آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. تائیوان میں قرنطینہ توڑنے پر 33 ہزار ڈالر جرمانہ

    تائیوان میں حکام نے قرنطینہ کی خلاف ورزی کرنے اور تفریح کے لیے کلب جانے والے ایک شخص کو 33 ہزار ڈالر کے مساوی جرمانہ کر دیا ہے۔

    یہ شخص بیرونِ ملک سے واپس آیا تھا اور اسے قانون کے مطابق دو ہفتے کے لیے تنہا رہنا تھا لیکن وہ اتوار کو دارالحکومت تائیپی میں تفریح کرتا پایا گیا۔

    حکام نے اس شخص پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ عائد کیا ہے۔

    خیال رہے کہ تائیوان کے چین سے قریب ہونے کے باوجود وہاں کورونا کے کم مریض سامنے آنے پر وہاں کی حکومت کی تعریف کی جا رہی ہے۔

    تائیوان میں اب تک صرف 195 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    تائیوان نے ملک میں غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے جبکہ شہریوں کو بیرونِ ملک سے آنے پر 14 دن کے لیے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔

  2. اٹلی کی جانب سے پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان

    اٹلی میں قومی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے دو ہفتے بعد حکومت نے شہریوں پر پابندیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اٹلی کے وزیرِ اعظم جزیپ کونٹے نے تمام غیر ضروری دوکانوں اور تجارتی مراکز کو بھی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ لوگوں کے میل جول میں کمی لائی جا سکے۔

    تقریباً 100 قسم کی کمپنیاں کھلی رہیں گی جن میں کھانے پینے کے مراکز، کیمیکلز، توانائی اور کاغذ بنانے والی فیکٹریاں، گاڑیوں کے پارٹس اور کفن بنانے والی فیکٹریاں شامل ہیں۔

    اٹلی میں لوگوں کو اپنا قصبہ چھوڑنے کی بھی ممانعت ہے اور انھیں ملک کے اندر سفر کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اٹلی کے شمال میں واقع علاقے لمبارڈی میں اب تک سب سے زیادہ اموات سامنے آئی ہیں اور یہاں گھروں سے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہے۔

  3. بریکنگ, فلسطین میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آ گئے, کورونا وائرس سے متاثرہ دونوں افراد گذشتہ ہفتے پاکستان سے واپس آئے تھے

    فلسطینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کے دو شہریوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو گذشتہ ہفتے پاکستان سے واپس لوٹے تھے۔

    ان میں ایک کی عمر 79 اور دوسرے کی عمر 63 تھی اور وہ مصر کے راستے غزہ پہنچے تھے او اب انھیں مصر کے ساتھ سرحدی علاقے رفاح میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جبکہ وہ افراد جو ان دونوں سے رابطے میں تھے انھیں آئیسولیشن میں رکھا جائے گا۔

    گذشتہ روز مغربی کنارے میں فلسطین کے وزیر اعظم نے عوام سے خطاب میں کہا کہ وہ اتوار سے اگلے دو ہفتے تک خود کو گھروں میں محصور کر لیں اور صرف صحت کے شعبے سے منسلک افراد، فارمیسی اور گروسری بیچنے والے افراد کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔

    اقوام متحدہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کووڈ 19 اگر غزہ میں پھیلا تو بہت تباہ کن حالات پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ 2007 سے اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے باعث فلسطین میں شدید غربت ہے اور ان کانظام صحت بھی ناقص ہے۔

  4. نیویارک شہر میں طبی ساز و سامان میں کمی متوقع، 15000 سے زائد کیسز کی تشخیص

    امریکہ کے شہر نیویارک کے مئیر نے کہا ہے کہ وہاں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے باعث شہر کے پاس میسر طبی سہولیات اور ساز و سامان کی کمی سے معاملات اور بگڑ سکتے ہیں۔

    بل ڈی بلاسیو نے این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ممکن ہے کہ اگلے دس روز میں ہمیں طبی ساز و سامان میں بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑے اور اگر ہمیں وینٹی لیٹرز نہیں ملک تو کئی لوگ مر سکتے ہیں۔‘

