اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا انٹیلیجنس اداروں کی ’مداخلت‘ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے خفیہ اداروں کے عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

لائیو کوریج

  1. چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: امریکی صدر کا پاکستانی وزیرِ اعظم کو خط، نومنتخب حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار

  2. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا انٹیلیجنس اداروں کی ’مداخلت‘ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے خفیہ اداروں کے عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کنونشن سے پتہ چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے۔

    اس خط میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں رہنمائی نہیں کی گئی کہ ایسی صورتحال میں ججز کیسے رد عمل دیں؟ اور اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ ججز اس طرح کی مداخلت کو کیسے ثابت کریں؟

    اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی رسپانس کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ دس مئی سنہ 2023 کو ہائیکورٹ ججز نے چیف جسٹس کو لیٹر لکھا کہ آئی ایس آئی آپریٹوز کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    اس خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انٹیلی جنس ادارے کی مداخلت کا بتانے پر 11 اکتوبر 2018 کوعہدے سے برطرف کیے جانے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے 22 مارچ کے فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کو غلط قرار دیا اور انھیں ریٹائرڈ جج کہا۔

    اس خط میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے عائد کردہ الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں، ہائیکورٹ ججز کا خط میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے موقف کی مکمل حمائت کا اعادہ کیا گیا۔

    خط میں کہا گیا کہ اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو ’انڈرمائن‘ کرنے والے کون تھے؟ اور ان کی معاونت کس نے کی؟ اس خط میں کہا گیا ہےسب کو جوابدہ کیا جائے تاکہ یہ عمل دہرایا نا جا سکے۔ اس کے علاوہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کا سکوپ وسیع ہونا چاہیے کہ کہیں اب بھی تو اس طرح کی مداخلت جاری نہیں؟ اس خط میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کہیں کیسز کی سماعت کے لیے مارکنگ اور بینچز کی تشکیل میں اب بھی تو مداخلت جاری نہیں؟

    ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکوائری ہونی چاہیے کہ کیا سیاسی کیسز میں عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونا ریاستی پالیسی تو نہیں؟ اور کہیں انٹیلی جنس آپریٹوز کے ذریعے ججز کو دھمکا کر اس پالیسی کا نفاذ تو نہیں کیا جا رہا ہے۔

    ٹیریان وائٹ کیس کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر بینچ میں شامل ججز کا اختلاف سامنے آیا، اور پریذائیڈنگ جج نے اپنی رائے کا ڈرافٹ بھجوایا، جس سے دیگر دو ججز نے اختلاف کیا۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے آپریٹوز نے پٹیشن ناقابل سماعت قرار دینے والے ججز پر دوستوں، رشتہ داروں کے ذریعے دباؤ ڈالا اور جج شدید ذہنی دباؤ کے باعث ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو کر ہسپتال داخل ہوئے اور یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس پاکستان کے علم میں لایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا ان کی آئی ایس آئی کے ڈی جی سی سے بات ہو گئی ہے اور چیف جسٹس نے کہا یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آئی ایس آئی کا کوئی آفیشل ہائیکورٹ کے کسی جج کو ’اپروچ‘ نہیں کرے گا، لیکن اس کے باوجود آئی ایس آئی کے آپریٹوز کی مداخلت جاری رہی۔

    ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مئی 2023 میں ہائیکورٹ کے ایک جج کے برادر نسبتی کو مسلح افراد نے اغوا کیا اور 24 گھنٹے بعد چھوڑا۔

    خط میں جج کا نام تو نہیں لکھا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ جج کے بیٹے اور فیملی کے لوگوں کی سرویلنس کی گئی جس کے بعد برادر نسبتی کو اغوا کرنے کا فیصلہ ہوا۔

    خط میں الزام عائد کیا گیا کہ جج کے برادر نسبتی کو حراست کے دوران الیکٹرک شاک لگائے گئے اور وڈیو بیان ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

