آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑا جو امریکی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا: مائیک پینس

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’میڈیا ہم پر تنقید کرے، ہمارے خلاف کام نہ کرے‘

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’میں میڈیا کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ہمارے ثقافتی ڈھانچے میں رہتے ہوئے میڈیا کی آزادی کے لیے پرعزم ہیں۔‘ ’پرائیوٹ میڈیا آزاد اور غیر جانبدار انداز میں کام جاری رکھ سکتا ہے۔

    ہمارے ملک میں اسلام بہت اہم ہے، اس لیے میڈیا کو اپنے پروگرام بناتے ہوئے اسلامی اصولوں کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔‘

    ’میڈیا کی غیر جانبداری بہت اہم ہے، وہ ہمارے کام پر تنقید کر سکتے ہیں تاکہ ہم بہتر ہو سکیں۔ مگر اُنھیں ہمارے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے۔‘

  2. خواتین ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں گی: ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’میں بین الاقوامی برادری کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔‘ طالبان ترجمان نے کہا کہ ’ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ کسی قسم کے مسائل نہیں چاہتے۔‘

    ’ہمارے پاس اپنے مذہبی اصولوں کے تحت عمل کرنے کا حق ہے۔ دیگر ممالک کی دیگر حکمت عملی ہو سکتی ہے، افغان لوگوں کے اپنی روایات کے مطابق قواعد و ضوابط ہیں۔‘

    ’ہم شرعی نظام کے تحت خواتین کے حقوق کا عہد کرتے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں گی۔ ہم بین الاقوامی برادری کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کوئی تفریق نہیں ہوگی۔‘

  3. ’ہم سے لڑنے والے تمام لوگوں کو معاف کر دیا ہے، کوئی دشمن نہیں چاہتے‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ افغانستان اب مزید عرصہ میدانِ جنگ نہ رہے۔‘

    ’ہم نے ہمارے خلاف لڑنے والے تمام لوگوں کو معاف کر دیا ہے۔ دشمنیاں ختم ہو گئی ہیں۔ ہم کوئی داخلی و بیرونی دشمن نہیں چاہتے۔‘

  4. طالبان کی پریس کانفرنس شروع، ذبیح اللہ مجاہد کا خطاب جاری

    طالبان کی پریس کانفرنس شروع ہو چکی ہے اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہ اس وقت پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ امارتِ اسلامی کسی سے انتقام نہیں لے گی۔

    ’ہم یقینی بنانا چاہتے تھے کہ افغان سرزمین پر مزید تنازع نہیں ہو۔ ہم کوئی تنازع اور کوئی جنگ دہرانا نہیں چاہتے۔‘

  5. ملا عبدالغنی برادر قندھار پہنچ گئے

    دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اخوند افغانستان پہنچ گئے ہیں۔ اُن کی واپسی کی اطلاع طالبان ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دی ہے۔

    ڈاکٹر نعیم نے بتایا ہے کہ ملا برادر آج دوپہر قندھار پہنچے ہیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر بعد طالبان افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس کرنے والے ہیں جس میں متوقع طور پر نئی حکومت اور نظام کے خد و خال واضح کیے جائیں گے۔

  6. طالبان نے صحافیوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کروائی ہے، آر ایس ایف

    صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے کہا ہے کہ طالبان نے اُنھیں افغانستان میں صحافیوں کو نشانہ نہ بنانے اور خواتین کو میڈیا میں کام کرنے دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مذکورہ تنظیم کے حوالے سے بتایا کہ یہ یقین دہانی طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے کروائی گئی۔

    یاد رہے کہ سنہ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دورِ حکومت میں صرف ایک ریڈیو سٹیشن وائس آف شریعہ کے علاوہ تمام میڈیا پر پابندی تھی۔

  7. سہیل شاہین: کسی گروہ کو افغانستان کی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ وہ کسی گروہ کو افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    پاکستانی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ جس جس ملک اور ادارے کے افغانستان میں نامکمل پراجیکٹس ہیں، وہ اُنھیں مکمل کریں کیونکہ وہ عوام کے لیے ہیں۔

    تاہم اُن کا یہ کہنا تھا کہ اگر اُن ممالک نے افغانستان کی سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہا تو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  8. قطری وزیرِ خارجہ کی ملا برادر سے ملاقات، شہریوں کے تحفظ پر زور

    قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملّا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی ہے جس میں اُنھوں نے افغانستان میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

