سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز فلیگ شپ، ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں بری

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کو فلیگ شپ، ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں بری کر دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 2022 کے دوران لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ سے متعلق دو مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کر لی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستان افغانستان سرحد پر کشیدگی، افغانستان کی گولہ باری سے تین افراد زخمی

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپ میں چار شہری زخمی ہوئے ہیں جنھیں پاڑا چنار ڈسٹرکٹ ہسپتال لایا گیا ہے جبکہ سرحد پر کشیدگی برقرار ہے جہاں گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ صبح سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔

    ڈسٹرکٹ ہسپتال پاڑا چنار کے میڈیکل سپرنٹڈنٹ ڈاکٹر میر حسن نے بتایا کہ ہسپتال میں چار زخمیوں کو لایا گیا ہے جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چاروں افراد سرحد کے قریب کے رہائشی ہیں اور انھیں معمولی زخم آئے ہیں۔ ان زخمیوں میں حاجی دلدار حسین ، محمد اقبال ، امجد علی ، اور شباب حسین شامل ہیں۔

    مقامی پولیس زرائع کا کہنا ہے کہ یہ چاروں افراد افغانستان کے جانب سے داغے گئے گولے کے گرنے سے زخمی ہوئے ہیں ۔ یہ واقعہ پاڑہ چنار کے گاؤں شنگ میں پیش آیا ہے۔

    پاک افغان سرحد پر بوڑکی کے رہائشی ملک زرتاج نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح چھ بجے کے قریب ان کے گاؤں میں تین گولے گرے تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو دوپہر دو بجے تک جای تھا ۔

    مقامی سکول بند کر دیے گئے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ جن لوگوں کے کچے مکان ہیں وہ لوگ مسجدوں میں یا ان لوگوں کے ہاں چلے گئے ہیں جن کے پکے مکان ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ علاقے سے نقل مکانی اب تک نہیں ہوئی ہے لیکن خوف پایا جاتا ہے۔

  2. شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں آٹھ دہشتگرد ہلاک: آئی ایس پی آر

    صحرا عرف جانان

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ،تصویر کا کیپشنصحرا عرف جانان

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایک بیان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ’17 اور 18 مارچ کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر آپریشن کیا جس میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔‘

    فوج کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ دہشتگرد ہلاک ہوئے جن میں کمانڈر سحر جانان شامل تھے جو ’16 مارچ کو میر علی میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔‘

    فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  3. پاک-افغان سرحد پر فائرنگ کی اطلاعات: پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار زخمی, عزیز اللہ خان/بی بی سی اردو، پشاور

    پاک-افغان سرحد پر فائرنگ کی اطلاعات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ضلع میں پاک-افغان سرحد پر افغان فورسز کی گولہ باری سے سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنھیں پولیس ذرائع کے مطابق ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ان پولیس ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ اب تک تین زخمیوں کی اطللاع ہے جن میں ایک کیپٹن بھی شامل ہیں۔

    افغانستان کے صوبہ پکتیکا اور خوست میں پاکستانی فورسز کے مبینہ حملے کے بعد افغانستان کی جانب سے ضلع کرم کے علاقے بوڑگی میں گولے پھینکے گئے۔

    ان میں سے ایک گولہ مقامی سکول، ایک جنرل سٹور اور ایک آرہ مشین کے قریب گرا ہے۔

    اس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ سرحد پر کشیدگی جاری ہے اور مقامی قبائلی لشکر بھی سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے تیار موجود ہیں۔

  4. ’جارحیت کے جواب میں سرحد پار پاکستانی فوج کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا‘ افغان وزارت دفاع کا دعویٰ

    ایک بیان میں افغان وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح پاکستانی جنگی طیارے افغان سرزمین میں داخل ہوئے اور خوست، برمل اور پکتیکا میں عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی۔

    اس کے مطابق ’اس جارحیت کے جواب‘ میں افغانستان کی سرحدی فورسز نے سرحد پار پاکستانی فوج کے مراکز کو نشانہ بنایا۔‘

    ’ملک کی دفاعی اور سکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور ہر صورت علاقائی سلامتی کا تحفظ کریں گی۔‘

  5. افغانستان میں پاکستان کی فضائی کارروائی پر افغان طالبان کی ’سنگین نتائج‘ کی تنبیہ, عزیز اللہ خان/ بی بی سی اردو، پشاور

    افغانستان میں پاکستانی طیاروں کی بمباری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود میں پکتیکا اور خوست کے علاقوں میں بمباری کی ہے جس میں پانچ خواتین اور تین بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان کے سکیورٹی اور انٹیلیجنس حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ’افغانستان میں واقع تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی تصدیق کی ہے۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’نیم شب کے وقت کوئی 3 بجے پکتیکا میں تحصیل برمل کے علاقے لمن اور صوبہ خوست کے علاقے سپیری میں کیے گئے ہیں اور اس میں عام لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    اس بارے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ افغانستان کے پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور پاکستان کی جانب سے ماضی میں بھی فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے بیان میں کہا ہے کہ بظاہر ’جس عبداللہ شاہ کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اس کے مکان کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں رہتا ہے۔‘

