آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طورخم سرحد پر ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ’تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی‘

طورخم سرحد پر پاکستان کی جانب ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی میں دونوں اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کوئی امریکی ملوث نہیں تھا: ڈونلڈ لو

    امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین جو ولسن نے ڈونلڈ لو سے پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت کے حوالے سے پوچھا۔

    اس پر ڈونلڈ لو نے کہا کہ پاکستانی فوج دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج ہے اور یہ کسی مسلم اکثریتی ملک کی سب سے بڑی فوج ہے جس کے امریکی فوج سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ ’دہائیوں تک ہمارے اور ان کے جرنیل ایک ساتھ تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔‘

    ڈونلڈ لو کے مطابق فوج پاکستان میں ایک اہم ادارہ ہے تاہم امریکہ کی سابق حکومتیں اور یہ حکومت اس آئینی اصول کا احترام کرتی ہیں کہ فوج کو سویلین کنٹرول میں رہنا چاہیے اور اسے کمانڈر اِن چیف یعنی صدر کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ امریکہ کے جائزے میں پاکستان کے الیکشن میں کئی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں اور اس پر تحقیقات کی نگرانی کی جائے گی۔

    جو ولسن نے پوچھا کہ کیا امریکہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو روس کے دورے کے بعد اقتدار سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر ڈونلڈ لو نے کہا کہ ’ہم نے ایسا نہیں کیا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں کوئی ’کنٹریکٹر‘ بھی ملوث نہیں تھا۔

    جو ولسن نے پوچھا کہ کچھ لوگ آپ کو رجیم چینج کا قصور وار ٹھہراتے ہیں، کیا آپ اس پر بات کر سکتے ہیں۔

    ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ ’میں یا کوئی بھی امریکی اس میں ملوث نہیں تھے۔‘

    ان سے مزید پوچھا گیا کہ یوکرین میں روسی مداخلت کے خلاف اقوام متحدہ میں ووٹ نہ دینے کی بنیاد پر پاکستان کے لیے امریکی امداد روکی گئی ہے۔

    ڈونلڈ لو نے اس پر بھی ’نہیں‘ کا جواب دیا۔

  2. علی امین گنڈاپور کا رشوت سے متعلق متنازع بیان: ’اگر لوگوں نے خود ہی سزائیں دینی ہیں تو پھر آپ کو ووٹ کیوں دیا‘

  3. بائیڈن انتظامیہ کو تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں پر تشویش

    امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لو کا کہنا ہے کہ امریکہ نے نو مئی کے بعد سے تحریک انصاف سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی پر اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

    کانگریس کی خارجی امور کی کمیٹی کے رکن بریڈ شرمین نے ڈونلڈ لو سے پوچھا ’انھوں نے پہلے بلے پر اور پھر بلے باز پر پابندی لگا دی۔‘ انھوں نے پوچھا کہ کیا عمران خان کو سلیکٹو پراسیکیوشن سسٹم کا نشانہ بنایا گیا۔

    ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ عمران خان کی گرفتاری اور نو مئی کے مظاہروں کے بعد سے امریکہ نے بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کے رہنماؤں کی گرفتاریوں پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ’ہم نے فوجی عدالتوں کے استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔‘

    بریڈ شرمین نے کہا کہ امریکی سفر کو عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنی ہوگی اور یقینی بنانا ہوگا کہ ’وہ یہ کہانی بیان کرنے کے لیے زندہ رہیں کہ انھیں کیسے سلیکٹو پراسیکیوشن کے ذریعے غلط سزائیں دی گئیں۔‘

    شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کی بازگشت

    اس سے قبل بریڈ شرمین نے ڈونلڈ لو سے پوچھا کہ کیا امریکہ عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کو رہا کرے گا۔ انھیں نے زود دیا کہ اس حوالے سے انھیں پاکستانی حکام کی طرف سے پیشکش کی گئی ہے۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ وہ اس عہدے پر گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے ہیں اور کبھی ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی جس پر شرمین نے کہا کہ پاکستانی حکام نے یہ مجھے کہا، آپ سے پچھلے شخص کو کہا اور محکمۂ خارجہ سے بھی کہا۔ ’آفریدی جیل میں ہے، آپ نے اس بارے میں کچھ نہیں کیا جبکہ انھوں نے ہمیں (اسامہ) بن لادن دلایا۔‘

