طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. امریکی فوج ایئرپورٹ پر چھوڑ جانے والے طیارے اور اسلحے کو ناکارہ بنا گئی

    حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے یہ یقینی بنایا ہے کہ وہ انخلا سے قبل کابل ایئرپورٹ پر چھوڑ جانے والے جہاز اور مسلح گاڑیوں کو ناکارہ بنا جائے۔

    مشن کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی کا کہنا تھا کہ فوجی دستوں نے 73 طیاروں اور ستر مسلح گاڑیوں اور 27 ہموی گاڑیوں کو ’غیر مسلح اور ناکارہ‘ بنایا تاکہ طالبان انھیں استعمال نہ کر سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طیارے دوبارہ کبھی اڑ نہیں سکیں گے، انھیں کبھی کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا۔‘

    لاس اینجلس ٹائمز کے ایک رپورٹر کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان کابل ایئرپورٹ کے ایک ہنگر میں داخل ہو کر امریکی طیارے کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

    امریکہ نے ایئرپورٹ پر رہ جانے والی ایک ہائی ٹیک راکٹ دفاعی نظام کو بھی ناکارہ بنایا ہے۔

    سی رام نامی یہ دفاعی نظام نے گزشتہ روز شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب سے کابل ایئر پورٹ پر فائر کیے جانے والے راکٹوں کو تباہ کیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. بریکنگ, ’امریکہ کی شکست دیگر حملہ آوروں کے لیے اہم سبق ہے‘: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی شکست دوسرے حملہ آوروں اور ہماری آیندہ نسلوں کے لیے ایک اہم سبق ہے۔‘

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے منگل کی صبح امریکہ کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کے رن وے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دنیا کے لیے ایک سبق ہے۔‘

    انھوں نے امریکہ کے افغانستان سے بیس برس بعد نکلنے پر افغان شہریوں کواس فتح پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’پورے افغانستان کو مبارک ہو، یہ ہماری فتح ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ سمیت دیگر دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں اور ان کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات کا خیرمقدم کریں گے۔‘

  3. طالبان رہنماؤں کی کابل ایئرپورٹ پر موجودگی کی اطلاعات

    Taliban

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    طالبان رہنماؤں کی کابل کے ایئرپورٹ پر موجودگی اور رن وے پر رپورٹرز سے بات چیت کی اطلاعات ہیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کا کہنا تھا کہ ’افعانستان کو مبارکباد، یہ ہماری فتح ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ اور دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں اور ان کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات کا خیرمقدم کریں گے۔‘

  4. ’ہم ڈرون حملے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات کو رد نہیں کر سکتے‘: پینٹاگون

    Kabul

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ ابھی ان دعوؤں کو رد نہیں کر سکتے کہ افغانستان میں مشتبہ خودکش بمبار کو مارنے کے لیے کیے جانے والے ڈرون حملےمیں متعدد شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    کابل ایئرپورٹ کے قریب کیے جانے والے امریکی ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس متاثرہ خاندان کے رشتہ داروں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان میں چھ بچے بھی شامل تھے۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا جس میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کی افغان شاخ کا ایک رکن سوار تھا۔

    اس کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ اس شہریوں کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہا ہے اور اس کا جائزہ لے رہا ہے۔

    امریکی کمانڈرز کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے کے بعد وہاں ’مزید دھماکے ہوئے تھے‘ جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جائے موقع پر دھماکہ خیز مواد موجود تھا جس سے شاید قریبی افراد متاثر ہوئے ہوں۔

    پینٹاگون کے پریس سیکرٹری جان کربی کا کہنا تھا کہ ’امریکہ ان خبروں کو مسترد نہیں کر سکتا‘

    ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ کی فوج سے دنیا کی کسی بھی فوج سے زیادہ شہری ہلاکتوں کو بچانے کی کوشش کرتی ہے اور کوئی معصوم شہریوں کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ان واقعات کو بہت سنجیدیدگی سے لیتے ہیں اور جب ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ ہم نے کسی آپریشن کے نتیجے میں معصوم شہریوں کو ہلاک کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں شفافیت اختیار کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے امریکی ڈرون حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری اطلاع درست تھی اور کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کو شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان گروہ سے شدید خطرہ تھا۔‘

    متاثرہ خاندان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں سب سے کم عمر ہلاک ہونے والی بچہ دو برس کی بچی سمیہ تھی جبکہ سب سے بڑا بچہ فرزاد بارہ سال کا تھا۔

    متاثرین کے ایک رشتہ دار رامین یوسف کا کہنا تھا کہ ’یہ غلط ہے، یہ بہیمانہ حملہ تھا، اور یہ غلط اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انھوں نے ہمارے خاندان، ہمارے بچوں کو کیوں ہلاک کیا؟ وہ اتنی بری طرح جھلس چکے تھے کہ ہم ان کی شناخت بھی نہیں کر سکے۔‘

  5. امریکہ کا افغانستان سے انخلا مکمل: تازہ ترین تفصیلات جانیے!

