پاکستان کا مطلوبہ رن ریٹ اوپر کی جانب بڑھتے ہوئے, پاکستان کا سکور: 75/4، 13 اوور مکمل
جمی نیشم نے بھی کٹرز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی بلے بازوں کو باندھے رکھے اور اس اوور میں صرف پانچ رنز مزید دیے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ میں اپنے افتتاحی میچ میں انڈیا کے خلاف فتح کے بعد منگل کو پاکستان نے اپنے دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ کو پانچ وکٹ سے ہرا دیا۔ کریئر کی بہترین بولنگ کرنے والے حارث رؤف اور شاندار بیٹنگ سے میچ ختم کرنے والے آصف علی نے جیت میں مرکزی کردار ادا کیا۔
عابد حسین and شجاع ملک
جمی نیشم نے بھی کٹرز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی بلے بازوں کو باندھے رکھے اور اس اوور میں صرف پانچ رنز مزید دیے۔
اش سودھی کے اوور میں تیسری گیند پر رضوان نے بری بال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لیگ سائیڈ پر چوکا حاصل کیا لیکن دو گیند بعد وہ ایک نیچی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
اس وکٹ کے ساتھ کیوی ٹیم پاکستان پر حاوی ہوتی نظر آ رہی ہے۔
مچل سانٹنر نے اپنے اوور کی پہلی پانچ گیندوں پر صرف پانچ رنز دیے اور جب حفیظ نے آخری گیند پر باؤنڈری کی کوشش کی تو کوور کے قریب ڈیون کون وے نے انتہائی ناقابل یقین کیچ کی مدد سے انھیں 11 رنز پر کیچ آؤٹ کر دیا۔
نئے آنے والے تجربہ کار بلے باز محمد حفیظ نے اپنی پہلی ہی گیند پر جمی نشیم کو چھکا مارا ار پاکستان کے لیے اننگز کا سب سے سود مند اوور حاصل کیا جس میں کل 11 رنز بنے۔
اس موقع پر نیوزی لینڈ کے 60 رنز تھے۔
لیگ سپنر اش سودھی نے اپنا پہلا اوور پھینکا جس میں فخر زمان نے پاکستان کے لیے پہلا چھکا مارا۔
لیکن ان کی بدقسمتی رہی کہ اوور کی آخری گیند پر وہ اش سودھی کی اپیل پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
امپائر نے پہلے آؤٹ نہیں دیا تھا لیکن ولیمسن نے ریویو لیا اور نتیجے کیویز کے حق میں آیا۔
نیوزی لینڈ کے بولنگ اٹیک نے انتہائی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل کم رفتار کی گیندیں کر رہے رہیں اور پاکستانی بلے بازوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
جمی نیشم کے پہلے اوور میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا اور پاکستان اوور میں صرف تین رنز حاصل کر سکا۔
اس موقع پر کیوی ٹیم کا سکور 48/1 تھا۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے سانٹنر نے واپس آ کر پاکستان پر دباؤ جاری رکھا اور سلو پچ پر اچھی گیند کرتے ہوئے ساتویں اوور میں صرف چھ رنز دیے۔
تجربہ کار کیوی بولر ساؤتھی نے اوور کی پہلی گیند سلو کرائی اور چکمہ دیتے ہوئے بابر اعظم کو بولڈ کر دیا جنھوں نے نو رنز بنائے تھے۔
یہ ساؤتھی کی اس فارمیٹ میں 100ویں وکٹ تھی اور وہ مجموعی طور پر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔
ٹرینٹ بولٹ نے بھی اچھی بولنگ جاری رکھی لیکن پاکستان نے اس اوور میں بھی چھ رنز حاصل کر لیے جس میں رضوان کا چوکا بھی شامل تھا۔
اننگز کے اس مرحلے پر نیوزی لینڈ کا سکور 36 رنز تھا۔
نیوزی لینڈ کی بولنگ اور فیلڈنگ سے ظاہر تھا کہ انھوں نے دونوں بلے بازوں کے لیے مخصوص منصوبہ بندی کی ہے اور پاکستانی پلیئرز ابھی تک کھل کر نہیں کھیل سکے۔
تاہم اس کے باوجود محمد رضوان نے ٹم ساؤتھی کو ایک چوکا لگایا اور اوور میں آٹھ رنز حاصل کر لیے۔
کیوی بولر ٹرینٹ بولٹ اننگز کے تیسرے اوور کے لیے آئے تو ان کی پہلی ہی گیند پر محمد رضوان نے زوردار چوکا لیگ سائیڈ پر لگایا۔
لیکن اس کے بعد بولٹ نے اپنی بولنگ کا ریڈار بہتر کیا اور پورے اوور میں صرف ایک رن مزید دیا۔
ٹم ساؤتھی نے اپنے اوور میں بابر اعظم کو باندھ کے رکھا اور انھیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا اور صرف دو رنز دیے۔