طالبان کی کابل آمد اور افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ملک میں سیاسی مفاہمت کے لیے بات چیت جاری ہے جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ اگلی حکومت یا نظام کیسا ہوگا۔
طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کی شام طالبان کے رہنما امیر خان متقی کابل گئے ہیں اور متعدد افغان سیاستدانوں سے ملاقات کی ہے۔
طلوع نیوز کے مطابق متقی اس دوران سابق افغان صدر حامد کرزئی، قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ اور مشرانو جرگے کے چیئرمین عبدالہادی مسلمیار سے ملے ہیں۔
تاہم طالبان کے کسی ترجمان نے اس پیشرفت کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی۔
دریں اثنا افغان سیاستدانوں کا ایک گروہ اسلام آباد گیا ہے تاکہ موجودہ صورتحال اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے پر بات چیت ہوسکے۔ اس گروہ میں یونس قانونی، محمد محقق، محمد کریم خلیلی، صلاح الدین ربانی، میر رحمان رحمانی شامل ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی پیر کو افغان سیاستدانوں سے ملے ہیں۔ انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’پاکستان افغانستان میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو تمام حلقوں کی نمائندگی کرے اور وہاں سیاسی مفاہمت کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔‘
حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے لوگوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے وہ طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں۔
غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ شاید وہ اس بات چیت کے لیے دوحہ میں طالبان رہنماؤں سے ملیں۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور انڈیا میں اپنے ہم منصب سے بات کی ہے۔
’طالبان کی حکمت عملی مثبت ہے‘
افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد کابل میں روسی سفیر نے مسلح جنگجو گروہ کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’طالبان ہمارے پاس آئے اور ہمیں سلامتی کی یقین دہانی کرائی۔۔۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ سفارتخانے کو سکیورٹی دی جائے گی اور اس لیے ماحول پُرامن رہا۔‘
’ان کی حکمت عملی مثبت اور کاروباری ہے۔ متفقہ رائے میں رکاوٹیں نہیں آئیں گی۔‘
ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں اور ان کے خیالات کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام فریقین سے بات چیت کر رہے ہیں۔
اسی طرح چین اور ایران نے بھی اپنی اپنی سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