    خط میں ایک ہائیکورٹ جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر کے استعفی دینے پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک جج سرکاری گھر میں شفٹ ہوئے تو ان کے ڈرائنگ روم اور ماسٹر بیڈ روم میں کیمرے نصب تھے اورکیمرے کے ساتھ سم کارڈ بھی موجود تھا، جو آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کسی جگہ ٹرانسمٹ کر رہا تھا۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج کے ماسٹر بیڈ روم میں بھی کیمرا لگا تھا، جج اور اس کی فیملی کی پرائیویٹ وڈیو اور یو ایس بھی ریکور ہوئی۔

    ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بارہ فروری 2024 کو پانچ ججز نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو فل کورٹ میٹنگ بلانے کے لیے لکھا جو تاحال نہیں بلائی گئی۔

  3. بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک خفیہ ادارے کے دفتر پر دستی بم سے حملہ، فائرنگ, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع نوشکی کے ہیڈکوارٹر میں ایک خفیہ ادارے کے دفتر پر دستی بم سے حملے کے علاوہ فائرنگ کی گئی ہے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر ایس ایس پی نوشکی عبداللہ بلوچ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم افراد نے منگل کی شب خفیہ ادارے کے دفتر پر دو دستی بم پھینکے اور اس کے علاوہ فائرنگ بھی کی۔

    انھوں نے بتایا کہ دستی بم حملے اور فائرنگ سے کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائی میں حملہ آور فرار ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے۔

  4. ’چار لاشیں مکمل جل چکی تھیں‘: بشام میں چینی انجینیئرز پر خودکش حملے کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا

  5. چین کی پاکستان سے بشام حملے کی تحقیقات کی درخواست، چینی شہریوں اور کمپنیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    PID

    ،تصویر کا ذریعہPID

    چین نے پاکستان سے بشام حملے کی جامع تحقیقات کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ چینی اور ایک پاکستانی کے قتل کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    پاکستان میں چین کے سفارتخانے اور قونصلیٹ جنرل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 26 مارچ کو دن تقریباً ایک بجے چینی کمپنی کی ایک بس چینی عملے کو خیبر پختونخوا میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی طرف لے کر جا رہی تھی جب اس پر ایک دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا، جس میں بدقسمتی سے پانچ چینی اور ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کا سفارتخانہ اور پاکستان میں قونصلیٹ جنرل اس حملے کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ چین نے متاثرین سے تعزیت کی اور لواحقین کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر ہر ممکنہ کوشش کر رہا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کا سفارتخانہ اور قونصلیںٹ جنرل نے ایک ایمرجنسی پلان کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے پاکستان سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ اس حملے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

    دریں اثنا، چین کا سفارتخانہ اور قونصلیٹ جنرل پاکستان میں چینی شہریوں اور چینی منصوبوں کی حفاظت اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہا ہے۔

    اس بیان میں چینی شہریوں، تاجروں اور کمپنیوں کو سکیورٹی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے، سکیورٹی الرٹ بڑھانے، سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی یاددہانی کروائی گئی ہے۔

    @CathayPak

    ،تصویر کا ذریعہ@CathayPak

  6. عمران خان کا نو مئی پر چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مطالبہ کیا کہ نو مئی کے واقعات سے متعلق کہ پی ٹی آئی کی 25 مئی کی پٹیشن کو سنا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ نو مئی واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ نو مئی واقعات پر اب تک کوئی انکوائری نہیں ہوئی ہے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سی سی ٹی وی فوٹیجز کو ریکور کرنے کا حکم دیں۔ انھوں نے کہا کہ جنھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری کی ہیں، وہی نو مئی کے ذمہ دار ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جرم کی معلومات چھپانا بھی جرم ہے۔ انھوں نے کہا کہ نو مئی کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو ختم کیا جا رہا ہے۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ لندن پلان کے تحت چل رہا ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف، اس کے بیٹوں، مریم نواز اور آصف زرداری کے مقدمات کو ختم کر دیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے توشہ خانہ سے چھ لاکھ میں مرسیڈیز گاڑی لی جبکہ زرداری نے توشہ خانہ سے تین گاڑیاں لی جو کہ قانونی طور پر نہیں لی جا سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ اج انصاف نہیں ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی صورتحال ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ 8 فروری پر بھی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور دھاندلی زدہ الیکشن کے باعث صدر زرداری اور سینیٹ الیکشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات میں اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا گیا ہے۔

