میونسپلٹی کی ملازم خواتین گھر پر رہیں، صرف کچھ خواتین کام پر آ سکتی ہیں، طالبان

اقوامِ متحدہ کے اداروں نے افغانستان میں طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ بلاتاخیر لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھول دیں۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے افغانستان میں شمولیتی حکومت کے سلسلے میں طالبان سے بات چیت شروع کر دی ہے اور ایسی حکومت صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ خطے کے مفاد میں ہے۔

لائیو کوریج

  1. ہالینڈ کی وزیر خارجہ سگریڈ کاگ افغانستان سے انخلا کی صورتحال پر مستعفی

    Dutch FM

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ہالینڈ کی وزیر خارجہ سگریڈ کاگ نے افغانستان سے انخلا کے بحران کی صورتحال پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

    وہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے مغربی ممالک کی پہلی حکومتی عہدیدار ہیں جنھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

    پالینڈ کے ارکان پارلیمان نے ان کے خلاف ایک تحرک منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد انخلا کے عمل میں بہت سست روی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث بہت سے ایسے افغان کو وہیں چھوڑ دیا گیا جنھیں وہاں سے نکلنے چاہیے تھا۔

    مس کاگ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے فیصلوں ہر قائم ہیں لیکن وہ ارکان پارلیمان کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اس تسلیم کرتی ہیں۔

    انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کے حکومت نے سست ردعمل کا مظاہرہ کیا اور طالبان کی اقتدار میں آنے کی خطرات پر تذبذب کا شکار ہوئی۔

    واضح رہے کہ ہالینڈ اگست کے آخری دو ہفتوں کے دوران افغانستان سے دو ہزار سے زائد افراد کا انخلا کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

    مگر درجنوں ایسے افراد جنھوں نے ہالینڈ کے فوجیوں کے ساتھ بطور مترجم کام کیا تھا وہیں رہ گئے تھے۔

    وزیر خارجہ کاگ نے تسلیم کیا کہ حکومت نے ’غلط اندازوں پر‘ عمل کیا لیکن ان کا اصرار تھا کہ ’طالبان کے ایک دم اقتدار میں آنا سے سب حیران تھے حتی کہ خود طالبان بھی۔‘

    اس کے باوجود ارکان پارلیمان کے ان کے خلاف ووٹس کے باعث ان کے پاس اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

    وہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے استعفی دینے والی کسی بھی ملک کی پہلی وزیر خارجہ ہیں۔

  2. اب امریکہ پاکستان سے کیا توقع رکھتا ہے؟, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں جنگ کے دوران امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تقریبا بیس سال میدان جنگ میں رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ یومیہ تین سو ملین ڈالرز افغانستان میں خرچ کرتا رہا۔

    اس جنگ کی پہلی دہائی امریکی سیاسی اور فوجی ایوانوں میں اس بحث میں گزری کہ اس جنگ کا مقصد کیا ہے اور اس جنگ میں امریکہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس جنگ کے دوران تقریبا سبھی، سیاسی اور سیکیورٹی، اجلاسوں میں پاکستان زیر بحث رہا ہے۔ کبھی ایک اتحادی کے طور پر اور کبھی امریکہ اور افغان حکومت کے ان الزامات کا مرکز کہ یہ طالبان کو پناہ دیئے ہوئے ہے یا القاعدہ کے رہنما اور اراکین پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں۔

    پاکستان ان الزامات کو تو رد کرتا رہا ہے کہ وہ طالبان کی تنظیم نو میں مدد کر رہا ہے یا اس کی لیڈرشپ پاکستان کی پناہ میں ہے تاہم دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا اتحادی بننے کے بعد خود پاکستانی ریاست کو بھی القاعدہ سمیت کئی دہشتگرد تنظیموں نے ایک دشمن کے طور پر دیکھا اور اس کے بعد کیا ہوا، یہ ہم سب جانتے ہیں۔

    مگر یہ اہم ہے کہ اتحادی کی حیثیت اور ملک میں شروع ہونے والی دہشتگردی کی لہر وہ اہم ترین نکات تھے جن کی بنیاد پر امریکہ کے متعدد کانگریس ممبران، سینیٹرز، پینٹاگون اور امریکی انٹیلیجنس کے سینیئر حکام، حتی کہ مختلف ادوار کے صدور نے بھی کئی ایسے مواقع پر پاکستان کی حمایت بھی کی جب ملک کے لیے ایک سخت حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی گئی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان پر ’ڈو مور‘ کی تلوار ہمیشہ ہی لٹکی رہی ہے۔

    اب ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ امریکہ پاکستان سے متعلق پالیسی پر بات کر رہا ہے۔