    یاد رہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر قطری حکومت کی دعوت پر قائم کیا گیا تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے قطری وزارتِ خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’میٹنگ میں افغانستان میں تازہ ترین سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا‘ اور ساتھ ہی ساتھ شہریوں کے تحفظ، قومی مفاہمت، جامع سیاسی سمجھوتے اور پرامن انتقالِ اقتدار کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

  9. طالبان لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہوں، سینیئر قیادت کا حکم

    طالبان نے اپنے جنگجوؤں کو لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہونے اور بالخصوص کابل میں سفارتی گاڑیوں کا راستہ نہ روکنے کا حکم دیا ہے۔

    طالبان کے نائب امیر مولوی یعقوب نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں یہ حکم جاری کیا کیونکہ ایسی اطلاعات آ رہی تھیں کہ گذشتہ روز لوٹ مار میں طالبان جنگجو بھی ملوث تھے۔

    افغانستان میں طالبان نے گذشتہ چند دنوں میں تقریباً مکمل طور پر ملک کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تمام سرکاری ملازمین کو کام پر واپس لوٹنے کے لیے کہا گیا ہے جبکہ لٹیروں کو پکڑے جانے پر سخت سزاؤں کی وارننگ دی ہے۔

    کابل میں آج کچھ مقامات پر بیکریاں اور میڈیکل سٹورز کھلے رہے اور سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں نظر آئی۔ کابل میں ہی ایک خاتون ٹی وی اینکر نے ایک طالبان رہنما کا انٹرویو بھی کیا جو 20 سال قبل کے طالبان دور میں ناقابلِ تصور تھا۔

    مگر گاڑیوں اور ہوٹلوں میں اب میوزک نہیں سنائی دے رہا ہے جبکہ خواتین کی تصاویر والے اشتہارات پر پینٹ کر دیا گیا ہے۔

    متوقع ہے کہ آج سینیئر طالبان رہنما کابل میں پریس کانفرنس کر کے ملک کے مستقبل اور نئی حکومت کے حوالے سے اپنے منصوبوں کا اعلان کریں گے۔

  10. ملالہ کے والد: ’طالبان انسانی تہذیب کا اُلٹ ہیں‘

    بچوں کے حقوق کے کارکن اور نوبیل انعام یافتہ ملالہ کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کا دن ’انسانی تہذیب کا تاریک ترین دن تھا۔‘

    انھوں نے افغانستان سے امریکی انخلا پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ان کی واپسی پر غصہ نہیں۔ ایک قوم اور ملک کے پاس اپنی فوج، اپنے لوگ ہونے چاہیے جو جمہوریت اور انسانی حقوق کا تحفظ کریں۔ مجھے ان کے انخلا کے طریقے پر سخت غصہ ہے۔‘

    ضیا الدین نے بتایا کہ ان واقعات پر ان کی بیٹی کو کافی حیرت ہوئی ہے۔ ’طالبان کے نظریات کے ساتھ ہمارا تجربہ رہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ طالبان کون ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بدل گئے ہیں۔ ہمیں فی الحال یہ معلوم نہیں۔‘

    انھوں نے یہاں تک کہا کہ ’مجھے معلوم ہے طالبان انسانی تہذیب کا اُلٹ ہیں۔‘

  11. پاکستان کے حکومتی ترجمان: ’افغانستان میں پُرامن تبدیلی خوش آئند ہے‘

    پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی حکومت افغانستان میں مستقبل کی ممکنہ طالبان حکومت کے حوالے سے تنہا کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔

    فواد چوہدری نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے گا۔

    ’افغانستان کے حوالے سے دوست ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ توقع ہے کہ طالبان انسانی حقوق کا خیال رکھیں گے۔‘

    پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ’افغانستان میں پُرامن تبدیلی خوش آئند ہے۔‘

  12. افغانستان میں طالبان ’اقتدار‘ میں، اشرف غنی کس حد تک ذمہ دار ہیں؟

  13. افغانستان میں قیام امن کے لیے ملکی و غیر ملکی سطح پر بات چیت جاری

    طالبان کی کابل آمد اور افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ملک میں سیاسی مفاہمت کے لیے بات چیت جاری ہے جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ اگلی حکومت یا نظام کیسا ہوگا۔

    طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کی شام طالبان کے رہنما امیر خان متقی کابل گئے ہیں اور متعدد افغان سیاستدانوں سے ملاقات کی ہے۔

    طلوع نیوز کے مطابق متقی اس دوران سابق افغان صدر حامد کرزئی، قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ اور مشرانو جرگے کے چیئرمین عبدالہادی مسلمیار سے ملے ہیں۔

