انڈیا میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ہی ملک کے 75 اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
دلی، جھارکھنڈ، پنجاب اور ناگا نینڈ جیسی ریاستوں نے بھی اس مہینے کے اواخر تک لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے پورے ملک میں سبھی مسافر ٹرینوں کی آمدورفت بند کر دی ہے۔
دلی میں لاک ڈاؤن کا نفاذ پیر کی صبج سے کیا گیا ہے۔ دارالحکومت میں میٹرو ریلوے سمیت سبھی پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں۔ صرف لازمی خدمات سے وابستہ دفاتر کھلے ہوئے ہیں۔
دواؤں اور روزمرہ کی اشیا کی دوکانوں کے علاوہ سبھی دوکانیں اور بازار بند ہیں۔
اس دوران کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 415 ہو گئی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 8 بتائی جاتی ہے۔
وبائی بیماریوں کے ماہرین انڈیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
مہاراشٹر، مغربی بنگال، ہریانہ، آندھرا پردیش اور اتر پردیش میں جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ممبئی میں مقامی ٹرینیں بند کر دی گئی ہیں۔
بہت سے شہروں میں لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ کورونا کے خوف سے لاکھوں نوکری پیشہ افراد ممبئی، پونے، بنگلور اور دلی جیسے شہروں سے اپنی آبائی ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں۔
لیکن ٹرینیں بند ہو جانے سے بڑی تعداد میں یہ ورکرز سفر نہیں کر سکیں گے۔ اندورنی ریاست بھی مائگرینٹ ورکرز میں اپنے آبائی گھر جانے کے لیے افراتفری مچی ہوئی ہے۔
اتوار کے روز پورے ملک میں صبح سات بجے سے چودہ گھنٹے کا ’عوامی کرفیو نافذ کیا گیا تھا جس کے دوران سبھی لوگ اپنے گھروں میں بند رہے۔ دلی سمیت بڑے بڑے شہروں میں سڑکیں ویران ہیں۔
پورے ملک میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے۔ لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن پر سنجیدگی سے عمل کریں۔
کل انھوں نے ایک ٹویٹ پیغام مین کہا تھا کہ ’عوامی کرفیو کامیاب رہا ہے لیکن یہ ایک لمبی لڑائی کا محض آغاز ہے۔‘
انڈیا کی پارلیمنٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے مالیاتی بل منظور کرنے کے بعد دونوں ایوانوں کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے کی توقع ہے۔
مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں کرونا کے مریضوں کی تشحیص اور دیکھ بھال کے لیے قرنطینہ کے نئے مرکز کھولنے میں مصروف ہیں ۔