    بین الاقوامی امور کی ماہر سمبل خان کا کہنا تھا کہ اس وقت خود امریکی سیکیورٹی حکام اور حکمران بھی یہ طے کررہے ہیں کہ افغانستان میں کیا غلط ہوا، کہ اربوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد بھی اتنی تیزی سے حکومت کیسے گر گئی، تو امریکی سیکرٹری خارجہ اس قسم کے سوالات کا سامنا کر رہے تھے کمیٹی کے سامنے۔ اس طرح کی صورتحال میں الزام تراشی بھی ہوتی ہے اور کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بھی بنایا جاتا ہے تو پاکستان کے ساتھ تو بیس سال سے یہی ہو رہا ہے۔ 2005 کے بعد سے پاکستان پر ہی الزام لگ رہا ہے جب بھی طالبان کے جنگ جاری رکھنے کے بات ہوئی۔‘

    طالبان

    وہ امریکی سیکرٹری خارجہ کے بیان کو کسی حد تک متوازن بھی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’میرے خیال میں ان کا جواب بیلنس بھی تھا کہ انھوں نے کہا کہ وہ تین معاملات پر پاکستان کے ساتھ انگیجڈ رہیں گے۔ جن میں دہشتگردی کی معاونت یا سہولت کاری، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ایک جامع حکومت کی تشکیل شامل ہے۔ اور پاکستان کے بھی تو یہی مطالبات ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ کچھ عرصے میں نہ صرف طالبان بلکہ افغانستان میں دیگر گروپس کے ساتھ بھی روابط قائم کیے جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت ہو۔ انھوں نے کہا افغانستان میں طالبان کی جانب سے تمام فریقین پر مشتمل ایک جامع افغان حکومت کا نہ بننا خود پاکستان کے لیے بھی ایک دھچکا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بہت مثبت بیان تو نہیں ہے مگر اس کو ایک وارننگ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور افغان صورتحال پر بات چیت مستقل ہو رہی ہے۔

    ’سیکرٹری بلنکن کے الفاظ تو پاکستان ہی کا موقف ہیں اور اس بیان میں دونوں ملکوں کے مل کر کام کرنے کا راستہ ہی ہے۔ میرا خیال نہیں کہ جو امریکی سیکرٹری خارجہ نے کہا اور جو پاکستان چاہتا ہے اس میں کوئی بڑا فرق ہے۔ پاکستان کے لیے بھی افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی وہی شرائط ہیں جو امریکہ کی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں جو ایک چیز ہم دیکھیں گے وہ پاکستان کا کردار ہے جو اس نے گذشتہ 20 سال میں ادا کیا لیکن ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں اس کا کیا کردار ہوگا اور ایسا کرنے کے لیے اسے کیا ضرورت ہوگی۔

    انٹونی بلنکن نے پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جب تک افغان طالبان بین الاقوامی مطالبات پورے نہیں کرتے انہیں قانونی حیثیت دینے سے انکار کریں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں جو دیکھنا ہے وہ یہ کہ بین الاقوامی برادری کے پاس وہ چیز ہے جو طالبان کی زیر قیادت حکومت کو درکار ہے اگر اسے کسی بھی قسم کا قانونی جواز یا مدد حاصل کرنی ہو۔

    امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں وزٹنگ سکالر اور بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر ثروت رؤف کہتی ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ایسی توقع کیے جانا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

    وہ اس کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’پاکستان سے اس وقت یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی سطح پر یہ باور کرایا جائے کہ افغانستان اس معاہدے کی پاسداری کرے گا جو امریکہ ساتھ کیا گیا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک کو جو گارنٹی دی گئی ہے‘۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’ہم ایک گلومبلایزڈ دنیا میں رہتے ہیں اور کوئی ایک ریاست دوسری ریاست سے جدا نہیں ہے۔ ایک ریاست میں ہونے والا واقعہ پوری دنیا پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ میرے خیال میں امریکہ کا یہ مطالبہ غلط نہیں ہے۔ یہ توقع رکھنا بھی غلط نہیں جب آپ نے اتنا پیسہ لگایا ہو اور آپ یہ سمجھ گیے ہوں کہ جنگ راستہ نہیں ہے۔‘

    اس سوال پر کہ اسی اجلاس میں امریکی سیکرٹری خارجہ نے دہرایا ہے کہ پاکستان نے دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دی، حمایت کی اور افغانستان کے مستقبل پر شرائط لگاتا ہے، کیا یہ بیان افغانستان سے انخلا سے متعلق سخت سوالوں کی وجہ سے دیا گیا۔

    ڈاکٹر ثروت نے کہا کہ جہاں تک طالبان کو پناہ دینے کا الزام ہے میرے خیال میں امریکہ کی یہ پرانی روش رہی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی ایسا کسی دباؤ میں کیا جاتا ہے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’طالبان کی پچھلی حکومت میں کئی ناخوشگوار واقعات ہوئے۔ اس وقت پوری دنیا کی نظر افغانستان پر ہے کہ طالبان کیا نئی سوچ لاتے ہیں، وہ اپنے انداز حکومت میں کچھ تبدیلی اور لچک دکھائیں گے اور کیا ملک کے اندر اور باہر ان کا انٹریکشن متوازن ہوگا۔ اور میرے خیال میں توازن رکھنے کی یہ توقع کچھ غلط نہیں ہے، اور شاید خود طالبان بھی یہی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا یہ تاثر دنیا کے سامنے جائے کہ وہ مثبت انداز میں آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔‘

