امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شام کی حکومتی افواج کی جانب سے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے کارخانوں اور گوداموں پر میزائل داغے ہیں۔
لائیو کوریج
ذیشان حیدر، رضا ہمدانی، شجاع ملک، وقاص علی ذیشان علی، ظفر سید، مرزا اے بی بیگ
بریکنگ, شام پر حملے کا ’کوئی قانونی جواز‘ نہیں تھا
برطانیہ کے اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربین نے کہا ہے کہ شام پر حملے کا ’کوئی قانونی جواز‘ نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ برطانوی جیٹ طیاروں کو اس حملے کا حصہ بنانے سے قبل برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کو چاہیے تھا کہ پارلیمانی مشاورت کرتیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے وزیر اعظم کو لکھا تھا کہ وہ اس قانونی مشاورت کو منظر عام پر لائیں جو انھوں نے اس کارروائی میں شریک ہونے کے حوالے سے لی تھی۔
شام پر فضائی حملے کی تفصیلات
’وہ جھوٹ بول رہے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فرانس کے صدر میخواں اور برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کو شام پر حملے کے بعد تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو ’مجرم‘ قرار دیا ہے۔
اعلیٰ سیاسی رہنماؤں اور فوجی عہدیداروں سے ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’شام پر کیے جانے والا حملہ جرم تھا۔ امریکی اور فرانسیسی صدور اور برطانوی وزیر اعظم مجرم ہیں اور ان کو اس کارروائی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی صدر نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف جنگ میں شام پر حملہ کیا ہے۔ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔‘
فرانس نے حملے میں حصہ کیوں لیا؟
فرانسیسی وزیر خارجہ نے شام پر حملوں میں حصہ لینے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسی کے صدر نے مئی 2017 کو حد کا تعین کیا تھا جو شام نے دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے عبور کی۔
’ہم نے کہا تھا کہ اس قسم کی خلاف ورزی پر ردعمل ہو گا۔ ہم نے دیکھا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ اسی لیے ہم نے اپنی وارننگ اور ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ حملہ کیا۔‘
،تصویر کا ذریعہEPA
بریکنگ, سعودی عرب کی بھرپور حمایت
سعودی عرب نے شام پر امریکی اور اس کے دو اتحادیوں کے حملے پر کہا ہے کہ یہ حملے شامی حکومت کے شہریوں کے خلاف جرائم کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب شام پر امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے کیے جانے حملے کی پوری حمایت کرتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملے شام کی جانب سے معصوم شہریوں بشمول عورتیں اور بچوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے جواب میں کیا گئے ہیں۔‘
شام پر حملے پر بی بی سی اردو کے خصوصی تجزیے
امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام کی جانب سے گذشتہ ہفتے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں حملہ کیا ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی افواج نے کئی درجن میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے۔ ادھر روس نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ 'یہ ممکن نہیں کہ اس قسم کے اقدامات پر ردعمل کا سامنا نہ کرنا پڑے‘۔اس حملے پر بی بی سی اردو کے خصوصی تجزیے پڑھیے:
بریکنگ, ’شام پر حملے کے علاوہ کوئی متبادل راستہ نہیں تھا‘: تھریسا مے
بریکنگ, شام پر حملے کا اسرائیل کا خیر مقدم
اسرائیل نے شام پر فضائی حملوں کے بارے میں بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ سال صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ آج امریکی قیادت میں فرانس اور برطانیہ نے اس پر عمل کیا ہے۔
’شام مسلسل قاتلانہ اقدامات میں ملوث ہے اور ان کے لیے دوسروں کو جگہ فراہم کر رہا ہے، بشمول ایران کے، جس سے اس کا علاقہ، فوج اور قیادت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔‘
بریکنگ, حمص میں ’تباہ شدہ میزائلوں‘ کے مناظر
شام کے سرکاری سیٹلائٹ چینل الاخباریہ السوریہ نے تباہ شدہ میزائلوں کے ٹکڑے دکھائے ہیں جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ امریکی میزائل ہیں جنھیں مار گرایا گیا۔
چینل کے مطابق یہ تصویریں حمص شہر کے مضافات سے حاصل کی گئیں۔
،تصویر کا ذریعہAl-Ikhbariyah al-Suriyah
،تصویر کا ذریعہAl-Ikhbariyah al-Suriyah
،تصویر کا ذریعہAl-Ikhbariyah al-Suriyah
بریکنگ, شام پر حملہ جائز بھی تھا اور قانونی بھی: تھریسا مے
برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے شامی حملے میں استعمال ہونے والے مشتبہ کیمیائی اسلحے کو سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی پر برطانیہ میں اعصاب کو متاثر کرنے والے حملے سے منسلک کیا ہے۔
انھوں نے کہا: 'یہ حملے شام اور اس کے باہر ہونے والے بہیمانہ کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے خلاف روک ہیں۔'
انھوں نے کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے خلاف عالمی ضابطے کو مزید مضبوط بنانے کی اپیل کی۔
انھو نے کہا: 'اعصاب کو متاثر کرنے والے مادے کا برطانیہ کی سڑکوں پر حالیہ چند ہفتے قبل استعمال ان عالمی ضابطوں کو پامال کرنے کے رجحان کا حصہ تھا۔
'اس حملے سے ان لوگوں کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ کیمیائی ہتھیار کا استعمال کرکے بچ نہیں سکتے ہیں۔'
انھوں نے مزید کہا: 'ہم لوگوں نے متبادل راستہ اختیار کیا ہوتا لیکن فی الحال کوئی متبادل نہیں تھا۔ ہم لوگ کیمیائي ہتھیار کے استعمال کو نہ ہی شام میں یا پھر برطانیہ میں یا کہیں اور معمول کی چیز بننے دیں گے۔