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صبح بخیر! آج ہم افغانستان میں ایک دور کے اختتام اور ایک نئے دور کے آغاز کے حوالے سے آپ کو تازہ ترین تفصیلات فراہم کر رہے ہیں۔

    گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات یہ ہیں:

    • امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا ہے اور تقریباً 20 سالہ جنگ کے بعد ملک اب دوبارہ طالبان کے زیرِ خکمرانی میں ہے۔
    • امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کی جانب سے انخلا کے آپریشن میں چھ ہزار امریکیوں سمیت ایک لاکھ 23 ہزار عام شہریوں کا انخلا یقینی بنایا گیا۔
    • تاہم اکثر افغان جو ان ممالک کے لیے کام کرتے رہے تھے، انھیں باہر جانے کا موقع نہیں مل سکا۔
    • جنرل فرینک میکنزی جنھوں نے امریکہ کے اس مشن کی سرپرستی کی کہتے ہیں کہ یہ امریکہ کی عسکری تاریخ کا انخلا کا سب سے بڑا غیر جنگجو مشن تھا۔
    • جیسے ہی امریکہ کا آخری طیارہ کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا، کابل ایئرپورٹ کے اطراف میں ہوائی فائرنگ شروع ہو گئی ہے اور کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان نے کابل کی گلیوں میں بھی جشن منایا۔
    • امریکیوں کے انخلا کے بعد اب یہ خواتین، بچوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے ایک غیریقینی کا دور ہے۔
    • طالبان حکومت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر اضطراب کی کیفیت موجود ہے اور یہ خدشہ بھی ہے کہ وہ ملک کی کمزور معیشت کا پہیہ کیسے چلائیں گے۔
    • امریکہ کے افغانستان میں آخری روز بھی تشدد دیکھا گیا۔
    • امریکہ کا کہنا تھا کہ اس نے ایئرپورٹ پر فائر کیے گئے راکٹوں کو روکا اور دولتِ اسلامیہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔
    • اس کے علاوہ اتوار کے روز مبینہ طور پر ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ایک ہی خاندان کے دس افراد کی ہلاکت سے متعلق امریکی تحقیقات جاری ہیں۔
    • امریکہ کے تمام نمائندہ اہلکار کابل چھوڑ چکے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینتھونی بلنکن نے تصدیق کی ہے کہ اب امریکہ اپنا سفارتی دفتر دوحہ منتقل کر چکا ہے۔
  6. آپریشن سائیکلون: جب امریکہ نے افغانستان میں ’طالبان‘ کو تیار کیا

    operation cyclone

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں وہ لوگ ’جنگ آزادی کے سپاہی‘ کہے جاتے تھے لیکن انھیں سخت گیر مسلم گوریلا جنگجو کہنا بہتر ہوگا۔

    افغانستان میں مقامی گوریلا جنگجوؤں کے گروہوں نے امریکہ کی حمایت سے سوویت یونین کے خلاف برسوں تک علم بغاوت بلند کیے رکھا۔ امریکہ نے انھیں اسلحہ اور پیسہ فراہم کیا تاکہ اس کے دشمن سوویت یونین کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

    اگر ہم خفیہ دستاویزات، صحافیوں کی تحقیقات اور اس دور کے خصوصی لوگوں کے انٹرویوز کو دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکہ سوویت یونین کو اس دلدل میں پھنسانا چاہتا تھا جہاں اسے جان و مال کا اتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے جتنا کئی سال پہلے امریکہ کو خود ویتنام میں اٹھا پڑا تھا۔

    یہ امریکہ کا ’آپریشن سائیکلون‘ تھا اور اس وقت کے میڈیا نے اسے امریکی انٹیلیجنس ایجنسی ’سی آئی اے کی تاریخ کا سب سے بڑا انٹیلی جنس آپریشن‘ قرار دیا تھا۔

    سوویت فوجیوں کا انخلا شروع ہونے کے صرف آٹھ سال بعد سنہ 1996 میں طالبان نے کابل پر فتح حاصل کر لی اور افغانستان پر اسلامی بنیاد پرست حکومت مسلط کر دی گئی جسے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

    ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فتح میں امریکہ کا کوئی کردار تھا۔

  7. ’داڑھی کا پوچھے تو سرٹیفیکیٹ دکھا دینا‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    موجودہ حالات کے پیش نظر بی بی سی اُردو نے طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار آڈیو سٹوریز کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    آج کی قسط میں صحافی اقبال خٹک نے مارچ 2001 کے چند واقعات کا ذکر کیا ہے جب انھیں ایک مغربی میڈیا کی ٹیم کے ساتھ کابل جانے موقع ملا۔ ویڈیو: سعد سہیل اور محمد ابراہیم

  8. افغانستان چھوڑنے والے آخری امریکی فوجی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکہ کا افغانستان سے انخلا مکمل ہو چکا ہے اور اب سے کچھ دیر قبل امریکی وزارتِ دفاع کی جانب سے ایک تصویر جاری کی گئی جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ افغانستان چھوڑنے والا آخری امریکی فوجی ہے۔

    اس حوالے سے تفصیلات دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ میجر جنرل کرس ڈوناہو ہیں جو امریکہ سے روانہ ہونے والے آخری سی 17 طیارے میں سوار ہونے لگے ہیں۔

  9. امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے پر افغانستان میں غیر یقینی اور خوف کے سائے, لیس ڈوسیٹ، چیف بین الاقوامی نمائندہ بی بی سی

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چالیس سال کی جنگ کے بعد بھی میرے خیال میں افغان عوام کبھی اقتدار کی منتقلی کے ایسے دور سے نہیں گزرے جو اتنا غیر یقینی ہو، جو اندھیرے میں اتنا زیادہ ڈوبا ہوا ہو اور جس پر خوف کے سائے ہوں۔ آگے کیا ہو گا، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

    ان افغان باشندوں کے لیے بھی غیر یقینی کی کیفیت ہے جنھوں نے گذشتہ چند روز کے دوارن بیرونِ ملک روانگی کا فیصلہ کیا اور یقیناً اب وہ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ آیا وہ کبھی اپنا وطن دوبارہ دیکھ پائیں گے۔

    ملک میں موجود تین کروڑ 80 لاکھ افغانوں کے لیے اس بارے میں بھی غیر یقینی پائی جاتی ہے کہ طالبان کا طرزِ حکمرانی کیسا ہو گا۔ کیا ان سخت قوانین اور سزاؤں کی واپسی ہو گی جو ان کے پچھلے دورِ حکومت میں تھی۔

    اکثر افغان جو دیہی علاقوں میں ان کے طرزِ حکمرانی پر نظر رکھے ہوئے ہیں سمجھتے ہیں کہ ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ شاید وہ پہلے سے بھی ابتر ہو گئے ہیں۔

    یہ معاشرہ انتہائی روایتی ہے۔ جب مغربی اتحادی افواج یہاں موجود تھیں تو انھوں نے تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کام کیا اور اس طرح ان لڑکیوں اور خواتین کو کچھ آزادی ملی۔

    31 اگست کا سورج طلوع ہوتے ہی اس طویل جنگ کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گا۔ امریکہ کی طویل ترین جنگ کا اختتام ہو چکا ہے لیکن افغانوں کے لیے جنگ اب بھی جاری ہے۔

  10. افغانستان میں طالبان: ’طالبان کا رویہ برا نہیں، لیکن ہم خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

  11. افغانستان میں فوجی مشن ختم، سفارتی مشن شروع ہو چکا ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

    anthony blinken

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں 100 سے 200 امریکی باشندے موجود ہیں جن کی صحیح تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے بھی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ آیا وہ افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر ایسا ہے تو ان کی افغانستان سے نکلنے میں معاونت کی جائے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے افغان باشندے جو امریکی پاسپورٹ رکھتے ہیں ان کی بھی واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کابل میں اپنی سفارتی مشن معطل کر دیا ہے لیکن اسے دوحہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم طالبان سے محفوظ منتقلی کے وعدے کی پاسداری کروائیں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اب افغانستان میں ملٹری مشن کا خاتمہ اور سفارتی مشن کا آغاز ہو چکا ہے۔ ’ہم قطر اور ترکی کی خدمات کو سراہتے ہیں اور خطے میں دہشتگردی پر گہری نظر رکھیں گے۔

    انھوں نے کہا ’نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق فیصلہ امریکی مفاد کی روشنی میں کریں گے۔

  12. بریکنگ, افغانستان سےچھ ہزار امریکی شہریوں سمیت ایک لاکھ 23 ہزار افراد کا انخلا یقینی بنایا گیا: امریکہ سیکریٹری خارجہ

