فضائی حملوں کی قوت کے بغیر طالبان نے راکٹ حملوں اور دیگر ہتھیاروں کی مدد سے زمینی لڑائی میں کئی شہروں اور اہم صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ جبکہ کچھ علاقوں میں مقامی رہنماؤں نے خونریزی سے بچنے کے لیے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
دارالحکومت کابل میں صرف اسی صورت میں خونریزی روکی جاسکتی ہے اگر حکومت اور طالبان میں سیاسی معاہدہ طے پاتا ہے۔
تاہم مسلح جنگجوؤں نے کہا ہے کہ وہ صدر اشرف غنی کی قیادت میں حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔
دوسری طرف صدر غنی نے استعفے کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے۔
سنیچر کو انھوں نے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر مقامی رہنماؤں اور بین الاقوامی اتحادیوں سے بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی فورسز کی تنظیم نو ان کی اولین ترجیح ہے۔
عالمی سطح پر بھی دونوں فریقین کے درمیان سیز فائر اور سیاسی مفاہمت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کابل کی 50 لاکھ کی آبادی میں گذشتہ ہفتوں کے دوران ہزاروں افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ملک بھر میں لڑائی سے بچنے کے لیے دارالحکومت کا رُخ کیا اور اس کے گرد و نواح علاقوں میں پناہ لی۔
افغان فوج نے اب تک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کابل کا دفاع کرے گی۔