  3. پاکستان پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے: پاکستان کا بلنکن کو جواب, فرحت جاوید ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے‘

    پاکستان کے دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کوئی دباؤ نہیں لیتے ہیں۔ اور ہم اپنے مفادات کے مطابق آزادانہ فیصلے کریں گے۔‘

    امریکی قانون سازوں اور سیکرٹری آف سٹیٹ اینٹونی بلنکن کی جانب سے کانگریس کے حالیہ اجلاس میں افغانستان سے متعلق تبصروں کے حوالے سے سوالات کے جواب میں دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ تبصرے پاکستان اور امریکہ کے قریبی تعاون سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ حیران کن تھا کیونکہ افغان امن عمل میں پاکستان کا مثبت کردار، افغانستان سے کثیر القومی انخلاء کی کوششوں کے لیے دی جانے والی سہولت اور افغانستان میں ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے مسلسل حمایت کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا۔‘

    بیان کے مطابق ایسا ہی امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان 15 ستمبر کی اپنی بریفنگ میں بھی کہا گیا۔

    بیان میں یاد دہانی کروائی گئی کہ ’پاکستان نے افغانستان میں القاعدہ کی مرکزی قیادت کو تباہ کرنے کے لیے امریکہ کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا جو کہ بین الاقوامی اتحاد کا بنیادی مقصد تھا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ یہ کہا تھا کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور یہ کہ ایک سیاسی تصفیہ افغانستان میں پائیدار امن کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔‘

    blinkan

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دنیا بشمول پاکستان اس وقت تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرے جب تک وہ طے کردہ معیار پر پورا نہیں اترتے: بلنکن

    یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی سیکرٹری خارجہ اینٹنی بلنکن نے افغانستان میں طالبان کی فتح پر کانگریس کی جرح میں کہا ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ جائزہ اس بنیاد پر ہو گا کہ واشنگٹن، افغانستان میں پاکستان کا کیا کردار چاہتا ہے۔

    انھوں نے ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ کو بتایا کہ پاکستان کے کثیرالجہتی مفادات ہیں جن میں سے بعض ہمارے ساتھ متصادم ہیں۔

    انھوں نے پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ ہے جو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مسلسل شرط لگانے میں شامل ہے، یہ وہ ہے جو طالبان کے ارکان کو پناہ دیتا ہے،‘

    لیکن اس کے ساتھ انھوں نے پاکستان کے اتحادی ہونے سے متعلق یہ یہ بھی کہا کہ ’یہ وہ ہے جو انسداد دہشت گردی پر ہمارے ساتھ تعاون کے مختلف نکات میں شامل ہے۔‘

    انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’دنیا کا کوئی بھی ملک بشمول پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کرے جب تک وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے جو ان کے ساتھ طے کیا گیا ہے جس میں اہم ترین افغان سرزمین دیگر ممالک خصوصا امریکہ کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا، بنیادی انسانی حقوق خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق،کا تحفظ اور افغانستان میں ایک ایسی جامع حکومت کا قیام ہے جس میں تمام حلقوں کی نمائندگی جیسے نکات شامل ہیں۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ عالمی برادری طالبان کے ساتھ مل کر کام کرے، اگرچہ دفتر خارجہ نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا اور اس بارے میں حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  4. یہ خیال کہ افغان مسئلے کا حل اقوام متحدہ نکالے گا محض خواب ہے: سیکریٹری جنرل

    انتونیو گوتریس

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ عالمی اتحاد اپنے تمام تر وسائل اور طاقت کے باوجود 20 برس تک افغان مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب اقوام متحدہ سے ایسے کسی حل کی امید لگانا محض خواب ہی ہے۔

    انتونیو گوتریس نے بدھ کے روز برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت کے لیے ثالثی کے امکانات بھی بہت محدود ہیں۔

    اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس اگلے ہفتے امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہوگا اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس سال کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں افغانستان کا بحران ایک اہم موضوع ہوگا۔

    رواں ہفتے کے آغاز میں جنیوا میں افغانستان پر ایک ہنگامی سمٹ کے دوران کئی ممالک نے افغانستان کے لیے ایک بلین ڈالر کی انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ امداد عالمی اداروں کے ذریعے تقسیم کی جائے گی۔

    اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ یہ عالمی امداد براہ راست طالبان کو نہیں دی جائے گی۔

    افغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مطابق میرے خیال میں اقوام متحدہ کے افغانستان میں موجودگی اور فعالیت کو دیکھ کر عالمی ادارے کے اثرورسوخ سے متعلق غیر حقیقی امیدیں وابستہ کر دی گئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سوچیں، امریکہ جیسا ملک تمام تر ذرائع کے ساتھ افغانستان کے مسئلے کے حل میں ناکام رہا ہے تو اب ایسے میں ہمارے لیے یہ ایک خواب ہی ہو گا کہ ہم افغان مسئلے کا حل تلاش کر سکیں جو کہ ہم نے تمام تر وسائل اور افواج کے باوجود کئی دہائیوں تک ایسا نہ کر سکے۔

    تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جو کچھ ممکن ہے اقوام متحدہ اس وقت افغانستان میں وہ سب کچھ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان اس وقت ایک انسانی بحران کے دھانے پر کھڑا ہے۔

    خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے افغانستان میں بسنے والے 36 ملین لوگوں کی مدد کو یقینی بنانے کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ وہ طالبان کو ایک جامع حکومت کی تشکیل پر رضامند کر سکے۔

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے پاس ثالثی سے متعلق بہت محدود صلاحیت موجود ہے۔

  5. اشرف غنی کے اچانک چلے جانے سے کابل طالبان کے ہاتھوں میں گیا: زلمے خلیل زاد

    زلمے خلیل زاد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے افغانستان کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی کے اچانک چلے جانے سے کابل بغیر باقاعدہ کسی سیاسی منتقلی کے طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی کے اس اچانک فیصلے سے طالبان کے ساتھ اتحاد ٹوٹ گیا جس کا مقصد اس گروپ کو سیاسی منتقلی سے قبل اقتدار سے دور رکھنا تھا تاکہ وہ کابل سے باہر رہیں۔

    افغانستان کے طالبان کے ہاتھوں میں چلے جانے کے بعد بین الاقوامی میڈیا کو دیے گئے پہلے انٹرویو میں امریکی ایلچی خلیل زاد کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور افغان قیادت کے ساتھ بات چیت بھی ختم ہوگئی ہے۔ افغان حکومت کے خاتمے اور افغانستان کے غیر یقینی مستقبل کی وجہ طالبان ہیں۔

    زلمے خلیل زاد کے کے ذریعے امریکہ کا طالبان کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچا تھا۔

    امریکی خصوصی ایلچی نے افغان حکومت کے آخری چند گھنٹوں کابل میں طالبان کے داخلے اور امریکہ کی پوزیشن پر بات کی۔

    زلمے خلیل زاد کے مطابق ، اس منصوبے میں اشرف غنی سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں اگلی حکومت کے بارے میں فیصلہ ہونے تک کابل میں رہیں۔

    خلیل زاد نے امریکی فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ محمد اشرف غنی کی 7 اگست کو کابل سے روانگی نے ایک سکیورٹی خلا پیدا کیا جس نے افغان طالبان کو کابل میں داخل ہونے کی ترغیب دی۔ انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں میں ابہام پیدا ہوا۔

    زلمے خلیک زاد کا کہنا تھپا کہ دوحہ مذاکرات عملی طور پر ختم ہوچکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں طالبان سے اتفاق کیا تھا کہ ہم کابل میں داخل نہیں ہوں گے اور ہمیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اشرف غنی کابل چھوڑنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔‘

    انٹرویو کے ایک اور حصے میں ، خلیل زاد نے ان افواہوں کی تردید کی کہ انھوں نے طالبان کے ساتھ صدارتی محل میں داخل ہونے پر اتفاق کیا تھا یا اسی کی اجازت دی تھی۔

  6. دنیا کے بیشتر ممالک میں افغان سفارتی اہلکار ’فنڈز کی کمی‘ اور مشکلات کا شکار

    افغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کی اچانک اقتدار میں واپسی نے بیرونِ ممالک میں موجود سینکڑوں افغان سفارت کاروں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔

    ان سفارتکاروں کے پاس اپنے ملک کے سفارت خانے چلانے کے لیے نہ تو پیسے ہیں جبکہ وہ افغانستان میں موجود اپنے اہلخانہ اور خاندان والوں کے حوالے سے بھی خدشات کا شکار ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغانستان میں برسراقتدار آنے والی طالبان حکومت نے منگل کے روز دنیا بھر میں موجود افغان سفارت خانوں اور ایمبیسیوں کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھیں۔

    مگر دوسری جانب کینیڈا، جرمنی، جاپان اور دنیا کے دیگر ممالک میں قائم افغان سفارت خانوں میں کام کرنے والے آٹھ اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے بات کرتے ہوئے اپنے مشنز میں چھائی مایوسی اور ناکامی پر بات کی ہے۔

    برلن میں موجود ایک افغان سفارت کار نے بتایا کہ ’برلن اور دیگر ممالک میں موجود میرے ساتھی میزبان ممالک سے اپیل کر رہے ہیں کہ انھیں قبول کر لیا جائے (یعنی میزبان ممالک میں رہنے کی اجازت دے دی جائے)۔‘ انھوں نے اپنا نام اس لیے ظاہر نہیں کیا کیونکہ انھیں کابل میں موجود اپنی اہلیہ اور چار بیٹیوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات ہیں۔