    امریکہ کے سیکریٹری خارجہ اینتھونی بلنکن امریکہ کے افغانستان سے انخلا سے متعلق ایک پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

    وہ بائیڈن کی کابینہ کے پہلے رکن ہیں جو اس حوالے سے بات کر رہے ہیں۔

    بلنکن کی جانب سے افغانستان سے انخلا کی کارروائی کو ایک ’بڑا عسکری، خارجہ، اور انسانی امداد کا اقدام‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے مشکل عمل تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اب تک ایک لاکھ 23 ہزار افراد کا افغانستان سے انخلا یقینی بنایا گیا ہے جن میں چھ ہزار امریکی شہری بھی شامل ہیں۔

  13. افغانستان میں زیر زمین سونا، تانبا اور لیتھیم بھرا پڑا ہے، یہ خزانہ اب کس کے ہاتھ آئے گا؟

    afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    افغانستان میں زمین کے نیچے دفن بے پناہ دولت پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ وہاں سونے، تانبے کے ساتھ ساتھ لیتھیم بھی موجود ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق ان کی قیمت ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن اب یہ سوال ہو رہے ہیں کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد قدرتی ذخائر پر کس کا اختیار ہوگا؟

    جیسے ہی امریکہ نے اپنی 20 سالہ مہم ختم کرنے کے بعد واپس ہونے کا فیصلہ کیا، طالبان نے اپنے پاؤں پھیلانا شروع کر دیے۔ برسوں تک جنگی صورت حال کا سامنا کرنے والے اس ملک میں طالبان ایک بار پھر اقتدار میں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا طالبان یہاں موجود قدرتی دولت، انسانی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟

    سوویت اور امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کی پہاڑیوں اور وادیوں میں تانبے، باکسائٹ، خام لوہے کے ساتھ ساتھ سونا اور سنگ مرمر جیسے بہت قیمتی معدنیات ہیں۔ اگرچہ افغانستان ابھی تک ان کی کھدائی اور انھیں فروخت کرنے کے قابل نہیں ہوا ہے، لیکن ان سے حاصل ہونے والی کمائی لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔

    انڈیا، برطانیہ، کینیڈا اور چین کے سرمایہ کاروں نے وہاں کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں لیکن کسی نے بھی ابھی تک کان کنی شروع نہیں کی ہے۔

    عالمی بینک نے تجارت کے لیے موزوں ممالک کی درجہ بندی میں افغانستان کو 190 میں سے 173 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ جبکہ افغانستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوان ممالک کی فہرست میں 180 میں سے 165 ویں نمبر پر ہے۔

  14. افغانستان میں امریکی موجودگی کا آخری دن تصاویر میں!

    US

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنڈیڈلائن سے ایک روز قبل امریکی طیاروں کا انخلا کا آپریشن جاری رہا اور اس دوران کابل میں نیچی پروازیں بھی دیکھنے کو ملیں
    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی پروازوں کے افغانستان سے انخلا کے دوران امریکہ کی جانب سے کابل میں ایک ڈرون حملہ کیا گیا۔ امریکہ کے مطابق اس کا نشانہ ایک دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا خودکش بمبار تھا
    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمبینہ طور پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ پڑھائی گئی۔ ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک ہی خاندان کے 10 افراد اس ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے جس میں چھ بچے بھی شامل تھے۔
    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنطالبان جنگجوؤں کی جانب سے ایک تباہ شدہ گاڑی کا معائنہ کیا جا رہا ہے جسے کابل ایئرپورٹ پر فائر کیے گئے متعدد راکٹ حملوں کے بعد تباہ کیا گیا تھا۔ دولتِ اسلامیہ خراسان نے اس راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ کے انخلا کے درمیان کابل میں زندگی بتدریج معمول پر آ رہی ہے جیسے کہ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کابل میں سکول میں ایک کلاس جاری ہے۔
  15. افغانستان سے انخلا کے بارے میں کل قوم سے خطاب کروں گا: امریکی صدر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 17 دنوں میں ہماری افواج نے امریکی تاریخ کا فضا کے ذریعے سب سے بڑا انخلا یقینی بنایا۔ انھوں نے ایسا مثالی بہادری، پیشہ وارانہ مہارت، اور جرات سے کیا۔ اب افغانستان میں ہماری 20 سالہ موجودگی کا اختتام ہو گیا ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا کے اپنے فیصلے کے حوالے سے عوام سے کل خطاب کریں گے۔