    کمرہ عدالت میں موجود جیل کے اہلکار کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں مگر باقی لوگوں کو رہا کر دیا جائے۔

    عمران خان کا ڈونلڈ لو کے بیان پر دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ

    سائفر کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید نے ’آفیشل میٹنگ‘ پر سائفر بھیجا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کمیٹی کے سامنے ڈونلڈ لو اگر ’رجیم چینج‘ یعنی عمران خان کی حکومت کی تبدیلی کو تسلیم کر لیتا تو اس کا دباؤ جو بائیڈن حکومت پر آتا اور بائیڈن حکومت ہل جاتی۔

    سابق وزیر اعظم نے ڈونلڈ لو کے بیان پر دوبارہ انکوائری کروانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر مجھے ملنے جیل نہیں آئے جب ملاقات ہو گی تو ڈونلڈ لو کے بیان اور پاکستان میں امریکی سفارتخانہ کے کردار پر بات کروں گا۔

    انھوں نے کہا کہ اصل سائفر دفتر خارجہ میں موجود ہے۔ ہمیں سائفر کی پیرافریز کاپی دی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سائفر گم ہوا تو وزیراعظم اپنے آفس کا چوکیدار نہیں ہوتا بلکہ وزیراعظم آفس کے کچھ سکیورٹی پروٹوکولز ہوتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سائفر سے پاکستان متاثر ہوا تو پھر کیوں اس پر انکوائری نہیں ہوئی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت گرانے کے بینیفیشری حکومت میں بیٹھ گئے ہیں تو اس کی انکوائری کیسے ہوگی۔

    عمر ایوب کو قائد حزب اختلاف اور شیر افضل مروت کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کیا ہے اب اس پر نوٹیفکیشن سپیکر نے جاری کرنے ہیں۔

    عمران خان نے رانا ثنا اللہ کے ایک بیان پر یہی کہنا چاہوں گا کہ مافیاز ایسا ہی کرتے ہیں، ہم 8 فروری والے ہیں سیاسی طور پر مقابلہ کرتے ہیں اور یہ مخالفین کا خاتمہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں 40 ایم پی ایز کے فارورڈ بلاک سے متعلق علم نہیں ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’مجھے پنجاب کے پارلیمانی لیڈر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ کوشش کروں گا کل پنجاب کے پارلیمانی لیڈر سے ملاقات کرکے تمام معلومات حاصل کروں۔‘

  7. انڈیا کے انتخابات میں بی جے پی کی امیدوار کنگنا رناوت، جنھیں شہ سرخیوں میں رہنے کا فن آتا ہے

  8. حالیہ واقعات کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنا ہے، چین جیسے فولادی اتحادی کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے ناسور پر قابو پائیں گے: پاکستانی فوج

    پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ گوادر، تربت اور بشام میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ مسلح افواج نے پہلی دو کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بشام میں ہونے والے تازہ ترین واقعے میں پانچ چینی شہریوں سمیت چھ بے گناہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پوری قوم اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور اس بزدلانہ کارروائی کی بلا امتیاز مذمت کرتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کی اقتصادی ترقی اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اہم سٹریٹجک منصوبوں اور حساس مقامات کو ہماری ترقی کو روکنے اور پاکستان اور اس کے سٹریٹجک اتحادیوں اور شراکت داروں، خاص طور پر چین کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق بعض غیر ملکی عناصر اپنے مذموم عزائم کے تحت پاکستان میں دہشت گردی کی مدد اور اس کی حوصلہ افزائی میں ملوث ہیں۔

    معصومیت کے لبادے میں یہ عناصر مسلسل دہشت گردی کے سرپرستوں کے طور پر بے نقاب ہو رہے ہیں۔

    فوج کے مطابق معصوم شہریوں، غیر ملکیوں اور مسلح افواج کے خلاف تشدد کی ایسی گھناؤنی کارروائیاں پاکستان کے عوام عوام، اس کی سیکورٹی فورسز اور ہمارے اتحادیوں کے ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کو پست نہیں کر سکتیں۔

