یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات سے متعلق مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کو فلیگ شپ، ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں بری کر دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 2022 کے دوران لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ سے متعلق دو مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کر لی ہے۔
پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات سے متعلق مزید تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ہرنائی کوئلہ کان حادثے میں ریکسیو آپریشن جاری ہے۔ ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق ریکسیوآپریشن کے دوران 7 کان کنوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
ترجمان کے مطابق کوئلہ کان میں پھنسے دیگر مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریکسیو آپریشن جاری ہے۔
بلوچستان سے سینیٹ کے انتخاب کے لیے سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان سمیت 28 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو درست قراردیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان سے سینیٹ کے انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 38 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔
سینیٹ کے انتخاب کے لیے جن دیگر معروف امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قراردیے گئے ان میں پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر چنگیز جمالی، مسلم لیگ ن سے سابق سپیکر راحیلہ درانی، بلوچستان عوامی پارٹی کے کہدہ بابر، جمیعت العلما اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع، جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق ہاشمی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی شامل ہیں۔
دس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جنرل نشستوں پر دو، ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر سات اور خواتین کی نشستوں پر ایک امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں 18کانکن ایک کوئلہ کان میں پھنس گئے ہیں۔ ہرنائی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ زردآلو کے علاقے میں پیش آیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ زردآلو کے علاقے میں ایک نجی کوئلہ کان کا ایک حصہ گیس کے باعث دھماکے سے دب گیا۔ اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کی وجہ سے کان میں موجود دس کانکن پھنس گئے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ پھنسے ہوئے دس کان کنوں کو ریسکیو کرنے کے لیے آٹھ کان کن کان میں داخل ہوئے ہیں لیکن وہ بھی کان میں پھنس گئے ہیں۔
اہلکار کے مطابق مقامی انتظامیہ کی جانب سے پھنسے ہوئے 18 کانکنوں کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ مزدور رہنما لالا سلطان نے حکومت سے پھنسے ہوئے کانکنوں کو فوری طورپر ریسکیو کرنے کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں سیفٹی کے مناسب انتطامات نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے یہ حادثات پیش آتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کوئلہ کانوں میں گیسز کے اخراج کے لیے وینٹلیشن کا مناسب انتظام نہیں کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے گیس کا اخراج نہیں ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ زردآلو میں پیش آنے والے اس حادثے میں جب دس کانکن پھنس گئے تو کان سے گیس کا اخراج نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ان کو ریسکیو کے لیے جانے والے کانکن بھی گیس کی وجہ سے پھنس گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفرکیس کے ٹرائل میں ملزمان کے لیے سرکاری وکلا صفائی کے نام تجویز کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹکے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے منگل کو بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔
سابق وزیر اعظم اور بانی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائی کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دے کر جلد بازی میں ٹرائل مکمل کیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل ٹین اے کے مطابق فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں کیونکہ حقِ جرح ختم ہو جائے تو آپ کی حق تلفی ہوتی ہے۔
اپیل کنندگان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا سیکرٹری داخلہ نے وفاقی حکومت کی منظوری سے مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دی، جو شکایت درج کرائی گئی اس میں بانی پی ٹی آئی یا شاہ محمود قریشی کا نام نہیں تھا۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ جتنے بھی مقدمات عمران خان کے خلاف آئے ہیں وہ ’آؤٹ آف دا باکس‘ ہی رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہارڈ کور کرمنل کیس نہیں، وائٹ کالر کرائم بھی نہیں بلکہ اپنی نوعیت کا الگ ہائبرڈ قسم کا کیس ہےاور اس میں نئی عدالتی نظیر سامنے آئے گی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ریاست کے خلاف جرم کا کیس ہے، میں کہوں گا کہ ٹرائل کورٹ کے جج کو ایک اور موقع دے دیں اور میں میرٹ پر دلائل دوں گا۔
عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے بھی پوچھیں گے کہ شام کو ٹرائل کی کیا حیثیت ہو گی؟کیا بے چینی تھی کہ رات کے دس بجے بھی ٹرائل ہو رہا تھا؟ اس میں شاید کوئی غیرقانونی چیز نہ ہو لیکن سوال ہے کہ اتنی جلدی کیا تھی؟
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ 24 جنوری کو چار گواہوں پر شام تک جرح ہوئی، 25 جنوری کو بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے بیماری کی وجہ سے التوا کی درخواست دی۔
سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا جج ایک دن دانت میں تکلیف کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکےتو اگلے ہی روز ٹرائل جج نے سرکاری وکلاء مقرر کر دیے۔ ٹرائل عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے وکلاء کے نام مانگے تھے۔
جسٹس میاں گل حسن نے کہا جو وکلا مقرر کیے گئے ان کی کیا حیثیت ہے؟ چیف جسٹس نے کہا پھر تو ہمیں ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر کے انھیں بھی سننا پڑے گا۔
جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا ایسی بھی کیا جلدی تھی؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا مجھے نہیں معلوم لیکن شاید جج صاحب نے کوئی ڈیدلائن پوری کرنی تھی۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اڈیالہ جیل میں اب بھی یہی ہو رہا ہے، اب ایک اور کیس میں بھی بانی پی ٹی آئی کا ٹرائل اسی طرح ہی چلایا جا رہا ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کء جج نے اپنے فیصلے کے پیراگراف نمبر دو میں لکھا کہ ہائیکورٹ کی ہدایات کی وجہ سے جلدی فیصلہ کیا۔
اپیلوں پر مزید سماعت بدھ کوہو گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سینیٹ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں اور وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی منگل کو کاغذات نامزدگی کی سکرونٹی کے لیے صوبائی الیکشن کمیشن گئے تھے۔
صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر میں ریٹرنگ افسر اعجاز انور چوہان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے کاغذات نامزدگی کی سکرونٹی کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کو فلیگ شپ، ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں بری کردیا ہے۔
منگل کو پانامہ ریفرنس میں بریت کی درخواستوں پر احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے محفوظ شدہ فیصلہ سُناتے ہوئے حسن نواز اور حسین نواز کو سات برس اشتہاری رہنے کے بعد تینوں ریفرنسز سے بری کردیا۔
عدالت نے دونوں کو مسلسل عدم حاضری پر ایون فیلڈ ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنسں میں 15 نومبر جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 9 اکتوبر 2017 کواشتہاری قرار دیا تھا۔
عدالت نے دونوں کے دائمی وارنٹس بھی جاری کیے تھے، تاہم رواں مہینے حسین نواز اور حسن نواز نے 14 مارچ کو عدالت کے سامنے سرینڈر کردیا تھا جس کے بعد ان کے وارنٹس معطل کر دیے گئے تھے۔
حسن اور حسین نواز 2017 میں پانامہ جےآئی ٹی بننے کے بعد پاکستان آئ تھے، حسین نواز چار اور حسن نواز تین مرتبہ جےآئی ٹی کےسامنےپیش ہوئے تھے۔
جے آئیٹی رپورٹ پرسپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل ہی حسن اور حسین نواز واپس لندن روانہ ہوگئےتھے۔
سپریم کورٹ نے نیب کو شریف فیملی کے خلاف تین ریفرنسز بنانے کا حکم دیا تھا جن میں ایون فیلڈ، فلیگ شپ اورالعزیزیہ ریفرنسزشامل ہیں تھے۔
ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب نےحسن اورحسین نواز کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن وہ بیرون ملک ہونےکی وجہ سے تفتیش میں تعاون نہ کرپائے تھے۔
نیب نےانہیں طلبی نوٹس بھیجے لیکن وہ پیش نہ ہوئے جس کے بعد 15 نومبر 2017 کواحتساب عدالت نےانہیں فلیگ شپ اورفیلڈ ریفرنس میں اشتہاری قراردیا تھا، جبکہ دونوں کو 9 اکتوبر کو العزیزیہ ریفرنس میں اشہاری قرار دیا گیا تھا۔
سابق وزیر اعظم نوازشریف کے دونوں صاحبزادے 7 سال بعد 12 مارچ 2024 کووطن واپس آئے اور اگلے ہی دن 13 مارچ کو احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو صدارتی انتخابات میں کامیابی پر دلی مبارکباد دی ہے۔
ہفتے کو ایوان صدر کے پریس وِنگ کے مطابق صدر مملکت نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’میں پُراعتماد ہوں کہ پاک روس تعلقات صدر پوتن کی متحرک قیادت میں مزید مضبوط ہوں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
لیکشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان سے سینیٹ کی نشستوں کے انتخابات کے لیے اپیلیٹ ٹریبونل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ بات صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان محمد فرید آفریدی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کی۔
خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ اپیلیٹ ٹریبونل میں ریٹرننگ افسر کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات منظور یا مسترد کئے جانے کیخلاف اپیلیں دائر کی جاسکیں گی۔
