انگلینڈ کی اننگز کے دس اوورز کے بعد کئی لوگوں کے ذہنوں میں سوال تھا کہ کیا سری لنکا اس میچ میں کوئی اپ سیٹ تو نہیں کر سکتا۔
لیکن اس کے بعد کھیلے گئے اگلے 29 اوورز میں اس بات کا واضح جواب مل گیا کہ انگلینڈ اس ورلڈ کپ کی نہ صرف اب تک کی ناقابل تسخیر ٹیم ہے، بلکہ سب سے مضبوط اور فیورٹ بھی۔
اور اس جواب دینے میں مرکزی کردار انگلینڈ کے جوز بٹلر کا تھا جنھوں نے گذشتہ میچ میں 72 رنز کے بعد اس بار 67 گیندوں پر ناقابل شکست 101 بنائے جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کی پہلی سنچری تھی۔
اس طرح وہ انگلینڈ کی جانب سے تینوں فارمیٹ میں سنچری بنانے والے پہلے مرد بن گئے ہیں۔
بیٹنگ میں ان کا ساتھ کپتان مورگن نے دیا جن کے ساتھ انھوں نے 112 رنز کی شراکت قائم کی۔
سری لنکا نے 164 رنز کے تعاقب میں رن ریٹ کو سات کے قریب یا اوپر رکھا لیکن اس میں وہ وکٹیں کھوتے چلے گئے۔
البتہ جب سپنر ہسارانگا اور کپتان شناکا نے شراکت جوڑنی شروع کی تو کچھ لمحے کے لیے انگلینڈ کے لیے سوچ بچار کا وقت آ گیا تھا۔
اور جب بھاری اوس کے ساتھ ساتھ ٹائمل ملز بھی انجرڈ ہو گئے تو سری لنکا کے حامیوں نے کسی معجزے کا سوچنا شروع کر دیا ہوگا۔
مگر یہ خواب حقیقت میں نہ بدل سکے اور آخر میں سری لنکا کی پانچ وکٹیں محض 14 گیندوں پر گر گئیں اور وہ میچ 26 رنز سے ہار گئے۔