    پاکستان، دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کے طور پر، شاید واحد ملک ہے جو پوری استقامت اور ریاست کے مکمل عزم کے ساتھ بین الاقوامی دہشت گردی کی تنظیموں کا براہ راست مقابلہ کر رہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’ہمارے فولادی اتحادی اور مضبوط ملک چین کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دہشت گردی کی براہ راست یا بالواسطہ مدد کرنے میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ ہم مل کر مصیبت اور برائی پر غالب آئیں گے۔ انشااللہ‘

  9. وزیراعظم شہباز شریف کی چینی سفارتخانے میں چینی سفیر سے ملاقات

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں چینی سفارتخانے گئے اور وہاں چین کے سفیر سے ملاقات کی اور آج شانگلہ حملے میں مرنے والے چینی باشندوں کی تعزیت کی۔

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت شہباز شریف کے وفد میں سینیئر حکام، وزرا اور سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔

  10. عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت 2 اپریل تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    راولپنڈی کےاڈیالہ جیل میں 190 ملین پاونڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب گواہ سیکشن آفیسر کیبنٹ جمیل احمد کے بیان پر جرح مکمل ہو گئی ہے۔

    ریفرنس کی سماعت 2 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔ ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت اسلام اباد کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں کی۔

    اس وقت تک ریفرنس میں مجموعی پر دس گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں جبکہ ان میں سے پانچ پر جرح مکمل ہو چکی ہے۔

  11. چھ گھنٹے تک دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں، تربت میں اپنی نوعیت کا پہلا جبکہ رواں سال ہونے والا تیسرا بڑا حملہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    security

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تربت ایئرپورٹ اور نیول بیس کے قرب و جوار کی آبادی میں اس حملے کی وجہ سے شدید خوف وہراس پھیل گیا۔ حملے کے وقت تربت کے رہائشی مبارک بلوچ حملے کی مقام سے اندازاً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دوستوں کے ساتھ ایک ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔

    مبارک بلوچ نے فون پر بتایا کہ دس بجے کے قریب دھماکوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جس سے ہوٹل پر بیٹھے تمام لوگ خوفزدہ ہوگئے کیونکہ فائرنگ اور دھماکوں کی شدت بہت زیادہ تھی۔

    مبارک بلوچ نے بتایا کہ اس سے لوگوں میں بہت زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا اور ہوٹل وغیرہ جہاں بعض لوگ سحری تک دوستوں کے ساتھ بھیٹتے ہیں فوراً بند ہوگئے اور لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ نیول بیس اور ایئرپورٹ کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ صبح چھ تک جاری رہا۔ اسی طرح خواتین، بچوں سمیت قرب و جوار کے لوگوں کے لیے رات بھر سونا ممکن نہیں ہوسکا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی تربت میں پاکستان بحریہ کے ائیر بیس پی این ایس صدیق پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے میں فورسز نے اثاثوں کی حفاظت یقینی بناتے ہوئے بروقت اور مؤثر جواب سے حملہ ناکام بنایا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ائیربیس پی این ایس صدیق تربت پر حملہ 25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب کیا گیا، جس کے بعد بحری دستوں کی مدد کے لیے ارد گرد موجود سکیورٹی فورسز کو فوری متحرک کیا گیا، مسلح افواج کے مؤثر جواب نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کیا، مشترکہ کلیئرنس آپریشن میں چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    حملے کے مقام کے قریب ایک اور رہائشی احد بلوچ نے بتایا کہ جہاں ایک طرف فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ جاری تھا وہاں رات کو ہیلی کاپٹروں کی نیچے پرواز کی وجہ سے بھی لوگوں کی نیند متاثر ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کی پرواز سے شور زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی سرچ لائٹس کی وجہ سے لوگوں کے لیے گھروں سے نکلنا مشکل ہو رہا تھا۔

    احد بلوچ کا کہنا تھا کہ صبح کو قرب و جوار کے تمام علاقوں کو سیل کیا گیا تھا جس کی وجہ ان علاقوں کے سرکاری اور نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچے سکول بھی نہیں جاسکے جبکہ لوگ اپنے کام کے مقامات پر نہیں جاسکے۔

