آسٹریلیا نے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیا، نیوزی لینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔ اس فتح میں ڈیوڈ وارنر کے 53 اور مچل مارش کے 77 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کا اہم کردار تھا۔ اس کے علاوہ ہیزل وڈ کی تین وکٹیں بھی نمایاں رہیں۔
لائیو کوریج
محمد صہیب
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کی گراؤنڈ میں آمد کے مناظر!
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں گراؤنڈ پہنچ چکی ہیں اور اب سے کچھ ہی دیر میں ٹاس ہونے والا ہے جو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپر بیٹسمین ڈیون کونوے اپنا ہاتھ بلے پر مار کر توڑ بیٹھے!
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپر بیٹسمین ڈیون کونوے دائیاں ہاتھ ٹوٹنے کے باعث فائنل اور اس کے بعد ہونے والی انڈیا سیریز سے بھی باہر ہو گئے ہیں۔
کونوے کو یہ انجری اس وقت ہوئی جب انھوں نے انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں آؤٹ ہونے کے بعد اپنا ہاتھ زور سے بیٹ کو دے مارا۔
جمعرات کے روز جب ان کا ایکس رے کروایا گیا تو ان کے دائیں ہاتھ میں فریکچر پایا گیا۔
نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ گیری سٹیڈ کا کہنا تھا کہ ’وہ انتہائی غم زدہ ہیں کہ وہ اس وقت میں اس طرح سے ٹیم سے نکل رہے ہیں۔ ڈیون بلیک کیپس کے لیے کھیلنے کے بارے میں انتہائی پرجوش تھے اور اس وقت ان سے زیادہ کوئی بھی مایوس نہیں ہے۔‘
ان کی جگہ ٹیم میں ٹم سائیفرٹ کو شامل کیا گیا ہے۔
دوسرے سیمی فائنل کا احوال: ویڈ کے بھیس میں مائیک ہسی کی آمد!
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن میچ کا غالباً سب سے اہم لمحہ 19ویں اوور میں آیا جب شاہین آفریدی ، جنھوں نے اس وقت تک تین اوور میں صرف 13 رنز دیے تھے، ان کے اوور کی تیسری گیند پر میتھیو ویڈ نے اونچا شاٹ کھیلا جو مڈ وکٹ پر حسن علی کی طرف گیا۔
پاکستان نے اس وقت تک ورلڈ کپ میں صرف ایک کیچ چھوڑا تھا اور پورے ٹورنامنٹ میں ان کی فیلڈنگ کا معیار بہت عمدہ رہا ہے۔
لیکن اس کڑے وقت میں حسن علی اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکے اور ہاتھوں میں آئی ہوئی گیند ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔
اور اس کے بعد اگلی تین گیندوں پر میتھیو ویڈ نے پاکستان کے بہترین بولر کے ساتھ وہ کیا جو 2010 کے ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں مائیک ہسی نے پاکستان کے اس وقت کے بہترین بولر کے ساتھ کیا تھا، یعنی کہ تین چھکے۔
ان کی شاندار اننگز اور ساتھی مارکس سٹوئنس کی 31 گیندوں پر 40 رنز کی اننگز کی بدولت آسٹریلیا اب فائنل میں پہنچ گیا ہے جہاں اتوار کو وہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کھیلے گا۔
پہلے سیمی فائنل کا احوال: نیوزی لینڈ نے 24 گیندوں پر 57 رنز 18 گیندوں میں پورے کر لیے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ کو آخری چار اوورز میں 57 رنز درکار تھے، یعنی 14 کی اوسط۔ لیکن پھر جمی نیشم آئے اور چھا گئے۔
نیوزی لینڈ نے یہ سکور صرف تین اوورز میں پورا کر لیا۔ اس دوران ڈیرل مچل اور نیشم نے چھ چھکے اور دو چوکے لگائے، اور پھر نیوزی لینڈ نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔
نگلش ٹیم کے کپتان اوئن مورگن کا کہنا ہے کہ سیمی فائنل میں فتح کا مکمل سہرا نیوزی لینڈ کی ٹیم کے کپتان کین ولیم سین اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے، انھوں نے ہمیں آج ہر شعبے میں بے بس کیا ہے۔
اپنی کمزرویوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اوئن مورگن نے کہا کہ آج جو کھیل انھوں نے پیش کیا ہے انھیں اس میں کوئی خامی نظر نہیں آتی ہے، ہم نے خوب مقابلہ کیا ہے اور بہتر کھیل پیش کیا مگر پھر بھی شکست آج کی رات ہمارے مقدر میں رہی۔
کین ولیمسن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ متعدد مرتبہ میچ کھیلے ہیں، اور ہمیں معلوم تھا کہ یہ ایک بہترین میچ ہو گا اور ہم انتہائی خوش ہیں کہ ہم نے اس کارکردگی کے دوران جس دلیری کا مظاہرہ کیا۔‘
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ فائنل: آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ, بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل آج دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔
پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔
آج جو بھی ٹیم بھی جیتے گی، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا نیا فاتح منظرعام پر آئے گا۔