    امریکہ میں اب تک 31 ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیسز اور 390 اموات ہوئی ہیں نصف کے قریب کیسز (15168) نیویارک سٹیٹ امریکہ میں سامنے آئے ہیں۔

    نیو یارک کے مئیر نے کہا: ’امریکیوں کو کڑوا سچ بتانا ضروری ہے۔ یہ معاملہ بد سے بدتر ہوتا جا رہج ہے اور اپریل اور مئی میں حالات بہت برے ہوں گے۔‘

  5. جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں واضح کمی، لیکن ’طویل جنگ کا سامنا‘

    چار ہفتے قبل سب سے زیادہ تعداد میں کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آنے کے بعد جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ نئے متاثرین کی تعداد میں واضح کمی سامنے آئی ہے جس سے یہ امید روشن ہوئی ہے کہ چین کے بعد ایشیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ملک میں یہ اس وبا پر قابو پایا جا رہا ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹے میں جنوبی کوریا میں 64 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس تعداد کے بعد ملک میں مجموعی طور پر متاثرین کی کل تعداد 8961 ہو گئی ہے جبکہ 111 افراد کی موت ہو چکی ہے۔

    جنوبی کوریا کے حکام نے تنبیہ کی ہے کہ خطرہ ابھی بھی نہیں ٹلا ہے اور جنوبی کوریا کو ابھی بھی ایک طویل جنگ کا سامنا ہے۔

  6. کورونا: برطانیہ میں مکڈونلڈز، کاسٹا کافی اور نینڈوز بند

    برطانیہ میں کھانے پینے کے ریستوارنوں نے اپنے آپریشن محدود کرنے کا اعلان کیا ہے اور صرف ڈرائیو تھرو یا ڈیلیوری سروس بحال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان ریستورانوں میں مکڈونلڈز، نینڈوز اور کاسٹا کافی شامل ہیں۔ مکڈونلڈز نے برطانیہ اور آئرلینڈ میں سوموار تک تمام 1270 ریستوارن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ادھر نینڈوز نے بھی برطانیہ میں تقریباً 400 ریستوران غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مکڈونلڈز کا کہنا ہے کہ ایسا انھوں نے اپنے ہاں کام کرنے والے سٹاف اور صارفین کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    کاسٹا کافی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کافی شاپ ہسپتالوں میں بدستور چلتی رہے گی جہاں این ایچ ایس ورکرز اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

  7. اولمپکس گیمز 2020 کے انعقاد پر شکوک و شبہات بڑھنے لگے

    کینیڈا کی جانب سے کورونا کے عالمی پھیلاؤ کی وجہ سے اپنا دستہ بھیجنے سے انکار کے بعد جاپان میں ہونے والے 2020 اولمپکس اور پیرالمپکس گیمز کے انعقاد پر شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں۔

    جاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ کھیل ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔

    ادھر آسٹریلین ٹیم کا بھی کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ ان گیمز کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا اس وجہ انھوں نے اپنے ایتھلیٹس کو کہا ہے کہ وہ 2021 میں ہونے والی گیمز کی تیاری کریں۔

  8. بریکنگ, ہانگ کانگ میں غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی

    ہانگ کانگ میں حکام نے غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

    شہر کے رہنما کیری لام نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اس پابندی کا اطلاق بدھ سے اگلے 14 دن کے لیے ہو گا۔

  9. ایرانی صدر: ’امریکہ کی امداد کی پیشکش تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے‘

    ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ سے کہا کہ وہ جھوٹی پیشکش کرنے کی بجائے اپنی ’دہشت گرد‘ پابندیوں کو ہٹائے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف لڑا جا سکے۔

    وہ پیر کے روز کورونا وائرس کے حوالے سے ایک میٹنگ کی سربراہی کر رہے تھے جسے مقامی ٹی وی چینل نے براہ راست نشر کیا۔

    روحانی نے امریکہ کی امداد کو ’تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی ’مجرمانہ اور دہشتگرد‘ پابندیوں کے باعث ایران میں میڈیکل سپلائی رکاوٹ بن رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا ’اگر آپ نے مدد کرنی ہے تو ایرانی قوم کی ترقی کی راہ سے ہٹ جائیں۔‘

    ان کی امداد کی پیشکش ایسی ہے جیسے صاف پانی روک کر گدلے پانی کے گلاس کی پپیشکش کرنا۔‘