    تربت ایئرپورٹ کے قریب ایک رہائشی جمیل بلوچ نے بتایا کہ حملے کے بعد 45 منٹ تک مسلسل فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا۔

    انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے دھماکوں اور فائرنگ کا سلسلہ سوا دس بجے کے قریب شروع ہوا اور پھرشدید فائرنگ کے ساتھ دھماکوں کا سلسلہ 11 بجے تک مسلسل جاری رہا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس دوران متعدد دھماکے ہوئے تاہم 11 بجے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموشی ہوئی لیکن اس کے بعد دو تین زوردار دھماکے ہوئے، جن کی شدت پہلے والے دھماکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان دو تین دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہمیں یوں لگا جیسے کہ یہ ہمارے گھر کے بالکل قریب ہوئے۔

    اس شہری نے اس حملے کے حوالے سے جو ویڈیوز بھیجی ہیں ان میں بھی فائرنگ کی شدید آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ جب رات کو پونے دو بجے ان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خاموشی ہے اور فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے تاہم ان کے مطابق تین بجے کے بعد دوبارہ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جو کہ سحری کے بعد تک جاری رہا۔

    تربت کے سینیئر صحافی اسد بلوچ نے بتایا کہ تربت شہر میں معمولات زندگی جاری و ساری ہیں لیکن اس حملے کے باعث عام دنوں کی بہ نسبت شہر میں لوگوں کی تعداد کم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہر میں سکیورٹی اہلکار زیادہ ہیں اور ایئرپورٹ کی جانب جانے والے راستوں کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔

    تربت میں اپنی نوعیت کا پہلا جبکہ رواں سال ہونے والا تیسرا بڑا حملہ

    تربت ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ تربت سمیت ضلع کی تمام آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ اگرچہ بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح کیچ اور مکران ڈویژن کے دو دیگر اضلاع کی طرح مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے لیکن مکران ڈویژن میں قبائلی نظام نہیں ہے۔

    کیچ میں بلوچستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں تعلیم کی شرح بھی بہت زیادہ ہے جبکہ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کیچ کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

    گذشتہ ڈیڑھ دہائی سے زائد کے عرصے میں تربت اور ضلع کیچ کے دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ جاری ہیں لیکن کسی حساس سرکاری تنصیب پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔

    اس سے قبل نوعیت کے حملے کالعدم بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کی جانب سے پنجگور اور نوشکی میں فروری 2022 میں ایف سی کے ہیڈکوارٹرز پر کیئے گئے تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تربت میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے نیول بیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ کوئٹہ میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بی نی سی کو بتایا کہ حملہ آور ایئرپورٹ کے سویلین سائیڈ سے داخل ہوئے لیکن سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ان کی نیول ایئر بیس میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    تربت میں جس علاقے میں یہ حملہ کیا گیا وہ سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم علاقہ ہے۔

    اس علاقے میں تربت کے ایئرپورٹ کے علاوہ نیول بیس صدیق اور اس کے ساتھ نیول ایئر بیس بھی موجود ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ تمام تنصیبات ایک ساتھ نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر ہیں۔

    تربت میں یہ نیول ایئربیس سنہ 2017 میں آپریشنل ہوا تھا، جس کا مقصد بحیرہ عرب میں مزید بحری استحکام حاصل کرنا اور سی پیک کے منصوبوں کے تحفظ کو مستحکم کرنا تھا۔

    اگرچہ رواں سال تربت میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا لیکن کالعدم بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کی جانب سے بلوچستان میں تیسرا بڑا حملہ تھا۔ اس سے قبل 20 مارچ کو تربت سے متصل ضلع گوادر کے ہیڈکوارٹر گوادر شہر میں گوادر پورٹ کمپلیکس اتھارٹی پر جبکہ جنوری کے آخر میں ضلع کچھی میں درہ بولان میں واقع مچھ شہر میں ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا۔

  12. نجف حمید: چکوال میں اراکین اسمبلی سے بھی زیادہ طاقتور سمجھے جانے والے سابق نائب تحصیلدار کون ہیں؟

