جب سے طالبان جنگجو کابل کے گرد و نواح میں پہنچے ہیں تب سے دارالحکومت کے شہری خوف میں مبتلا ہیں۔ سرکاری دفاتر خالی کرا لیے گئے ہیں اور دکانیں بند ہوچکی ہیں۔ حکومتی سطح پر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
کابل کے ساتھ موجود شہروں پر قبضے کے بعد یہ واضح تھا کہ طالبان اب کابل کو ہدف بنائیں گے۔ یہ واحد بڑا شہر تھا جہاں حکومت کو کنٹرول حاصل تھا۔
ممکنہ طور پر کئی جنگجو پہلے سے کابل داخل ہوچکے تھے یا کابل کے اندر ہی رہائش پذیر تھے۔
فوجی حکمت عملی کے اعتبار سے ان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ کابل میں لڑائی کی صورت میں بہت زیادہ خونریزی ہوگی اور شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ طالبان یہ جانتے ہیں اور وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اب بدل چکے ہیں۔
انھوں نے ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں اور حکومتی اہلکاروں کو باحفاظت نکلنے کی اجازت دی ہے۔ افغان فوج کے خلاف ان کی نفسیاتی جنگ اب تک کامیاب رہی ہے۔ کئی صوبے تو بغیر لڑائی کے ان کے قبضے میں آگئے تھے۔
کابل میں جہاں مغربی شہری ملک واپسی کی کوششیں کر رہے ہیں تو وہاں ممکن ہے کہ طالبان یہی کھیل کھیلیں گے۔
طالبان پہلے ہی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا سے انھوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دے دی ہے۔
مقامی رہنماؤں کا یہ سوچنا کہ وہ امریکی اور برطانوی شہریوں کی وطن واپسی میں معاونت کر سکتے ہیں اور اس سے انھیں پروپگینڈا کی سطح پر بڑی فتح حاصل ہوگی، حیران کن نہیں۔