میونسپلٹی کی ملازم خواتین گھر پر رہیں، صرف کچھ خواتین کام پر آ سکتی ہیں، طالبان

اقوامِ متحدہ کے اداروں نے افغانستان میں طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ بلاتاخیر لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھول دیں۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے افغانستان میں شمولیتی حکومت کے سلسلے میں طالبان سے بات چیت شروع کر دی ہے اور ایسی حکومت صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ خطے کے مفاد میں ہے۔

لائیو کوریج

  1. میونسپلٹی کی ملازم خواتین گھر پر رہیں، صرف کچھ خواتین کام پر آ سکتی ہیں، طالبان

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کابل کے نئے طالبان میئر نے شہری حکومت کی ملازم خواتین سے کہا کہ وہ اپنے گھروں پر رہیں جب تک کہ اُن کی ملازمت کوئی مرد سرانجام نہیں دے سکتا۔

    حمداللہ نعمانی نے کہا کہ طالبان کو ’یہ ضروری محسوس ہوا کہ کچھ عرصے تک خواتین کو کام سے روکیں۔‘

    یہ افغانستان کی سخت گیر اسلام پسند حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد کی گئی پابندیوں میں سے تازہ ترین ہے۔

    نوّے کی دہائی میں طالبان کے پچھلے دورِ حکومت میں بھی خواتین کو کام اور تعلیم سے روکے رکھا گیا تھا۔ طالبان نے رواں برس کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ ’اسلامی قانون کے تحت‘ خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے۔

    مگر حالات اس کے کچھ برعکس نظر آ رہے ہیں۔

    بظاہر طالبان نے اُمورِ خواتین کی وزارت بند کر دی ہے اور اس کے دفتر میں وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو جگہ دے دی ہے۔

    رواں ہفتے سیکنڈری سکول بھی کھول دیے گئے تاہم صرف لڑکوں اور مرد اساتذہ کو ہی سکولوں میں واپسی کی اجازت دی گئی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھولنے پر کام کر رہے ہیں۔

    حمداللہ نعمانی نے کہا کہ میونسپلٹی کی تقریباً تین ہزار خواتین ملازمین ہیں جن میں سے کچھ کام جاری رکھیں گی۔ ’مثال کے طور پر وہ خواتین کے ٹوائلٹس میں کام کر رہی ہیں جہاں مرد نہیں جا سکتے۔‘

    مگر وہ ملازمتیں جن پر اُن کی جگہ مرد لے سکتے ہیں وہاں ہم نے خواتین سے کہا ہے کہ وہ صورتحال معمول پر آنے تک اپنے گھر پر رہیں۔ اُن کی تنخواہیں جاری رہیں گی۔‘

  2. افغانستان میں انسانی حقوق کا کمیشن ’غیر فعال‘

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغانستان کے خود مختار انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ماہ ملک پر طالبان کے مکمل کنٹرول کے بعد سے غیر فعال ہے۔

    افغانستان کے انسانی حقوق کے کمیشن نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں ان کی دفتری عمارتوں کے ساتھ ساتھ ادارے کی گاڑیوں اور کمپیوٹرز بھی طالبان نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔

    بیان میں کمیشن نے کہا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے ادارے کی خواتین ملازمین کو کام کرنے کی اجازت نہ دیے جانے کے بارے میں فکرمند ہیں۔

    کمیشن نے طالبان پر سماجی کارکنوں پر حملوں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے۔

    طالبان کی جانب سے تاحال ملک کے خودمختار انسانی حقوق کے کمیشن کے اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  3. طالبان بلاتاخیر لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھولیں، اقوامِ متحدہ

    طالبان

    اقوامِ متحدہ کے اداروں نے افغانستان میں طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ بلاتاخیر لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھول دیں۔

    یہ مطالبہ اُس دن سامنے آیا ہے جس دن لڑکوں نے سکول واپس جانا شروع کر دیا ہے۔ یونیسکو نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اُن کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور اس سے افغانستان کی ترقی خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔

    ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین اساتذہ کو کام پر لوٹنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ یونیسیف نے بھی کہا ہے کہ اسے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے مستقبل سے متعلق خدشات ہیں۔

