کل رات ڈونلڈ ٹرمپ نے لنکن میموریل پر حاضری دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے 45 صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے جبکہ اس موقع پر ان کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔
کل رات ڈونلڈ ٹرمپ نے لنکن میموریل پر حاضری دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جان ایسکوپل چرچ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مشیر کیلی این کانوے بھی ان کے ساتھ موجود ہوں گی جنھوں نے صدارتی مہم میں میڈیا پر ٹرمپ کی حمایت میں نہایت اہم کردار ادا کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہAFP
آٹھ سال صدارت کے بعد براک اوباما کا یادگار دور اپنے اختتام کو پہنچا۔
اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ اوباما کے آخری ہفتے بطور صدر کے دوران کئی مشہور اداکار اور گلوکار ان سے ملنے کے لیے آئے۔
اخبار کے مطابق 6 جنوری کو صدر اوباما کے خاندان نے وائٹ ہاؤس میں ساری رات پارٹی کی جس میں پال میکارٹنی، میرل سٹریپ، ٹام ہینکس اور سٹیوی ونڈر جیسے مشہور ناموں نے شرکت کی۔
تقریب میں موجود لوگوں نے بتایا کہ عمارت کے ایسٹ روم میں صدر اوباما نے گلوکار اشر کے ساتھ رقص کا مقابلہ کرنے کی کوشش بھی کی۔
olp�:Ӎ�1e

،تصویر کا ذریعہAFP
واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ بلیئر ہاؤس سے چل پڑے ہیں اور اس کے ساتھ کالی گاڑیوں کا ایک قافلہ ہے۔ وہ وائٹ ہاؤس کے قریب واقع سینٹ جانس ایپسکوپل چرچ کی جانب جارہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تقریب حلف برداری کے موقع پرواشنگٹن میں سیکورٹی کے انتظامات نہایت سخت ہیں۔ اس بات کا اندازہ بی بی سی کی نمائندہ راجنی ویدیاناتھن کو ہوا جب سیکورٹی اہلکاروں نے ان کے پاس موجود کیلے اس وجہ سے لے لیے کے وہ ’ ٹکڑوں میں کٹے ہوئے نہیں ہیں۔‘
تقریب حلف برداری کے موقع پر تقریباً آٹھ سے نو لاکھ افراد واشنگٹن کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ لیکن اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ یہ لوگ وہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی خوشی میں جارہے ہیں یا وہا ں پر احتجاج کرنے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مظاہرین کی جانب سے ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔
روسی صدر ولادی میر پوتن کے پریس سیکریٹری دمتری پیسکوف نے سرکاری خبررساں ادارے تاس سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کی انتخابی کامیابی میں روس کے کردار کی تردید کی ہے اور مغربی تجزیہ کاروں پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
انھوں نے کہا ’وہ ہمارا آدمی نہیں، وہ امریکی آدمی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ امریکہ کے صدر ہیں۔ یہ خیال کرنا کہ وہ ہمارے آدمی ہیں، شاید مغربی تجزیہ کاروں اور ہمارے کچھ سیاسی سائنسدانوں کی سب سے بڑی غلطی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واشنگٹن میں بی بی سی ورلڈ کی نامہ نگارسارا شوبوڈا کی ٹویٹ


،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹویٹر کو باقاعدگی سے استعمال کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے والے دن کی پہلی ٹویٹ کی ہے۔
’آج سے شروعات ہیں! میں آپ سب کو صبح گیارہ بجے تقریب حلف برداری کے موقع پر دیکھوں گا۔ تحریک جاری رہے گی۔ کام کا آغاز ہو رہا ہے!‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت سارے مخالفین کا کہنا ہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور شہری حقوق کے سرگرم کارکن اور کانگریس کے رکن جان لوئس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جان لوئس کا شمار 1960 کی دہائی میں انسانی حقوق کی تحریک کے سرگرم کارکنوں میں ہوتا ہے اور انھوں نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات کی بنیاد پر ٹرمپ کی کامیابی کو غیرقانونی قراردیا تھا اور اسی بنیاد پر افتتاحی تقریب میں شرکت کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ جان لیوئس صرف ’باتیں، باتیں، باتیں کرتے ہیں اور کوئی عمل نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد کھانے کے تصیلات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ شاید کسی کاروباری شخص کے کھانے کی فہرست ہے۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے زعفران کی چٹنی میں بنے دو طرح کے جھینگے نوش کریں گے اور اس کے بعد وہ ورجینیا ریاست کا معروف اینگس بیف کھائیں گے۔
میٹھے میں ڈارک چاکلیٹ اور چاکلیٹ سوفلے چیری اور ونیلا آئس کریم ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہiStock
ڈونلڈ ٹرمپ آج امریکہ کے پینتالیسویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے جب امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی سڑکیں ان کے حامیوں اور ناقدین سے بھری ہوئی ہوں گی۔
مقامی وقت کے مطابق دن کے بارہ بجے ڈونلڈ ٹرمپ کیپیٹل ہل پر اپنے عہدے کا حلف لیں گے جس کے بعد وہ خطاب کریں گے اور پھر وہائٹ ہاؤس تک پریڈ میں جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے خلاف ہفتے کے روز وومنز مارچ کے نام سے احتجاج ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
صدارت کی منتقلی باضابطہ طور پر مقامی وقت کے مطابق دن کو بارہ بجے ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے چند منٹ پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور اپنی صدارتی خطاب دیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ وہائٹ ہاؤس کے نزدیک سینٹ جان ایپسکوپل گرجا گھر میں حاضری دیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ موجودہ صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما کے ساتھ صبح کی کافی نوش کریں گے۔ اس کے بعد دونوں جوڑے کیپیٹل ہل کی جانب روانہ ہوں گے۔
صبح 9:30 (دن ڈھائی بجے جی ایم ٹی وقت): حلف اٹھانے کی تقریب کا آغاز موسیقی کے پروگرام سے ہوگا۔
صبح 11:30 (شام 4:30 جی ایم ٹی وقت): تقریب کے آغاز کے بعد امریکہ کے چیف جسٹس جان جی رابرٹس نائب صدر مائیک پینس سے ان کے عہدے کا حلف لیں گے۔
صبح 11:45 (شام 4:45 جی ایم ٹی وقت): دوپہر بارہ بجے صدر براک اوباما کے عہدِصدارت کا باضابطہ اختتام۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ سپریم کورٹ کے چیف جسٹں جان جی رابرٹس سے اپنے عہدے کا حلف لیں گے ۔ اس کے بعد وہ اپنا پہلا صدارتی خطاب کریں گے۔
شام تین سے پانچ بجے (آٹھ سے دس بجے شب جی ایم ٹی وقت): ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک پینس پینسلوینیا ایوینیو پر ڈھائی کلو میٹر لمبا سفر ایک پریڈ میں طے کریں گے اور امکان ہے کہ سڑک کے ساتھ ان کے حامی اور ناقدین دونوں شامل ہو گے۔
شام سات سے 11 بجے شب (رات 12 سے صبح چار بجے جی ایم ٹی وقت): ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک پینس اپنے نئے عہدوں کے حلف اٹھانے کے بعد تین سرکاری افتتاحی کھانے کی تقریبات میں شرکت کیں گے۔