    ’میں بھیک مانگ (کر گزارہ کر) رہا ہوں۔ افغان سفارتکار پناہ گزین بننے کے لیے تیار ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں کابل میں اپنے گھر سمیت ہر چیز فروخت کرنا پڑے گی اور ’زندگی کی دوبارہ شروعات‘ کرنا پڑیں گی۔ نوٹنگھم یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر افضل اشرف کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے ممالک ابھی اس سوچ بچار میں ہیں کہ آیا طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے یا نہیں اور اسی تعطل کی وجہ سے دنیا بھر میں افغان سفارت خانوں کی مشکلات طویل تر ہوتی جا رہی ہیں۔

    افغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’یہ سفارت خانے آخر کر بھی کیا سکتے ہیں؟ فی الحال وہ کسی حکومت کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ ان کے پاس نافذ کرنے کے لیے کوئی حکومتی پالیسی نہیں ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان سفارت خانوں میں کام کرنے والے افغان اہلکاروں کو میزبان ممالک میں سیاسی پناہ مل جائے گی کیونکہ اگر وہ واپس کابل جاتے ہیں تو ان کے تحفظ پر خدشات ہوں گے۔‘

    طالبان کے متعدد ترجمانوں نے افغانوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ان سے کسی قسم کا بدلا نہیں لیا جائے گا اور ان کے حقوق کا احترام کیا جائے گا مگر دوسری جانب گذشتہ حکومت کے اہلکاروں اور نسلی اقلیتوں کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کی خبریں بھی آئے روز موصول ہو رہی ہیں۔

    منگل کے روز افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان حکومت نے سفارت خانوں کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’افغانستان نے آپ پر سرمایہ کاری کی ہے۔ آپ ملک کا اثاثہ ہیں۔۔۔ اپنا کام جاری رکھیں۔‘ تاہم انھوں نے حکومت کے پاس پیسے نہ ہونے کی بات بھی کی تھی۔

  7. پاکستانی فوٹو گرافر اور ان کے کیمرے کی کہانی جس کی بدولت صدارتی محل کا ہر دروازہ کھل گیا

    پاکستانی فوٹو گرافر، زاہد خان

    ،تصویر کا ذریعہZAHID ALI KHAN

    فروری، سنہ 1993۔ سوویت یونین کی شکست کو ایک برس بیت چکا ہے تاہم افغانستان میں اب بھی حالات کشیدہ ہیں۔

    کابل میں برہان الدین ربانی کی صدارت میں ایک عبوری حکومت مختلف مجاہدین گروہوں کے درمیان خانہ جنگی کی صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کا اصرار ہے کہ انتخابات ہوں لیکن صدر ربانی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے رضا مند نہیں ہو رہے۔

    اسی بحران کو حل کرنے کے لیے پاکستان سے جماعتِ اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد کی سربراہی میں ایک وفد کابل پہنچتا ہے۔ اگلے 27 دنوں تک وہ افغان رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور مختلف فریقین کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اس وفد میں سیاسی و عسکری شخصیات کے علاوہ کراچی کے 30 سالہ زاہد علی خان بطور فوٹوگرافر شامل تھے۔

  8. شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے لیے عمران خان کی دوشنبے آمد

    عمران خان، دوشنبے

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان تاجکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر دوشنبے پہنچ گئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق تاجکستان کے وزیرِ اعظم قاہر رسول زادہ نے عمران خان کا استقبال کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین، وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر معید یوسف بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔

    عمران خان تاجکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے جس کا آغاز جمعے کو ہوگا۔

    پاکستانی وزیراعظم تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف سے دوطرفہ ملاقات کے لیے صدارتی محل کا دورہ بھی کریں گے۔

    سرکاری بیان کے مطابق عمران خان ’پاکستان اور تاجکستان کے مابین کاروباری شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے۔

    ’وزیر اعظم دوشنبے میں ایس سی او کے 20ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے موقع پر اجلاس میں شریک رہنماؤں کے ساتھ ملاقات بھی کریں گے۔ دورے کے دوران وزیرِ اعظم ایران، قزاقستان، بیلاروس اور ازبکستان کے صدور سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر اعظم عمران خان تاجک صدر کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وزارتی وفد بھی ہے۔‘

  9. ترکی کو پشاور میں قونصل خانہ کھولنے کی پیشکش

    ترکی، پشاور، قونصل خانہ

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/Turkish Embassy Pakistan

    پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق خیبر پختونخوا میں پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کوآرڈینیٹر سرتاج احمد خان نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور خطے کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ترکی کو پشاور میں قونصل خانہ کھولنے کی پیشکش کی ہے۔

    ترکی اور پاکستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فورم کے اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ترکی پاکستان اور افغانستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرسکتا ہے اور اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔

    سرتاج احمد خان نے کہا کہ ترکی کو سرحدی علاقوں کی ترقی کا تجربہ ہے اور وہ سینٹرل ایشیا کے خطے میں تجارت اور معیشت جیسے شعبوں میں بہتری کے لیے سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔

    اس موقع پر ترک سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے دوران باہمی تجارت کا حجم 80 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے اور اسے مزید بہتر کیا جاسکتا ہے۔

