آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طورخم سرحد پر ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ’تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی‘

طورخم سرحد پر پاکستان کی جانب ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی میں دونوں اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کیا ایک ہیڈ کانسٹیبل کے بیان پر سابق وزیر اعظم کو غدار مان لیں: جسٹس مندوخیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ نے نو مئی کے واقعات کے تناظر میں تھانہ نیو ٹاؤن میں درج مقدمے میں پانچ ملزمان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔ ملزمان اویس، سیف اللہ، نصراللہ، کامران اور وقاص پر راولپنڈی میں واقع حمزہ کیمپ پر حملے اور توڑپھوڑ کا الزام ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعرات کو معاملے کی سماعت کی۔ جسٹس مندوخیل کے علاوہ بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔

    سماعت کے دوران جسٹس مندوخیل نے کہا کہ کیا ریلی نکالنا یا سیاسی جماعت کا کارکن ہونا جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین اور سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگانے سے ہی آج یہ بربادی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں پولیس اور پراسیکیوشن کی ناقص تفشیش پر سرزنش کی۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ ملزمان کے خلاف کیا شواہد ہیں اور کیا سی سی ٹی وی کیمروں سے شناخت ہوئی جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ کیمپ سمیت دیگر مقامات کے کیمرے مظاہرین نے توڑ دیے تھے۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ اس کا مطلب ہے ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں صرف پولیس کے بیانات ہیں۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سی سی ٹی کیمروں کی ریکارڈنگ محفوظ ہوتی ہے اور لوگ تو موبائل سے بھی ویڈیو بناتے ہیں۔

    جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات کیوں لگائی گئی ہیں جس پر پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزمان نے آئی ایس آئی کے کیمپ پر حملہ کیا۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’آپ کو پھر علم ہی نہیں کہ دہشتگردی ہوتی کیا ہے۔ دہشتگردی سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور اور کوئٹہ کچہری میں ہوئی تھی، ریلیاں نکالنا کہاں سے دہشتگردی ہو گئی؟‘

    جسٹس ہلالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مقدمے کی ایف آئی آر میں تو آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے کا ذکر ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حساس تنصیبات تو بہت سی ہوتی ہیں۔

    پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپیشل برانچ لاہور کا ایک ہیڈ کانسٹیبل بھی اس مقدمے میں گواہ ہے جس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ’واقعہ راولپنڈی کا ہے اور گواہ لاہور کا؟‘۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کیا ایک ہیڈ کانسٹیبل کے بیان پر سابق وزیراعظم کو غدار مان لیں؟‘ان کا کہنا تھا کہ ’خدا کا خوف کریں، یہ کس طرف جا رہے ہیں‘۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ پولیس گواہی کے علاوہ کوئی ثبوت ہی موجود نہیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا حکومت کیخلاف ٹائر جلانا بہت بڑا جرم ہے؟۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ریاست عوام کے لیے ماں باپ کی اہمیت رکھتے ہیں اور بچوں کو ماں، باپ دو تھپڑ مار بھی دیں تو بعد میں منا لیتے ہیں قتل نہیں کرتے۔

    ملزمان کے وکیل سردار عبدالرزاق نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان اپنی دکانیں بند کر کے جا رہے رھے راستے میں پھنس گئے۔ بینچ نے سربراہ نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ گرفتاری سے پہلے ملزمان کے نام کیسے معلوم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سارے کیس کا پولیس خود ستیاناس کر دیتی ہے۔

    پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ ملزمان سے پٹرول بم برآمد ہوئے ہیں اور فائرنگ کا بھی الزام ہے جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ ’پٹرول بم کون، کہاں سے لایا۔ گھر سے تو کوئی لا نہیں سکتا، تفتیش کیا کہتی ہے؟‘ جواب میں پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ تفتیش میں یہ پہلو سامنے نہیں آیا۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ملزمان پر فائرنگ کا بھی الزام ہے مگر کوئی اسلحہ برآمد ہوا نہ پولیس زخمی ہوئی۔

    سماعت کے بعد عدالت نے پانچوں ملزمان کی ضمانت کی درخواست 50، 50 ہزار کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔

  2. بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ایک کوئلہ کان میں گیس کے باعث دھماکے سے 12 کانکن ہلاک 8 کو بحفاظت نکال لیا گیا, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ایک کوئلہ کان میں گیس کے باعث دھماکے سے 12 کانکن ہلاک ہوگئے ہیں۔ کان میں مجموعی طور پر 20 کانکن پھنس گئے تھے جن میں سے 8 کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔

    چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ کان میں دھماکہ میتھین گیس کےباعث ہوا۔

    ہرنائی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے زردآلو میں پیش آیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا۔ جس کے باعث کان میں کام کرنے والے کانکن پھنس گئے تھے ۔

    مزدور رہنما لالا سلطان نے بتایا کہ پھنسے ہوئے کانکنوں کو نکالنے کے لیے 8 کانکن کان میں داخل ہوئے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ چونکہ کان سے گیس کے اخراج کا مناسب نظام نہیں تھا جس کی وجہ سے ریسکیو کے لیے جانے والے یہ 8 کانکن بھی پھنس گئے تھے۔

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق اس واقعے کے بعد ریسکیو کے لیے کاروائیوں کا آغاز کیا گیا۔

    چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ آج صبح ریسکیو کا کام مکمل کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پھنسے ہوئے کانکنوں میں سے 8 کو بحفاظت نکالا گیا جبکہ 12 کانکنوں کی لاشوں کو بھی نکالا جاچکا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جن کانکنوں کو بحفاظت نکالا گیا ان میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا تھا بلکہ ان کی حالت بہتر ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام کانکنوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے۔

    مزدور رہنما لالہ سلطان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے یہ حادثات پیش آتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کوئلہ کانوں میں گیسز کے اخراج کے لیے وینٹیلیشن کا مناسب انتظام نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف زہریلی گیس کا اخراج نہیں ہوتا ہے بلکہ حادثے کی صورت میں کان بند ہونے سے اس میں تازہ ہوا بھی داخل نہیں ہو پاتی۔

    انھوں نے حادثات کی ایک اور بڑی وجہ ٹھیکیداری کے نظام کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو کانکنی کے لیے علاقے الاٹ کیا جاتا ہے وہ خود ان پر کام نہیں کرتے بلکہ وہ ان کو پیٹی ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ٹھیکیدار کو زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے سے غرض ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ سیفٹی کے انتظامات کو یقینی بنانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ کوئلہ نکالنے کی جانب توجہ دیتے ہیں۔

  3. سٹینڈ بائی معاہدے سے کیا مراد ہے؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے معاشی حالات کے تناظر میں آئی ایم ایف کے دو پروگرام ’سٹینڈ بائی ارینجمنٹ‘ (ایس بی اے) اور ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی' (ای ایف ایف) بہت اہم ہیں۔

    آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق ’سٹینڈ بائی ارینجمنٹ‘ سے مراد ہے کہ قلیل مدتی فنانسنگ کے ذریعے کسی ملک کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کی جائیں۔ ایسے میں کم آمدنی والے ممالک کی اسی صورت میں مدد کی جاتی ہے اگر وہ ان مشکلات کو دور کریں جن کی بدولت انھیں فنڈنگ کی ضرورت پیش آئی تھی۔

    اس قسم کی فنانسنگ کی مدت 12 سے 24 ماہ تک ہوسکتی ہے مگر 36 ماہ سے تجاوز نہیں کرسکتی جبکہ فنانسنگ کی رقم ساڑھے تین سے پانچ سال میں لوٹائی جاتی ہے۔

    پاکستان نے تین ارب ڈالر کا معاہدہ گذشتہ برس جولائی میں سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت کیا تھا جس کی مدت ایک برس سے کم تھی۔

    ایس بی اے، آئی ایم ایف کا ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مرکزی منصوبہ ہوتا ہے۔ عموماً یہ ان ملکوں کو دیا جاتا ہے جنھیں کم وقت میں ادائیگیوں میں توازن لانے کے لیے قرضے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اس کی شرح سود عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوتی ہے لیکن آئی ایم ایف کے مطابق یہ ہمیشہ دوسرے نجی قرضوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

    وہ ممالک جنھوں نے آئی ایم ایف سے اصلاحاتی قرضہ لیا لیکن اس کی شرائط میں طے کیے گئے ہدف پورے نہ کر سکے تو انھیں سہارے کے لیے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت مزید قرض دیا جاتا ہے۔

    اس کے برعکس ای ایف ایف وسط مدتی پروگرام ہے جس کا مقصد صرف ادائیگیوں میں توازن نہیں بلکہ اس کی خاص توجہ ملک کی معاشی ڈھانچے میں اصلاحات پر بھی ہوتی ہے۔