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ کی جانب سے امداد کی پیشکش کو گذشتہ روز ایک تقریر میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

  10. انڈیا کے 75 اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن، تمام مسافرٹرینیں بند, شکیل اختر، بی بی سی اردو

    انڈیا میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ہی ملک کے 75 اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔

    دلی، جھارکھنڈ، پنجاب اور ناگا نینڈ جیسی ریاستوں نے بھی اس مہینے کے اواخر تک لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے پورے ملک میں سبھی مسافر ٹرینوں کی آمدورفت بند کر دی ہے۔

    دلی میں لاک ڈاؤن کا نفاذ پیر کی صبج سے کیا گیا ہے۔ دارالحکومت میں میٹرو ریلوے سمیت سبھی پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں۔ صرف لازمی خدمات سے وابستہ دفاتر کھلے ہوئے ہیں۔

    دواؤں اور روزمرہ کی اشیا کی دوکانوں کے علاوہ سبھی دوکانیں اور بازار بند ہیں۔ اس دوران کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 415 ہو گئی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 8 بتائی جاتی ہے۔

    وبائی بیماریوں کے ماہرین انڈیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    مہاراشٹر، مغربی بنگال، ہریانہ، آندھرا پردیش اور اتر پردیش میں جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ممبئی میں مقامی ٹرینیں بند کر دی گئی ہیں۔

    بہت سے شہروں میں لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ کورونا کے خوف سے لاکھوں نوکری پیشہ افراد ممبئی، پونے، بنگلور اور دلی جیسے شہروں سے اپنی آبائی ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں۔

    لیکن ٹرینیں بند ہو جانے سے بڑی تعداد میں یہ ورکرز سفر نہیں کر سکیں گے۔ اندورنی ریاست بھی مائگرینٹ ورکرز میں اپنے آبائی گھر جانے کے لیے افراتفری مچی ہوئی ہے۔

    اتوار کے روز پورے ملک میں صبح سات بجے سے چودہ گھنٹے کا ’عوامی کرفیو نافذ کیا گیا تھا جس کے دوران سبھی لوگ اپنے گھروں میں بند رہے۔ دلی سمیت بڑے بڑے شہروں میں سڑکیں ویران ہیں۔

    پورے ملک میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے۔ لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن پر سنجیدگی سے عمل کریں۔

    کل انھوں نے ایک ٹویٹ پیغام مین کہا تھا کہ ’عوامی کرفیو کامیاب رہا ہے لیکن یہ ایک لمبی لڑائی کا محض آغاز ہے۔‘

    انڈیا کی پارلیمنٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے مالیاتی بل منظور کرنے کے بعد دونوں ایوانوں کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے کی توقع ہے۔

    مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں کرونا کے مریضوں کی تشحیص اور دیکھ بھال کے لیے قرنطینہ کے نئے مرکز کھولنے میں مصروف ہیں ۔

  11. دنیا کی سب سے مہنگی گھڑ دوڑ بھی ملتوی

    دبئی ورلڈ کپ جسے دنیا کی مہنگی ترین گھڑ دوڑ بھی کہا جاتا ہے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث ملتوی کر دی گئی ہے۔

    حکام کا اس دوڑ کو 28 مارچ کو میڈان ریس کورس میں بند دروازوں کے پیچھے منعقد کروانے کا ارادہ تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے فیصلہ کیا کہ اسے شرکا کے تحفظ کے غرض سے مؤخر کر دیا جائے۔

    یہ اس دوڑ کا 25واں ایڈیشن تھا جس کی کل انعامی رقم ساڑھے تین کروڑ ڈالر تھی۔ سنہ 2019 میں تھنڈر سنو نامی گھوڑا دو مرتبہ دبئی ورلڈ کپ جیتنے والا پہلا گھوڑا بن گیا تھا۔

  12. چینی بالآخر سکھ کا سانس لینے لگے!