محمد فرید آفریدی نے مزید کہا کہ ایپلیٹ ٹریبونل بلوچستان ہائی کورٹ کے دو معزز ججز جسٹس محمد اعجاز سواتی اور جسٹس نزیر احمد لانگو پر مشتمل ہے۔
ان ٹریبونل کے پاس 21 مارچ تک کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کی جاسکیں گی اور یہ ایپلیٹ ٹریبونل 25 مارچ تک اپیلوں پر فیصلے کریں گے۔
اسی طرح امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست کی اشاعت 26 مارچ کو ہوگی اور 27 مارچ تک امیدوار دستبردار ہوسکیں گے۔
شیڈول کے تحت پولنگ 02 اپریل 2024 کو صبح 9 سے شام 4 بجے تک صوبائی اسمبلی بلوچستان کوئٹہ میں ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 2022 کے دوران لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ سے متعلق دو مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کر لی ہے۔
اسلام آباد کی جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے ان کیسز کی سماعت کی جس میں وکلا نعیم پنجوتھا پیش ہوئے۔
عمران خان کے ترجمان برائے قانونی امور نعیم پنجوتھا نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا کہ ’آج ہم نے 25 مئی لانگ مارچ کے دو مقدمات میں عمران خان کو بری کروا دیا ہے۔‘
’عمران خان کے اوپر درج دو مقدمات نمبر 593 تھانہ لوئی بھیر اور مقدمہ نمبر 462 تھانہ سہالہ آج زیر سماعت تھے۔ کیسز کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کی۔ ان دونوں کیسز میں بریت کی درخواست پر عمران خان کی طرف سے میں نے دلائل دیے۔ اور عدالت نے آج ان دو مقدمات میں عمران خان کو مقدمے سے باعزت بری کر دیا ہے۔ تفصیلی آرڈر بعد میں جاری کیا جائے۔‘
نعیم پنجوتھا نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمران خان نے پُرامن احتجاج کیا تھا جس پر ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ دوران سماعت عدالت سے عمران خان کی پیشی کی درخواست کی جس پر جج نے جواب دیا کہ اگر انھیں کچھ ہوجاتا ہے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ یوں عدالت نے سابق وزیراعظم کو پیش کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
نعیم پنجوتھا کے مطابق انھوں نے دلائل میں دفعہ 144 کے غیر قانونی نفاذ اور پولیس کی مدعیت میں مقدمات کے اندراج پر بات کی۔ ’عدالت کو بتایا کہ اس کے کوئی شواہد یا گواہ نہیں کہ عمران خان کی ایما پر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ ہوا۔‘
مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق دوران سماعت جج شائستہ کنڈی نے سوال کیا کہ کیا اس سے پہلے بھی بانی پی ٹی آئی مقدمات میں بری ہوچکے ہیں جس پر وکیل نعیم پنجوتھا نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل بھی انھیں بعض مقدمات میں بریت ملی ہے۔
کوئٹہ، نوشکی اور چاغی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق چمن، قلعہ عبداللہ، پشین اور دالبندین سمیت پاک-ایران سرحدی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.4 تھی، زلزلے کا مرکز کوئٹہ کے شمال مغرب میں 150 کلو میٹر دور تھا جبکہ گہرائی 35 کلومیٹر زیر زمین تھی۔
زلزلے کے باعث لوگ خوفزدہ ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے، تاحال کسی جانی و مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
امریکہ نے پاکستان اور افغانستان دونوں سے کہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
امریکی صدر دفتر وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ان خبروں سے آگاہ ہیں کہ پاکستان نے سنیچر کے روز پاکستان کی ایک فوجی چوکی پر حملے کے جواب میں افغانستان میں فضائی حملے کیے۔ ہمیں پاکستان میں حملے کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصان اور افغانستان میں حملوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کرین جین پیئر کا پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے مزید کہنا تھا کہ ’ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دہشت گرد حملے افغان سرزمین سے نہ ہو۔‘
انھوں نے پاکستان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ ہم دونوں فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔‘
امریکی صدر کے دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے جو امریکہ یا ہمارے دیگر شراکت داروں یا اتحادیوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘

فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے بھائی اور سابق تحصیلدار چکوال نجف حمید کو دوبارہ گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
نجف حمید کو اینٹی کرپشن کی خصوصی عدالت کے جج علی نواز بکھر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے نجف حمید کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کردیا۔
نجف حمید نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے سینیئر سول جج سے رجوع کیا تو عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی اور اینٹی کرپشن حکام کی استدعا پر انھیں جیل بھیج دیا۔
نجف حمید کو سینیئر سول جج کرمنل وقار حسین گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اینٹی کرپشن کی تفتیشی ٹیم نے نجف حمید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بجھوانے کی استدعا کی۔