  10. روسی سکیورٹی اتحاد ’افغان پناہ گزین کی میزبانی نہیں کرے گا‘

    روسی سکیورٹی اتحاد ’افغان پناہ گزین کی میزبانی نہیں کرے گا‘

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روس کی سربراہمی میں کولیکٹیو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) میں قزاقستان نے کہا ہے کہ اس اتحاد کے اراکین کا افغانستان میں سیاسی و سلامتی کے بحران کے دوران پناہ گزین کی میزبانی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    سی ایس ٹی او میں سینٹرل ایشیا کے تین ممالک تاجکستان، کرغستان اور قزاقستان شامل ہیں۔ ان میں تاجکستان کا افغانستان کے ساتھ ایک طویل بارڈر ہے۔

    تاجکستان میں جمعرات کو رکن ممالک کے سربراہان کے ایک اجلاس کے دوران قزاقستان کے صدر کا کہنا تھا کہ ’سی ایس ٹی او کا مشترکہ موقف ہے کہ ہمارے ممالک کی حدود میں افغان پناہ گزین اور غیر ملکی فوجی اڈے قابل قبول نہیں۔‘

    سینٹرل ایشیا کے دو مزید ممالک ازبکستان اور ترکمانستان سی ایس ٹی او کے اراکین نہیں مگر یہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک ہیں۔

    ازبکستان نے کہا ہے کہ وہ صرف عارضی طور پر افغان پناہ گزین کی میزبانی کرے گا تاکہ وہاں سے انھیں دوسرے ممالک میں منتقل کیا جاسکے۔

  11. افغانستان کا مستقبل: کیا چین طالبان حکومت کو عالمی تنہائی سے بچا پائے گا؟

    افغانستان، چین، کابل

    دنیا کی زیادہ تر حکومتوں کے لیے اس وقت طالبان کے ساتھ تعلقات واضح طور پر شرم کا باعث ہیں۔ اس عسکریت پسند گروپ کے سعودی عرب اور کچھ خلیجی ریاستوں سے روابط ہیں تو صحیح، لیکن اتنے قریبی نہیں۔

    وہ ملک جس کا طالبان کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی تعلق ہے وہ چین ہے اور چین اس بارے میں ذرا بھی شرمندگی ظاہر نہیں کر رہا۔

    بہت سے عام افغان شہری اپنے ملک سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک کی معیشت تباہی کا شکار نظر آتی ہے، جیسا سنہ 1996 سے 2001 میں طالبان کے پہلے دورِ اقتدار میں ہوا تھا۔

    لہذا افغانستان کو آگے بڑھانے کے لیے چین کی اقتصادی مدد کی ضرورت ہو گی اور اس طرح بیجنگ کو طالبان کی پالیسی پر کافی حد تک کنٹرول ملے گا۔

  12. اقوام متحدہ کی سفاتکار کی سراج الدین حقانی سے ملاقات, ’افغانستان میں اقوام متحدہ کو بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت ہوگی‘

    اقوام متحدہ کے ایک سفارتکار نے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ سے ملاقات کی ہے۔ سراج الدین حقانی ایک وقت میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو مطلوب تھے اور ان سے متعلق معلومات پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام تھا۔

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی سربراہ ڈیبرا لائنز اور سراج الدین حقانی کے درمیان ملاقات میں ملک کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد پر بات ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’(حقانی) نے اقوام متحدہ کے حکام کو بتایا ہے کہ وہ وہاں بغیر کسی رکاوٹ کام کر سکتے ہیں اور افغان عوام کو امداد فراہم کر سکتے ہیں۔‘

    ’انھوں نے عالمی برادری سے رابطے برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔‘

    سہیل شاہین کے مطابق اس موقع پر ڈیبرا لائنز کا کہنا تھا کہ ’جو ہم نے آپ سے سنا ہے وہ اس پروپیگنڈا کی نفی کرتا ہے جو آپ کے خلاف گذشتہ 20 برسوں کے دوران کیا گیا۔ اور یہ مثبت پیغام بھیجتا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    دوسری طرف اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس ملاقات میں اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے افغان شہریوں کی مدد کے لیے ان کے کارکنان کو بغیر کسی رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

    بیان کے مطابق افغانستان کی صورتحال میں بہتری کے لیے اجتماعی کوششوں میں باہمی اعتماد ضروری ہے جن میں معیشت کی بحالی، سرکاری ملازمین کا تحفظ، صحت کے حکام کی تنخواہیں اور ادویات و خوراک کی دستیابی اہم ہے۔

    ڈیبرا لائنز نے افغان انٹیلیجنس کے نئے چیف سربراہ عبد الحق واثق سے بھی ملاقات کی ہے جس میں بیان کے مطابق اقوام متحدہ کے حکام کا تحفظ اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے خطرے پر بات کی گئی۔

  13. طالبان کا پیشہ ور فوج بنانے کا اعلان

    طالبان، پیشہ ور، فوج

    ،تصویر کا ذریعہTOLO NEWS TV

    افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے آرمی چیف قاری فصیح الدین نے کہا ہے کہ افغانستان میں جلد ’باقاعدہ اور نظم و ضبط‘ فوج تشکیل دی جائے گی جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے گی۔