    اسی طرح برطانوی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن نے بھی افغان لڑکیوں کے لیے حقِ تعلیم کی حمایت کرتے ہوئے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اُنھیں سکول جانے کی اجازت دیں۔

    واضح رہے کہ طالبان کی وزارتِ تعلیم نے لڑکوں کے سیکنڈری سکول کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم لڑکیوں کا ذکر نہیں کیا۔

    افغانستان پر جب 1990 کی دہائی میں طالبان کی حکومت تھی تو اس وقت لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی۔

  4. افغانستان کے سیکنڈری سکولوں سے لڑکیاں ’خارج‘

    افغانستان کے سیکنڈری سکولوں سے لڑکیاں ’خارج‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں طالبان نے سیکنڈری سکولوں میں کلاسز کی بحالی کے لیے ایک بیان میں خواتین ٹیچروں اور طالبات کا ذکر نہیں کیا ہے۔ جبکہ اس میں صرف لڑکوں اور مرد ٹیچروں کو کلاسوں میں واپس آنے حکم دیا گیا ہے۔

    بیان میں طلبا اور مرد اساتذہ کو مخاطب کیا گیا جبکہ سیکنڈری سکولوں میں لڑکیوں اور خواتین کے مستقبل پر بات نہیں کی گئی۔

    اس میں کہا گیا ’تمام مرد ٹیچر اور طلبا تعلیمی اداروں میں آئیں۔‘ ایک افغان طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سب کچھ بہت تاریک لگ رہا ہے۔‘

    عام طور پر سیکنڈری سکول 13 سے 18 سال کے طلبہ کے لیے ہوتا ہے۔ افغانستان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول پہلے سے الگ ہیں جس سے اب طالبان کے لیے لڑکیوں کے سکول بند کرنا آسان ہوسکتا ہے۔

    جمعے کو طالبان نے بظاہر خواتین کے امور کی وزارت کو بند کر دیا تھا اور اس کی جگہ امر بالمعروف والنہی عن المنکر‘ کا محکمہ کھول لیا ہے۔

  5. بریکنگ, افغانستان میں شمولیتی حکومت کے لیے عمران خان کے طالبان سے مذاکرات

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے افغانستان میں سب دھڑوں کی نمائندگی والی حکومت کے سلسلے میں طالبان سے بات چیت شروع کر دی ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ عمل دوشنبہ میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں خصوصاً تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے طویل بات چیت کے بعد شروع کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’میں نے ایک شمولیتی حکومت کی خاطر اور تاجک، ہزارہ اور ازبک برادری کی افغان حکومت میں شمولیت کیلئے طالبان سے مذاکرات کی ابتداء کر دی ہے۔‘

    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ چار دہائیوں کی لڑائی کے بعد ان دھڑوں کی اقتدار میں شمولیت ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی ضامن ہو گی جو محض افغانستان ہی نہیں بلکہ خطے کے بھی مفاد میں ہے۔

    پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے اعلان کے باوجود افغان طالبان کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. بریکنگ, امریکہ نے کابل ڈرون حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کو تسلیم کر لیا

    Drone Attack in Kabul

    امریکہ نے تسلیم کر لیا ہے کہ فوجی انخلا سے چند دن قبل کابل میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں دس معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 29 اگست کو کابل میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن سمیت اس کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والی سب سے کم سن بچی دو سال کی سمعیہ تھی۔

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس نے اس شخص کی کار کی آٹھ گھنٹوں تک نگرانی کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس کا تعلق افغانستان میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے تھا۔

    یہ جان لیوا حملے افغانستان میں امریکہ کی 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے قبل آخری کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

    جنرل کینتھ مکینزی نے اس حملے کو ایک افسوسناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ یہ خاندان شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے منسلک ہو یا امریکی افواج کے لیے خطرہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک غلطی تھی اور میں اس پر تہے دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘

    امریکی تحقیقات کے مطابق اس کار کی نگرانی کرنے والے ڈرون کے ذریعے ایک موقع پر اس گاڑی کی ڈگی میں چند کنٹینرز رکھتے ہوئے دیکھا گیا جن کے بارے میں یہ خیال کیا گیا کہ یہ دھماکہ خیز مواد ہے مگر وہ پانی سے بھرے کنٹینرز تھے۔

    تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امدادی کارکن کی کار شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے منسلک کمپاؤنڈ پر دیکھی گئی تھی اور اس کار کی نقل و حمل کابل ایئرپورٹ حملے کے منصوبے کی دیگر انٹیلیجنس اطلاعات کے متعلق تھی۔

    یہ حملہ اس گاڑی پر اس وقت کیا گیا تھا جب ضمیری اکمادی نامی امدادی کارکن اپنے اہلخانے کے ہمراہ کابل ایئرپورٹ سے تقریباً تین کلومیٹر دور ایک گھر سے نکل کر سڑک پر سفر کر رہے تھے۔

    اس گاڑی پر حملے کے بعد ایک دوسرا دھماکہ ہوا تھا جس پر امریکی حکام کا ابتدائی طور پر کہنا تھا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گاڑی میں دھماکہ خیز مواد تھا۔

    تاہم تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ممکنہ طور پر سڑک پر پروپین ٹینک کے باعث دھماکہ ہوا تھا۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان افراد نے افغانستان چھوڑ کر امریکہ جانے کی درخواست دی ہوئی تھی اور وہ ایئرپورٹ پر بلائے جانے کے لیے ٹیلی فون کال کے منتظر تھے۔

    ان افراد میں ہلاک ہونے والوں میں ایک احمد ناصر تھے جو امریکی افواج کے ساتھ بطور متراجم کام کرتے رہے ہیں۔ دیگر افراد میں وہ لوگ بھی شامل تھے ماضی میں مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرتے رہے اور ان کے پاس ویزے تھے اور وہ افغانستان سے انخلا کے دوران امریکہ جانے کی اجازت کے منتظر تھے۔

    رامین یوسفی نامی ایک رشتہ دار کا کہنا تھا کہ ’یہ غلط ہے، یہ بہیمانہ حملہ ہے اور یہ غلط اطلاع پر کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے روتے ہوئے کہا تھا کہ ’انھوں نے ہمارے خاندان کے افراد کو کیوں ہلاک کیا؟ ہمارے بچوں کو کیوں مارا؟ وہ سب اس بری طرح جھلس گئے تے کہ ہم ان کی لاشوں اور چہروں کی شناخت نہیں کر پا رہے تھے۔‘

  7. افغانستان: خواتین کی وزارت کو تبدیل کرکے طالبان کی اخلاقی پولیس کا دفتر بنا دیا گیا

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں طالبان نے خواتین کے امور کی وزارت کو بند کر دیا ہے اور اس کی جگہ ایک ایسا محکمہ بنا دیا ہے جس کا کام سخت مذہبی ضوابط کو لاگو کرنا ہے۔

    جمعہ کو وزارت پر لگایا گیا نشان ہٹا دیا گیا۔

    سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں خواتین ملازمین کو دفاتر کے باہر دیکھا جا سکتا ہے جو طلبان سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ انہیں کام پر واپس آنے دیا جائے۔

    1990 کی دہائی میں طالبان کی حکومت کے دوران ، خواتین کی وزرات کی جگہ لینے والی وزارت نے سخت اسلامی قوانین اور خواتین پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔

    پچھلے 20 سالوں میں افغان خواتین نے بہت سے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے اور انہیں حاصل کیا۔ لیکن اب خدشات ہیں کہ طالبان کی نئی مکمل طور پر مردوں پر مشتمل عبوری حکومت کی طرف سے سب کچھ الٹ دیا جائے گا۔

    انسانی حقوق کے گروہوں نے اس وزارت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ یہ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ہے، شہریوں خاص طور پر عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد کو سختی سے نافذ کیا جا سکے اور تمام برادریوں میں خوف اور عدم اعتماد پھیلایا جا سکے۔

    لیکن طالبان کے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ اہم ہے۔ ایک طالبان رکن ، محمد یوسف نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ’بنیادی مقصد اسلام کی خدمت کرنا ہے۔ اس لیے نائب اور فضیلت کی وزارت ہونا لازمی ہے۔‘

