شام پر حملے سے کیا حاصل ہو گا؟
امریکی اور شامی حکومتیں شامی شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب دینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سوال اٹھتا ہے کہ ان کے پاس کیا راستے ہیں؟
مزید تفصیل کے لیے کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شام کی حکومتی افواج کی جانب سے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے کارخانوں اور گوداموں پر میزائل داغے ہیں۔
ذیشان حیدر، رضا ہمدانی، شجاع ملک، وقاص علی ذیشان علی، ظفر سید، مرزا اے بی بیگ
امریکی اور شامی حکومتیں شامی شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب دینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سوال اٹھتا ہے کہ ان کے پاس کیا راستے ہیں؟
مزید تفصیل کے لیے کلک کریں۔
روس کے ایوانِ بالا میں عالمی امور کی کمیٹی کے چیئرمین کونستاتین کوسچیوو کا کہنا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، اور فرانس کا شام پر حملہ ایک خودمختار حکومت پر بے بنیاد حملہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ان حملوں کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم کے کام کو متاثر کرنا ہو۔ یاد رہے کہ تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی تحقیقاتی ٹیم شام کی جانب گامزن ہے اور 14 اپریل سے اپنا کام شروع کرے گی۔
ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں حملے کے ردِعمل میں ’علاقائی نتائج‘ کی تنبیہ کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کی تفتیش سے پہلے ہی انھوں نے یہ حملہ کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس غیر ذمہ دارانہ حملہ کے علاقائی نتائج مرتب ہوں گے اور اس کے ذمہ دار مغربی ممالک ہوں گے۔
تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی تحقیقاتی ٹیم شام کی جانب گامزن ہے اور 14 اپریل سے اپنا کام شروع کرے گی۔
اس ٹیم کا ہدف اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کیا دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے۔
شام کی ریاستی نیوز ایجنسی صنعا کے مطابق سنیچر کو حمص میں امریکی حملہ میں تین عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے حمص میں کیمیائی ہتھیاروں کو رکھنے والے ایک ڈیپو کو نشانہ بنایا تھا۔ شام کے ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملوں میں شمالی دمشق میں سائنٹفک سٹڈیز اینڈ ریسرچ سنٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک تعلیمی ادارے اور لبارٹری کو تباہ کیا گیا ہے۔
روس کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملوں میں شام میں روسی فضائی اور بحری اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
ایک بیان میں وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں میں سے ایک بھی اس زون میں داخل نہیں ہوا جس کی حفاظت کی ذمہ داری روس نے اٹھائی ہوئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ شام میں عام شہریوں کی حفاظت کی کوشش کریں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل یو ایس اے کے ترجمان راعد جرار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’شام کے عوام پہلے ہی چھ سال سے انتہائی تباہ کن حملے سہہ رہے ہیں جن میں کیمیائی حملے بھی شامل ہیں اور بہت سے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ کسی بھی عسکری کارروائی میں عام شہریوں کو نقصان کم سے کم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر لینی جانی چاہییں۔‘
شام کے سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے میں بارزے میں صرف عمارت تباہ ہوئی ہے۔
سرکاری ایجنسی کا کہنا ہے کہ سائنٹفک ریسرچ سینٹر کی عمارت تباہ ہوئی ہے۔ ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ حمص میں فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا جو ناکام بنا دیا گیا۔
برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی صرف اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب یہ سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہو۔ ایک ٹویٹ میں ملی بینڈ نے کہا ہے کہ ’سفارتی جارحیت اب کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔‘
شام میں امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کے مبینہ کارخانوں پر حملوں کے مناظر
دمشق کی حمایت کرنے والے علاقائی اتحاد کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ شامی حکومت اور ان کے اتحادیوں نے سنیچر کو امریکی قیادت والے حملے کو سہہ گئے ہیں کیونکہ جن مقامات کا نشانہ بنایا گیا ہے اسے کئی روز قبل روسی انتباہ کے بعد خالی کرا دیا گیا تھا۔
اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'ہم نے حملے کو سہہ لیا ہے۔ ہمیں روس کی جانب سے اس حملے کے لیے پہلے ہی آگاہ کیا گیا تھا۔ اور تمام فوجی اڈے چند دن قبل خالی کر دیے گئے تھے۔'
اس اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں تقریباً 30 میزائل داغے گئے ہیں جن میں سے ایک تہائی مار گرائے گئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا: 'ہم ساز و سامان کو ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔'
یہ حملہ شام میں گذشتہ سال ہونے والے امریکی حملے سے زیادہ اہم لگ رہا ہے تاہم بظاہر یہ صدر ٹرمپ کے بیانات کے مقابلے میں کافی محدود تھا۔ پچھلی مرتبہ 59 میزائل داغے گئے تھے اس بار اس کے مقابلے میں تقریباً دوگنا داغے گئے ہیں۔
یہ کارروائی فی الحال تو مکمل ہو چکی ہے مگر یہ واضح تنبیہ ہے کہ اگر بشارالاسد کی حکومت نے پھر سے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
امریکیوں کا کہنا ہے کہ شامی اور غیرملکی (آپ اسے روسی تصور کر سکتے ہیں) ہلاکتوں سے بچنے کے لیے بہت احتیاط سے کام لیا گیا ہے۔
تاہم بنیادی سوال ابھی وہی رہتا ہے، کیا بشار الاسد کو روکا جا سکتا ہے۔ گذشتہ سال امریکی حملہ یہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔ کیا اس بار کچھ مختلف ہوگا؟
دمشق کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آسمان پر افراتفری کا منظر تھا۔ زیادہ تر میزائل مار گرائے گئے ہیں۔‘ رہائشی نے بتایا کہ انھوں نے 20 اینٹی ایئر کرافٹ میزائل لانچ ہوتے دیکھے۔ ’وہ بہت بلندی پر جاتے اور پھر ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنے ٹارگٹ کا پیچھا کر رہے ہیں۔ میں کروز میزائل نہیں دیکھے لیکن میں نے ملبہ گرتے دیکھا ہے۔‘
نیٹو نے ایک چھوٹے سے بیان میں کہا ہے کہ نیٹو کے سربراہ شام پر حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔
امریکی سینیٹر جان مکین نے صدر ٹرمپ کے حملے کے اقدام کی تعریف کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام کے حوالے سے ایک جامع لائحہِ عمل درکار ہے اور انھوں نے امریکی کمانڈر ان چیف کو اپنے اہداف واضح کرنے کے لیے کہا۔
شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی برطانیہ اور فرانس نے شام پر کُل 30 میزائل داغے جن میں سے ایک تہائی میزائل مار گرائے گئے۔
تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایک سو میزائل داغے ہیں۔