  13. چینی باشندوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا گھناؤنی شازش ہے، سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کا شانگلہ بشام کے مقام پر مسافر وین پر خود کش حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ چینی باشندوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا گھناؤنی شازش ہے۔

    انھوں نے چینی باشندوں اور مقامی شہریوں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص اور با اعتماد دوست ہے، چینی باشندوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان اور عوام دہشتگردی کے اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے چینی شہریوں کے اہلخانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے اس واقعہ میں ملوث شرپسند عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔

  14. وزیر داخلہ محسن نقوی کی چینی سفارتخانے میں چینی سفیر سے ملاقات، تحقیقات کی یقین دہانی

    PID

    ،تصویر کا ذریعہPID

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی دھماکے کے فوری بعد چینی سفارت خانہ جا کر چینی سفیر سے ملاقات کی ہے۔محسن نقوی نے چینی سفیر کو دھماکے کی تمام تفصیلات اور ہلاکتوں کے بارے آگاہ کیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ پر جاری ریسکیو آپریشن سے بھی چینی سفیر کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ کا شانگلہ میں ’دہشت گرد‘ حملے میں چینی شہریوں کے ہلاک ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری پاکستانی قوم اپنے چینی بھائیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ واقعہ کی جامع تحقیقات کو یقینی بنا کر اس میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان برادرانہ تعلقات پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ان عظیم دو طرفہ تعلقات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

  15. بریکنگ, شانگلہ: بشام کے مقام پر چینی انجینیئرز کی گاڑی پر خودکش حملہ، پانچ چینی باشندوں سمیت چھ افراد ہلاک, عزیزاللہ خان اور عمر باچا

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام میں مبینہ خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چینی انجینیئرز کی گاڑی سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں پانچ چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے۔

    بشام سے پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ چینی انجینیئرز ایک قافلے کی شکل میں داسو ڈیم کی جانب جا رہے تھے۔ ضلع شانگلہ میں بشام کے علاقے میں لاہور نالہ نامی سیاحتی علاقے میں دوسری گاڑی میں سوار خود کش حملہ آور نے چائنیز کی گاڑی کو ٹکر ماری جس سے دھماکہ ہوا اور گاڑی کھائی میں گر گئی۔

    ریسکیو 1122 اہلکاروں کے مطابق دھماکے کے باعث گاڑی میں آگ لگ گئی تھی جسے بجھا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید ٹیمیں موقع پر پہنچ رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ علاقہ ضلع کوہستان اور ضلع شانگلہ کی سرحد پر واقع ہے اور ان علاقوں میں چینی انجینیئرز مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

    مقامی پولیس اہلکار بخت ظاہر نے بتایا کہ چینی ٹیم میں چار مرد اور خاتون شامل تھیں جبکہ ان کی گاڑی کے ڈرائیور ایک پاکستانی شہری تھے۔

    انھوں نے کہا کہ حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چینی انجینیئرز کی گاڑی سے ٹکرائی۔ اس واقعے کے بعد پولیس حکام سمیت بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

    اس سے پہلے 2021 میں بھی داسو ہائیڈل پاور ڈیم پر کام کرنے والے چینی انجینیئرز کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 9 چینی انجینیئرز سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ بھی داسو ڈیم پر کام کرنے والے غیر ملکی انجینیئرز پر کیا گیا تھا۔

    ڈی ایس پی جمعہ الرحمن نے بی بی سی کے نامہ نگار عثمان زاہد سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس خودکش حملے میں پانچ چینی باشندے جبکہ ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا۔