  8. طالبان کی جانب سے صرف لڑکوں کو سکول آنے کی اجازت

    افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت وزارت تعلیم نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں صرف ثانوی اور ہائی سکول تک کے لڑکوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے سکول آنے کی اجازت دی ہے۔

    افغان پارلیمنٹ کی سابق ڈپٹی سپیکر اور سماجی کارکن فوزیہ کوفی نے اس اعلامیے پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’یہ اعلامیہ طالبان کے ماضی کے مؤقف سے متضاد ہے اور یہ ہمارے پیغمبر پر قرآن کی نازل ہونے والی پہلی آیت کے بھی منافی ہے جس میں اقرا کا حکم آیا، جو لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے تھا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. ہزاروں افغان شہری کابل سے انخلا کے بعد امریکی اڈوں پر انتطار کر رہے ہیں

    افغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق دسیوں ہزاروں افغان شہری جنھیں امریکہ نے کابل سے نکالا تھا اب بھی امریکہ میں مختلف فوجی اڈوں اور ایک تیسرے ملک میں اپنی آئندہ کے ٹھکانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    صحت اور سیفٹی اسیسمنٹ نے اس معاملے کو سست روی کا شکار کیا اور کچھ کیسز میں تو اس کو روک ہی دیا۔ اس وقت ہزاروں افغان اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے امریکہ کے مختلف فوجی اڈوں پر انتظار کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل بی بی سی کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ قطر اور امریکہ کے فوجی اڈوں پر کچھ افغان غیرموزوں صورتحال میں رہ رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ ابھی بھی متعدد افغان شہری ملک سے باہر جانے کے منتطر ہیں۔ تین دن قبل سات افغان پناہ گزین امریکہ آئے۔

    نیویارک ٹائمز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق سات افغان شہری امریکہ میں آٹھ فوجی اڈوں پر رہ رہے ہیں اور امریکہ رہنے کی امید پر وہیں قیام کیے ہوئے ہیں۔

    افغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چھ افغان شہری امریکہ کے باہر فوجی بیرکوں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تعداد جرمنی میں مقیم ہے۔

    کچھ افغان پناہ گزینوں کو فوجی اڈوں سے آئندہ چند ہفتوں میں ان کی منزل تک پہنچا دیا جائے گا مگر ان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ان فوجی اڈوں پر ہی طویل عرصے انتظار کرتی رہے گی۔

    امریکہ کے وزیر خارجہ نے افغانستان سے امریکہ سمیت غیر ملکی افواج کے انخلا کا دفاع کیا ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی تنقید کو رد کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے دنیا کی تاریخ میں طویل ترین ائیرلفٹ آپریشن مکمل کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس وقت افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد غیریقینی صورتحال میں رہ رہی ہے اور اس سے بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو ذہنی صدمے جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

    امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو کہا ہے کہ ان کی حکومت فوجی اڈوں سے ان افغان پناہ گزینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی پر کام کر رہی ہے۔

  10. شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے افغانستان کے بارے میں کیا کہا؟

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے ایس سی او کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ افغانستان میں پرامن اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنائیں۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ تیار کرنے اور معتدل داخلی اور خارجی پالیسیوں پر عمل کرنے کے لیے افغانستان کی رہنمائی کرنی چاہیے۔

    وہ ویڈیو لنک کے ذریعے تاجکستان میں ایس سی او( شنگھائی تعاون تنظیم) کے سربراہان مملکت کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

    ایس سی او آٹھ ارکان پر مشتمل ہے: چین، انڈیا، قازقستان، کرغزستان، روس، پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان۔ افغانستان اس گروپ میں ایک مبصر ریاست ہے۔

    epa

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روسی صدر ولادی میر پیوتن نے ایس سی او افغان رابطہ گروپ اور کابل کے درمیان رابطوں کو دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی ہے حالانکہ انھوں نے افغان اثاثوں کو جاری کرنے جیسے کسی دوسرے اقدامات سے متعلق ذکر نہیں کیا ہے۔

