہاتھ ان کے جسم سے قطع کیا۔ اب اس خطے سے تمہارے قدم اکھاڑ دیے جائیں گے۔‘

    تاہم بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوگا۔