ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا کھانے یا پیکج کے ذریعے سے کورونا وائرس لگنے کا خطرہ ہے یا نہیں؟
تاہم، کھانے کے ذریعے سے کووِڈ 19 پھیلنے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔
لیکن لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کی پروفیسر سیلی بلومزفیلڈ کہتی ہیں کہ بلاشبہ ’صفر رسک‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہے لیکن کسی چیز کے پیکٹ سے وائرس کی منتقلی کا ممکنہ خدشہ موجود ہوتا ہے کیونکہ لوگ پیکٹ کو ہاتھ لگائیں گے اور ہاتھ سے وائرس پیکٹ پر منتقل ہو سکتا ہے۔
ریستوران سے پیک کروائے گئے کھانے کے پیکٹ سے وائرس کی منتقلی کا خدشہ کم کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر سیلی تاکید کرتی ہیں کہ کھانا نکال کر پیکٹ کو کچرے میں پھینک دیں اور کھانا کھانے سے پہلے 20 سیکنڈ تک صابن اور پانی سے اچھی طرح سے ہاتھ دھوئیں۔
گھر پہنچایا جانے والا سودا سلف کتنا محفوظ ہے؟
گھر سودا سلف منگوانا بازار جا کر سودا سلف خریدنے سے کہیں کم پُرخطر ہے کیونکہ منتقلی کا خدشہ کسی سطح پر ہاتھ لگانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب کوئی متاثرہ شخص کسی سطح کو چھوتا ہے تو وہ سطح پر وائرس منتقل کر سکتا ہے۔
کم قوتِ مدافعت والے افراد کے لیے خریداری کرنے اور کھانا ان تک پہنچانے کا مطلب ہے کہ وہ پُرخطر ماحول سے بچ سکتے ہیں۔
پروفیسر سیلی کے مطابق ’ہمیں پتا ہے کہ کورونا وائرس کی جسم سے باہر افزائش نہیں ہو سکتی تو جب تک کھانا آپ تک پہنچتا ہے تو وائرس کی آپ کو متاثر کرنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے کیونکہ جیسے ہی وائرس متاثرہ شخص کے جسم کو چھوڑتا ہے، اس کی طاقت کم ہونے لگتی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کو گھر میں صفائی کے لیے استعمال کرنے والی بلیچ کو پانی میں ملا کر پلاسٹک اور شیشے کے برتن دھونے چاہییں۔
’ایسی تازہ چیزیں جو پیکٹ میں نہ ہوں اور ان پر کسی کے بھی ہاتھ لگ سکتے ہوں، انھیں پانی سے دھوئیں اور خشک ہونے کے لیے رکھ دیں۔‘
ان کے مطابق فی الحال اگر ہو سکے ہو کچی اشیا کی بجائے تازہ پکی ہوئی غذا کھائیں تاکہ موجودہ وائرس کا خاتمہ ہو جائے۔