ویسٹ انڈیز سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر، سری لنکا سے 20 رنز سے شکست
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 35ویں میچ میں آج سری لنکا نے ویسٹ انڈیز کو 20 رنز سے شکست دے دی ہے اور یوں سری لنکا، بنگلہ دیش کے بعد اب ویسٹ انڈیز بھی گروپ 1 میں سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اس وقت انگلینڈ اور پاکستان کے علاوہ اکثر ٹیمیں دراصل نیٹ رن ریٹ کی دوڑ میں ہی لگی ہوئی ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینیجر ریحان الحق کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کو اپنا نیٹ رن ریٹ مثبت کرنے کے لیے سری لنکا کی جانب سے 100 سے زیادہ رنز کا ہدف سات یا اس سے کم اوورز میں پورا کرنا ہو گا۔
ویسٹ انڈیز کا سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے کپتان کیرون پولارڈ کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلے بولنگ کر رہے ہیں کیونکہ اس ٹورنامنٹ میں یہی صورتحال رہی ہے۔ جو ٹیمیں دوسری بیٹنگ کرتی ہیں انھیں اوس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
’اس وقت متعدد چیزیں ہمارے ذہن میں ہیں جن میں حساب کتاب بھی شامل ہیں لیکن بطور ٹیم ہم مطمئن ہیں اور پرامید بھی کہ ہم بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ ہم نے اچھی بیٹنگ نہیں کی ہے، اور یہ ایک اور موقع ہے اسے درست کرنے کا۔‘
سری لنکا کے کپتان دسن شناکا کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تین میچ کھیلے ہیں اور ہمیں اس وکٹ کے بارے میں بہت کچھ پتا ہے۔ لیکن پھر بھی بہت ساری چیزیں تبدیل بھی ہوئی ہیں اور وکٹیں بیٹنگ کے لیے بہتر ہو رہی ہیں۔ ہم تیار ہیں۔ ہم نے بہت کوشش کی لیکن ہماری بیٹنگ نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اگر ہم بیٹنگ بہتر کرتے تو سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتے تھے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: ویسٹ انڈیز بمقابلہ سری لنکا, بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ آج ویسٹ اور سری لنکا کی ٹیمیں ورلڈکپ کے 35ویں میچ میں ابوظہبی کے شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم میں مدِ مقابل ہیں۔
سری لنکا کی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو چکی ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اب اپنے تمام میچ نہ صرف بڑے مارجن سے جیتنے ہوں گے بلکہ یہ امید بھی رکھنی ہو گی کہ دوسرے نتائج ان کے حق میں رہیں۔