آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طورخم سرحد پر ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ’تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی‘

طورخم سرحد پر پاکستان کی جانب ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی میں دونوں اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. شوکت صدیقی ریٹائرڈ جج تصور کیے جائیں: سپریم کورٹ

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی کی برطرفی کے خلاف دائراپیلیں منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ریٹائرڈ جج تصور کیا جائے۔

    جمعے کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کا محفوظ شدہ جاری کیا گیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ جج کی تمام مراعات دی جائیں۔ تاہم یہ بھی کہا گیا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے کی وجہ سے انھیں عہدے پر بحال نہیں کیا جا سکتا۔

    ’کیس تاخیر سے مقرر ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کی عمر 62 سال پوری ہو چکی ہے۔ عمر پوری ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کو عہدے پر بحال نہیں کیا جاسکتا۔‘

  2. شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم: اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج کون ہیں؟

  3. ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی اہلکاروں کے قافلے پر خودکش حملہ

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فوجی قافلے پر حملے کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا۔

    فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایک گاڑی میں موجود خودکش حملہ آور نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کی عفریت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

  4. عمران خان سے 26 تاریخ کو درخواست گزاروں کی ملاقات کروائی جائے، ہائی کورٹ کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے 26 مارچ کو عمران خان سے ملاقات کے لیے درخواست دینے والوں کو ان سے ملوانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے علامہ ناصر عباس، شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار اور فردوس شمیم نقوی کی عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم جاری کیا۔

    جمعے کو ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے توہینِ عدالت کی درخواستوں پر تحریری جواب جمع کروایا جس پرعدالت نےعدم اطمینان کا اظہار کیا۔

    سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے غیرمشروط معافی مانگ لی اور آئندہ سماعت پر اس متعلق عدالت کو مطمئن کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

  5. وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سول جج قدرت اللہ نےوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جانے کی درخواست منظور کر لی ہے۔

    علی امین گنڈا پور جمعے کی صبح سینئر سول جج قدرت اللہ کی عدالت میں پیش ہوئے اور تھانہ بنی گالہ میں درج مقدمہ میں وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کے لیے استدعا کی۔

    ان کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں درج تھا کہ الیکشن مصروفیات کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہو سکے وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائیں۔

    ان کے وکیل راجہ ظہورِ الحسن نے عدالت سے کہا کہ علی امین گنڈاپور ایف آئی آر میں نامزد ہیں مگر ان کا کردار کوئی نہیں، علی امین گنڈاپور موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف پچاس ایف آئی آر درج ہوئیں اور انھیں عدالت تک پہنچنے بھی نہیں دیا جاتا رہا۔

    عدالت نے وکیل راجہ ظہورِ الحسن سے کہا کہ پچاس ہزار روپے کی شورٹی جمع کروا دیں۔

    عدالت نے علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے اور کیس کی سماعت 17 اپریل تک ملتوی کر دی۔

    یہ بھی استدعا کی گئی کہ علی امین گنڈاپور کو آئندہ سماعت کے لیے حاضری سے استثنیٰ دے دیا جائے۔ اس کے جواب میں عدالت نے کہا کہ وکیل راجہ ظہور الحسن حاضری سے استثنی کی درخواست دے دیں اس کو دیکھ لیتے ہیں۔

    اس کے بعد علی امین گنڈاپور تھانہ گولڑہ میں درج مقدمہ میں ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور کاکڑ کی عدالت میں پیش ہوئے اور وہاں بھی گرفتاری کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کی جسے منظور کر لیا گیا۔

    میڈیا سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ سائفر آنے کی تصدیق اس وقت کے سفیر نے بھی کی، مداخلت تھی یا سازش غیرت مند پاکستانی ہونے کے ناطے برداشت نہیں۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ ڈونلڈ ڈو نے جھوٹا بیان دیا اس پر اسد مجید کو بلایا جانا چاہیے۔

    ’ بانی پی ٹی آئی کو اس پرسزا ہوئی، اگر سائفر تھا ہی نہیں تو پھر بانی پی ٹی آئی کو غلط سزا ہوئی۔

  6. پاکستان میں ٹی وی ریٹنگ سسٹم کیا ہے اور اس کا کسی ٹی وی چینل کی آمدن سے کیا تعلق ہوتا ہے؟

  7. ناران میں متعدد ہوٹل گلیشیئر تلے دب کر تباہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ حیبر پحتونخوا کے علاقے بالاکوٹ میں سیاحتی مقام ناران میں گلیشیئر تلے دب کرمتعدد ہوٹل تباہ ہو گئے ہیں۔

    ناران ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ’جب تک ٹیم موقع پر نہیں پہنچتی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

