برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے شامی حملے میں استعمال ہونے والے مشتبہ کیمیائی اسلحے کو سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی پر برطانیہ میں اعصاب کو متاثر کرنے والے حملے سے منسلک کیا ہے۔
انھوں نے کہا: 'یہ حملے شام اور اس کے باہر ہونے والے بہیمانہ کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے خلاف روک ہیں۔'
انھوں نے کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے خلاف عالمی ضابطے کو مزید مضبوط بنانے کی اپیل کی۔
انھو نے کہا: 'اعصاب کو متاثر کرنے والے مادے کا برطانیہ کی سڑکوں پر حالیہ چند ہفتے قبل استعمال ان عالمی ضابطوں کو پامال کرنے کے رجحان کا حصہ تھا۔
'اس حملے سے ان لوگوں کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ کیمیائی ہتھیار کا استعمال کرکے بچ نہیں سکتے ہیں۔'
انھوں نے مزید کہا: 'ہم لوگوں نے متبادل راستہ اختیار کیا ہوتا لیکن فی الحال کوئی متبادل نہیں تھا۔ ہم لوگ کیمیائي ہتھیار کے استعمال کو نہ ہی شام میں یا پھر برطانیہ میں یا کہیں اور معمول کی چیز بننے دیں گے۔
تھریسا مے نے کہا کہ وہ فضائی حملے کے متعلق سوموار کو پارلیمان میں بیان دیں گی لیکن ابھی انھوں نے اپنے عمل کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
انھوں نے کہا: 'میرا خیال ہے کہ یہ حملہ کرنا درست تھا جو ہم نے صحیح وقت پر اپنے تجزیے اور اپنی آپریشنل سکیورٹی کو دھیان میں رکھتے ہوئے کیا ہے۔'