تھریسا مے نے کہا کہ وہ فضائی حملے کے متعلق سوموار کو پارلیمان میں بیان دیں گی لیکن ابھی انھوں نے اپنے عمل کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
انھوں نے کہا: 'میرا خیال ہے کہ یہ حملہ کرنا درست تھا جو ہم نے صحیح وقت پر اپنے تجزیے اور اپنی آپریشنل سکیورٹی کو دھیان میں رکھتے ہوئے کیا ہے۔'
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, دمشق میں زندگی کی روز مرہ سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں
دمشق کی سڑکیں اتنی ہی مصروف ہیں جتنی عام طور پر ہوتی ہیں۔
چیک پوائنٹس پر فوجی پرسکون ہیں اور سیکیورٹی عمومی دنوں کے مقابلے میں زیادہ سخت نہیں ہے۔
دکانیں کھلی ہیں اور لوگ کام پر جا رہے ہیں۔ دمشق کے مرکزی چوک میں درجنوں لوگ جمع ہیں اور بشار الاسد کے حق میں تعرے بازی کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, شام پر حملے کی پوتن کی انتہائی شدید مذمت، ’روس اقوام متحدہ کا اجلاس بلائے گا‘
روسی صدر ولادی میر پوتن نے روسی کے حلیف ملک شام پر حملے کی ’سخت ترین طریقے سے‘ مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلائے گا۔
روسی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر پوتن نے اس حملے کو ’جارحیت‘ قرار دیا۔
انھوں نے کہا دوما پر ہونے والا کیمیائی حملہ ڈراما تھا اور یہ حملے کا بہانہ تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, شام پر حملہ کرنے پر قانونی سوال اٹھ سکتے ہیں: جیرمی کوربن
برطانیہ میں قائد حزبِ اختلاف جیرمی کوربن کا کہنا ہے کہ شام پر حملہ کرنے پر قانونی سوال اٹھ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کو تھریسا مے کو اس حملے سے قبل پارلیمانی منظوری لینی چاہیے تھی بجائے ’واشنگٹن سے ہدایات لینے‘ کے۔
بریکنگ, شام میں ’عسکری کارروائی جرم ہے‘: ایران کے روحانی پیشوا
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ شام پر مغربی ممالک کا حملہ ایک جرم ہے جو کہ بے سود رہے گا۔
ایرانی ٹی وی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور اتحادی شام میں جرائم سرزد کر کے کچھ حاصل نہیں کریں گے۔ شام پر حملے کرنا جرم ہے۔ امریکی صدر، برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر مجرم ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, ’اقوام متحدہ کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے‘
اقوام متحدہ کے لیے سابق امریکی سفیر سمینتھا پاور کا کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنسیبات پر حملے مناسب ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کے ذریعے کسی بھی کارروائی کو روس ویٹو کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’روس کبھی بھی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے تحت معنی خیز کارروائی نہیں ہونے دے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ترکی کا شام پر حملے کا خیر مقدم
ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کے خلاف حملے کا خیر مقدم کرتا ہے اور اسے مناسب کارروائی قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دوما کے حملے کے پس منظر میں برطانیہ، امریکہ اور فرانس کے حملے نے انسانی ضمیر کو آسودہ کیا ہے۔
انقرہ نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے دوما میں ہونے والا مشتبہ کیمیائی حملہ انسانیت کے خلاف جرم تھا اور اسے بغیر سزا کے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
شامی حکومت نے کہا ہے کہ یہ واقعہ من گھڑت ہے جبکہ اس کے حامی روس نے کہا ہے کہ یہ برطانیہ کے تعاون سے تیار کیا گيا ہے۔
ترکی شام میں حکومت کے خلاف برسرپیکار باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے شمالی شام میں کرد فوجیوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا ہوا ہے جبکہ مبینہ طور پر روس سے معاہدہ کر رکھا ہے وہ اس کی فضائی قوت کا شمالی شام میں استعمال کرے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, ’کیمیائی ہتھیاروں کی تفتیش کا انتظار کیوں نہیں کیا؟‘
شامی حکومت کے ایک مشیر نے بی بی سی مشال حسین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاملہ کیمیائی ہتھیاروں کا تھا تو کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم کے نمائندے ابھی تو شام میں پہنچے ہیں۔۔۔ ان کی تفتیش کے نتائج کا انتظار کیا جائے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, حملے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے: حزب اللہ
ایران کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ شام کے خلاف جو جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جو آزادی اور مزاحمتی تحریکوں کے خلاف ہے، یہ جنگ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔‘
بریکنگ, ’ثابت قدمی کی صبح‘
شامی صدر کے دفتر نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھیں اپنے دفتر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈئو کے ساتھ لکھا گیا ہے ’ثابت قدمی کی صبح‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’جدید ترین روسی فضائی دفاعی نظام کو استعمال نہیں کیا گیا‘
روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے جواب میں شام کی فوج نے کئی دہائیوں پرانا دفاعی نظام استعمال کیا۔
روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فضائی دفاعی نظام ایس 125، اور ایس 200 کو استعمال کیا گیا۔ یہ سوویت یونین میں 30 سال پہلے بنائے گئے تھے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ جدید ترین روسی فضائی دفاعی نظام کو استعمال نہیں کیا گیا۔