    خیال رہے کہ ناران کے راستے برفباری کے باعث بند ہیں۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر آمین الحسن ‏کے مطابق ناران تک مختلف مقامات پر گلیشیئر آنے کے باعث شاہراہ کاغان مکمل طور پر بند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ‏ تحصیل انتظامیہ اور محکمہ مال کے ساتھ ملکر ابتدائی معلومات لے رہے ہیں۔

    اسی سلسلے میں ‏بالاکوٹ کے ڈی اے کا ہنگامی اجلاس کل طلب کیا گیا ہے۔

    ڈی جی محمد شبیر خان ‏کا کہنا ہے کہ ناران میں متاثرین کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے اور ‏نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ناران روڈ بحال ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی بحالی میں مدد کریں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ناران میں گلشیئرز کا سرکنا اور مختلف علاقوں کو نشانہ بنانا معمول کی بات ہے۔ تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ رواں برس دیر سے برفباری کی وجہ سے گلیشیئر کی نقل و حرکت زیادہ ہے۔ ایک روز قبل بھی آٹھ ہوٹل گلیشیئر کے نیچے آ گئے تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ناران بازار ابھی اس گلیشیئر سے محفوظ ہے۔ ب

    ’اس علاقے میں بہت سے گلیشیئر ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں جسے سنو بال کا عمل کہتے ہیں۔‘

    حکام کے مطابق ابھی تک علاقے میں کسی ہوٹل کی بازار میں تباہی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی انسانی جان کے جانے کا پتہ چلا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چونکہ وادی میں برفباری اور راستوں کی بندش کی وجہ سے نومبر اور دسمبر سے اپریل اور مئی تک وادی میں نہیں رہتے اس لیے وہاں اس وقت چند چوکیدار اوردو انتظامی اہلکار اور فوج کے چھ اہلکار ہی محفوظ گھروں میں موجود ہوں گے۔

  8. پاکستان کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور انڈین ماہی گیروں کی کشتیوں میں تصادم، ایک پاکستانی اہلکار ہلاک، دو ماہی گیر لاپتہ

    پاکستان کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور انڈین ماہی گیروں کی کشتیوں میں تصادم، ایک پاکستانی اہلکار ہلاک، دو ماہی گیر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) کے جہاز کا انڈین ماہی گیروں کی کشتیوں سے آمنا سامنا ہوا، جس میں ایک پی ایم ایس اے کا سیلر ہلاک اور دو ہندوستانی ماہی گیر سمندر میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے جہاز کا پاکستان کے ای ای زیڈ میں گشت کے دوران پاکستانی سمندری حدود میں غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف آٹھ ہندوستانی کشتیوں سے آمنا سامنا ہوا۔

    پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ماہی گیر کشتیوں میں سے ایک نے اپنی رفتار بڑھا دی اور ہندوستانی سمندر کی طرف بھاگنے لگی۔ تعاقب کے دوران کشتی وارننگ اور تعاون کرنے کی ہدایات کے باوجود پکڑے جانے سے بچتی رہی۔

    آخر میں کشتی کی رفتار کم ہو گئی، جس سے پی ایم ایس اے کے جہاز کی بورڈنگ ٹیم نے بورڈنگ آپریشن شروع کیا۔ جب پی ایم ایس اے کے اہلکار کشتی پر تھے اس نے اچانک دوبارہ تیز رفتاری اختیار کی اور کشتی کی سمت کو تبدیل کر دیا، جس سے یہ پی ایم ایس اے کے جہاز سے ٹکرا گئی۔

    نتیجتاً ماہی گیر کشتی الٹ گئی اور کشتی کا عملہ بورڈنگ ٹیم سمیت سمندر میں گر گیا۔

    اس کے بعد کشتی اسی حالت میں سمندر میں ڈوب گئی۔ پی ایم ایس اے کے جہاز نے اسی وقت ہندوستانی ماہگیروں اور پی ایم ایس اے کے اہلکاروں کو بچانے کے لیے تیزی سے کام شروع کیا۔ تاہم اس دوران ایک پی ایم ایس اے کا جوان جس کا نام محمد ریحان تھا، ہلاک ہو گیا جبکہ سات میں سے پانچ ہندوستانی ماہی گیروں کو بھی زندہ بچا لیا گیا۔

    دو لاپتہ بھارتی ماہی گیروں کی تلاش کے لیے رسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان میری ٹائم کے مطابق کے مطابق سمندر میں اس لاپرواہی اور غیر قانونی رویے اور پاکستانی سمندری حدود میں غیر قانونی ماہی گیری کے لیے اڈین ماہی گیروں کے خلاف قانونی کاروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پی ایم ایس اے سمندر میں قانون نافذ کرنے اور سمندر میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔

  9. نمونیا سے اموات:’قوت مدافعت میں کمی پاکستانی بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے‘