    وہ انھیں ٹوکتے ہوئے اگلے سوال کی طرف بڑھ گئے۔ انھوں نے پوچھا کہ سینکڑوں امریکی شہری پاکستان میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر ہیں۔ شرمین نے پوچھا کہ ان لوگوں کے لیے اب تک کیا کِیا گیا ہے۔

    ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ ’ہم ہر روز پاکستان میں امریکی شہریوں کے لیے کچھ کرتے رہتے ہیں۔ کچھ ایسے قوانین ہیں جنھوں نے امریکی شہریوں پر قدغنیں لگائیں ہیں۔‘

    شرمین نے انھیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ پاکستانی جرنیل امریکہ آ جا سکتے ہیں مگر یہ لوگ پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    دریں اثنا افغانستان سے متعلق سوال پر ڈونلڈ لو نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلق کو ’شک کی نظر سے‘ دیکھتی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سابقہ حکومتوں کے ساتھ طالبان کے قریبی تعلقات رہے ہیں جبکہ پاکستان کو سب سے زیادہ خطرے افغانستان میں موجود بعض عناصر سے ہے۔

    ’پاکستان اور طالبان کا تعلق ایسا ہی ہے جیسے آئی ایس اور طالبان کا۔ یہ بہت عجیب ہے۔ ہم نے اس پر پاکستان سے بات کی ہے۔‘

  4. کیا پی ٹی آئی کا ’بیرونی مدد‘ حاصل کرنا غلط ہے؟

  5. بے بنیاد الزامات کی وجہ سے مجھے اور میرے خاندان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں: ڈونلڈ لو

    کمیٹی کے رکن میکورمک نے مطالبہ کیا کہ اس اہم سماعت میں خلل ڈالنے والے شرکا کو باہر نکالا جائے اور انھیں آئندہ بھی داخل ہونے نہ دیا جائے جس پر کمیٹی کے چیئرمین نے اتفاق کیا۔

    میکورمک نے ان تین لوگوں کی طرف اشارہ کیا جو بار بار مداخلت کر رہے تھے۔ انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ ’انھوں نے سرخ کپڑے پہن رکھے ہیں۔‘

    باہر نکلنے والے لوگوں نے جاتے جاتے ’عمران خان کو رہا کرو، یہ غیر جمہوری طریقہ ہے۔ ہمیں عمران خان کی ضرورت ہے‘ کی آوازیں کسیں۔

    میکورمک نے قرارداد پیش کی جس کا متن یہ ہے کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری عمل اور انسانی حقوق کی حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں الیکشن کے دوران الیکٹورل فراڈ اور تشدد کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انھوں نے انتخابات کے آزاد اور شفاف آڈٹ کا مطالبہ کیا۔

    انھوں نے پوچھا کہ کیا امریکی محکمۂ خارجہ کو اعتماد ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام ہے کہ اِن بے ضابطگیوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ ’گذشتہ دو سالوں کے دوران بے بنیاد الزامات کی وجہ سے مجھے اور میرے خاندان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔۔۔ کبھی کبھار آزادی رائے تشدد پر اکساتی ہے جو ہمارے معاشرے میں قابل قبول نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ الیکشن میں انتخابی بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخاب کرائے اور اس الیکشن میں بھی ایسا ہوا ہے۔ ’ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنا آئینی کردار ادا کرے۔‘

    ’پاکستانی عوام کو چاہیے کہ اسے یقینی بنائیں۔‘

    ڈونلڈ لو نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ کا اہم نان نیٹو اتحادی ہے۔

  6. ’پاکستانی حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کریں‘

    کمیٹی کے رکن ڈین فلپس نے پوچھا کہ امریکی محکمۂ خارجہ نے پاکستان میں انتخابات کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ اگلی منتخب کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، اس سے قطع نظر کہ کون سی جماعت آتی ہے، تو کیا ہمیشہ یہی کیس رہا ہے؟

    امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لو نے کہا ’جی، سر۔‘

    ڈین فلپس نے مزید پوچھا کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ امریکی حکومت نے کبھی اس پر رائے نہیں دی کہ کون پاکستان کی قیادت کرے گا۔ اس پر بھی لو نے ہاں کا جواب دیا۔