    سوموار کے روز چین کے صوبہ ہوبائی، جس کے شہر ووہان سے یہ وائرس شروع ہوا تھا، وہاں ایک اور شہر میں کرفیو کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے۔

  13. ہاروی وائن سٹائن میں کووڈ 19 کی تشخیص

    جنسی زیادتی اور ریپ کے جرم میں جیل کی سزا کاٹنے والے ہالی ووڈ کے سابق فلم پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن میں بھی کووڈ19 کی تشخیص ہوئی ہے۔

    وائن سٹائن نیویارک میں وینڈی اصلاحی ادارے میں موجود ہیں۔ اس سے قبل وہ نیویارک شہر کی ہی ایک اور جیل میں موجود تھے جبکہ انھیں دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث چند دن قبل ایک ہسپتال میں بھی لے جایا گیا تھا۔

  14. سعودی عرب میں 21 روزہ کرفیو کی تیاری

    سعودی عرب کے شاہ سلمان نے پیر کی شام سے ملک بھر میں 21 روزہ کرفیو کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کیسز میں ایک چوتھائی کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کرفیو کا اطلاق رات سات بجے سے صبح کے درمیان ہو گا۔

    ملک میں اب تک 511 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہو چکی ہے جو اب تک خلیج ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ اتوار کے روز سعودی عرب میں 119 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

    اب تک خطے میں سعودی عرب اور کویت کی جانب سے سب سے کڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    اس قبل سعودی عرب کے شاہ سلمان نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں ابھی مزید مشکلات باقی ہیں کیونکہ ملک کو تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے باعث بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

  15. کورونا: جنوبی ایشیا کی صورتِ حال

    یہ اس خطے کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار ہیں جہاں حال ہی میں کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہاں وبا پھیل تو اس کی روک تھام انتہائی مشکل ہو جائے گی۔

    • پاکستان میں مجموعی طور پر کسیز کی تعداد 799 ہو چکی ہے جس کے بعد یہاں جنوبی ایشیا میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ کیسز ہو گئے ہیں۔ حکومت نے بین الاقوامی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے اور صوبہ سندھ جہاں اب تک سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’اپنے آپ کو خود قرنطینہ میں رکھیں کیونکہ اگر میں نے لاک ڈاؤن کیا تو اس سے مسائل میں اضافہ ہو گا۔‘
    • انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں مارچ کے اواخر تک لاک ڈاؤن رہے گا۔
    • سری لنکا میں دو قیدی اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ سری لنکا کی جانب سے ملاقات کرنے پر پابندی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ سری لنکا میں اب تک 82 کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے جس کے باعث کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
    • بنگلہ دیش میں 25 افراد کے کووڈ کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد حکام نے تمام بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور تمام سکول اور کالج بند کر دیے ہیں۔
  16. کورونا: ’چین میں سب زیادہ کیسز برطانیہ سے آئے‘

    چین کے سرکاری میڈیا نے اعداد وشمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق چین میں اب تک جن بیرونِ ملک سے آنے والے 353 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے ان میں سب بڑی تعداد برطانوی باشندوں کی ہے۔

  17. کیا آپ کو ماسک پہننا چاہیے یا نہیں؟, ٹیسا وانگ بی بی سی نیوز، سنگاپور

    یہ دیکھنے میں تو بہت معمولی سا سوال لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اتنا ہی مشکل ہے۔

    برطانیہ، امریکہ اور سنگاپور میں بھی لوگوں کو ماسک اس وقت تک نہ پہننے کا کہا جا رہا ہے جب تک وہ بیمار نہ ہوں۔

    یہ اس عالمی ادارہ صحت کے ہدایت نامے کے عین مطابق ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں آپ کو سڑکوں پر بہت کم لوگ ماسک پہنے دکھائی دیں گے۔ تاہم چین، ہانگ کانگ، تائیوان، جنوبی کوریا اور جاپان میں ماسک پہننا اب ایک ضرورت بن چکا ہے اور تقریباً ہر کوئی ماسک پہن کر باہر نکلتا ہے۔

    چین کے کچھ علاقوں میں تو ماسک نہ پہننے والوں کو سزا بھی دی گئی ہے۔ جو افراد ماسک پہنننے کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے ضروری ہے کیوںکہ جو لوگ ویسے تو صحت مند لگتے ہیں، وہ شاید وائرس سے متاثرہ ہوں۔

