طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. کابل سے اب تک کی اطلاعات

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Stringer

    • امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے اینٹی میزائل سسٹم نے پیر کو کابل ایئرپورٹ کی طرف داغے گئے پانچ راکٹ روک لیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق اس حملے سے انخلا کے آپریشن پر فرق نہیں پڑے گا۔
    • امریکی فوج اتوار کو اپنے ایک ڈرون حملے میں کم از کم نو افغان شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس حملے کے ذریعے امریکی حکام کے مطابق ایئرپورٹ پر خودکش دھماکہ روکا گیا تھا۔
    • امریکی فوج کے مطابق اس نے دولت اسلامیہ کے ایک ممکنہ خودکش بمبار کو نشانہ بنایا تھا جبکہ جائے وقوعہ پر ایک خاندان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں چھ بچوں سمیت اس کے 10 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
    • خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابل ایئرپورٹ سے دھواں اٹھتے دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ کہاں سے خارج ہو رہا ہے، یہ تاحال معلوم نہیں۔
    • اقوام متحدہ کے ایک بیان کے مطابق انخلا کے بعد پناہ گزین کا ایک بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
    • برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ اسے طالبان کے وعدوں پر شک ہے کہ وہ مستحق افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دیں گے۔ لیکن وہ اس کے باوجود مسلح جنگجوؤں سے ’رابطے کے لیے رضامند‘ ہیں۔
  2. کابل ایئرپورٹ کی موجودہ صورتحال

    کابل ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان سے امریکی انخلا اپنے آخری مراحل میں ہے اور اس دوران پیر کو کابل ایئرپورٹ سے دھواں اٹھتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ کہاں سے خارج ہو رہا ہے، اس حوالے سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔

    لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ نے کابل ایئرپورٹ کی طرف داغے گئے چار راکٹ روک لیے ہیں۔

    غیر ملکی شہریوں کے انخلا کا عمل 14 اگست کو شروع ہوا اور اب تک ایک لاکھ سے زیادہ غیر ملکیوں اور افغانوں کو کابل سے دوسرے ممالک میں خصوصی پروازوں کے ذریعے منتقل کیا جاچکا ہے۔ اس دوران طالبان نے کابل کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    تاہم گذشتہ ہفتے ایئرپورٹ پر بم دھماکے کے بعد سے پروازوں کی آمد و رفت کی رفتار کم ہوگئی ہے۔

    برطانیہ نے اپنے شہریوں، سفارتی عملے اور فوجیوں کے انخلا کا عمل مکمل کر لیا تھا۔

    امریکہ نے طالبان سے اپنے معاہدے میں انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈلائن پر اتفاق کیا تھا۔

  3. بریکنگ, شیخ رشید احمد: ایک بھی شخص کو اب تک پناہ گزین کا درجہ نہیں دیا گیا

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان نے اب تک افغانستان سے پاکستان آنے والے کسی بھی فرد کو پناہ گزین کا درجہ نہیں دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ تذکرہ پر آنے والے لوگوں کا علیحدہ حساب کتاب ہے کیونکہ اورکزئی اور دیگر سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی آمد رفت کا سلسلہ کچھ پرانے معاہدوں کے تحت چلتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ تاحال امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 1627 افراد ایئرپورٹ کے راستے اور 2192 افراد طورخم کے راستے پاکستان آ چکے ہیں۔

  4. امریکہ: کابل ڈرون حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تفتیش کر رہے ہیں

    کابل ڈرون حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اتوار کے روز کابل میں ہونے والے ڈرون حملے میں عام شہریوں کے مرنے کی اطلاعات کی تفتیش کر رہا ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملہ ایک ایسی گاڑی پر کیا گیا تھا جس میں نام نہاد دولت اسلامیہ کا کم از کم ایک رکن موجود تھا اور اس ڈرون حملے کے ذریعے کابل ایئرپورٹ کو ایک اور مہلک خود کش حملے سے بچایا گیا ہے۔

    لیکن سوشل میڈیا صارفین کا الزام ہے کہ اس ڈرون حملے میں بہت سے عام شہری، جن میں بچے بھی شامل تھے، مارے گئے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن بل اربن نے کہا ہے کہ ’ہمیں کابل میں ایک گاڑی پر اپنے فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت سے متعلق خبروں کی اطلاع ہے۔‘

