افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور افغان فوج کے ساتھ ان کی لڑائی پر پاکستان میں بھی مختلف حلقوں نے نظر رکھی ہوئی ہے۔ سرکاری سطح پر تو پاکستانی حکام افغانستان میں کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کرتے بلکہ مذاکرات کے ذریعے امن کی بات کرتے ہیں۔ مگر ملک میں کچھ حلقے اب بھی طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعے کو مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے رہنماؤں کی ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں وہ افغانستان میں طالبان کی کامیابیوں پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں۔
افغان طالبان نے ملک کے بڑے شہروں قندھار اور ہلمند پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ انھیں ان اہم شہروں کا مکمل کنٹرول حاصل ہوچکا ہے تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یورپین پریس فوٹو ایجنسی نے ان تصاویر کے حوالے سے بتایا ہے کہ جماعت جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے رہنما افغانستان میں ’طالبان کی فتوحات‘ پر کافی خوش ہیں اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلا رہے ہیں۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق جمعے کو جے یو آئی نظریاتی کے رہنما اور کارکنان کوئٹہ میں پارٹی کے دفتر میں جمع ہوئے جن میں مولانا عبدالستار لونی اور سید عبدالستار چشتی کے علاوہ دیگر رہنما شامل تھے۔
اس سلسلے میں سنیچر کو نواں کلی کے علاقے میں جے یو آئی کے رہنماﺅں کا ایک اجتماع ہوا جس میں افغان طالبان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔
جے یو آئی نظریاتی کے رہنما ابتدا سے افغان طالبان کے حامی رہے ہیں۔ وہ پہلے جے یو آئی (فضل الرحمان گروپ) کا حصہ تھے۔ مگر جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جے یو آئی کی افغان طالبان کی حمایت میں سرد مہری آئی تو بلوچستان میں جماعت کے بعض رہنماؤں نے جے یو آئی نظریاتی کے نام سے ایک الگ دھڑا قائم کیا۔
مرکزی جماعت سے علحیدگی کے بعد انھوں نے اپنی جماعت کو پاکستان بھر میں منظم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
جے یو آئی نظریاتی 2008 سے عام انتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہے تاہم 2008 کے عام انتخابات کے سوا اسے دیگر انتخابات میں کامیابی نہیں ملی۔ اسے بلوچستان سے 2008 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی ایک، ایک نشست پر کامیابی ملی تھی۔