    افغانستان کے ایک مقامی اخبار اطلاعاتِ روز کے مطابق کابل میں گذشتہ روز ایک اجلاس میں قاری فصیج الدین نے پنجشیر میں طالبان مخالف اتحاد کا ذکر نہیں کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ ’نسل‘، ’مزاحمت‘ اور ’جمہوریت کے دفاع‘ کے نام پر طالبان کے خلاف لڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    طالبان نے گذشتہ ہفتے پنجشیر میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ انھوں نے اس لڑائی میں شہری ہلاکتوں کی تردید کی تھی۔

    افغان چینل طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے فصیح الدین کا کہنا تھا کہ نئی فوج اہل افسران پر مشتمل ہوگی اور اس میں گذشتہ حکومت کی جانب سے تعینات کیے گئے فوجی بھی ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے لوگ جنھوں نے تربیت حاصل کی ہے اور پیشہ ور ہیں وہ ہماری نئی فوج میں استعمال ہوسکیں گے۔ ہمیں امید ہے یہ فوج مستقبل قریب میں تشکیل دی جائے گی۔‘

  14. ملا بردار کی جانب سے طالبان میں اندرونی لڑائی کی خبروں کی تردید

    ملا برادر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    افغانستان کی عبوری حکومت میں نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے ایک ویڈیو بیان میں طالبان کے بعض حلقوں سے اپنی لڑائی اور زخمی ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

    طالبان کے بانیوں میں سے ایک ملا بردار گذشتہ کئی روز سے بظاہر غائب تھے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان میں موجود حقانی گروہ کے کچھ رہنماؤں سے ان کے اختلاف پیدا ہوئے تھے۔

    لیکن ایک حالیہ انٹرویو میں انھوں نے طالبان کے اندرونی جھگڑوں کی خبروں کی تردید کی ہے۔

    اس میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سچ نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘

    ’میں کابل سے باہر تھا اور اس غلط خبر کی تردید کے لیے میرے پاس انٹرنیٹ تک رسائی نہیں تھی۔‘

    یہ ویڈیو ٹوئٹر پر دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے پوسٹ کی ہے جس میں انھیں ایک کاغذ سے پڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ملا بردار کا کہنا تھا کہ ’شکر ہے ہمارے ایک دوسرے سے اچھے تعلقات ہیں اور ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔ ہمارے تعلقات ایک خاندان کے افراد سے بھی بہتر ہیں۔‘

  15. دوسرے ممالک میں بعض افغان سفارتکار ’پناہ گزین بننے کو تیار‘

    افغان، سفارتکار

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان کے سینکڑوں سفارتکار ملک سے باہر رہائش پذیر ہیں اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے غیر ملکی مشن مشکلات کا شکار ہیں۔

    آٹھ ملکوں میں موجود سفارتی عملے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ان کے دفتر بند پڑے ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ یہ سفارتکار کینیڈا، جرمنی اور جاپان جیسے ملکوں میں موجود ہیں۔

    برلن میں ایک افغان سفارتکار نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ’یہاں اور دیگر ممالک میں میرے ساتھی میزبان ممالک سے انھیں تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

    ’میں واقعی بھیک مانگ رہا ہوں۔ سفارتکار پناہ گزین بننے کو تیار ہیں۔‘

    طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سابقہ حکومت کے اہلکاروں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنائیں گے مگر مخالفین اور خواتین کے خلاف ان کے اقدامات کی بے شمار اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔

  16. یورپی پارلیمان میں افغانستان کے معاملے پر قرار داد پیش، پاکستان پر طالبان کو تحفظ دینے کا الزام

    یورپی پارلیمان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یورپی یونین کی پارلیمان میں افغانستان کی صورتحال پر ایک قراردار پیش کی گئی ہے جس میں پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر نظرثانی کے لیے طالبان پر ان کے اثر و رسوخ کو مدنظر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    یورپی پارلیمان میں افغانستان کے معاملے پر 14 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں قرارداد پیش کی گئی جس میں نہ صرف پاکستان پر طالبان کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا گیا بلکہ مزید یہ بھی کہا گیا کہ اس نے طالبان کو عسکری امداد بھی فراہم کی تاکہ وہ افغانستان پر قبضہ کر سکیں۔

    قرار داد میں کہا گیا کہ پنجشیر کے صوبے میں احمد مسعود کی قیادت میں قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان سے مقابلہ جاری رکھا ہے اور پاکستان پر الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان نے طالبان کو ’سپیشل فورسز اور فضائی مدد‘ دی ہے۔

    اس قرار داد میں یورپی پارلیمان کے خارجہ امور کی محکمے ای ای اے ایس کو کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی قیادت تک یہ پیغام پہنچائے کہ افغانستان میں سلامتی و استحکام کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اور مستقبل میں پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس کا دوبارہ جائزہ لیتے وقت پاکستان کے طالبان پر ’انفلوئنس‘ (اثر و رسوخ) کو مد نظر رکھا جائے گا اور اسی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لے لیا جائے یا نہیں۔

