عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کوئی امریکی ملوث نہیں تھا: ڈونلڈ لو
امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین جو ولسن نے ڈونلڈ لو سے پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت کے حوالے سے پوچھا۔
اس پر ڈونلڈ لو نے کہا کہ پاکستانی فوج دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج ہے اور یہ کسی مسلم اکثریتی ملک کی سب سے بڑی فوج ہے جس کے امریکی فوج سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ ’دہائیوں تک ہمارے اور ان کے جرنیل ایک ساتھ تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔‘
ڈونلڈ لو کے مطابق فوج پاکستان میں ایک اہم ادارہ ہے تاہم امریکہ کی سابق حکومتیں اور یہ حکومت اس آئینی اصول کا احترام کرتی ہیں کہ فوج کو سویلین کنٹرول میں رہنا چاہیے اور اسے کمانڈر اِن چیف یعنی صدر کو جوابدہ ہونا چاہیے۔
ڈونلڈ لو نے کہا کہ امریکہ کے جائزے میں پاکستان کے الیکشن میں کئی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں اور اس پر تحقیقات کی نگرانی کی جائے گی۔
جو ولسن نے پوچھا کہ کیا امریکہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو روس کے دورے کے بعد اقتدار سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر ڈونلڈ لو نے کہا کہ ’ہم نے ایسا نہیں کیا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں کوئی ’کنٹریکٹر‘ بھی ملوث نہیں تھا۔
جو ولسن نے پوچھا کہ کچھ لوگ آپ کو رجیم چینج کا قصور وار ٹھہراتے ہیں، کیا آپ اس پر بات کر سکتے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ ’میں یا کوئی بھی امریکی اس میں ملوث نہیں تھے۔‘
ان سے مزید پوچھا گیا کہ یوکرین میں روسی مداخلت کے خلاف اقوام متحدہ میں ووٹ نہ دینے کی بنیاد پر پاکستان کے لیے امریکی امداد روکی گئی ہے۔
ڈونلڈ لو نے اس پر بھی ’نہیں‘ کا جواب دیا۔