عدالت نے نجف حمید کو یکم اپریل کو دوبارہ عدالت پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے اینٹی کرپشن حکام کو 20 مارچ کو مقدمے کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGOHAR ALI KHAN
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف سے آحری دن بلا چھین لیا گیا ہے تو پھر کوئی اور رستہ بھی نہیں بچا تھا۔
ان کے مطابق تحریک انصاف نے آٹھ فروری کے انتخابات میں کامیابی سمیٹنے کے بعد مخصوص نشستوں کی فہرست تیار کی اور پھر جو جماعت دستیاب تھی اس میں شامل ہو گئے کیونکہ تحریک انصاف کے پاس تو انتخابی نشان ہی نہیں تھا۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے الزام عائد کیا کہ ان کے مختلف جماعتوں سے مذاکرات چل رہے تھے مگر پھر جماعت اسلامی سمیت کوئی جماعت دباؤ برداشت نہیں کر سکی تو پھر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/LIAQAT BALOCH
خیال رہے کہ جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما لیاقت بلوچ نے بیرسٹر گوہر علی کے اس الزام کی تردید کی ہے اور انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحریک انصاف نے پہلے خود ان سے یہ کہا تھا کہ وہ پورے ملک میں جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کریں گے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق ان کی جماعت نے غیرمشروط طور پر تحریک انصاف کی حمایت کا فیصلہ کیا مگر پھر بعد میں تحریک انصاف اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی اور کہا کہ یہ اتحاد صرف خیبرپختونخوا میں ہی ہو سکتا ہے جبکہ وفاق میں مجلس وحدت مسلمین سے وہ اتحاد کریں گے۔ ان کے مطابق جب تحریک انصاف اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی تو پھر جماعت اسلامی کی قیادت نے بھی اس سے کہا کہ آپ اپنی مرضی سے خیبرپختونخوا میں بھی اپنی کسی پسند کی جماعت سے اتحاد کر لیں۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود میں کسی ردو بدل کے بغیر شرح سود 22 فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے آج کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 22 فیصدپر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آج کے فیصلے تک پہنچنے کے حوالے سے کمیٹی نے نوٹ کیا کہ گذشتہ توقعات کے مطابق مہنگائی مالی سال 24 کی دوسری ششماہی میں واضح طور پر کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔
تاہم کمیٹی نے نوٹ کیا کہ فروری میں تیزی سے کمی کے باوجود مہنگائی کی سطح بلند ہے اور اس کا منظرنامہ مہنگائی کی بلند توقعات کی بنا پر خطرات کی زد میں ہے۔
اس بنا پر محتاط طرز ِعمل درکار ہے اور ستمبر 2025 تک مہنگائی کو 5-7 فیصد کی حدود میں لانے کے لیے موجودہ زری پالیسی موقف قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔
کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ تجزیہ بھی بدستور ہدفی مالیاتی یکجائی (fiscal consolidation) اور منصوبے کے مطابق بیرونی رقوم کی بروقت آمد سے مشروط ہے۔
زری پالیسی کمیٹی نے یہ بات نوٹ کی کہ کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے ہونے والی کچھ اہم پیش رفتوں کے میکرواکنامک منظرنامے کے لیے مضمرات ہیں۔
اوّل یہ کہ تازہ ترین اعدادوشمار زرعی پیداوار کی بحالی کی بدولت معاشی سرگرمی میں مسلسل معتدل اضافے کے عکاس ہیں۔ دوم: بیرونی جاری کھاتے کا توازن توقع سے زیادہ بہتر ثابت ہو رہا ہے، جس سے مالی رقوم کی کمزور آمد کے باوجود زرمبادلہ کے بفرز کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔
سوم: دسمبر سے کاروباری اداروں کی مہنگائی کی توقعات نے بتدریج اضافے کو ظاہر کیا ہے جبکہ مارچ میں صارفین کی توقعات بھی بڑھی ہیں۔
آخر میں عالمی محاذ پر اگرچہ اجناس کی قیمتوں کا وسیع تر رجحان خوش آئند رہا ہے، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا ایک جزوی سبب بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی ہے۔
مزید برآں، مہنگائی کے امکانات کے متعلق بے یقینی کے حالات میں ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اہم مرکزی بینکوں نے حالیہ اجلاسوں کے دوران محتاط زری پالیسی موقف کو برقرار رکھا ہے۔
سپریم کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی-50 پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیر کے روز دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس نشست سے حالیہ انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے انجنیئر زمرک خان اچکزئی کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ ان کی کامیابی کو جمیعت العلما اسلام کے امیدوار حاجی محمد نواز اور دیگر امیدواروں نے الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے اس حلقے کے چھ پولنگ سٹیشنز پر انتخاب کو کالعدم قرار دے کر ان پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف انجنِیئرزمرک خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
حاجی محمد نواز کے وکیل سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے انجنیئر زمرک کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے پورے حلقے میں الیکشن کمیشن کو دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے۔