    ’یہ واضح نہیں کہ کیا ہوا ہو گا اور ہم اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں۔ کسی معصوم کی جان جانے پر ہمیں گہرا افسوس ہو گا۔‘

  5. طالبان کا انڈیا کے ساتھ ’ماضی کی طرح‘ تجارتی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار

    طالبان، افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین ایکسپریس کے مطابق قطر میں طالبان قیادت نے انڈیا کے ساتھ ’ماضی کی طرح‘ تجارتی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    قطر میں طالبان کے دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس ستکزئی نے کہا ہے کہ ’ہم انڈیا کے ساتھ اپنے سیاسی، معاشی اور تجارتی تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات قائم رہیں۔‘

    شیر محمد عباس ستکزئی کا پشتو زبان میں یہ ویڈیو پیغام 28 اگست کو طالبان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور افغانستان کے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کیا گیا۔

    15 اگست کو کابل پر قبضے کے بعد طالبان کی جانب سے ’انڈیا کے لیے یہ پہلا واضح پیغام‘ ہے۔

    افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر انڈیا ابھی تک ’انتظار‘ کی پالیسی پر کار فرما رہا ہے۔

    اس سے قبل 29 اگست کو انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال انڈیا کے لیے ایک چیلنج ہے، جس نے حکومت کو اپنی حمکت عملی پر دوبارہ غور کرنے کی ترغیب دی ہے۔

  6. کابل راکٹ حملہ: اس بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے کابل میں ہوائی اڈے کی طرف داغے گئے راکٹوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    اس واقعے کی موصول ہونے والی مزید تفیصلات کچھ یوں ہیں:

    • امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے پیر کے روز پانچ راکٹ تباہ کیے ہیں۔
    • ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق امریکہ کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
    • چند مقامی افراد کے مطابق ان کے گھروں پر چھرے گرے ہیں۔
    • ابھی تک کسی گروپ نے اس راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
    • امریکی صدر جو بائیڈن کو اس بارے میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ ’کابل ایئرپورٹ پر جاری امریکی آپریشن ’بغیر کسی رکاوٹ‘ کے جاری ہے۔‘
    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  7. ’طالبان کا رویہ برا نہیں لیکن ہم خطرہ مول لینا نہیں چاہتے‘

    چمن سپن بولدک سرحد پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصروف ترین گزرگاہوں میں سے ہے۔

    کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد یہاں خاصا رش ہے اور طالبان کے خوف کے مارے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین پاکستان آنا چاہتے ہیں۔

    مزید دیکھیے بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔۔۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  8. روس کا اپنے شہریوں، اتحادی ممالک کے لیے پروازوں کا اعلان

    کابل میں روس کے سفارتخانے نے کہا ہے کہ وہ ایسے افراد کی ویزا درخواستوں کو قبول کر رہا ہے، جو انخلا کی اضافی پروازوں میں افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس نے گذشتہ ہفتے افغانستان سے 360 افراد کو نکالا ہے۔

    روس کے سفارتخانے نے کہا ہے کہ یہ پروازیں روسی شہریوں، روس میں رہنے والوں اور روس کے اتحادی ممالک کے باشندوں کے لیے ہیں۔

    ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  9. کابل میں امریکی ڈرون حملے پر طالبان کی تنقید، ’کسی دوسرے ملک پر بغیر بتائے حملہ کرنا غیر قانونی ہے‘

    zabihullah

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ روز کابل میں امریکی افواج نے دعوی کیا کہ انھوں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ممکنہ خود کش حملہ آور کو نشانہ بنایا تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکہ کو اس حملے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    چینی سرکاری ٹی وی سی جی ٹی این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے یہ حملہ طالبان کو اطلاع دیے بغیر کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے کسی دوسرے ملک کی حدود میں ایسے حملے کرنا غیر قانونی ہے۔

    دوسری جانب مقامی میڈیا کے مطابق اس حملے میں کابل کے ایک خاندان کے نو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ طلوع نیوز کے ایک پریزینٹر مسلم شیرزاد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک افغان آرمی کے فوجی سمیت دو مترجم اور ایک دکان دار تھا جبکہ اس کے علاوہ چار بچے بھی شامل تھے جو اس ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے۔

    امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے بھی اپنے ایک مقامی صحافی کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والے خاندان کے ایک رشتہ دار نے انھیں بتایا ہے کہ امریکی حملے میں شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

  10. صدر بائیڈن کو کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملے پر بریفنگ، ’آپریشن میں خلل نہیں پڑا‘: وائٹ ہاؤس

    Kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو سوموار کی صبح کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے راکٹ حملے کے متعلق بریفنگ دی گئی ہے اور انھیں بتایا گیا ہے کہ اس حملے سے ہوائی اڈے پر آپریشن میں خلل نہیں پڑا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیوان اور چیف آف سٹاف رون کلین نے صدر بائیڈن کو کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ پر راکٹ حملے کے متعلق بریفنگ دی۔‘

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کو امریکی حکام نے بتایا تھا کہ اس حملے میں کم از کم پانچ راکٹ ایئرپورٹ پر داغے گئے تھے لیکن ایئرپورٹ کے خودکار میزائل دفاع نظام نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔

  11. اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت امریکہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں افغانستان سے انخلا کی صورتحال زیر بحث

    Dominac Raab

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ عالمی سطح پر ایک اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ طالبان پر زور دیا جائے کہ وہ ان غیر ملکی اور افغان شہریوں جو ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کو محفوظ راستہ دینے کے وعدے کی پاسداری کرے۔

    اس سلسلے میں متعدد عالمی سطح کے سفارتی اجلاس ہوں گے اور رواں ہفتے میں برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب ترک اور قطری حکام سے اس سلسلے میں ملاقات کریں گے۔

    یہ خدشہ ہے کہ آٹھ سو سے گیارہ سو کے قریب ایسے اہل افغان شہری جنھوں نے برطانیہ کے ساتھ کام کیا اور ایک سو سے ڈیڑھ سو کے قریب برطانوی شہری انخلا کے دوران پروازیں حاصل نہیں کر سکے۔

    برطانیہ کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ سمیت دیگر بہت سے ممالک کو طالبان کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان غیر ملکی اور افغان شہریوں کو جن کے پاس مکمل دستاویزات ہوں گے، ملک چھوڑنے کی اجازت ہو گی۔

    چاہے طالبان اپنے وعدے کو نبھا بھی رہے ہو تو بھی بھی ان افراد کے لیے ایک غیر یقینی کی کیفیت موجود ہے کہ جو سرحدوں پر پہنچ چکے ہیں تاہم ان کے ہمسایہ ممالک نے ابھی تک ان افراد کے ملک میں داخلے کے لیے کوئی مراکز قائم نہیں کیے ہیں۔

    سوموار کو ہونے والے سفارتی اجلاسوں میں برطانوی حکام یہ کوشش کریں گے کہ وہ عالمی برادری کی حمایت حاصل کر سکے کہ طالبان اپنے وعدے کی پاسداری کریں۔

    برطانوی سیکرٹری خارجہ راب امریکی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ترک اور قطری حکام سے اس سلسلے میں بات کریں گے کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان ممالک کا مغربی ممالک کے مقابلے پر طالبان پر زیادہ اثر و رسوخ ہے۔

    ان اجلاسوں کے دوران جس میں جی سیون ممالک کے سربراہان اور نیٹو حکام بھی شریک ہوں گے توقع ہے کہ برطانوی سیکرٹری خارجہ یہ بات بھی سامنے رکھیں گے کہ خطے میں استحکام کے ساتھ افغانستان کو دوبارہ سے دہشت گردوں کی محفوظ آماجگاہ بننے سے روکا جائے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکہ، فرانس، چین، روس اور برطانیہ کا اجلاس بھی آج ہو رہا ہے۔

  12. افغانستان سے انخلا کی مدت ختم ہونے کو، کس ملک نے کتنے افراد کا انخلا ممکن بنایا, عابد حسین، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    Kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اتوار کی شب کابل سے امریکہ روانہ ہونے والے فوجی طیاروں میں ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کی روانگی کے بعد افغانستان سے امریکی شہریوں کے انخلا کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اگلے 48 گھنٹوں میں وہاں تعینات فوجی دستے اور سفارتی عملہ بھی ملک چھوڑ دے گا۔

    اس طرح 31 اگست کو تقریباً دو دہائی تک جاری رہنے والی امریکہ کی ’طویل ترین جنگ‘ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔

    جب 15 اگست کو طالبان دارالحکومت کابل کے داخلی راستوں تک پہنچ گئے تھے تو اسی اثنا میں کابل ایئرپورٹ پر ہزاروں افراد جمع ہونا شروع ہو گئے جو طالبان کے خوف سے ملک چھوڑنے کے لیے بے تاب تھے۔

    اس کے اگلے دو ہفتوں میں ہزاروں کی تعداد میں مغربی ممالک کے شہری اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے لیے کام کرنے والے افغان شہری اور ان کے خاندان والے بھی افغانستان چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے اور 15 دنوں میں تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار افراد افغانستان سے باہر جا چکے ہیں۔

    امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کے مطابق صرف 28 اگست کو 32 امریکی فوجی طیاروں کی مدد سے چار ہزار افراد روانہ ہوئے جبکہ اتحادی ممالک کے 34 طیاروں میں 2800 افراد کابل سے پرواز کر گئے۔

    ترجمان کے مطابق امریکہ جانے والے 117000 افراد میں سے 5400 امریکی شہری جبکہ باقی تمام افغان شہری ہیں۔

    برطانیہ:

    برطانیہ نے اس عرصے میں 15 ہزار افرد کو ملک سے باہر نکالا ہے لیکن برطانوی افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم 1100 افغان ایسے ابھی بھی ہیں جنھیں وہ کابل سے نہیں نکال سکے اور انھیں اس کا بہت افسوس ہے۔

    تاہم چند برطانوی قانون سازوں کا خیال ہے کہ افغانستان میں رہ جانے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

    امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ افغانستان سے جن ممالک نے کم از کم ہزار سے زیادہ افراد کو وہاں سے نکالا ہے ان کی تعداد دس ہے۔

    ان ممالک کی تفصیلات ذیل میں ہیں:

    پاکستان 22000

    اٹلی 5011

    جرمنی 5347

    آسٹریلیا 4100

    کینیڈا 3700

    فرانس 3000

    نیدرلینڈز 2500

    بیلجیئم 1400

    سویڈن 1100

    ڈنمارک 1000

  13. افغان صحافیوں کا طالبان پر میڈیا سرگرمیوں پر پابندیاں لگانے کا الزام, بی بی سی مانیٹرنگ

    Taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے ٹی وی چینل طلوع نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان صحافی یہ شکایت کر رہے ہیں کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے انھیں مطلوبہ معلومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ رپورٹنگ کی غرض سے مطلوبہ معلومات کے حصول کے لیے وہ اپنے ذرائع سے رابطہ نہیں کر سکتے اور انھوں نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ معلومات کے تبادلے کی اجازت دے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ طالبان ارکان انھیں کسی بھی واقعے یا جگہ کی تصاویر لینے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔

    توفیق نامی کابل کے ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں طالبان کے قبضے خصوصاً کابل آنے کے بعد سے صحافیوں کو معلومات کے ذرائع سے رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے انھیں پریشانی کا سامنا ہے۔ چند دیگر کیسز میں وہ ہماری صحافتی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگاتے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ایک اور صحافی عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’صحافی تصاویر نہیں کھینچ سکتے، ویڈیو نہیں بنا سکتے، لوگوں کے انٹرویوز نہیں کر سکتے حتیٰ کہ اس میں طالبان کے مجاہدین کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ جب چند دن قبل کابل ایئرپورٹ پر حملہ ہوا تو کچھ صحافیوں نے جائے وقوع پر جانے کی کوشش کی تاکہ ابتدائی معلومات جمع کی جا سکیں لیکن ہم نے دیکھا کہ طالبان ارکان لوگوں کو وہاں تک جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔‘

    تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    طالبان کی کلچرل کمیٹی کے نائب سربراہ احمداللہ واثق کا کہنا تھا کہ ’ہم صحافیوں کو وقت پر معلومات دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ عمل جاری ہے۔‘

    افغان صحافیوں نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ میڈیا کے کام پر پابندیاں لگانے سے باز رہیں۔

  14. کابل میں امریکی ڈرون حملے نے ایئرپورٹ پر ممکنہ خودکش حملے سے بچایا: امریکی فوج

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں امریکی ڈرون حملہ ایئرپورٹ پر ایک اور ممکنہ خودکش حملہ روکنے کے لیے کیا گیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم ایک ممکنہ خودکش حملہ آور سوار تھا جس کا تعلق شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کی افغان شاخ سے تھا۔

