چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: امریکی صدر کا پاکستانی وزیرِ اعظم کو خط، نومنتخب حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کو خط میں امریکی صدر نے لکھا ہے کہ دنیا اور خطے کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ، پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے چین سے آنے والی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے ملاقات کی ہے اور انھیں رواں ہفتے خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں ہونے والے خودکش کار حملے پر بریفنگ دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’ہم اس منصوبے کی حمایت نہیں کرتے، ایران کے ساتھ کاروبار سے پابندیوں کا خطرہ ہوسکتا ہے‘: امریکہ کا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ردعمل

    میتھیو ملر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان اور ایران کے گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق سوال پر جواب میں کہا ہے کہ ہر ایک کو مشورہ دیتے ہیں ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے امریکی پابندیوں کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

    پریس بریفنگ میں ترجمان امریکی محکمہ خارجہ سے پاکستان ایران گیس پائپ لائن سے متعلق سوال کیا گیا تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ کسی ممکنہ کارروائی پر تبصرہ نہیں کر سکتے اور ہر ایک کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے امریکی پابندیوں کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سب کو مشورہ ہے ایران کے ساتھ کاروبار سے پہلے اس بات پرغور کریں، اسسٹنٹ سیکرٹری نے واضح کیا تھا ہم اس پائپ لائن کو آگے بڑھانے کی حمایت نہیں کرتے۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں ہونے والے چینی قافلے پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ہم حملےکےمتاثرین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستانی عوام نے بہت نقصان اٹھایا ہے، پاکستان میں چینی شہری دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

    خیال رہے کہ 23 فروری کو نگران کابینہ کی توانائی کمیٹی نے ایرانی بارڈر سے گوادر تک 81 کلومیٹرپائپ لائن بچھانے کی منظوری دی تھی۔

  2. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا انٹیلیجنس اداروں کی ’مداخلت‘ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے خفیہ اداروں کے عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کنونشن سے پتہ چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے۔

    اس خط میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں رہنمائی نہیں کی گئی کہ ایسی صورتحال میں ججز کیسے رد عمل دیں؟ اور اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ ججز اس طرح کی مداخلت کو کیسے ثابت کریں؟

    اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی رسپانس کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ دس مئی سنہ 2023 کو ہائیکورٹ ججز نے چیف جسٹس کو لیٹر لکھا کہ آئی ایس آئی آپریٹوز کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    اس خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انٹیلی جنس ادارے کی مداخلت کا بتانے پر 11 اکتوبر 2018 کوعہدے سے برطرف کیے جانے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے 22 مارچ کے فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کو غلط قرار دیا اور انھیں ریٹائرڈ جج کہا۔

    اس خط میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں، ہائیکورٹ ججز کا خط میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے موقف کی مکمل حمائت کا اعادہ کیا گیا۔

    خط میں کہا گیا کہ اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو ’انڈرمائن‘ کرنے والے کون تھے؟ اور ان کی معاونت کس نے کی؟ اس خط میں کہا گیا ہےسب کو جوابدہ کیا جائے تاکہ یہ عمل دہرایا نا جا سکے۔ اس کے علاوہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کا سکوپ وسیع ہونا چاہیے کہ کہیں اب بھی تو اس طرح کی مداخلت جاری نہیں؟ اس خط میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کہیں کیسز کی سماعت کے لیے مارکنگ اور بینچز کی تشکیل میں اب بھی تو مداخلت جاری نہیں؟

    ہائی کورٹ

    ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکوائری ہونی چاہیے کہ کیا سیاسی کیسز میں عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونا ریاستی پالیسی تو نہیں؟ اور کہیں انٹیلی جنس آپریٹوز کے ذریعے ججز کو دھمکا کر اس پالیسی کا نفاذ تو نہیں کیا جا رہا ہے۔

    ٹیریان وائٹ کیس کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر بینچ میں شامل ججز کا اختلاف سامنے آیا، اور پریذائیڈنگ جج نے اپنی رائے کا ڈرافٹ بھجوایا، جس سے دیگر دو ججز نے اختلاف کیا۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے آپریٹوز نے پٹیشن ناقابل سماعت قرار دینے والے ججز پر دوستوں، رشتہ داروں کے ذریعے دباؤ ڈالا اور جج شدید ذہنی دباؤ کے باعث ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو کر ہسپتال داخل ہوئے اور یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس پاکستان کے علم میں لایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا ان کی آئی ایس آئی کے ڈی جی سی سے بات ہو گئی ہے اور چیف جسٹس نے کہا یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آئی ایس آئی کا کوئی آفیشل ہائیکورٹ کے کسی جج کو ’اپروچ‘ نہیں کرے گا، لیکن اس کے باوجود آئی ایس آئی کے آپریٹوز کی مداخلت جاری رہی۔

    ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مئی 2023 میں ہائیکورٹ کے ایک جج کے برادر نسبتی کو مسلح افراد نے اغوا کیا اور 24 گھنٹے بعد چھوڑا۔

    خط میں جج کا نام تو نہیں لکھا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ جج کے بیٹے اور فیملی کے لوگوں کی سرویلنس کی گئی جس کے بعد برادر نسبتی کو اغوا کرنے کا فیصلہ ہوا۔

    خط میں الزام عائد کیا گیا کہ جج کے برادر نسبتی کو حراست کے دوران الیکٹرک شاک لگائے گئے اور وڈیو بیان ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

    خط میں ایک ہائیکورٹ جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر کے استعفی دینے پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک جج سرکاری گھر میں شفٹ ہوئے تو ان کے ڈرائنگ روم اور ماسٹر بیڈ روم میں کیمرے نصب تھے اورکیمرے کے ساتھ سم کارڈ بھی موجود تھا، جو آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کسی جگہ ٹرانسمٹ کر رہا تھا۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج کے ماسٹر بیڈ روم میں بھی کیمرا لگا تھا، جج اور اس کی فیملی کی پرائیویٹ وڈیو اور یو ایس بھی ریکور ہوئی۔

    ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بارہ فروری 2024 کو پانچ ججز نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو فل کورٹ میٹنگ بلانے کے لیے لکھا جو تاحال نہیں بلائی گئی۔

  3. گزشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کا خلاصہ

    پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے واقعات اور اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے

    • بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع نوشکی کے ہیڈکوارٹر میں ایک خفیہ ادارے کے دفتر پر دستی بم سے حملے کے علاوہ فائرنگ کی گئی ہے۔
    • چین نے پاکستان سے بشام حملے کی تحقیقات کی درخواست کرتے ہوئے چینی شہریوں اور کمپنیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
    • پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ گوادر، تربت اور بشام میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ مسلح افواج نے پہلی دو کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا ہے۔
    • سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مطالبہ کیا کہ نو مئی کے واقعات سے متعلق کہ پی ٹی آئی کی 25 مئی کی پٹیشن کو سنا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ نو مئی واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
  4. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔۔۔

    یہاں آپ کے لیے پاکستان کی سیاست، معیشت،سمیت دیگر اہم خبریں شامل کی جا رہی ہیں۔ اگر آپ 26 مارچ کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔

  5. ’روح افزا پاکستان اور انڈیا سے بھی پرانا ہے‘