    تاہم طالبان کے کسی ترجمان نے اس پیشرفت کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی۔

    دریں اثنا افغان سیاستدانوں کا ایک گروہ اسلام آباد گیا ہے تاکہ موجودہ صورتحال اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے پر بات چیت ہوسکے۔ اس گروہ میں یونس قانونی، محمد محقق، محمد کریم خلیلی، صلاح الدین ربانی، میر رحمان رحمانی شامل ہیں۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی پیر کو افغان سیاستدانوں سے ملے ہیں۔ انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’پاکستان افغانستان میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو تمام حلقوں کی نمائندگی کرے اور وہاں سیاسی مفاہمت کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے لوگوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے وہ طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں۔

    غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ شاید وہ اس بات چیت کے لیے دوحہ میں طالبان رہنماؤں سے ملیں۔

    بین الاقوامی سطح پر امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور انڈیا میں اپنے ہم منصب سے بات کی ہے۔

    ’طالبان کی حکمت عملی مثبت ہے‘

    افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد کابل میں روسی سفیر نے مسلح جنگجو گروہ کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’طالبان ہمارے پاس آئے اور ہمیں سلامتی کی یقین دہانی کرائی۔۔۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ سفارتخانے کو سکیورٹی دی جائے گی اور اس لیے ماحول پُرامن رہا۔‘

    ’ان کی حکمت عملی مثبت اور کاروباری ہے۔ متفقہ رائے میں رکاوٹیں نہیں آئیں گی۔‘

    ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں اور ان کے خیالات کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام فریقین سے بات چیت کر رہے ہیں۔

    اسی طرح چین اور ایران نے بھی اپنی اپنی سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  14. چین: امریکہ کی طاقت تعمیر نہیں، تباہی ہے

    چین نے امریکہ کو کابل ایئر پورٹ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے عراق اور شام کے بعد اب افغانستان میں بھی تباہی مچا کر رکھ دی ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے منگل کو بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ نے 20 سال قبل افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا لیکن اس دوران ملک میں دہشت گرد تنظیموں میں بےانتہا اضافہ ہوا ہے۔

    ’امریکہ کی فوج جہاں جاتی ہے، بیشک وہ عراق ہو، شام یا افغانستان، وہ اپنے پیچھے بد امنی، تفریق اور تباہ شدہ گھر چھوڑ کر جاتی ہے۔ امریکہ کی طاقت تعمیر نہیں تباہی ہے۔‘

  15. اس ڈرامائی تصویر کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

    یہ ڈرامائی تصویر افغانستان کے المیے کی عکاسی کرتی ہے۔

    اتوار کو کابل ایئر پورٹ سے روانہ ہونے والے امریکی سی 17 طیارے پر کئی سو افغان شہریوں نے سوار ہونے کی کوشش کی تھی اور ان میں کئی جہاز کے آدھے کھلے ریمپ یا دروازے سے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    یہ طیارہ طالبان کے کابل میں داخل ہونے سے کچھ ہی دیر قبل ہی اڑا تھا تاہم ان لوگوں کو باہر نکالنے کے بجائے طیارے کے عملے نے انھیں جہاز میں جگہ دی اور اس طرح 640 افراد امریکی اہلکاروں سمیت قطر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

    یہ کسی بھی سی 17 طیارے کی پرواز میں سوار ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

  16. کابل میں آج کیا ہو رہا ہے؟, ملک مدثر، بی بی سی نیوز، کابل

    سڑکیں زیادہ تر خالی ہیں اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔

    لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور انھیں لگ رہا ہے کہ حالات کسی بھی وقت بگڑ سکتے ہیں، اسے لیے زیادہ تر شہری گھروں میں ہی بیٹھے ہیں۔

    کریانے کی دکانیں کھلی ہیں اور کچھ لوگ سامان خریدنے کے غرض سے وہاں آ رہے ہیں تاہم بڑے شاپنگ مال اور دیگر بازار اب بھی بند پڑے ہیں۔

    گذشتہ دو دنوں میں ڈالر کی قیمت کافی بڑھی ہے اور چونکہ افغانستان کی معیشت درآمدات پر چلتی ہے اس لیے ہر چیز ہی تھوڑی بہت مہنگی ہو گئی ہے۔

    ہمارے اوپر کسی قسم کے قدغن نہیں ہیں اور ہم سڑک پر لوگوں سے بات کر سکتے ہیں، انھیں فلمبند بھی کر سکتے ہیں۔

