اقوام متحدہ میں
پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں سیاسی
مفاہمت کے لیے کوشش کر رہا ہے اور اسی لیے افغانستان کے سیاسی نمائندوں کا وفد
اسلام آباد میں آج ہمارے قائدین سے ملا ہے۔
یہ بات انھوں نے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔ گفتگو کے آغاز میں انھوں نے پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ پڑھ کر
سنایا جس کے بعد ان کا کہنا تھا پاکستان ان کے ساتھ کام کررہا ہے اور طالبان کے
ساتھ بھی رابطے میں ہے۔
ایک سوال کے جواب
میں ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان نے تسلیم کیا ہے کہ وہ مفاہمتی حکومت کو قبول کریں
گے اور ہم نے اسی لیے افغانستان کی پارٹیز کو بات چیت کے لیے دعوت دی ہے۔‘
’افغانستان کے
لوگ ہی انتخاب کریں گے کہ انھیں کیسا نظام مملکت چاہیے۔ انھیں ہی اپنا آئین بنانا
چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا
کہ پاکستان افغانستان میں موجود پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجود
کسی بھی ملک کے ’تمام تر سفارتی عملے، غیر ملکی امدادی اداروں کے اہلکاروں اور
تمام ایسے افراد جو خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں، انھیں افغانستان سے نکلنے میں
مدد کر رہا ہے۔‘
منیر اکرم کا کہنا تھا ’پاکستان کے سفارتخانے میں ویزے پر کام کیا جا رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔ جیسے ہی نکالے جانے کے لیے حالات ساز گار ہوتے ہیں پروازوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔‘
نئی افغان حکومت میں خواتین
خواتین کے نئی افغان حکومت میں ممکنہ کردار کے بارے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’یہ اہم ہے کہ افغان خواتین ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ طالبان اور حکومت انھیں یہ کردار ادا کرنے دیں گے۔ اسلام میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ امید ہے ان حقوق کا احترام کیا جائے گا۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی کہ خواتین بھی نئی افغان حکومت کا حصہ ہوں گی۔
انسانی امداد میں پاکستان کا تعاون
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ منیر اکرم کا کہنا تھا پاکستان چاہتا ہے کہ اس طویل تنازع کے باعث انفراسٹرکچر کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی بحالی کے لیے کام کیا جائے۔
انھوں نے کہا ’ہم نے افغانستان میں فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کو انسانی امداد تک رسائی فراہم کی جائے۔‘
سامتی کونسل کے کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کو افغانستان میں اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے اور افغان عوام کے لیے انسانی امداد کے لیے کام کرنا چاہیے۔ پاکستان اس میں پوری طرح تعاون کرے گا۔