    واضح رہے کہ داسو میں ایک بڑا ڈیم واقع ہے، اس علاقے پر ماضی میں بھی دہشت گردوں کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں، 2021 میں ایک بس میں ہونے والے دھماکے میں 9 چینی شہریوں سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  16. بریکنگ, تربت میں نیول ایئربیس پر حملہ ناکام، چار دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ایران سے متصل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی تربت میں بحریہ کے ائیر بیس پی این ایس صدیق پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے چار حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ اس کارروائی میں ایک سیکورٹی اہکار بھی مارا گیا ہے۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی تربت میں پاکستان بحریہ کے ائیر بیس پی این ایس صدیق پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے میں فورسز نے اثاثوں کی حفاظت یقینی بناتے ہوئے بروقت اور مؤثر جواب سے حملہ ناکام بنایا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ائیربیس پی این ایس صدیق تربت پر حملہ 25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب کیا گیا، جس کے بعد بحری دستوں کی مدد کے لیے ارد گرد موجود سکیورٹی فورسز کو فوری متحرک کیا گیا، مسلح افواج کے مؤثر جواب نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کیا، مشترکہ کلیئرنس آپریشن میں چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی بلوچستان کے نعمان فرید نامی سپاہی بھی مارے گئے ۔ 24 سالہ سپاہی نعمان فرید شہید کا تعلق مظفرگڑھ سے ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید کسی دہشتگرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ مسلح افواج ملک سے دہشتگردی کی لعنت ہرقیمت پرختم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

    اس حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔ تنظیم نے ترجمان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کے کارکن پیر کی شب دس بجے تربت میں نیول ائیربیس پر حملہ کر کے حفاظتی حصار توڑ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

    یہ ایک ہفتے کے دوران اس شدت پسند تنظیم کی جانب سے بلوچستان میں کیا جانے والا دوسرا بڑا حملہ ہے۔ اس سے قبل کیچ سے متصل ضلع گوادر میں پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر بھی متعدد شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جسے پاکستانی حکام کے مطابق ناکام بنا دیا گیا تھا۔

    اس حملے میں سرکاری حکام نے دو اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی جبکہ آٹھ حملہ آور بھی ہلاک کر دیے گئے تھے۔

    کیچ اور گوادر انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہیں۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد ان اضلاع میں بھی اس نوعیت کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔

  17. پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت بحال کرنے میں کیا رکاوٹیں ہیں؟

  18. ’دھماکے اتنے شدید تھے جیسے کہ ہمارے گھر کے باہر ہوئے ہوں‘, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو

    تربت ایئرپورٹ کے قریب شدت پسندوں کے حملے کے بعد مقامی شہریوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رات دس بجے کے قریب پہلے دھماکے اور پھر شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

    تربت ایئرپورٹ کے قریب رہائشی پذیر ایک شہری نے فون پر بتایا کہ 'دھماکوں اور فائرنگ کا سلسلہ سوا دس بجے کے قریب شروع ہوا اور تقریباً 45 منٹ تک جاری رہا۔'

    شہری کے مطابق '11بجے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموشی ہوئی لیکن اس کے بعد دو تین زوردار دھماکے ہوئے جو پہلے ہونے والے دھماکوں سے زیادہ شدید تھے۔' ان کا کہنا تھا کہ 'ان دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہم نے یہ محسوس کیا کہ جیسے یہ ہمارے گھر کے باہر ہوئے ہوں۔'

    شہری نے اس حوالے سے جو ویڈیوز بی بی سی کو بھیجیں ان میں بھی شدید فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

    رات گئے دوبارہ رابطہ کرنے پر مذکورہ شہری نے کہا کہ رات ایک بجے کے لگ بھگ فائرنگ کی آوازوں کا سلسلہ بند ہو گیا تھا اور 'ایئرپورٹ اور اس کے نواحی علاقوں میں ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں۔'

    اس علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے سلسلے میں وقفہ دو گھنٹے کے قریب جاری رہا تاہم تین بجے کے قریب ایئرپورٹ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔

    عسکری حکام کی جانب سے تاحال اس حملے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں تاہم مکران ڈویژن کے کمشنر کے مطابق علاقے میں ابھی کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور اس کے خاتمے پر ہی صورتحال واضح ہو سکے گی۔

  19. بریکنگ, تربت ایئرپورٹ کے قریب نیول ایئربیس پر حملے کی کوشش، مجید بریگیڈ نے ذمہ داری قبول کر لی, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    ایران سے متصل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں مسلح افراد نے ایک بڑا حملہ کیا ہے جسے حکام کے مطابق ناکام بنا دیا گیا ہے۔

