ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری، کب کیا ہوا

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے 45 صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے جبکہ اس موقع پر ان کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کل رات ڈونلڈ ٹرمپ نے لنکن میموریل پر حاضری دی

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیہ کے ساتھ لنکن میموریل سے باہر آتے ہوئے
  2. کیلی این کانوے بھی سینٹ جان چرچ میں ٹرمپ کے ساتھ

    جان ایسکوپل چرچ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مشیر کیلی این کانوے بھی ان کے ساتھ موجود ہوں گی جنھوں نے صدارتی مہم میں میڈیا پر ٹرمپ کی حمایت میں نہایت اہم کردار ادا کیا تھا۔ 

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنلال ٹوپی پہنے کیلی این کانوے چرچ میں داخل ہوتے ہوئے
  3. مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنواشنگٹن میں ٹرمپ مخلاف مظاہرے جاری ہیں
  4. اوباما کی گلوکار اشر کے ساتھ رقص کے مقابلے کی کوشش

    آٹھ سال صدارت کے بعد براک اوباما کا یادگار دور اپنے اختتام کو پہنچا۔

    اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ اوباما کے آخری ہفتے بطور صدر کے دوران کئی مشہور اداکار اور گلوکار ان سے ملنے کے لیے آئے۔

    اخبار کے مطابق 6 جنوری کو صدر اوباما کے خاندان نے وائٹ ہاؤس میں ساری رات پارٹی کی جس میں پال میکارٹنی، میرل سٹریپ، ٹام ہینکس اور سٹیوی ونڈر جیسے مشہور ناموں  نے شرکت کی۔ 

    تقریب میں موجود لوگوں نے بتایا کہ عمارت کے ایسٹ روم میں صدر اوباما نے گلوکار اشر کے ساتھ رقص کا مقابلہ کرنے کی کوشش بھی کی۔

    olp�:Ӎ�1e

    obama

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنصدر براک اوباما
  5. قافلہ چل پڑا

    واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ بلیئر ہاؤس سے چل پڑے ہیں اور اس کے ساتھ کالی گاڑیوں کا ایک قافلہ ہے۔ وہ وائٹ ہاؤس کے قریب واقع سینٹ جانس ایپسکوپل چرچ کی جانب جارہے ہیں۔ 

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  6. ’کیلے ضبط کر لیے گئے‘

    تقریب حلف برداری کے موقع پرواشنگٹن میں سیکورٹی کے انتظامات نہایت سخت ہیں۔ اس بات کا اندازہ بی بی سی کی نمائندہ راجنی ویدیاناتھن کو ہوا جب سیکورٹی اہلکاروں نے ان کے پاس موجود کیلے اس وجہ سے لے لیے کے وہ ’ ٹکڑوں میں کٹے ہوئے نہیں ہیں۔‘

  7. گانجے کی مفت تقسیم۔۔۔۔

  8. آٹھ سے نو لاکھ افراد کا واشنگٹن کی جانب سفر

    تقریب حلف برداری کے موقع پر تقریباً آٹھ سے نو لاکھ افراد واشنگٹن کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ لیکن اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ یہ لوگ وہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی خوشی میں جارہے ہیں یا وہا ں پر احتجاج کرنے۔

    مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنواشنگٹن میں مظاہرے جاری
  9. ’ٹرمپ کو ملک بدر کریں‘

    مظاہرین کی جانب سے ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ 

  10. ’وہ ہمارا آدمی نہیں، وہ امریکی آدمی ہیں‘

    روسی صدر ولادی میر پوتن کے پریس سیکریٹری دمتری پیسکوف نے سرکاری خبررساں ادارے تاس سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کی انتخابی کامیابی میں روس کے کردار کی تردید کی ہے اور مغربی تجزیہ کاروں پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

     انھوں نے کہا ’وہ ہمارا آدمی نہیں، وہ امریکی آدمی ہیں۔‘

     ان کا کہنا تھا کہ ’وہ امریکہ کے صدر ہیں۔ یہ خیال کرنا کہ وہ ہمارے آدمی ہیں، شاید مغربی تجزیہ کاروں اور ہمارے کچھ سیاسی سائنسدانوں کی سب سے بڑی غلطی ہے۔‘

    پوتن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. ٹرمپ کی آمد: دنیا بھر میں مظاہرے

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین کے دارالحکومت کیف میں امریکی سفارتخانے کے باہر لوگ نئی امریکی انتظامیہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے جمع ہیں۔
    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلندن میں بھی ملینیم بریج پر مظاہرین جمع ہوئے۔
    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشن’پل بنائیں، دیواریں نہیں‘ - ٹاور بریج میں آویزاں ایک بینر
  12. ’ایک نئی صبح‘

