شام پر امریکہ، برطانیہ، فرانس کے حملے: کب کیا ہوا

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شام کی حکومتی افواج کی جانب سے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے کارخانوں اور گوداموں پر میزائل داغے ہیں۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، رضا ہمدانی، شجاع ملک، وقاص علی ذیشان علی، ظفر سید، مرزا اے بی بیگ

  1. ’کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا‘

    گذشتہ روز روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا۔ اس سے قبل روس نے متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی حملے کیے تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔

  2. 'کم از کم چھ زور دار دھماکے سنے گئے ہیں'

    روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ دارالحکومت دمشق میں 'کم از کم چھ زور دار دھماکے سنے گئے ہیں۔'

    شام کے سرکاری ٹی وی نے بھی حملے کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام کو سرگرم عمل کر دیا گيا ہے۔

  3. ’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔‘

    اس حملہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔‘

    انھوں شام کے صدر بشار الاسد کے بارے میں کہا کہ 'یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس یہ ایک عفریت کے جرائم ہیں۔'

    ایک امریکی اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ شام میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے ٹوماہاک کروز میزائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

  4. شام کی ’کیمیائی ہتھیاروں کی فیکٹریوں‘ پر حملہ

    امریکہ نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی سائٹوں پر برطانیہ اور فرانس کے اشتراک میں میزائل حملے کر دیے ہیں۔

    امریکہ نے بظاہر یہ اقدام شام کی جانب سے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اٹھایا ہے۔ اس وقت اطلاعات کے مطابق شامی دارالحکومت دمشق کے اردگرد شدید دھماکوں کی گونج سنی جا سکتی ہے۔

  5. برطانیہ کی جانب سے چار ٹورنیڈو جیٹ طیارے بھیجے گئے

    برطانوی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ چار ٹورنیڈو جیٹ طیاروں سے کیے جانے والے برطانوی حملے میں حمص شہر کے پاس ایک فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گيا ہے۔ اس فوجی ٹھکانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کیمیائی ہتھیار بنانے کے سامان رکھے ہوئے ہیں۔

  6. امریکہ، فرانس اور برطانیہ کا حملہ: ’ون ٹائم ہٹ‘ تھی

    امریکی وزیرِ دفاع جیمز میتھس نے واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فلحال یہ ایک ’ون ٹائم ہٹ‘ تھی۔