    ڈین فلپس نے امریکی محکمۂ خارجہ کے اس بیان پر وضاحت مانگی کہ پاکستان میں انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات ہونی چاہییں۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ پاکستان میں الیکشن کمیشن امیدواران اور سیاسی جماعتوں کی شکایات کو سنتا ہے اور اس پر فیصلے دیتا ہے۔ ’ہم نے اس میں شفافیت کا مطالبہ کیا، بے ضابطگیوں پر احتساب کا کہا۔ ہم اس طریقۂ کار پر عملدرآمد ہوتا دیکھ رہے ہیں۔۔۔ ہم اس کی نگرانی کریں گے۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ امریکہ پاکستانی حکومت اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہے کہ انتخابی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

  7. عمران خان کا امریکی سازش کا الزام جھوٹ ہے، ہم پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں: ڈونلڈ لو

    امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے چیئرمین جو ولسن نے ڈونلڈ لو سے پوچھا کہ ایسے الزامات ہیں کہ امریکی حکومت نے سازش کے ذریعے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت گرائی۔ انھوں نے اِن قیاس آرائیوں پر ڈونلڈ لو سے جواب طلب کیا۔

    ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ ’یہ الزامات، یہ سازشی نظریہ ایک جھوٹ ہے۔۔۔ میں نے سائفر کے معاملے پر پریس رپورٹنگ کا جائزہ لیا ہے۔‘

    امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لو کی اس بریفننگ کے دوران کمیٹی کے بعض شرکا نے ’جھوٹ‘ کے نعرے لگائے۔

    تاہم انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیک شدہ مبینہ سفارتی کیبل درست نہیں ہے اور ’کسی بھی موقع پر اس میں مجھ پر یا امریکی حکومت پر الزام نہیں لگایا گیا کہ ہم نے عمران خان کے خلاف اقدامات کیے۔ میٹنگ میں شریک دوسرے فرد اسد مجید (واشنگٹن میں سابق پاکستانی سفیر) نے اپنی حکومت کو گواہی دی کہ کوئی سازش نہیں ہوئی۔‘

    ’ہم پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔ ہم اس اصول کا احترام کرتے ہیں کہ پاکستانی عوام کو حق ہے کہ اپنے نمائندے منتخب کریں۔‘

    ان کے اس بیان کے دوران شور شرابا ہوا اور ان کے پیچھے بعض لوگ ’قیدی نمبر 804 کو رہا کرو‘ کا مطالبہ کرتے دکھائی دیے۔

  8. ’افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں‘

    کمیٹی کے چیئرمین جو ولسن نے ڈونلڈ لو سے پوچھا کہ بائیڈن انتظامیہ کی پاکستان کے لیے ترجیحات کیا ہیں؟

    ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ افغانستان میں 40 سال سے لڑائی جاری ہے اور پاکستان اس سے متاثر ہوا ہے۔ ’جنگ کے خاتمے سے ہمیں موقع ملا ہے کہ پاکستان سے تعلقات اس کے اپنے ٹرمز پر استوار کریں، دہشتگردی کے خطرے کے دوران لوگوں کی مدد کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ہم افغان طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی سرزمین سے ہونے والے حملے روکے۔۔۔ پاکستان کو معیشت میں بہتری کی ضرورت ہے۔ ایسی ترقی جس سے لوگوں کی فلاح ہوں۔‘

    ’ہم کاروباری تعلقات میں بہتری، پاکستانی اور امریکی شہریوں کے ایک دوسرے کے ملک میں سفر میں بہتری چاہتے ہیں۔‘

  9. گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملے میں ’فائرنگ کا سلسلہ پونے گھنٹے تک جاری رہا‘: عینی شاہد, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    عینی شاہدین کے مطابق گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملہ سہ پہر کو کیا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سب سے پہلے ایک بڑا دھماکہ ہوا جس کی آواز گوادر شہر میں دوردور تک سنائی دی۔

    عینی شاہدین کے مطابق اس حملے کے بعد لگ بھگ آٹھ چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ اس کے ساتھ شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ پونے گھنٹے تک جاری رہا۔