    واشنگٹن میں بی بی سی ورلڈ کی نامہ نگارسارا شوبوڈا کی ٹویٹ

  13. tax
  14. palestine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایک فلسطینی شخص اسرائیل کی نئی کالونی بنانے کے خلاف ایک احتجاج میں ڈونلڈ ٹرمپ مخالف پوسٹر لیے کھڑا ہے
  15. اوباما
    ،تصویر کا کیپشنواشنگٹن میں براک اوباما کا حامی پلے کارڈ لیے ہوئے۔
  16. ’آج سے شروعات ہیں‘: ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹویٹر کو باقاعدگی سے استعمال کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے والے دن کی پہلی ٹویٹ کی ہے۔

    ’آج سے شروعات ہیں! میں آپ سب کو صبح گیارہ بجے تقریب حلف برداری کے موقع پر دیکھوں گا۔ تحریک جاری رہے گی۔ کام کا آغاز ہو رہا ہے!‘

  17. ٹرمپ مخالفین جان لیوئس سے متاثر

    ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت سارے مخالفین کا کہنا ہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور شہری حقوق کے سرگرم کارکن اور کانگریس کے رکن جان لوئس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جان لوئس کا شمار 1960 کی دہائی میں انسانی حقوق کی تحریک کے سرگرم کارکنوں میں ہوتا ہے اور انھوں نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات کی بنیاد پر ٹرمپ کی کامیابی کو غیرقانونی قراردیا تھا اور اسی بنیاد پر افتتاحی تقریب میں شرکت کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ جان لیوئس صرف ’باتیں، باتیں، باتیں کرتے ہیں اور کوئی عمل نہیں۔‘   

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  18. ’میک امریکہ سٹیک اگین‘

     صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد کھانے کے تصیلات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ شاید کسی کاروباری شخص کے کھانے کی فہرست ہے۔

    عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے زعفران کی چٹنی میں بنے دو طرح کے جھینگے نوش کریں گے اور اس کے بعد وہ ورجینیا ریاست کا معروف اینگس بیف کھائیں گے۔

    میٹھے میں ڈارک چاکلیٹ اور چاکلیٹ سوفلے چیری اور ونیلا آئس کریم ہو گی۔

    سٹیک

    ،تصویر کا ذریعہiStock

  19. ڈونلڈ ٹرمپ: امریکہ کے 45ویں صدر

    ڈونلڈ ٹرمپ آج امریکہ کے پینتالیسویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے جب امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی سڑکیں ان کے حامیوں اور ناقدین سے بھری ہوئی ہوں گی۔

    مقامی وقت کے مطابق دن کے بارہ بجے ڈونلڈ ٹرمپ کیپیٹل ہل پر اپنے عہدے کا حلف لیں گے جس کے بعد وہ خطاب کریں گے اور پھر وہائٹ ہاؤس تک پریڈ میں جائیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے خلاف ہفتے کے روز وومنز مارچ کے نام سے احتجاج ہوگا۔

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  20. آج کے دن کا پروگرام

    صدارت کی منتقلی باضابطہ طور پر مقامی وقت کے مطابق دن کو بارہ بجے ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے چند منٹ پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور اپنی صدارتی خطاب دیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ وہائٹ ہاؤس کے نزدیک سینٹ جان ایپسکوپل گرجا گھر میں حاضری دیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ موجودہ صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما کے ساتھ صبح کی کافی نوش کریں گے۔ اس کے بعد دونوں جوڑے کیپیٹل ہل کی جانب روانہ ہوں گے۔

     صبح 9:30 (دن ڈھائی بجے جی ایم ٹی وقت): حلف اٹھانے کی تقریب کا آغاز موسیقی کے پروگرام سے ہوگا۔

    صبح 11:30 (شام 4:30 جی ایم ٹی وقت): تقریب کے آغاز کے بعد امریکہ کے چیف جسٹس جان جی رابرٹس نائب صدر مائیک پینس سے ان کے عہدے کا حلف لیں گے۔

    صبح 11:45 (شام 4:45 جی ایم ٹی وقت): دوپہر بارہ بجے صدر براک اوباما کے عہدِصدارت کا باضابطہ اختتام۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ سپریم کورٹ کے چیف جسٹں جان جی رابرٹس سے اپنے عہدے کا حلف لیں گے ۔ اس کے بعد وہ اپنا پہلا صدارتی خطاب کریں گے۔

    شام تین سے پانچ بجے (آٹھ سے دس بجے شب جی ایم ٹی وقت): ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک پینس پینسلوینیا ایوینیو پر ڈھائی کلو میٹر لمبا سفر ایک پریڈ میں طے کریں گے اور امکان ہے کہ سڑک کے ساتھ ان کے حامی اور ناقدین دونوں شامل ہو گے۔

    شام سات سے 11 بجے شب (رات 12 سے صبح چار بجے جی ایم ٹی وقت): ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک پینس اپنے نئے عہدوں کے حلف اٹھانے کے بعد تین سرکاری افتتاحی کھانے کی تقریبات میں شرکت کیں گے۔

    ٹرمپ