    یہ قرار داد 16 ستمبر کو پارلیمان میں ووٹنگ کے لیے پیش کی جائے گی۔

    تاحال پاکستان کی جانب سے اس قراردار پر ردعمل نہیں دیا گیا تاہم انھوں نے گذشتہ ماہ کے دوران بارہا افغانستان کے اندرونی مسائل میں مداخلت کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک میں امن و استحکام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

  17. سابقہ حکومت کے اہلکاروں کے گھروں سے رقم اور سونا برآمد: افغان سنٹرل بینک

    سابقہ حکومت کے اہلکاروں کے گھروں سے رقم اور سونا برآمد: افغان سنٹرل بینک

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغانستان کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ طالبان نے سابقہ حکومتی اہلکاروں کے گھروں سے رقم اور سونے کی مد میں ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر حاصل کیے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اکثر افغان سرکاری ملازمین کام پر واپس آچکے ہیں مگر کئی ماہ سے ان کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ روزانہ کی بنیاد پر بینکوں اور ایکسچینج اداروں کے باہر شہریوں کی لمبی قطار نظر آتی ہے جو بیرون ملک سے آنے والی رقوم کے منتظر ہوتے ہیں۔

    سنٹرل بینک نے بدھ کو کہا کہ ’سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں تمام شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اپنے معاہدوں اور رقم کی معاشی منتقلی میں افغانی کرنسی استعمال کریں۔‘

    بینک کا کہنا تھا کہ ’اعلیٰ افسران سے رقم برآمد ہوئی ہے۔۔۔ ان میں بڑی تعداد قومی سلامتی کے اداروں کے حکام کی ہے جنھوں نے گھروں میں پیسے اور سونا رکھا ہوا تھا۔‘

    ’یہ معلوم نہیں کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا تھا۔‘

  18. ’عالمی برداری کو فوراً افغانستان کی مدد کرنا ہوگی‘

    ’عالمی برداری کو فوراً افغانستان کی مدد کرنا ہوگی‘

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اقوام متحدہ کی پناہ گزین کی تنظیم کا کہنا ہے کہ افغانستان کو عالمی برادری سے فوری اور مستحکم سپورٹ کی ضرورت ہے تاکہ بڑا انسانی بحران روکا جاسکے۔

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپو گرینڈی نے ایک بیان میں کہا کہ ’افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کافی بُری ہے۔‘

    ’اگر عوامی سہولیات اور معیشت تباہ ہوتی ہے تو ہم مزید عدم استحکام اور ملک کے اندر و باہر نقل مکانی دیکھیں گے۔ اس لیے عالمی برادری کو افغانستان سے رابطے قائم کرنے ہوں گے تاکہ جلد انسانی بحران کو روکا جاسکے ورنہ اس کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔‘

    اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت افغانستان میں قریب نصف آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔

  19. پنجشیر طالبان کے لیے اہم کیوں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    افغانستان کے دارالحکومت کابل سے 150 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع وادیِ پنجشیر کو طالبان کے خلاف مزاحمت کا گڑھ کہا جاتا رہا ہے۔

    طالبان جنگجو اور کمانڈر اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مزاحمت کا آخری گڑھ سمجھے جانے والی یہ وادی آخر طالبان کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟

  20. حقانی اگر قبیلہ نہیں تو کون ہیں؟, عمران خان کی طرف سے ان کو ’پشتون قبیلہ‘ کہنے پر شدید بحث

    حقانی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے ارکان کو ’افغانستان کا ایک پشتون قبیلہ‘ قرار دیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

    بدھ کی شام سی این این کی بیکی اینڈرسن سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے یہ بیان دیا۔

    بیکی اینڈرسن نے اپنے سوال میں امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے حوالے سے پوچھا کہ بلنکن کے مطابق پاکستان طالبان بشمول حقانیوں کو پناہ دینے میں شامل رہا ہے، گذشتہ 20 سالوں میں حقانی نیٹ ورک افغانستان کے سب سے ہلاکت خیز حملوں میں ملوث رہا ہے جس کے سبب سینکڑوں مغربی فوجی اور ہزاروں افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    سی این این کی صحافی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سنہ 2011 میں جنرل مائیک ملن نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پاکستانی انٹیلیجنس کا ایک اہم بازو ہے اور اب اس گروپ کے چار افراد افغانستان کی کابینہ میں شامل ہیں۔

    بیکی اینڈرسن نے کہا کہ کیا اس کے بعد پاکستان اور مغرب کے درمیان اعتماد کی کمی باعثِ حیرت ہے؟

    اس سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ امریکیوں کو نہیں پتا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کیا ہے۔

    نامہ نگار بی بی سی ورلڈ سروس خدائے نور ناصر کے مطابق حقانی نیٹ ورک کا نام اس کے سربراہ جلال الدین حقانی کی مناسبت سے ہے۔

    مکمل خبر