    اس حوالے سے جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں ان میں بھی شدید فائرنگ کی آواز یں سنائی دے رہی ہیں۔

    عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اس حملے کے باعث کمپلیکس کے گردونواح کے علاقوں کے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ضلع گوادر انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے مکران ڈویژن کے دو دیگر اضلاع کیچ اور پنجگور میں بھی بدامنی کے اس نوعیت کے واقعات پیش آ رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باعث اب ماضی کے مقابلے میں بدامنی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

  10. ڈونلڈ لو کا پاکستان میں آٹھ فروری کے انتخابات کے دوران بےضابطگیوں کا اعتراف

    امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لو نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی کو پاکستان کے آٹھ فروری کے انتخابات پر جمع کرائے گئے بیان میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔

    آج امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ میں پاکستان کے انتخابات سے متعلق سماعت جاری ہے جس میں ڈونلڈ لو کو بطور گواہ طلب کیا گیا۔

    ابتدائی طور پر وہ اپنا پہلے سے جمع کرایا گیا تحریری بیان پڑھ کر سنا رہے ہیں۔

    ڈونلڈ لو نے کمیٹی میں پیشی سے قبل جمع کرائے گئے اپنے تحریری بیان میں بتایا ہے کہ وہ 31 برس قبل جب پشاور میں بطور جونیئر افسر تعینات تھے تو انھوں نے پاکستان کے انتخابات کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔

    رواں برس آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے متعلق ڈونلڈ لو نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کے لیے پانچ ہزار سے زائد آزاد مبصرین موجود تھے اور مبصرین کی تنظیموں نے نتیجہ اخذ کیا کہ آٹھ فروری کے انتخابات بڑی حد تک مسابقتی اور منظم تھے۔ البتہ انتخابی نتائج مرتب ہونے کے عمل میں بعض بے ضابطگیاں دیکھی گئیں۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ الیکشن کے روز مقامی انتخابی نگران تنظیموں نے کہا کہ انھیں ملک بھر میں آدھے سے زیادہ حلقوں پر ووٹوں کی گنتی کے عمل کی نگرانی سے روک دیا گیا جبکہ ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود حکام نے موبائل فون ڈیٹا سروس بند کر دی جس کا مقصد پاکستانیوں کی سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپلی کیشنز تک رسائی کو روکنا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل ہونے والے تشدد اور انتخابی بے ضابطگیوں پر ’ہم نے تحفظات کا اظہار کیا تھا کیوںکہ سیاست دانوں سمیت سیاسی اجتماعات اور پولیس پر حملے ہوئے اور کئی صحافیوں خاص طور پر خواتین صحافیوں کو سیاسی جماعتوں کے حامیوں نے ہراسانی کا شکار بنایا۔‘

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ کئی سیاسی رہنما خود کو مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ رجسٹر نہیں کرا سکے۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ پاکستان کے انتخابات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ تشدد کے خطرے کے باوجود چھ کروڑ سے زائد شہریوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا جس میں دو کروڑ سے زائد خواتین تھیں جب کہ ووٹرز نے 2018 کے انتخابات کے مقابلے میں پچاس فی صد زیادہ خواتین کو منتخب کیا۔

    امریکی سفارت کار نے کہا کہ پاکستان میں ریکارڈ تعداد میں مذہبی اقلیتوں اور نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی نشستوں پر انتخاب لڑا۔

    ڈونلڈ لو نے امورِ خارجہ کی کمیٹی کو اپنے تحریری بیان میں کہا کہ پاکستان امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے اور واشنگٹن پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے پرعزم ہیں۔

    امریکی سفارت کار کے مطابق انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے احترام کے ساتھ پاکستان کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بہت اہم ہے۔

    ڈونلڈ لو نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے اور ہم پاکستان کی برآمدات وصول کرنے والے بڑوں ملکوں میں شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ایک پرامن، جمہوری اور خوش حال ملک کے مستحق ہیں اور ہم اس مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    امریکی سفارت کار نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے امورِ خارجہ کی ذیلی کمیٹی کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  11. وزیر داخلہ نے گوادر حملے کی مذمت کی، سکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گوارد پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر ’دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو شاباش‘ دی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ’بہادری سے دہشتگردی کی کارروائی کو ناکام بنایا۔ دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملانے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکار قوم کے ہیرو ہیں۔‘