  10. بریکنگ, نئی حکومت معاشی بحران سے اکیلے نہیں نمٹ سکتی، وفاق اور صوبوں کو مل کر چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا‘: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ نئی حکومت کو ملکی معیشت کے حوالے سے بہت بڑے چیلنجزدرکار ہیں، وفاق معاشی بحران سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا، چاروں صوبوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

    جمعرات کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی اپیکس کمیٹی کے تعارفی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنی انا اور اختلافات ختم کریں اورمل کر ملک کو بنائیں۔

    اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور عسکری قیادت بھی شریک ہوئی۔

    سابق نگران وزیراعظم سمیت سابق نگران کابینہ نے بھی اجلاس میں خصوصی شرکت کی، اجلاس میں نگران دور حکومت میں ایس آئی ایف سی کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعظم نے اجلاس کے شرکا کو آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا اور معیشت کی بحالی کے لیے معاشی ٹیم کا پلان بھی ایس آئی ایف سی کے سامنے رکھا۔

    وزیر اعظم نےاجلاسمیں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد بیرون ملک سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا ہے، آج کے اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے اور عسکری قیادت موجود ہے، یہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ملکی ترقی کے لیے ہم سب اکٹھے ہیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا معیشت کو بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں، ملکی معیشت کو بہت بڑے چیلنجز درکار ہیں اور مگر بہت جلد ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگی اور ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے، ہمیں ہر میدان میں ریفارمز لانی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ آگے ہمیں بہت کڑوے فیصلے کرنے ہیں، ان فیصلوں کا بوجھ ان طبقوں پر آنا چاہیے جویہ بوجھ اٹھا سکیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مستقبل کے لیے ایس آئی ایف سی کےاہداف بھی طے کیے گئے۔

  11. ڈونلڈ لو کی امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں پیشی کیا پی ٹی آئی لابنگ کی کامیابی ہے اور پارٹی کو اس کا کیا فائدہ ہوا؟

  12. بریکنگ, پاکستان کے پاس جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو سپورٹ کرنے کے لیے تربیت یافتہ انسانی وسائل موجود ہیں: وزیر خارجہ اسحق ڈار

    پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ اسحق ڈار نے برسلز میں جوہری توانائی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحول دوست جوہری توانائی مستقبل کے لیے قابل عمل حل پیش کرتی ہے۔

    جمعرات کو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس نیوکلیئر پاور پلانٹس کو محفوظ طریقے سے چلانے کا تجربہ ہے، ہم نے پہلے نیوکلئیر پاور پلانٹ کی تعمیر 66 کی دہائی سے قبل کراچی میں شروع کی تھی، ہمارے پاس اس وقت چھ فعل نیوکلئیر پاور پلانٹس ہیں جن سے 3 ہزار 530 میگا واٹس بجلی پیدا ہوتی ہے، جوہری توانائی آج ہماری نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 8 فیصد ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو سپورٹ کرنے کے لیے مکمل طور پر تربیت یافتہ انسانی وسائل موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند ہے کہ ٹیکنالوجی نے نیوکلئیر انرجی کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا ہے، ہمیں اپنی توجہ حفاظت اور فضلہ کے انتظام اور پھیلاؤ پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ اسی طرح ہمیں اپنی توجہ نیوکلئیر سیفٹی پر بھی مرکوز رکھنی چاہیے، چھوٹے ماڈیولس ری ایکٹر نے جوہری توانائی کو دور دراز کی آبادیوں تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے جو ان جگہوں پر صاف توانائی تک رسائی فراہم کرتے ہیں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی گھریلو توانائی کے تقاضوں کے پیش نظر جوہری توانائی کو ہماری قومی بجلی کی پالیسی اور قومی موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی دونوں میں ترجیح دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں صاف اور سستی توانائی کی ضرورت ہے، انرجی سیکیورٹی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی ترجیح ہے ہمیں صاف اور سستی توانائی کی ضرورت ہے، توانائی کے مسائل کے حل کے لیے پائیدار اقدامات ضروری ہیں، ماحول دوست جوہری توانائی مستقبل کے لیےقابل عمل حل پیش کرتی ہے۔

  13. دس رمضان: یوم باب الاسلام اور محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کے نقطۂ آغاز کی کہانی

  14. گوادر کیوں ڈوب اور زمین میں دھنس رہا ہے؟

  15. ورلڈ ڈاؤن سنڈروم ڈے: صلہ کے والدین نے اپنی بیٹی کی زندگی سے یہ پانچ باتیں سیکھیں

