سول جج قدرت اللہ نےوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جانے کی درخواست منظور کر لی ہے۔
علی امین گنڈا پور جمعے کی صبح سینئر سول جج قدرت اللہ کی عدالت میں پیش ہوئے اور تھانہ بنی گالہ میں درج مقدمہ میں وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کے لیے استدعا کی۔
ان کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں درج تھا کہ الیکشن مصروفیات کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہو سکے وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائیں۔
ان کے وکیل راجہ ظہورِ الحسن نے عدالت سے کہا کہ علی امین گنڈاپور ایف آئی آر میں نامزد ہیں مگر ان کا کردار کوئی نہیں، علی امین گنڈاپور موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف پچاس ایف آئی آر درج ہوئیں اور انھیں عدالت تک پہنچنے بھی نہیں دیا جاتا رہا۔
عدالت نے وکیل راجہ ظہورِ الحسن سے کہا کہ پچاس ہزار روپے کی شورٹی جمع کروا دیں۔
عدالت نے علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے اور کیس کی سماعت 17 اپریل تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی استدعا کی گئی کہ علی امین گنڈاپور کو آئندہ سماعت کے لیے حاضری سے استثنیٰ دے دیا جائے۔ اس کے جواب میں عدالت نے کہا کہ وکیل راجہ ظہور الحسن
حاضری سے استثنی کی درخواست دے دیں اس کو دیکھ لیتے ہیں۔
اس کے بعد علی امین گنڈاپور تھانہ گولڑہ میں درج مقدمہ میں ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور کاکڑ کی عدالت میں پیش ہوئے اور وہاں بھی گرفتاری کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کی جسے منظور کر لیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ سائفر آنے کی تصدیق اس وقت کے سفیر نے بھی کی، مداخلت تھی یا سازش غیرت مند پاکستانی ہونے کے ناطے برداشت نہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ڈونلڈ ڈو نے جھوٹا بیان دیا اس پر اسد مجید کو بلایا جانا چاہیے۔
’
بانی پی ٹی آئی کو اس پرسزا ہوئی، اگر سائفر تھا ہی نہیں تو پھر بانی پی ٹی آئی کو غلط سزا ہوئی۔