    میں نے کل بھی یہی کیا تھا لیکن آج مجھے لگا کہ شاید ایسا کرنے کی اجازت نہ ملے۔ تاہم مجھے کام کے دوران کسی نے نہیں روکا اور نہ ہی کسی نے پوچھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔

    طالبان ہر جگہ ہیں۔ انھوں نے شہر کی سیکیورٹی اور ٹریفک کا نظام بھی سنبھال لیا ہے۔ وہ ہر سڑک کے کونے اور ہر چوک پر کھڑے ہیں۔

    میں نے ان سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہے ہیں اور ان کا کام کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ شہر میں امن و امان قائم کنرے کھڑے ہیں۔ وہ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں، خاص طور پر ایسی گاڑیاں جن میں طالبان جنگجو سوار ہیں۔

    جب میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے کہا کہ یہ گاڑیاں پہلے افغان حکومتی اہلکاروں کے استعمال میں تھیں اور ہو سکتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر نے ان پر قبضہ کر لیا ہو۔

    کسی کو نہیں معلوم آگے کیا ہونے ہوگا۔

  17. ملا یعقوب: کسی شہری سے گاڑی یا اسلحہ لے کر چھپانا ’خیانت‘ ہے

    تحریک طالبان افغانستان کے بانی ملا محمد عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب نے ایک حالیہ آڈیو پیغام میں اپنے جنگجوؤں کو خبردار کیا ہے کہ انھیں اپنے زیر قبضہ کابل سمیت تمام علاقوں میں کسی بھی شہری کے گھر میں داخل ہونے اور اُن سے گاڑی یا کوئی چیز لینے کی اجازت نہیں ہے۔

    ’تمام مجاہدین کو یہ ہدایت اور پیغام ہے کہ کسی کو بھی کسی شہری کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، خاص کر کابل میں جہاں ہم ابھی ابھی داخل ہوئے ہیں۔ کسی بھی شہری کے گھر میں داخل نہ ہوں اور کسی سے بھی گاڑی یا کوئی اور چیز نہ لیں۔ اس کو بعد میں دیکھا جائے گا۔‘

    ملا یعقوب کا مزید کہنا تھا کہ کوئی شخص اگر کسی شہری سے گاڑی یا اسلحہ لیتا ہے اور اُسے چھپاتا تو یہ ’خیانت‘ ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں میں کابل کے بعض علاقوں سے چوری اور شہریوں سے زبردستی گاڑیاں چھیننے کے واقعات سامنے آئے ہیں تاہم طالبان کا اسرار ہے کہ یہ جرائم پیشہ عناصر کا کام ہے اور طالبان ایسا نہیں کرتے۔

  18. طالبان کے قبضے کے بعد افغانی کرنسی کی قدر میں کمی

    طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد افغانی کرنسی کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    پاکستان کے شہر کوئٹہ میں موجود کرنسی ایکسچینج چلانے والے تاجروں کے مطابق چند روز قبل تک افغانی کرنسی پاکستانی روپے کے مقابلے میں مستحکم تھی۔

    کوئٹہ کی کرنسی مارکیٹ میں ایک 1000 افغانی کی قدر 2000-2100 روپے کے برابر تھی۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق جولائی سے ہی افغانستان میں دن بدن بدلتی صورتحال کے باعث افغانی کرنسی کی قدر میں کمی آنا شروع ہوگئی تھی اور اب 1000 افغانی کی قیمت 1800 روپے ہوگئی ہے۔

    اس طرح گذشتہ چند دنوں کے دوران پاکستانی روپے کے مقابلے میں افغانی کرنسی کی قدر 0.3 روپے گری ہے۔

  19. فیس بک: طالبان کو ’دہشت گرد گروہ‘ سمجھتے ہیں

    فیس بک نے تصدیق کی ہے کہ وہ طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم تصور کرتا ہے اور اسی لیے وہ اپنے پلیٹ فارم پر ان کی جانب سے مواد اپلوڈ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    کمپنی کے مطابق انھوں نے افغان شہریوں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو طالبان کی حمایت میں پوسٹ کیے گئے مواد کی نشاندہی کر کے اسے ہٹانے کا کام کر رہی ہے۔

    اس پالیسی کا اطلاق فیس بک کے دیگر پلیٹ فارمز مثلاً انسٹا گرام اور واٹس ایپ پر بھی ہوگا۔

    واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطہ رکھنے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

  20. طالبان نے دس دن میں افغانستان کے اہم ترین علاقوں پر کیسے قبضہ کیا؟