  16. افغان جنگ: امریکہ کی طویل ترین جنگ میں کب کیا ہوا؟

    US

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی آخری پروازوں کی افغانستان سے روانگی سے امریکہ کی طویل ترین جنگ اختتام کو پہنچ چکی ہے۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اس 20 سالہ تنازع کے دوران سب سے بڑے واقعات کیا تھے۔

    • سات اکتوبر 2001: امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کی جانب سے افغانستان میں طالبان اور القائدہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔ یہ ٹھکانے کابل، قندھار اور جلال آباد میں موجود تھے۔ طالبان جنھوں نے سوویت یونین کے افغانستان پر ایک دہائی کے قبضے اور خانہ جنگی کے بعد اقتدار سنبھالا تھا نے القائدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی حوالگی سے انکار کیا تھا۔
    • 13 نومبر 2001: شمالی اتحاد، ایک طالبان مخالف گروہ نے کابل پر قبضہ کر لیا۔
    • سات فروری 2009: امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں افواج کی تعداد میں بڑے اضافے کا اعلان کیا۔ اپنے عروج پر امریکہ اور اتحادی افواج کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ تھی۔
    • 28 دسمبر 2014: نیٹو نے افغانستان سے اپنے عسکری آپریشن کا اختتام کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے ہزاروں فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ ان میں سے جو افواج وہاں موجود تھیں ان کا کام افغان افواج کی ٹریننگ اور معاونت تھا۔
    • 29 فروری 2020: امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ’امن معاہدہ‘ طے پایا۔ امریکی اور نیٹو اتحادیوں کی جانب سے 14 ماہ میں افواج کا انخلا یقینی بنانے پر حامی بھری گئی بشرطیکہ طالبان کی جانب سے معاہدے کی شرائط کی پاسداری کی جائے۔
    • 13 اپریل 2021: امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ تمام امریکی فوجی 11 ستمبر تک افغانستان چھوڑ دیں گے۔
    • 15 اگست 2021: ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں طالبان کی جانب سے افغانستان کے دارالحکومت سمیت ملک کے بیشتر صوبوں کا کنٹرول سنبھال لیا گیا۔ طالبان کی پیش قدمی کے سامنے افغان فوج پسپائی کا شکار ہوئی۔
    • 31 اگست 2021: امریکہ کا افغانستان سے انخلا مکمل ہو گیا۔
  17. امریکہ کا افغانستان سے انخلا کا آپریشن ’تاریخی کامیابی‘

    جنرل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنرل میکنزی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ امریکہ کی فوج کی تاریخ میں انخلا کا سب سے بڑا غیر جنگجو مشن تھا۔

    امریکی فوج نے ایک دن میں 7500 سے زیادہ شہریوں کا انخلا یقینی بنایا، اور اس میں پانچ ہزار فوجی اور ان کا سامان شامل نہیں ہے جو افغانستان میں اس مشن کے لیے بھیجا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک تاریخی کامیابی‘ ہے۔

    جنرل میکنزی نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ’جب امریکی پرواز کابل سے روانہ ہوئی تو اس وقت ایئرپورٹ پر انخلا کے منتظر افراد موجود نہیں تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام امریکی فوجی افغانستان سے واپس آ چکے ہیں۔

  18. ہم نے تاریخ رقم کر دی ہے: طالبان

    ایک سینیئر طالبان اہلکار نے آخری امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے تاریخ رقم کر دی ہے۔‘

  19. افغانستان سے تقریباً 80 ہزار عام شہریوں کا انخلا ممکن بنایا گیا: جنرل فرینک میکنزی

    جنرل فرینک میکنزی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کابل سے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران 80 ہزار عام شہریوں کی منتقلی ممکن بنائی جس میں چھ ہزار امریکی شہری بھی شامل تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آخری پانچ پروازوں میں کوئی امریکی شہری موجود نہیں تھے اور آخری امریکی شہریوں کا انخلا آخری پروازوں سے 12 گھنٹے قبل کر لیا گیا تھا۔

  20. کابل میں امریکی انخلا مکمل ہونے کی خوشی میں ہوائی فائرنگ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    بی بی سی کی چیف بین الاقوامی نمائندہ لیس ڈوسیٹ نے بتایا ہے کہ طالبان کمانڈرز کی جانب سے اب سے کچھ ہی دیر قبل ایسی تصاویر شیئر کی گئی تھیں جس میں طالبان کی ایلیٹ فورس اور امریکی فوجی آپس میں مل رہے تھے جس سے یہ تاثر ملا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا آغاز ہو چکا ہے۔

    لیس ڈوسیٹ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں ہوائی فائرنگ کی آواز سنی جا سکتی ہے جو امریکی انخلا کی خوشی میں کی جا رہی ہے۔