  16. اللہ رکھیو: کشمور میں ایک بندوق بھی سکول ٹیچر کو ڈاکوؤں سے نہ بچا سکی

  17. امریکی کانگریس کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کا ’سائفر ڈرامہ‘ بے نقاب ہوا: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران آج پی ٹی آئی کا ’سائفر ڈرامہ‘ بے نقاب کیا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سابق چیئرمین پی ٹی آئی امریکہ کی کانگریس کمیٹی میں سرٹیفائیڈ جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں ہمیشہ تضاد رہا ہے۔ انھوں نے پوری قوم کے سامنے جھوٹ بولا، عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش کی، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے سیاسی بیانیہ کو فروغ دینے کے لیے ریاست کو بھی داؤ پر لگایا۔ آج پوری دنیا میں وہ خود رسوا ہو رہے ہیں۔‘

    عطا تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے ’ڈونلڈ لو پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے ہمارے سفیر اسد مجید کو بلا کر کہا کہ ہم آپ کی حکومت گرا دیں گے۔ آج اسی ڈونلڈ لو نے کہا کہ سائفر کی کہانی سراسر جھوٹ تھی، ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسا سوچا جا سکتا ہے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’پی ٹی آئی نے لابنگ فرمز ہائر کر کے کانگریس کی کمیٹی کی سماعت رکھوائی لیکن یہ اللہ کے کام ہیں۔‘

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں نے آج کانگریس کمیٹی کی سماعت کے دوران شور مچایا تو انھیں کمرے سے باہر نکال دیا گیا کیونکہ وہاں یہ من مانی نہیں ہو سکتی۔

    دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنما رؤف حسن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی کانگریس کی کمیٹی برائے خارجہ امور میں واضح ہوا کہ پاکستان کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر الیکٹورل فراڈ ہوا۔

  18. پنجگور میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے دفتر پر دستی بم حملہ, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع میں نامعلوم افراد نے اینٹی نارکوٹکس فورس کے دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا۔

    پنجگور پولیس کے ایک اہلکار نے فون پر بتایا کہ دستی بم زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹا تاہم دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  19. گوادر میں فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ دہشتگرد اور سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پورٹ اتھارٹی کالونی میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تمام آٹھ دہشتگرد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ آپریشن کے دوران دو سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ 20 مارچ کو ’آٹھ دہشت گردوں کے ایک گروہ نے گوادر میں پورٹ اتھارٹی کالونی میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔ سکیورٹی پر تعینات فورسز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے روکا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں‘ تمام آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    ’مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔‘

    مزید یہ بتایا گیا کہ فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دو سپاہی بہار خان اور عمران خان بھی ہلاک ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ بلوچستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘

  20. پاکستان میں ایکس کی بندش پر امریکہ نے ’اعلیٰ سطح پر بات چیت کی‘

    جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لو کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کبھی بھی پاکستان میں آٹھ فروری کے انتخابات کے لیے ’صاف و شفاف‘ کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔

    کمیٹی میں بریفنگ کے دوران وہ کہتے ہیں کہ امریکہ نے الیکشن سے قبل کے ماحول، پُر تشدد واقعات، امیدواران کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ملنا، انٹرنیٹ کی بندش اور صحافیوں پر دباؤ کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

    ڈونلڈ لو سے پوچھا گیا کہ آیا انتخابی نتائج مختلف ہوتے اگر یہ بے ضابطگیاں نہ ہوتیں۔ اس پر وہ کہتے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن کو کسی جگہ بے ضابطگیوں کا پتا چلتا ہے تو وہاں دوبارہ الیکشن کرائے۔

    امریکی سفارتکار نے کہا کہ اگر پاکستان میں جمہوری عمل رُکتا ہے تو اس سے امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دریں اثنا ڈونلڈ لو نے کہا کہ پاکستان میں سیلف اور متحرک سینسرشپ موجود ہے مگر سب سے نقصان دہ چیز سوشل میڈیا پر قدغنیں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کئی ہفتوں سے پاکستان میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) تک رسائی معطل ہے جس پر ’ہم اعلیٰ سطح پر پاکستانی حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘

    ایوان کے رکن گریگوریو کیسار نے پوچھا کہ کیا امریکہ نے پاکستان کی نئی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔

    ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ امریکہ نئی حکومتیں کو تسلیم یا مسترد نہیں کرتا بلکہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ان کے ساتھ روابط قائم کرنے ہیں یا نہیں۔

    انھوں نے ہاں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان پر انتخابی بے ضابطگیوں کی جانچ پر زور دے رہا ہے۔ ’پاکستان میں سیاسی و معاشی استحکام امریکہ کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔‘

    ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان کے لیے فوجی امداد بڑھانے پر بات چیت ہو رہی ہے جس کی ڈونلڈ لو نے نفی کی اور کہا کہ بڑے پیمانے پر اس میں اضافے کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ایسے فوجی یونٹس کی نشاندہی کی ہے جو امداد کے مستحق نہیں ہوں گے۔