واٹ کے اوور میں دو چھکے، 15 رنز!
واٹ کے اوور میں دو چھکے لگے ہیں اور پاکستان اب جارحانہ انداز اپنا چکا ہے۔
پاکستان کا سکور اس وقت 17 اوورز میں 139 ہے اور شعیب ملک بھی کریز پر موجود ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اتوار کو دوسرے میچ میں پاکستان نے سکاٹ لینڈ کو 72 رنز سے شکست دے دی ہے۔ پاکستان ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست رہی ہے اور سیمی فائنل میں اس کا مقابلہ آسٹریلیا سے جمعرات کے روز دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں ہو گا۔
محمد صہیب
واٹ کے اوور میں دو چھکے لگے ہیں اور پاکستان اب جارحانہ انداز اپنا چکا ہے۔
پاکستان کا سکور اس وقت 17 اوورز میں 139 ہے اور شعیب ملک بھی کریز پر موجود ہیں۔
ٹورنامنٹ میں اپنا اپنا پہلا میچ کھیلنے والے حمزہ طاہر نے پہلے تین اوورز میں نہایت عمدہ بولنگ کی اور صرف 12 رنز دیے جبکہ محمد رضوان کو آؤٹ بھی انھوں نے ہی کیا تھا۔
ان کے آخری اوور میں بابر اعظم نے بالآخر انھیں چھکا لگایا اور باقی گیندوں پر مزید چھ رنز حاصل کیے اور اس طرح حمزہ کے چار اوورز میں 24 رنز بنے۔
ان کی انتہائی سست رفتار گیندوں لیکن نپی تلی لائن پر بولنگ نے پاکستانی بلے بازوں کو مجبور کیا کہ وہ انھیں احتیاط سے کھیلیں۔
شعیب ملک نے واٹ کو لانگ آف باؤنڈری کے اوپر سے چھکا مار دیا ہے۔
پاکستانی وکٹ کیپر محمد رضوان جنھیں اس سال پاکستان کی اوپننگ کی ذمہ داری دی گئی اور انھوں نے نہ صرف 2021 میں کسی بھی سال بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز حاصل کیا، بلکہ آج کی اننگز کے بعد ٹی ٹوئنٹی کے تمام میچوں میں سب سے زیادہ رنز بنا لیے ہیں۔
سال 2015 میں کرس گیل نے 36 اننگز میں 1665 رنز بنائے تھے جبکہ آج رضوان نے 37 اننگز میں 1676 رنز بنا لیے ہیں۔
بابر اعظم نے ٹورنامنٹ میں اپنی چوتھی نصف سنچری مکمل کر لی ہے۔ انھوں نے یہ نصف سنچری 40 گیندوں پر مکمل کی ہے۔
حفیظ نے شریف کے اس اوور میں یہ دکھا دیا کہ وہ فارم میں واپس آ چکے ہیں۔ تاہم اس شریف کے اوور کے آخر میں شریف نے انھیں ایل بی ڈبلیو کر دیا ہے۔
حفیظ نے 19 گیندوں پر 31 رنز بنائے ہیں۔
محمد حفیظ کے بلے پر جب گیند آ جائے تو وہ عموماً عمدہ ٹائمنگ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انھوں نے شریف کے اوور میں ھہلے ایک چھکا اور پھر دو چوکے مار کر پاکستان کو 15 اوورز میں بہتر سکور پر پہنچا دیا ہے۔
شریف کے اس اوور میں 15 رنز بنے۔
بابر اعظم نے لگاتار دو چوکے مار کر واٹ کے تیسرے اوور میں 12 رنز بنا لیے ہیں اور اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستانی بلے باز سکاٹش بولرز کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کا آغاز کر دیں گے۔
بابر اپنی نصف سنچری کے قریب ہیں۔
بابر اعظم نے گریوز کو اوور کی پہلی گیند پر چوکا مارا ہے لیکن پھر بھی اوور میں صرف سات رنز بنے ہیں۔
محمد حفیظ جو پاکستان کے لیے نمبر چار پر بیٹنگ کرتے ہیں، اس وقت کریز پر بابر اعظم کے ساتھ موجود ہیں اور انھیں اب جارحانہ انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔
محمد حفیظ نے آتے ہی حمزہ طاہر کے اوور میں قدموں کا استعمال کرتے ہوئے حمزہ طاہر کو چوکا لگایا ہے۔
کرکٹ کی شماریات اور تجزیہ کرنے والے کرک وز نے اپنی ٹویٹ میں فخر زمان کے کھیل پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس ورلڈ کپ میں لیگ سپن اور بائیں ہاتھ کے سپنرز کے خلاف فخر نے اب تک 22 بالوں کا سامنا کیا ہے اور 72 کے سٹرائیک ریٹ سے صرف 22 رنز بنائے ہیں اور دو بار آؤٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان کو پہلے 10 اوورز میں سکاٹش بولرز نے کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا اور پاکستان نے چھ کی اوسط سے رنز کیے ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان نے دو کھلاڑی بھی گنوا دیے ہیں۔
فخر زمان کی مایوس کن اننگز کے اختتام پر ٹویٹ کرتے ہوئے صارف اسد نے لکھا کہ فخر کے پاس سلوگ سوئیپ کے علاوہ ایسا اور کوئی شاٹ نہیں ہے جس کی مدد سے وہ دباؤ کم کر پائیں اور وہ ان کنڈیشنز میں بالکل اچھا نہیں کھیلتے۔
ٹی ٹوئنٹی کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق عمومی طور پر کسی بھی ٹیم کو میچ پر قابو پانے کے لیے پاور پلے میں زیادہ سے زیادہ سکور کرنا چاہیے۔
لیکن کرکٹ تجزیہ کار حسن چیمہ نے پاکستانی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس تصور کے برخلاف پاور پلے میں چھ رن فی اوور سے بھی کم کی اوسط رکھی ہے اور انھیں ’سب سے بڑی ٹرول ٹیم‘ قرار دیا۔
فخر زمان نے اپنی اننگز کا سست آغاز کیا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ لیفٹ آرم سپنرز کے خلاف ڈیپ مڈوکٹ باؤنڈری کو نشانہ بنائیں گے۔
تاہم گریوز کے پہلے اوور میں جب انھوں نے دو گیندوں پر کوئی رن نہیں بنایا، تو فخر زمان نے اگلی گیند پر انھیں چھکا مارنے کی کوشش کی اور کیچ دے بیٹھے۔
پاکستان کو 59 کے مجموعی سکور پر دوسرا نقصان ہو گیا ہے۔
صحافی اسد ہاشم نے پاکستان کے سست آغاز پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ سکاٹ لینڈ کے بولرز بڑی عمدہ بولنگ کر رہے ہیں اور کسے معلوم تھا کہ ایبرڈین کی پچ کی صورتحال نے ان کو شارجہ کی سست اور نیچی وکٹ کے لیے اتنا تیار کیا ہوگا۔
بابر اعظم نے مارک واٹ کا چھکے سے استقبال کیا ہے۔ واٹ نے یہ گیند کریز کے بھی پیچھے سے کروائی تھی، لیکن بابر نے ان کی گیند کو بھانپتے ہوئے ڈیپ مڈوکٹ باؤنڈری پر چھکا مار دیا ہے۔
واٹ کے اس اوور میں پاکستان نے کل 12 رنز بنائے۔
حمزہ طاہر نے اپنے پہلے اوور میں صرف ایک رن دیا تھا اور محمد رضوان ان کے خلاف رنز بنانے سے قاصر رہے تھے، تاہم اب جب سکاٹش کپتان انھیں پاور پلے کے اختتام پر بولنگ میں دوبارہ لائے ہیں تو رضوان نے کٹ کھیلنے کی کوشش میں کیپر کو کیچ دے دیا ہے۔
پاکستان کو پہلا نقصان 35 رنز کے سکور پر ہوا ہے اور رضوان نے ایک چھکے کے ساتھ اپنی اننگز میں 19 گیندوں پر 15 رنز بنائے۔
حمزہ کے اس اوور میں صرف تین ہی رنز بن پائے۔
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر پاور میں سست آغاز کیا ہے لیکن کوئی وکٹ نہیں گنوائی۔
پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے 18 گیندوں پر 17 جبکہ محمد رضوان نے 18 گیندوں پر 15 رنز بنا رکھے ہیں۔