    تاہم کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اس کے باعث ماسکس کی کمی بھی ہو سکتی ہے اور اس سے ان لوگوں کو ماسک میسر نہیں آ سکتے جنھیں ان کی اشد ضرورت ہے جیسے کہ بیمار افراد اور صحت کے عملہ۔

    اب یہ ایک متنازع موضوع بن گیا ہے اور ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جن ممالک میں ماسک پہننے کی پابندی نہیں ہے وہاں ماسک پہننے والوں پر جملے کسے گئے، یہاں تک کہ حملے بھی کیے گئے۔

    ادھر چین اور جنوبی کوریا میں ماسک نہ پہننے والوں کو برا سمجھا جاتا ہے اور عمارتوں یا دوکانوں میں گھسنے سے منع کر دیا جاتا ہے۔

    کچھ ماہرین اس حوالے سے بھی بحث کر رہے ہیں کہ کیا عالمی ادارہ صحت کو اپنا ہدایت نامہ تبدیل کر لینا چاہیے یا نہیں۔

  18. مراکش میں لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے فوج سڑکوں پر

    اتوار کے روز مراکش کی حکومت نے لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے فوج کو سڑکوں پر بھیجا تاکہ لوگ اس حکم پر عمل درآمد کریں۔

  19. اٹلی کورونا وائرس سے اتنی بری طرح متاثر کیوں ہوا ہے؟

    آپ یقیناً اب تک یہ جان چکے ہوں گے کہ اٹلی اب تک وائرس سے بدترین متاثر ہوا ہے۔

    اب یہ اس وبا کی گڑھ بن چکا ہے اور ملک کے صدر نے تمام ممالک کو کہا ہے کہ وہ اس کے پھیلاؤ کو سست کرنے کی کوششوں میں ناکامی سے سبق سیکھیں۔

    اب تک اس ملک میں ہونے والی اموات نے چین کے اعداد و شمار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جہاں سے یہ وائرس گذشتہ برس شروع ہوا تھا۔ اتوار کے روز اٹلی میں 651 اموات رپورٹ کی گئیں اور یہاں اب تک کل اموات کی تعداد 5476 ہو گئی ہے جو دنیا میں اب تک کی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

    تو اٹلی اتنی بری طرح سے متاثر کیوں ہوا ہے؟ اس حوالے سے متعدد وجوہات ہیں جن پر زیادہ بات نہیں ہوئی ہے۔

    تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ افراد لمبارڈی جیسے علاقوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اٹلی کی دنیا بھر میں جاپان کے بعد سب سے ضعیف العمر آبادی ہے۔ یہاں 23 فیصد لوگ 65 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کیوں کہ یہ وائرس عمر رسیدہ افراد کے لیے خاص طور پر مہلک ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اٹلی میں زیادہ تر اموات ایسے عمر رسیدہ افراد کی ہوئی ہیں جنھیں پہلے سے کم از کم ایک بیماری لاحق تھی۔

    ماہرین کا ماننا ہے کہ ان عمر رسیدہ افراد کے ساتھ 18 سے 34 برس کی عمر کے افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھا۔

    اس حوالے ایک اور بات جو اہم ہے وہ یہ کہ اٹلی میں وائرس ایک طویل عرصے تک پھیلتا رہا۔

    کچھ صحت کے حکام کا ماننا ہے کہ یہ وائرس اٹلی میں یہاں فروری کے اواخر میں پہلے کیس کی تصدیق سے بہت پہلے آ چکا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ شمالی اٹلی میں کئی ہفتوں تک بغیر نشاندہی کے کئی ہفتوں تک پھیلتا رہا۔

  20. بریکنگ, کینیڈا کا اولمپکس 2020 سے دستبرداری کا اعلان

    کینیڈا نے اولمپکس 2020 سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے کھلاڑی ٹوکیو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی اولمپک کمیٹی نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی(آئی او سی) سے ٹوکیو مقابلوں کو ایک سال کے لیے ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اپنے کھلاڑیوں کو نہیں بھیجے گا۔

    انھوں نے مزید کہا ’دنیا صحت سے متعلق عالمی سطح پر بحران کی صورتحال سے دوچار ہے جو کھیل سے کہیں زیادہ اہم ہے۔‘