سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی تعداد میں لوگ سونگھنے کی صلاحیت اور زبان سے ذائقہ ختم ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔
ان میں سے کچھ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ بعض صرف اس لیے پوسٹ شیئر کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو متنبہ کیا جاسکے کہ یہ کووڈ 19 کی بیماری کی نئی علامات ہوسکتی ہیں۔‘
برطانیہ میں ناک کان اور گلے کے امراض کے ماہرین کو اس عالمی وبا کے دوران ایسنوسمیا، یعنی سونگھنے کی صلاحیت اور زبان سے ذائقہ ختم ہونا، کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایسا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں کیونکہ نزلہ زکام میں بھی وائرس کی وجہ سے ہم سونگھنے کی صلاحیت اور زبان سے ذائقہ کھو دیتے ہیں۔
لیکن کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اسے علامات کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ خود ساختہ تنہائی میں جانے پر مجبور ہو سکیں، خاص طور پر جب دوسری علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
ڈاکٹرز کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ اس اقدام سے ایسے لوگ جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور اس وجہ سے وہ ساختہ تنہائی میں نہیں جاتے ان کی تعداد میں کمی آسکتی ہے۔
امریکہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کو علامات کی مدد سے مریضوں میں وائرس کی سکریننگ کرنی چاہیے۔
ناک، کان اور گلے کے سرجنز میں انفیکشن دوسرے طبی عملے کے مقابلے زیادہ پھیل رہا ہے۔ اس سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے۔
جرمنی میں دوتہائی لوگ جنھیں کورونا وائرس ہوا ان میں ایسنوسمیا کی علامت پائی گئی۔
جنوبی کوریا میں 30 فیصد مریضوں نے یہ کہا کہ ان میں مرکزی علامت سونگھنے کی صلاحیت ختم ہونا تھی جبکہ باقی علامات زیادہ ظاہر نہیں ہوئیں۔
تاہم موجودہ شواہد انفرادی مشاہدے پر مبنی ہیں اور کسی تحقیق کے ذریعے انھیں ثابت نہیں کیا جاسکا۔
کورونا وائرس کی بڑی علامات میں بخار اور مسلسل کھانسی شامل ہیں۔