    مکران ڈویژن کے کمشنر سعید عمرانی نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ پیر کی شب ایئرپورٹ کے قریب کیا گیا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چار سے چھ حملہ آوروں نے تین مقامات سے ایئرپورٹ کے قریب حملہ کیا لیکن وہ نیول ایئربیس تک نہیں پہنچ سکے۔

    کمشنر مکران ڈویژن کے مطابق حملہ آوروں نے ایئرپورٹ سائیڈ، فٹ بال سٹیڈیم اور سہراب ڈیم کی طرف سے حملہ کیا تاہم سکیورٹی اہلکار الرٹ تھے اس لیے انھوں نے بروقت جوابی کاروائی کی جس کے نتیجے میں حملہ آور نیول ایئربیس میں داخل نہیں ہو سکے۔

    کوئٹہ میں ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور تربت ایئرپورٹ میں سویلین سائیڈ سے داخل ہوئے لیکن سکیورٹی فورسز نے انھیں مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔ کمشنر سعید عمران نے بتایا کہ حملہ آوروں کی صحیح تعداد اس وقت معلوم ہوسکے گی جب کلیئرنس آپریشن مکمل ہو گا۔

    اس حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔ تنظیم نے ترجمان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کے کارکن پیر کی شب دس بجے تربت میں نیول ائیربیس پر حملہ کر کے حفاظتی حصار توڑ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

    یہ ایک ہفتے کے دوران اس شدت پسند تنظیم کی جانب سے بلوچستان میں کیا جانے والا دوسرا بڑا حملہ ہے۔ اس سے قبل کیچ سے متصل ضلع گوادر میں پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر بھی متعدد شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جسے پاکستانی حکام کے مطابق ناکام بنا دیا گیا تھا۔

    اس حملے میں سرکاری حکام نے دو اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی جبکہ آٹھ حملہ آور بھی ہلاک کر دیے گئے تھے۔

    کیچ اور گوادر انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہیں۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد ان اضلاع میں بھی اس نوعیت کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔

    مجید بریگیڈ کیوں بنائی گئی؟

    بلوچستان میں حالیہ مسلح جدوجہد کا آغاز سابق وزیر اعلیٰ اور سینئیر سیاستدان نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔

    بلوچستان میں اس وقت بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلکن آرمی، بلوچ نیشنل گارڈ دیگر تنظیمیں اور ان کے گروپس شامل ہیں جو مسلح جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔

    حکومت پاکستان نے ان کی سرگرمی کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ان میں سب سے پرانی تنظیم بی ایل اے ہے۔

    بلوچستان میں جاری عسکری تحریک پر نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار بتاتے ہیں کہ اسلم اچھو اور بشیر زیب نے مجید بریگیڈ کی بنیاد رکھی تھی۔

    ان کے تربیتی اور اشاعتی مواد کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ سوچ تھی کہ وہ کچھ مزید پیشرفت کریں کیونکہ سب سے خطرناک اقدام یہ ہی ہوتا ہے کہ آپ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہیں پر گھس جائیں۔

    bla

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر اور مجید بریگیڈ کے سربراہ بشیر زیب بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے چیئرمین رہے ہیں۔ بعد میں انھوں نے بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی۔

    بی بی سی کی جانب سے تحریری طور پر بھیجے گئے سوالات کے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ’مجید بریگیڈ کے قیام کے مقاصد یہ تھے کہ عسکری حوالے سے مخالف کو وہاں ضربیں لگائی جائیں، جہاں روایتی گوریلا جنگ میں ممکن نہیں اور اس کا سیاسی مقصد دنیا اور دشمن کو یہ دِکھانا ہے کہ بلوچ آزادی کے حق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس مقصد کے لیے ہم اپنی جانوں کے نذرانے پیش کریں گے۔‘

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مجید بریگیڈ اور باقی مزاحمت کاروں میں فرق یہ ہے کہ گوریلا کو حملہ کر کے بحفاظت نکلنے کی تربیت ہوتی ہے جبکہ بریگیڈ کے فدائی کو اپنی جان کے قیمت پر مقصد حاصل کرنے کی تربیت ہوتی ہے، جس میں طویل مزاحمت کے لیے جسمانی برداشت کی بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔‘