میونسپلٹی کی ملازم خواتین گھر پر رہیں، صرف کچھ خواتین کام پر آ سکتی ہیں، طالبان

اقوامِ متحدہ کے اداروں نے افغانستان میں طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ بلاتاخیر لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھول دیں۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے افغانستان میں شمولیتی حکومت کے سلسلے میں طالبان سے بات چیت شروع کر دی ہے اور ایسی حکومت صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ خطے کے مفاد میں ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان: افغان خواتین کو باہر سے بیٹھ کر حقوق نہیں دیے جا سکتے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہCNN/Becky Anderson

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز امریکی چینل سی این این کو ایک انٹرویو دیا ہے جس میں افغانستان کی صورتحال موضوع بحث تھی۔ اس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔

    ’ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر دوسرے راستے پر گیا تو ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور ہمیں اس حوالے سے بہت فکر ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ امریکہ یہاں دہشتگردوں سے لڑنے کے لیے آیا تھا، اور غیر مستحکم افغانستان، پناہ گزینوں کا بحران، اور دوبارہ یہاں سے دہشتگردی کا خدشہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں صورتحال ’باعثِ تشویش‘ ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ افغانستان کہاں جائے گا۔ ’طالبان نے جو مثبت وعدے کیے ہیں ان سے لگتا ہے کہ وہ بین الاقوامی طور پر خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔ افغانستان کو کبھی بھی باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اُنھیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اُنھیں فوائد کی پیشکش کرنی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت یہ واضح طور پر سمجھتی ہے کہ بین الاقوامی طور پر مدد کے بغیر وہ عوام کی مدد نہیں کر سکتے اور اس بحران سے نہیں نمٹ سکتے اس لیے ہمیں انھیں فوائد فراہم کرنے چاہییں۔

    عمران خان نے خواتین کے حقوق کے بارے میں کہا کہ افغان خواتین مضبوط ہیں، اُنھیں وقت دینا چاہیے، اُنھیں حقوق مل جائیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ خواتین کو ہر شعبے میں شریک ہونا چاہیے مگر جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خواتین کو حقوق نہ دینے پر طالبان کی حمایت نہیں کریں گے، تو اُنھوں نے کہا کہ نہیں وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ خواتین کو حقوق باہر سے بیٹھ کر نہیں دیے جا سکتے۔

    عمران خان نے افغانستان سے امریکی انخلا کے بارے میں سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے امریکہ کے صدر سے افغانستان سے انخلا کے بعد سے اب تک بات نہیں کی ہے۔ جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ بائیڈن کا کال نہ کرنا کیا پاکستان کو طالبان کی حمایت کرنے پر سزا دینا ہے، تو اُنھوں نے کہا کہ یہ اُن سے پوچھا جانا چاہیے۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے پر بے پناہ مشکلات اٹھائیں۔ ’ایک موقع پر 50 عسکریت پسند ہمارے خلاف حملے کر رہے تھے۔‘

  2. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    صبح بخیر اور بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    افغانستان پر طالبان کے قبضے اور پھر عبوری حکومت کے اعلان کے بعد بھی ہماری کوریج جاری ہے اور یہاں آپ کو اسی حوالے سے تازہ اطلاعات، معلومات، خبریں اور تجزیے ملیں گے۔

    گذشتہ روز کی اہم خبریں مندرجہ ذیل ہیں:

    • امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ سابق صدر اشرف غنی کے ملک سے اچانک نکل جانے کے باعث طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹا جس کے تحت طالبان کے کابل میں داخلے کو روکنا اور سیاسی حکومت کی منتقلی پر مذاکرات ہونا تھے۔
    • فرانس کے صدر امانویل میکخواں اور ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان فرانس میں ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک نے ’انتہاپسندی اور دہشتگردی‘ کے خلاف لڑنے اور ’سکیورٹی اور دفاع‘ کے شعبے میں اپنا تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    • بلوچستان کے حکام نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی طریقے سے آنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور کہا ہے کہ غیر ملکی باشندوں کو پناہ دینے والے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
    • افغانستان کے مرکزی بینک میں طالبان کے تعینات کردہ قائم مقام سربراہ حاجی محمد ادریس کا کہنا ہے کہ ملک کے بینک محفوظ ہیں اور ان میں ’ماضی سے بہتر‘ آپریشنز چلائے جا رہے ہیں۔
    • ایران کے سرکاری چینل العالم کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان مسافر پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔
    • یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لین نے افغانستان کے لیے اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔
    • افغانستان کی خواتین کھلاڑیوں کی فٹبال ٹیم طورخم سرحد کے راستے پاکستان پہنچی ہے اور اس وقت لاہور میں موجود ہے۔ یہاں ان کے رہنے کا بندوبست کیا گیا ہے اور امکان ہے کہ انھیں امریکہ روانہ کیا جائے گا۔