    یہ منصوبہ تین سال کا ہوتا ہے لیکن اسے ایک برس تک کی توسیع مل سکتی ہے جبکہ رقم کی واپسی چار سے دس سال کے عرصے میں کی جاتی ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق ملک کی معیشت کی خراب صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٹھیک راہ پر لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں جس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اسی وجہ سے ای ایف ایف کا دورانیہ زیادہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایس بی اے کی مدت بھی کم ہوتی ہے، اس میں شرائط بھی کم ہوتی ہیں اور یہ اس وقت دیا جاتا ہے جب آپ پہلے سے اصلاحاتی پروگرام پر چل رہے ہوتے ہیں لیکن اس کو مکمل کرنے کے لیے آپ کو کچھ مزید مدد چاہیے ہو۔

  4. بریکنگ, ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کو ادارے کی جانب سے دیے گئے قرض کے حوالے سے دوسرے اور حتمی جائزہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد فریقین کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ اسلام آباد میں حالیہ مذاکرات 14 مارچ کو شروع ہوئے تھے جو 19 مارچ تک جاری رہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جارہ کردہ اعلامیے کے مطابق ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے رواں برس اپریل کے اواخر میں معاہدے کی منظوری کے بعد پاکستان کو اس قرض پروگرام کی آخری قسط کے طور پر ایک ارب دس کروڑ ڈالر جاری کر دیے جائیں گے۔

    اس آخری قسط کے بعد پاکستان کو ملنے والی رقم کی کل مالیت تین ارب ڈالر ہو گی اور اس قسط کے ساتھ ہی تین ارب ڈالر کا وہ قلیل مدتی قرض پروگرام مکمل ہو جائے گا جس کا آغاز جولائی 2023 میں ہوا تھا۔

    بدھ کو آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ حالیہ مہینوں میں سٹیٹ بینک آف پاکستان اور نگراں حکومت کے پروگرام کے سختی سے نفاذ کے ساتھ ساتھ پاکستان کو مستحکم طریقے سے پائیدار بحالی کی طرف لے جانے کے لیے رواں پالیسی اور اصلاحات کی کوششوں کے تناظر میں نئی حکومت کے ارادوں کو تسلیم کرنے کی نشانی ہے۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پہلے جائزے کے بعد آنے والے مہینوں میں پاکستان کی معاشی اور مالی حالت میں بہتری آئی ہے، بہتر حکمت عملی اور کثیر جہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے رقوم کی فراہمی کی بحالی کی بنیاد پر ترقی اور اعتماد کی بحالی کا عمل جاری ہے‘۔

    تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس سال پاکستان میں ’شرح نمو معمولی رہنے کا امکان ہے اور افراط زر ہدف سے کافی زیادہ رہے گا‘۔

  5. ’سی پیک کا دل‘ گوادر حالیہ بارشوں میں کیوں ڈوب گیا اور یہ سمندر میں کیسے دھنس رہا ہے؟

  6. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید پہلے ایک نظر گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر:

    • منگل 19 مارچ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کو فلیگ شپ، ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں بری کر دیا۔
    • اسی روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے خلاف 2022 کے دوران لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ سے متعلق دو مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کیں۔
    • گزشتہ شب بلوچستان سے خبر موصول ہوئی کہ ضلع ہرنائی میں 18کانکن ایک کوئلہ کان میں پھنس گئے۔ ہرنائی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ واقعہ زردآلو کے علاقے میں پیش آیا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ زردآلو کے علاقے میں ایک نجی کوئلہ کان کا ایک حصہ گیس کے باعث دھماکے سے دب گیا۔ تاہم ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق ریکسیو آپریشن کے دوران 7 کان کنوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ کوئلہ کان میں پھنسے دیگر مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریکسیو آپریشن جاری ہے۔
    • بلوچستان سے سینیٹ کے انتخاب کے لیے سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان سمیت 28 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو درست قراردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان سے سینیٹ کے انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 38 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔
    • امریکہ کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ حالات پر بیان سامنے آیا کہ جس میں کہا گیا کہ دونوں مُمالک تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ امریکی صدر دفتر وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ان خبروں سے آگاہ ہیں کہ پاکستان نے سنیچر کے روز پاکستان کی ایک فوجی چوکی پر حملے کے جواب میں افغانستان میں فضائی حملے کیے۔ ہمیں پاکستان میں حملے کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصان اور افغانستان میں حملوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت پر گہرا افسوس ہے۔‘