’بارڈ کا حارث رؤف کو ’فلک‘ پر چھکا، نمیبیا بہت اچھا کھیل رہا ہے‘
ایک سوشل میڈیا صارف ستبیر سنگھ لکھتے ہیں کہ بڑی ٹیموں کے خلاف ناتجربہ کاری کے باوجود نمبییا بہت اچھا کھیل رہا ہے۔ (حارث رؤف کو) وہ چھکا بھی بہت اچھا تھا۔‘
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں منگل کو دن کے دوسرے میچ میں گروپ ٹو کی سرفہرست ٹیم پاکستان نے نمیبیا کو 45 رنز سے شکست دے کر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں کوالی فائی کر لیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے محمد رضوان اور بابر اعظم نے نصف سنچریاں بنائیں۔ اس سے قبل دن کے پہلے مقابلے میں جنوبی افریقہ نے باآسانی بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی۔
محمد صہیب
ایک سوشل میڈیا صارف ستبیر سنگھ لکھتے ہیں کہ بڑی ٹیموں کے خلاف ناتجربہ کاری کے باوجود نمبییا بہت اچھا کھیل رہا ہے۔ (حارث رؤف کو) وہ چھکا بھی بہت اچھا تھا۔‘
پاور پلے کے آخری اوور میں پاکستانی کپتان نے حارث رؤف کو بولنگ دی تو ان کی پہلی چار گیندیں اچھی تھیں لیکن پانچویں گیند پر سٹیفن بارڈ نے خوبصورت فلک کیا اور سکوائر لیگ پر چھ رنز حاصل کیے۔
عماد وسیم نے اننگز میں اپنا پہلا اوور کرایا جس میں انھوں نے صرف ایک رن دیا۔
حسن علی کے دوسرے اوور کی پہلی چار گیندوں پرتین رنز بنے لیکن پانچویں گیند پر کریگ ولیمز ایک چوکا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
شاہین آفریدی کی رفتار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سٹیفن بارڈ نے ان کو اس اوور میں بھی ایک چوکا لگایا اور نمیبیا نے سات رنز حاصل کیے۔
پاکستان کی جانب سے اس ورلڈ کپ میں حسن علی اچھی بولنگ کے باوجود تسلسل برقرار نہ رکھ سکے ہیں اور ہر میچ میں سب سے مہنگے بولر ثابت ہوئے ہیں۔
لیکن اس بار کپتان بابر اعظم نے انھیں دوسرے اوور میں متعارف کرایا اور انھوں نے ان تیسری گیند پر بہترین انداز میں گیند اندر لائی اور وان لنگن کو بولڈ کر دیا۔
شاہین آفریدی نے اننگز کا پہلا اوور پھینکا جس میں نمیبیا کے وان لنگن نے ایک چوکے کی مدد سے اپنی ٹیم کو سات رنز دلائے۔
سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے پاکستان کے پہلے بیٹنگ کر کر ایک بڑا ٹوٹل کرنے پر خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ’اب اپنی بولنگ کو ٹیسٹ کریں کہ وہ اوس میں کیسے بولنگ کرتی ہے۔‘
رضوان جنھوں نے اس سال کے کے آغاز میں پاکستان کے لیے اوپننگ شروع کی تھی، اب تک آٹھ مرتبہ ناقابلِ تسخیر رہے ہیں۔
رضوان جو اننگز کے آغاز میں خاصے آف کلر دکھائی دے رہے تھے اننگز کے آخر میں خاصے جارحانہ انداز میں کھیلتے دکھائی دیے۔
انھوں نے اپنی اننگز میں آٹھ چوکے اور چار چھکے لگائے۔
جب پاکستان نے اپنی اننگز شروع کی تو پہلے اوور میں ٹرمپلمین نے رضوان کو تین بار گیند مس کرائی اور میڈن پھینکا۔
اس کے بعد رضوان جے جے سمٹ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو بھی قرار دیے گئے لیکن انھوں نے ریویو لیا اور بچ گئے۔
گویا میچ کی پہلی 60 گیندوں پر نمیبیا نے پاکستان کو دباؤ میں رکھا اور صرف 59 رنز دیے۔ لیکن ان کے لیے سب سے پریشان کن بات تھی کہ دونوں پاکستانی اوپنرز کریز پر رہے اور یہی امر نمیبیا کے لیے بھاری پڑ گیا۔
پاکستان کے لیے 19 بار اوپننگ کرنے والے اس جوڑے نے پانچویں بار سنچری کی شراکت جوڑی اور کپتان بابر اعظم نے ٹورنامنٹ میں اپنی تیسری نصف سنچری حاصل کی۔
جب وہ 70 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو اس وقت اننگز میں پانچ اوور باقی تھے۔ مگر پھر 16ویں اوور میں فخر کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ آئے اور پھر پاکستان نے اپنی آخری 24 گیندوں پر نمیبیا پر اپنی بیٹنگ کا ایسا اثر چھوڑا کہ ان کی فیلڈنگ خراب تر ہوتی گئی۔
پاکستان نے اپنی آخری 24 گیندوں پر حفیظ کے 32 اور رضوان کے ناقابل شکست 79 رنز کی بدولت نمیبیا کے خلاف 61 رنز حاصل کیے اور میچ میں بھرپور فیورٹ کے طور دوسری اننگز میں کریز پر آئیں گے۔
محمد رضوان کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہوگی۔ انھوں اپنی پہلی 50 گیندوں پر 16 رنز بنائے اور آخری 25 گیندوں پر 63 رنز بنائے جس میں 24 رنز صرف آخری اوور میں تھے۔
ویسے تو آج کے میچ میں اتنے تماشائی نہیں ہیں جتنے پاکستان کے پچھلے میچوں میں تھے، لیکن پھر بھی جتنے بھی تماشائی موجود ہیں ان میں سے زیادہ تر پاکستانی کی سپورٹ کر رہے ہیں۔
محمد رضوان نے 19ویں اوور میں ویزے کو لیگ سائیڈ پر بہترین انداز میں چھکا مارا اور ٹورنامنٹ میں اپنی دوسری نصف سنچری مکمل کر لی۔
اس اوور میں پاکستان نے 10 رنز حاصل کیے۔
محمد حفیظ نے اپنی تیز بیٹنگ جاری رکھی اور انھوں نے بھی ٹرمپلمین کے اوور میں دو چوکے لگائے۔
محمد رضوان نے بھی اوور کی آخری گیند پر ایک چوکا لگایا اور ٹرمپلمین جنھوں نے اپنا پہلا اوور میڈن کرایا تھا، چار اوور میں 36 دے بیٹھے۔
لیکن یہ کہنا ضروری ہوگی کہ نمیبیا کی فیلڈنگ کافی ناقص رہی ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں آخری چار اوورز میں پاکستان کا رن ریٹ 11.58 رہا ہے۔ صرف انگلینڈ کا ان چار اوورز میں رن ریٹ تھوڑا سا بہتر ہے اور وہ 11.6 ہے۔
محمد حفیظ کو اپنی پوزیشن پر آنے پر سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے گئے کہ آصف علی کو کیوں نہیں بھیجا گیا لیکن انھوں نے جے جے سمٹ کے اس اوور میں نہایت خوبصورت سے دو چوکے لگائے اور اوور میں 11 رنز حاصل کر لیے۔
سوشل میڈیا پر اکثر صارفین پاکستانی ٹیم کی اس تصویر کو شیئر کر رہے ہیں جس میں بابر اعظم پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے پیچھے دیگر پاکستانی کھلاڑی موجود ہیں۔
پاکستان کی ٹیم پریکٹس سیشنز میں بھی پاکستان کا جھنڈا ساتھ رکھتی ہے اور اسے میدان میں مختلف جگہوں پر لگایا جاتا ہے۔
جھنڈا ساتھ رکھنا، اور اسے پریکٹس کے دوران بھی گراؤنڈ میں مختلف جگہوں پر لگانا دراصل پاکستان ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کا آئیڈیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ وہ پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں اور انھیں اس چیز پر فخر بھی ہو اور ساتھ اس بات کی ذمہ داری بھی محسوس کریں۔
یان فرائی لنک کی عمدہ بولنگ جاری رہی اور پاکستان بلے باز ان کے خلاف شاٹ مارنے کی کوشش میں کامیاب نہ ہوئے۔ اس اوور میں انھوں نے فخر زمان کو آؤٹ بھی کر دیا جن کا بہترین کیچ ٹیم کے کیپر نے پکڑا۔ فخر نے پانچ رنز بنائے۔
اوور کی پانچویں گیند پر حفیظ نے آتے ہی ایک چوکا مارا اور اوور میں کل نو رنز حاصل کیے گئے۔
پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے اوور کی پہلی گیند پر چار رنز حاصل کیے جس میں فیلڈرکی مس فیلڈنگ کا بڑا ہاتھ شامل تھا۔
لیکن اگلی گیند ویزے نے سلو کرائی اور بابر مڈ وکٹ پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے 49 گیندوں پر 0 رنز بنائے جس میں سات چوکے شامل تھے۔
وکٹ گرنے کے باوجود اس اوور میں پاکستان نے نو رنز حاصل کیے۔
نمیبیا کے میڈیم فاسٹ بولر یان فرائی لنک نے اننگز کا 13واں اوور کرایا تو اس میں انھوں نے سنگل اور ایک ٹرپل کی مدد سے آٹھ رنز دیے۔