    ویڈیو لنک کے ذریعے دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوتن نے کہا کہ افغانستان میں ’طاقت کی منتقلی‘ عملی طور پر بغیر کسی خونریزی کے ہوئی تھی ، جسے انہوں نے مثبت قرار دیا۔

    انھوں نے مزید کہا: ’طالبان عملی طور پر پورے افغانستان کو کنٹرول کرتے ہیں اور یہ بہتر ہوگا کہ نئے افغان حکام کو امن کی بحالی، روزمرہ کی زندگی کو معمول پر لانے اور سب کے لیے سیکورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے اپنے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی ترغیب دیں۔‘

    اس حوالے سے ایس سی او افغان رابطہ گروپ کو دوبارہ شروع کرنے کے معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے، جو افغان شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ازبکستان کے صدر شوکت مرزیویف نے جمعے کو ممالک پر زور دیا ہے کہ کابل میں طالبان حکومت سے مذاکرات کو یقینی بنانے کے لیے وہ غیر ملکی بینکوں میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کو بحال کر دیں۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جس بھی مرکزی بینک میں افغان حکومت کے اثاثے ہیں ان تک طالبان کو رسائی نہیں دی جائے گی۔

    خیال رہے کہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ افغانستان کو اس کے قرض پروگرام تک رسائی نہیں دی جائے گی۔

    چین اور روس کی قیادت میں سیکورٹی بلاک۔۔۔ شنگھائی تعاون تنظیم۔۔۔ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شوکت مرزیویف، جن کے ملک کی سرحدیں افغانستان سے متصل ہیں، نے بلاک اور طالبان کے درمیان بات چیت اور شدت پسندی کے عروج کو روکنے کی کوششوں پر زور دیا ہے۔

    ان کے مطابق افغانستان کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے سے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملی سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انسانی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم غیر ملکی بینکوں میں افغانستان کے اثاثوں پر عائد پابندی ہٹانے کے امکانات پر غور کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔

  11. افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے عالمی برادری مثبت کردار ادا کرے: عمران خان, دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے وزیر اعظم عمران خان کا خطاب

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بیسویں اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے بعد افغانستان بجا طور پر ہماری توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    انھوں نے عالمی برادری پر افغانستان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ عمران خان کے مطابق یہ موقع ہے کہ 40 برس بعد افغانستان میں جنگ کے صیحح معنوں میں خاتمے کا موقع مسیر ہے جسے ضائع نہ کیا جانا چائیے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امن کے منفی قسم کے پروپیگینڈے سے اعتراض کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ طالبان کو شراکت داری پر مبنی حکومت جس میں تمام گروہوں کی نمائندگی ہو سمیت اپنے تمام وعدے پورے کرنے ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ افغانستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    ان کے مطابق یہ اس وجہ سے بھی ضروری ہے تا کہ تمام افغان شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان پر کبھی دہشتگردوں کی محفوظ آماجگاہ نہ بن سکے۔

    افغانستان میں استحکام کے لیے ملکی معیشیت کو ڈوبنے سے بچایا جائے

    عمران خان کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور طالبان کی حکومت کے بعد اب دنیا کو یکسر ایک نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا تسلی بخش پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ کسی بھی قسم کے خون خرابے، خانہ جنگی اور بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد کے بغیر ہوا ہے۔

    عمران خان کے مطابق اب یہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان میں پھر کوئی تنازع سر نہ اٹھائے اور وہاں استحکام ہو۔ انھوں نے دنیا کو افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنےکی تجویز پیش کی ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ بھی بہت اہم ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران اور معیشت کو ڈوبنے سے بچایا جائے۔ ان کے مطابق ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا ہو گا کہ افغانستان کی گذشتہ حکومت کا مکمل دارومدار بیرونی امداد پر تھا اور اس کے ہٹائے جانے کے بعد مکمل معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ وہ وقت ہے کہ افغان عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوا جائے اور ان کا ساتھ دیا جائے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری اور اقوام متحدہ کے اداروں کی بھی تعریف کی ہے۔

  12. افغانستان میں ایک ماہ بعد بھی اہم حکومتی دفاتر، ثانوی تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں, بی بی سی مانیٹرنگ

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانسان کے نجی ٹی وی چینل طلوع نیوز کے مطابق اس کے باوجود کہ طالبان نے اہم عہدیداروں کی تعیناتی کا اعلان کر دیا ہے مگر ایک ماہ بعد بھی افغانستان میں اہم حکومتی دفاتر اور ثانوی درجے کے تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    ٹی وی چینل نے ایک سکول ٹیچر گیتی سے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ اساتذہ کو دو ماہ سے کوئی تنخواہ نہیں موصول ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ عام شہری اس بات کی بھی شکایت کر رہے ہیں کہ ملک میں اہم دفاتر بھی بند پڑے ہیں۔

    طالبان کے وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابینہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ تمام دفاتر اور وزارتیں فوری طور پر اپنا کام شروع کر دیں اور ہر شہریوں کے لیے تمام خدمات کو یقینی بنائیں۔

    طالبان کے ایک رکن سعید خوستی کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی تنخواہ کا معاملہ بھی جلد حل کر لیا جائے گا۔ افغانستان میں طلبا بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں کیونکہ ابھی تک ثانوی تعلیم کے اداروں کے دوبارہ کھلنے کے کوئی امکانات تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ایک سابق افعان اہلکار کے مطابق ملک میں 90 لاکھ طلبا میں سے 70 فیصد ابھی سکول نہیں جا رہے ہیں۔

  13. بریکنگ, افغانستان کی صورتحال پر غور کے لیے جی 20 ممالک کا اجلاس 30 ستمبر کے بعد

    G20

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد افغانستان کی صورتحال پر غور کے لیے جی 20 ممالک کا اجلاس ہو گا۔ خیال رہے کہ اگلے ہفتے سے شروع ہونے والا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس 30 ستمبر کو ختم ہو گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطبق اس بات کی تصدیق اٹلی کے وزیر خارجہ لوگی دی ماجو کے جمعے کو ایک شائع انٹرویو سے ہوئی ہے۔

    اٹلی کے ایک اخبار ڈیلی لا ریپبلیکا کو اٹلی کے وزیر خارجہ نے اپنے انٹرویو میں تصدیق کی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد جی 20 ممالک کا اجلاس ہو گا جس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر غور ہو گا۔ ان کے مطابق اس اجلاس کی تیاری کے لیے جی 20 ممالک کے وزرا خارجہ کا بھی اجلاس ہو گا۔

    اس جی 20 اجلاس کی صدارت اس بار اٹلی کر رہا ہے جس نے اقوام متحدہ اور انسانی امداد بہم پہنچانے والی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

    جی 20 ہے کیا؟

    یہ ایک ایسا گروپ ہے جس میں دنیا کے 19 امیر ملک نیز یورپی یونین شامل ہیں۔ ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، ترکی، برطانیہ اور امریکہ اس کے ارکان ہیں۔

  14. طالبان نے خواتین ملازمین کو وزارت امورِ خواتین میں داخل ہونے سے روک دیا، خواتین ملازمین کا دعویٰ

    افغان وزارت امور خواتین کی متعدد ملازمین کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے گذشتہ تین ہفتوں سے انھیں اپنے دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور انھیں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

    افغان سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ایک ملازم خاتون کہتی ہیں: ’ہم سب کو ایک جگہ جمع کرو اور ہم پر پیٹرول ڈال کر یا بم مار کر سب کو مار ڈالو۔‘

    خواتین ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لیے روزی روٹی کمانے کا واحد ذریعہ ہیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ طالبان نے امورِ خواتین کی وزارت کو تحلیل کر دیا ہے اور افغانستان میں خواتین کے نام سے کچھ نہیں بچا ہے۔

    ان خواتین ملازمین نے طالبان سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. پل چرخی: قیدیوں کے شب و روز کا حال سناتی افغانستان کی سب سے بڑی جیل کے اندورونی منظر

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    گذشتہ ماہ تک ہزاروں قیدی کابل کے مشرق کی ایک جیل میں پھنسے تھے پھر طالبان نے دارالحکومت میں داخل ہوتے ہی انھیں آزاد کر دیا۔

    ایک ایسی حکمت عملی تھی جو سخت گیر اسلام پسندوں نے ملک بھر میں حملوں کے دوران استعمال کی تھی۔ جیلوں کو نشانہ بنایا تاکہ اسلام پسند قیدیوں کو آزاد کیا جا سکے اور ان کی لڑائی کی اہمیت کو بڑھایا جا سکے۔

    لیکن ایسا کرتے ہوئے طالبان نے دسیوں ہزار مجرموں کو بھی معاشرے میں واپس چھوڑ دیا۔ ان میں قاتل، عصمت دری کرنے والے اور چور شامل ہیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پل چرخی کی بدنام زمانہ جیل جو اب بڑی حد تک ویران ہے یہاں کے 15،000 سابق قیدیوں کی سلاخوں کے پیچھے موجود زندگی کی ایک دلچسپ جھلک فراہم کرتی ہے۔

    ایک بلڈنگ کے سیل ان قیدیوں کے کپڑوں، جوتوں اور دیگر سامان سے بھرے ہوئے ہیں جو 14 اگست کو طالبان کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے سے صرف ایک دن قبل دروازے کھولنے پر فرار ہو گئے۔

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    جیل کے افسران بھی بھاگ گئے۔ بہت سے جلدی میں اپنی وردیاں پیچھے چھوڑ گئے۔

    اب ملک کی یہ سب سے بڑی جیل کوڑے سے بھری پڑی ہے، سڑے ہوئے کھانے اور لیٹرین کی بدبو ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔

    طالبان بندوق بردار جو اب جیل کو کنٹرول کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہر ونگ میں 11 بلاکس تھے جن میں سے ہر ایک میں 1500 قیدی رہتے تھے -

    زیادہ تر عام مجرم، چور اور غنڈے تھے۔

    اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ جیل دوبارہ کبھی بھر پائے گا۔

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

  16. ’احمد مسعود نے امریکی مدد حاصل کرنے کے لیے امریکی لابنگ گروپ کی خدمات حاصل کر لیں‘

    @ahmadmassoud1

    ،تصویر کا ذریعہ@ahmadmassoud1

    افغان قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود نے امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک امریکی لابنگ گروپ کو استعمال کیا ہے۔

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایک لابنگ فرم رابرٹ سٹرائیک، یہ کام پرو بونو یا مفت میں کرتی ہے۔ کمپنی ایسی نوکریاں قبول کرتی ہے جو دوسرے لابنگ گروپ اکثر کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔

    احمد مسعود کے قریبی ذرائع نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ان کا بنیادی ہدف طالبان کو امریکہ کی جانب سے تسلیم کیے جانے سے روکنا تھا۔

    طالبان کے مخالفین کو کئی امریکی ریپبلیکنز کی حمایت حاصل ہے، لیکن صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ افغان خانہ جنگی میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔

    صدر نے یہ بھی کہا کہ انھیں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق لابیز کی ایک بڑی تعداد نے اخبار کو بتایا ہے کہ طالبان بھی امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پابندیوں کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ طالبان کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    اگرچہ طالبان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے اور محمد حسن اخوند کی سربراہی میں نگران حکومت قائم کی ہے لیکن ابھی تک کسی بھی ملک نے انھیں تسلیم نہیں کیا ہے۔

  17. پنجشیر وادی آخر طالبان کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟

    افغانستان کے دارالحکومت کابل سے 150 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع وادیِ پنجشیر کو طالبان کے خلاف مزاحمت کا گڑھ کہا جاتا رہا ہے۔ لیکن گذشتہ چند دنوں میں طالبان جنگجو اور کمانڈر اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    مزاحمت کا آخری گڑھ سمجھے جانے والی یہ وادی آخر طالبان کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟

  18. چین افغانستان کے مستقبل میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

    bbc

    دنیا کی زیادہ تر حکومتوں کے لیے اس وقت طالبان کے ساتھ تعلقات واضح طور پر شرم کا باعث ہیں۔ اس عسکریت پسند گروپ کے سعودی عرب اور کچھ خلیجی ریاستوں سے روابط ہیں تو صحیح، لیکن اتنے قریبی نہیں۔

    وہ ملک جس کا طالبان کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی تعلق ہے وہ چین ہے اور چین اس بارے میں ذرا بھی شرمندگی ظاہر نہیں کر رہا۔

    بہت سے عام افغان شہری اپنے ملک سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک کی معیشت تباہی کا شکار نظر آتی ہے، جیسا سنہ 1996 سے 2001 میں طالبان کے پہلے دورِ اقتدار میں ہوا تھا۔

    لہذا افغانستان کو آگے بڑھانے کے لیے چین کی اقتصادی مدد کی ضرورت ہو گی اور اس طرح بیجنگ کو طالبان کی پالیسی پر کافی حد تک کنٹرول ملے گا۔

    ہم یہ بھی یقین کر سکتے ہیں کہ طالبان چین کو اس کی مسلمان اویغور آبادی کے ساتھ سلوک جیسے مسائل پر چیلنج نہیں کرے گا۔

    طالبان کا اقتدار پر قبضہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دیگر ایسے ممالک کے لیے تباہ کن رہا ہے جنھوں نے گذشتہ 20 برسوں میں افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کی۔

    اس نے انڈیا کی افغانستان سے متعلق پالیسی کو بھی روک دیا ہے۔ انڈیا نے کثیر رقم اور مہارت افغانستان میں لگا رکھی ہے اور حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں پر انڈیا کا اچھا اثر و رسوخ تھا، لیکن اب یہ سب ختم ہو چکا ہے۔

    طالبان کو اپنے گذشتہ دور حکومت میں بین الاقوامی سطح پر اچھوت سمجھا جاتا تھا۔ سنہ 2001 تک ملکی معیشت کا حال اتنا برا تھا کہ ایندھن خریدنے کے بھی پیسے نہیں تھے اور بچی کھچی گاڑیوں کو بھی سڑکوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    زیادہ تر لوگ جنریٹر لینے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور لوڈشیڈنگ معمول کی بات تھی۔ رات کے وقت گلیوں میں اندھیرا اور سناٹا ہوتا تھا اور دن کے وقت لوگ طالبان کے خوف کے مارے اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔

  19. افغانستان کے بینکوں میں ڈالر ختم ہو رہے ہیں، بینکوں کا طالبان سے مزید فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہreuters

    افغانستان کے بینکوں میں ڈالر ختم ہو رہے ہیں اور اگر طالبان حکومت فنڈز جاری نہیں کرتی، بینکوں کو اپنے دروازے بند کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بینکنگ کے شعبے سے وابستہ تین ماہرین کا کہنا ہے کہ پیسے کی کمی سے ملک کی پہلے سے تباہ حال معیشت کو مزید تباہی کا خطرہ ہے۔

    افغانستان کی معیشیت کا زیادہ تر انحصار امریکہ کی طرف سے کابل میں مرکزی بینک کو بھیجنے والے سینکڑوں ملین ڈالر پر ہے جو بینکوں کے ذریعے افغانیوں تک پہنچتے ہیں۔

    طالبان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے ایک مہینے کے بعد بینکروں کو خدشہ ہے کہ ڈالروں کی کمی خوراک یا بجلی کی قیمت بڑھا سکتے ہیں اور درآمدات ناقابلِ برداشت ہو سکتی ہیں، جس سے افغانوں کے لیے مزید مصیبتیں بڑھیں گی۔

    اگرچہ نقدی کی کمی کئی ہفتوں سے جاری ہے ، لیکن ملک کے بینکوں نے حالیہ دنوں میں بارہا اپنی تشویش نئی حکومت اور مرکزی بینک تک پہنچائی ہے۔

  20. ’یہ گیت افغانستان کی موجودہ صورتحال کے لیے ایک نذرانہ ہیں‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    حال ہی میں افغان گلوکار شمالی افغان اور زیب النسا بنگش نے مل کر افغانستان کے نام گیت تیار کیے۔ افغانستان میں موسیقی کا کیا رواج ہے جانیے مکرم کلیم کی زیب النسا بنگش کے ساتھ اس خصوصی گفتگو میں۔