’انگلینڈ نے اس سے اچھے آغاز کا سوچا بھی نہیں ہوگا‘
ایشا گوہا نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پولارڈ اور رسل کی بدولت ویسٹ انڈیز کے پاس اب بھی کچھ امید باقی ہے۔ ’لیکن انگلینڈ نے اس سے اچھے آغاز کا سوچا بھی نہیں ہوگا۔‘
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سپر 12 راؤنڈ میں 23 اکتوبر کو دو میچ کھیلے گئے جن میں پہلے آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو پانچ وکٹوں سے جبکہ اس کے بعد انگلینڈ نے دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کو باآسانی چھ وکٹوں سے شکست دے دی۔
ایشا گوہا نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پولارڈ اور رسل کی بدولت ویسٹ انڈیز کے پاس اب بھی کچھ امید باقی ہے۔ ’لیکن انگلینڈ نے اس سے اچھے آغاز کا سوچا بھی نہیں ہوگا۔‘
ویسٹ انڈیز کی اننگز کی مشکلات کا سلسلہ معین علی کے جانے کے بعد بھی ختم نہ ہوا اور نئے بولر کرس جارڈن نے اپنے پہلے ہی اوور کی دوسری گیند پر ڈوائن براوو کو پوائنٹ پر کیچ کروا دیا۔
براوو نے اوور کی پہلی گیند پر ایک زناٹے دار شاٹ کھیل کر چوکا حاصل کیا تھا اور اگلی گیند پر بھی وہی دوبارہ کرنے گئے لیکن گیند سیدھی جونی بئیرسٹو کے ہاتھوں میں جا گری۔
آف سپنر معین علی نے ویسٹ انڈیز کے جارحانہ ترین بلے بازوں کو مکمل طور پر اپنے جال میں بند رکھا اور اننگز کے ساتویں اور اپنے آخری اوور میں بھی صرف دو رنز دیے اور چار اوورز میں ایک میڈن اور دو وکٹیں حاصل کیں۔
کرکٹ کے تجزیہ کار دانیال رسول کہتے ہیں کہ ماضی میں ویسٹ انڈیز نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف پانچ میچز جیتے ہیں اور انھیں کبھی ہار کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وہ اس کا موازنہ پاکستان بمقابلہ انڈیا سے کرتے ہوئے دونوں میچز کو اہم قرار دیتے ہیں۔
انگلینڈ کی ٹیم نے اپنی بہترین بولنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور اننگز کے چھٹے اوور کی آخری گیند پر کرس گیل اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔
انگلینڈ کی ٹیم میں واپس آنے والے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر ٹائمل ملز نے اپنے پہلے اوور میں ہی گرس گیل کو پہلی چار گیندوں پر قابو میں رکھا اور ایک رن بھی نہیں دیا۔
پانچویں گیند پر البتہ گیل نے آف سائیڈ پر زور دار چوکا لگایا لیکن اگلی ہی گیند پر ملز نے بدلہ لیتے ہوئے گیل کو شارٹ گیند کرائی جس پر وہ پُل کرنے گئے لیکن شاٹ پوری طرح نہیں لگا اور گیند ہوا میں اٹھ گئی جسے ڈیوڈ ملن نے با آسانی پکڑ لیا۔
اپنے تیسرے اوور میں معین علی نے ایک بار پھر بڑی شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے شمرون ہٹمئیر کو چکمہ دیتے ہوئے ان کی وکٹ حاصل کر لی۔
گذشتہ اوور کی طرح اس بار بھی اوور کی پہلی دو گیندوں پر ہٹمئیر نے معین علی کو دو انتہائی خوبصورت چوکے لگائے اور ان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔
لیکن معین علی نے پریشان ہوئے بغیر ایک سیدھی مگر قدرے تیز گیند کرائی جس کے نتیجے میں ہٹمئیر شاٹ پر قابو نہ رکھ سکے اور مڈ آن پر انگلینڈ کے کپتان مورگن کو کیچ دے بیٹھے۔
اننگز کے چوتھے اوور میں گرس گیل نے ویسٹ انڈیز کے شائقین کو خوش ہونے کا موقع فراہم کیا جب انھوں نے اوور کی پہلی دو گیندوں پر لگاتار چوکے لگائے۔
البتہ اس کے بعد کرس ووکس نے اپنی بولنگ کا ریڈار درست کیا تو اس کے بعد شمرون ہٹمئیر اور گیل مزید دو رنز ہی حاصل کر سکے۔
معین علی نے اپنے دوسرے اوور میں ویسٹ انڈیز کے اوپنر لینڈل سمنز کی بھی وکٹ حاصل کر لی۔
اوور کی دوسری ہی گیند پر سمنز نے قدموں کا استعمال کیا تاکہ وہ سپنر پر حاوی ہو سکیں لیکن ڈیپ مڈ وکٹ پر وہ لیام لیونگ سٹون کے ہاتھوں کیچ ہو گئے اور تین رنز بنا کر واپس لوٹ گئے۔
ویسٹ انڈیز کے سب سے مشہور بلے باز اور یونی ورس باس کے نام سے معروف کرس گیل پہلی وکٹ گرنے کے بعد کریز پر آئے ہیں۔
معین علی کو چھکا لگانے والے ایون لوئیس نے دوسرے اوور میں کرس ووکس کو بھی دباؤ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اونچا شاٹ کھیلا لیکن میعن علی نے لانگ آف کی باؤنڈری پر بھاگتے ہوئے ایک عمدہ کیچ پکڑ لیا۔
ایون لوئیس چھ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
انگلینڈ نے حیران کن طور پر میچ کا پہلا اوور آف سپنر معین علی کو دیا جنھوں نے اپنی پہلی پابنچ گیندوں تہ بہت نپی تلی کرائیں لیکن اوور کی آخری گیند پر ایون لوئیس نے انھیں چھکا رسید کر دیا!
ایون لوئیس
لینڈل سمنز
کرس گیل
نکولس پورن (وکٹ کیپر)
شمرون ہیٹمئیر
کئیرون پولارڈ (کپتان)
آندرے رسل
ڈوائن براوو
آکیل حسین
روی رام پال
عبید میک کوائے
آئن مورگن (کپتان)
جیسن رائے
جوز بٹلر (وکٹ کیپر)
ڈیوڈ ملن
جونی بیئرسٹو
لیئم لیونگسٹون
معین علی
کرس ووکس
کرس جارڈن
عادل راشد
ٹائمل ملز
جنوبی افریقہ کے خلاف آسٹریلوی بولر جوش ہیذلوڈ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے ہیں۔
انھوں نے اپنے چار اوورز میں ڈیکاک اور ڈیوسن کی دو اہم وکٹیں حاصل کیں اور محض 19 رنز دیے۔
پریٹسورس کے آخری اوور میں سٹوئنس نے دو چوکے لگائے اور اپنی ٹیم کو جیت دلا دی ہے۔
انھوں نے 119 رنز کا ہدف 19.4 اوورز میں حاصل کر لیا ہے۔
سٹوئنس نے نورکیا کی گیند پر چوکا لگا کر رنز اور گیندوں کا فرق اب کم کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کو اب آخری اوور میں آٹھ رنز درکار ہیں۔
نورکیا کے اوور میں دوسری گیند پر سٹوئنس نے سیدھا کھیل دیا مگر گیند کی رفتار تیز تھی جس کی وجہ سے نورکیا یہ کیچ نہ پکڑ سکے۔
آسٹریلیا کو آٹھ گیندوں پر 13 رنز درکار ہیں۔ اب تک اوور کی چار گیندوں پر پانچ رنز بنے ہیں۔
آسٹریلیا نے 18 اوورز میں 101 رنز بنا لیے ہیں اور ان کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں۔
پریٹورس کے اوور میں ایک وائڈ اور چھ سنگلز سمیت سات رنز بنے۔ کریز پر سٹوئنس اور ویڈ موجود ہیں۔
18 اوورز میں جنوبی افریقہ نے 118 رنز بنائے تھے اور ان کے نو کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