    اتوار کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے کیپٹن بل اربن کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون حملہ کابل ایئرپورٹ پر ’ممکنہ حملے کے خطرے کو ختم‘ کرنے کے لیے کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پراعتماد ہیں کہ ہم نے کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس میں دھماکے ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں کافی مقدار میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سینٹرل کمانڈ کو اس ڈرون حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کی خبروں کے بارے میں علم ہے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ابھی غیر واضح ہے کہ کیا ہوا ہے اور اس پر مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ اور سینٹرل کمانڈ کو کسی ممکنہ معصوم شہری ہلاکت پر بہت افسوس ہے۔‘

    ان کا یہ بیان گذشتہ روز کابل ایئرپورٹ کے قریب زور دار دھماکے کی خبروں کے بعد سامنے آئے تھے۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بعض مناظر میں کابل شہر میں عمارتوں کے عقب سے کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    امریکہ نے انخلا مکمل ہونے تک مزید حملوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

  15. کابل ایئرپورٹ پر متعدد راکٹ فائر کیے جانے کی اطلاعات

    سکیورٹی ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سوموار کی صبح کابل ایئرپورٹ پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

    یہ راکٹ ایسے وقت میں فائر کیے گئے ہیں جب امریکہ کو اپنے فوجیوں کا انخلا مکمل کرنے میں 48 گھنٹے سے کم کا وقت رہ گیا ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے عملے کا کہنا ہے کہ انھوں نے علی الصبح دارالحکومت کابل کی فضا میں راکٹ داغے جانے کی آوازیں سنیں۔

    طالبان کی جانب سے دو ہفتے قبل اقتدار سے بے دخل کی گئی حکومتی انتظامیہ کے سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ کابل کے شمال سے ایک گاڑی سے داغے گئے ہیں۔

    مقامی رہائشیوں کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے دفاعی نظام سے راکٹ حملوں کو روکنے کی آوازیں بھی سنی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایئرپورٹ خودکار دفاعی نظام کے چھرے بھی سڑکوں پر گرے ہیں جس سے یہ علم ہوتا ہے کہ کم از کم ایک راکٹ حملے کو ناکام بنایا گیا ہے۔

    شہر کے شمال میں جہاں حامد کرزئی ایئرپورٹ واقع ہے، عمارتوں کے عقب سے فضا میں دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پوسٹ جن کی فوری تصدیق نہیں کی جا سکی ہے میں ایک گاڑی کو جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس بارے میں تاحال مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

  16. طالبان تنظیم کے اہم رہنما کون ہیں؟

    طالبان کے تنظیمی ڈھانچے میں ذمہ داران کون ہیں اور کن صلاحیتوں کے حامل ہیں؟ اس چارٹ میں آپ کو تمام اہم رہنماؤں کے حوالے سے معلومات مل جائیں گی۔

    taliban
  17. افغانستان کی تازہ ترین صورتحال

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہSHAFI KARIMI

    صبح بخیر اور بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے حوالے سے ہماری کوریج جاری ہے اور یہاں آپ کو اس اہم خبر سے جڑی تازہ ترین معلومات، خبریں اور تجزیے ملیں گے۔

    اب تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

    • فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوموار کی صبح کابل میں متعدد راکٹ فائر کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ راکٹ کہاں سے داغے گئے اور ان کا ہدف کیا تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز امریکہ نے کابل میں ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کو فضائی حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔امریکہ افغانستان سے اپنا آخری فوجی دستہ منگل کی شب تک نکال لے گا۔
    • طالبان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی پشتو کو تصدیق کی ہے کہ طالبان کے رہنما ملا ہبت اللہ قندھار میں ہیں۔ جبکہ طالبان کے ترجمان کے دفتر نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت جلد منظر عام پر آئیں گے۔
    • برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب اور برطانوی سفارتکار افغانستان میں طالبان کے ساتھ تعلقات اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے مختلف بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ طالبان پر زور دیں کہ وہ اپنے بات پر قائم رہتے ہوئے ان غیر ملکی اور افغان شہریوں جن کے پاس مکمل دستاویزات ہیں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دیں گے۔

    گذشتہ ہفتے کیا کیا ہوا؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