    ’دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے والے وطن عزیز کے بہادر سپوتوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے۔ دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔‘

  12. بریکنگ, گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملہ کرنے والے تمام آٹھ دہشتگرد مارے گئے، سرفراز بگٹی

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آج آٹھ دہشتگردوں نے گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس میں حملے کی کوشش کی اور سکیورٹی فورسز نے ان تمام حملہ آوروں کو مار ڈالا۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’پیغام بہت واضح ہے کہ جو بھی تشدد کا انتخاب کرے گا، ریاست کی جانب سے اس پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔‘

  13. گوادر پورٹ اتھارٹی کے دفتر پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والا مجید بریگیڈ کیا ہے؟

  14. بریکنگ, ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر افسران کو توہینِ عدالت پر سزا کا حکم معطل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو چھ ماہ، ایس ایس پی آپریشنز کو چار ماہ جبکہ ایس ایچ او تھانہ مار گلہ کو دو ماہ قید اور ایک، ایک لاکھ روپے جرمانوں کی سزا کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

    جسٹس بابر ستار پر مشتمل سنگل بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام سزائیں مختصر ہونے کے باعث ایک ماہ کے لیے معطل کی تھیں اور اپیل دائر کرنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ڈویژن بینچ تیس روز کے اندر اپیل میں سزا معطل نا کرے تو ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر کو تحویل میں لے کر اڈیالہ جیل بھجوا دیا جائے۔

    بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر کی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کی جس میں توہین عدالت کیس میں سزا کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

    سماعت کے دوران ایس ایس پی آپریشنز ملک جمیل ظفر کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جب اپیل فائل ہوتی ہے تو عدالت فیصلہ معطل کر سکتی ہے۔

    اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کون سا حکم تھا جس کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ تحریکِ انصاف کے رہنما شہریار آفریدی کے ایم پی او آرڈر کا تھا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے ہمارے حکم امتناعی کو اسلام آباد پولیس دیکھتی بھی نہیں ہے، ہم گرفتاری سے روکتے ہیں تو وہ لازمی گرفتار کر لیتے ہیں اور جب توہینِ عدالت کی کارروائی ہوتی ہے تو معافیاں مانگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو آپ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

    سماعت کے بعد عدالت نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ملتوی کر دی جس کی تاریخ بعد میں رجسٹرار آفس مقرر کرے گا۔

  15. بریکنگ, گوادر میں کلیئرنس آپریشن مکمل، سات حملہ آور مارے گئے: ڈپٹی کمشنر گوادر

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حکام کا کہنا ہے کہ پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر بدھ کی شام ہونے والے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر گوادر میجر (ر) اورنگزیب بادینی نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اس کارروائی میں سات حملہ آور مارے گئے ہیں جبکہ اس دوران ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔

    بدھ کی شام ساڑھے تین بجے کے قریب گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس کے احاطے سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

  16. بریکنگ, گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر مسلح افراد کا حملہ

    گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے۔

    کمشنر مکران ڈویژن نے تصدیق کی ہے کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے۔

    کمشنر مکران ڈویژن سید عمرانی کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس میں اہم سرکاری دفاتر ہیں۔ اس کمپلیکس میں واپڈا، الیکشن کمیشن کے علاوہ سکیورٹی سے متعلقہ اداروں کے دفاتر بھی ہیں۔

    اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

  17. بریکنگ, سینیٹ الیکشن میں حصہ لینا ہمارا آئینی ،قانونی اور جمہوری حق ہے، ظلم و زیادتی کا سلسلہ بند کیا جائے: بیرسٹر سیف

    پی ٹی آئی کے سینیٹ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ یہ عمل افسوسناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔لغو و بے بنیاد وجوہات کے بنیاد پر ہمارے سینیٹ کے امیدواران کے کاغذات مسترد کئے گئے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ زلفی بخاری، مراد سعید، اعظم سواتی کو اس ڈر سے باہر کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سینیٹ میں عوام کی نمائندگی کو حقیقی انداز میں کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ارباب اختیار ،ارباب اقتدار اور فیصلہ سازوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عوام کو ان کی نمائندگی کے حق سے محروم نہ کریں۔ سینیٹ الیکشن میں حصہ لینا ہمارا آئینی ،قانونی اور جمہوری حق ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو سینیٹ الیکشن سے دور رکھنے سے جمہوری نظام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پی ٹی آئی کیساتھ ظلم و زیادتی کا سلسلہ بند کیا جائے۔

  18. بریکنگ, سینیٹ انتخابات کے لیے مراد سعید اور اعظم سواتی سمیت پی ٹی آئی کے 12 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد

    پاکستان میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے لیے خیبر پختونخوا سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار مراد سعید اور اعظم سواتی سمیت کل 12 امیدواروںکے کاغذات نامزدگی اعتراضات کے بعد مسترد کردیے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری حتمی فہرست میں جنرل نشست پر کل 16 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ خواتین کی نشستوں پر کل چھ امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں۔

    اسی طرح ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کے لیے آٹھ امیدوار میدان میں ہیں۔

    جنرل نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما مراد سعید کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں اور ان پر اعتراض یہ ہے کہ وہ اس وقت مفرور ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے ٹیکنوکریٹس کی نشست کے لیے کاغذات جمع کرائے تھے لیکن ان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے ہیں۔

    اعظم سواتی اس سے پہلے دو مرتبہ سینیٹ کے انتخاب جیت چکے ہیں ایک مرتبہ وہ جمعیت علماء اسلام ف کے امیدوار تھے اور ایک مرتبہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور اس سے پہلے وہ ٹیکنوکریٹ کیٹگری میں ہی سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لے چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے خرم زیشان اور خواتین کی کیٹگری میں حمیدہ شاہد کے کاغذات بھی مسترد کیے گئے ہیں۔

    دیگر اہم ناموں میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کاغذات پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز کی جانب سے جمع کرائے تھے۔

    الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ا ن کے کاغذات بھی مسترد ہوئے ہیں کیونکہ ان کے کاغذات کی پروپوز کرنے والی خاتون رکن نے اب تک حلف نھیں اٹھایا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے دیگر اہم رہنماؤں کے کاغذات منظور ہوئے ہیں۔ ان میں قاضی محمد انور ، نور الحق قادری ، فیصل جاوید ،مرزا محمد آفریدی اور عرفان سلیم کے نام نمایاں ہیں۔

    پشاور ہائی کورٹ میں قائم اپیلیٹ ٹریبیونل میں جن کے کاغذات مسترد ہوئے ہیں وہ اپیل کر سکتے ہیں۔

  19. عمران خان تھانہ بارہ کہو میں درج دو مقدمات میں بری

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے عمران خان کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں درج دو مقدمات میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انھیں بری کر دیا ہے۔

    بدھ کو جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال نے محفوظ فیصلہ سنایا جس میں عمران خان کو دونوں مقدمات میں بری قرار دیا گیا جبکہ اس کے علاوہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیف اللہ نیازی، عامر محمود کیانی، پرویز خٹک، شیریں مزاری، فیصل جاوید سمیت گیارہ ملزمان کو بھی بری کر دیا گیا ہے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال نے گزشتہ روز بریت کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  20. بریکنگ, عمران خان کا عام انتخابات میں ’دھاندلی‘ کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سابق وزیراعظم اور تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان نے رواں برس فروری میں ہونے والی عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    عمران خان نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔

    سینیئر وکیل حامد خان کے ذریعے سپریم کورٹ میں بدھ کو دائر کی گئی درخواست میں سپریم کورٹ کے تعصب نہ رکھنے والے ججوں پر مشتمل کمیشن بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیشن آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کے طریقۂ کار اور اس کے عمل کے علاوہ اس کے نتائج کے حوالے سے معاملات کی تحقیقات کرے، ان کا آڈٹ کرے اور جائزہ لے اور اس کی تحقیقات مکمل اور نتیجہ عام ہونے تک ان انتخابات کے نتیجے میں عمل پذیر ہونے والے واقعات بشمول وفاق اور پنجاب میں حکومتوں کی تشکیل کو معطل کر دیا جائے۔