    مقامی لوگوں کے مطابق یہ علاقے پاکستان کے علاقے جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے ساتھ ملتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے مذید کہا ہے کہ ان علاقوں میں ایک ہی قبیلہ آباد ہے جو دونوں ممالک میں آتے جاتے ہیں۔ انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے‘ اور یہ کہ ’اس کے بُرے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو پاکستان میں کنٹرول میں نہیں ہوں گے۔ امارات اسلامیہ کسی کو بھی کسی کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔‘

    ادھر قبائلی علاقے کرم میں پاکستان کے سرحدی علاقے بوڑکی اور جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کے مقام پر افغانستان کی جانب سے گولے داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    بوڑکی میں گولے مقامی سکول کے قریب گرے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

    اس کے بعد مقامی سکول بند کر دیے گئے ہیں اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد خاموشی ہو گئی ہیں تاہم مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں رہیں۔

    جنوبی وزیرستان میں افغان سرحد پر انگور اڈا کے مقام سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ان حملوں کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور مقامی بازار میں دوکانیں بند کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی طور پر مقامی لوگوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ فضائی حملے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی کے لوگوں پر کیے گئے ہیں جن میں ٹی ٹی پی کے کمانڈر عبداللہ شاہ کو نشانہ بنانا مقصود تھا۔

    مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ یہ حملے فضائیہ نے افغانستان میں پکتیکا صوبے کی تحصیل برمل میں لمن کے مقام کئے گئے ہیں۔ اس بارے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے علاقوں میں حملوں سے عام لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ کمانڈر عبداللہ شاہ پاکستان کے اندر موجود ہیں جبکہ ’آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہزاروں خاندان نقل مکانی کر کے افغانستان ہجرت کر گئے تھے۔‘

  6. ابراہیم بھولو: کراچی انڈر ورلڈ کا وہ ’قصاب‘ جس کا نیٹ ورک افریقہ اور مشرق وسطی تک پھیلا

  7. افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی: ذبیح اللہ مجاہد

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

    طلوع نیوز کے مطابق طالبان نے پاکستان کے نمائندۂ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی کے اس بیان کی تردید کی جس میں انھوں نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ’پانچ سے چھ ہزار لوگوں‘ کو پناہ حاصل ہے۔

    تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ’ہم افغانستان میں کسی غیر ملکی گروہ کی موجودگی (کے دعوؤں) کو مسترد کرتے ہیں اور کسی کو افغان سرزمین پر آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

    ’افغانستان اور پاکستان کے درمیان طویل سرحد ہے جہاں پہاڑ اور جنگلات واقع ہیں۔ ایسے علاقے موجود ہیں جو ہمارے کنٹرول میں نہیں۔‘

  8. دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑیں گے، افغانستان میں پناہ گاہوں کا علم ہے: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا علم ہے۔

    سنیچر کی شب سیالکوٹ میں ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ میر علی حملے کے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ ’دہشت گردی کے واقعے سے متعلق اہم پیشرفت بھی سامنے آئی ہے، ان دہشت گردوں کے سہولت کار ٹریس ہوئے ہیں، ہمیں افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا بھی علم ہے۔‘

    وزیر دفاع کے بقول ’ہم پُرعزم ہیں کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ اس کے لیے سب کو متحد ہونا ہو گا۔‘

    ’پاکستان مسلم لیگ ن کی گذشتہ حکومت نے بھی دہشت گردوں پر کڑی ضرب لگائی تھی اور یہ ضرب اتنی کاری تھی کہ جس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ ہم دوبارہ سے ان دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گے اور اس کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی گذشتہ حکومت کے دوران افغانستان سے ہزاروں دہشت گردوں کو پاکستان لایا گیا اور ’ہمارے سینکڑوں لوگوں کے قاتلوں کو معافی دے دی گئی اور اسی کا خمیازہ آج ہم ملک میں اس بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔‘

    دریں اثنا صدر مملکت آصف علی زرداری نے میر علی میں لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف علی اور کیپٹن محمد احمد بدر کے جنازے میں شرکت کی جو اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایوان صدر میڈیا ونگ کی جانب سے اتوار کو جاری پریس ریلیز کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ملک میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے والوں کو منھ توڑ جواب دیں گے۔ دہشت گردوں سے جوانوں کے بہائے گئے خون کا خراج لیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے بہادر بھائی، بیٹے اور دوست سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں، وعدہ کرتا ہوں کہ ہمارے بیٹوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘

    صدر مملکت نے کہا کہ ’پاکستان کے عوام اور فوج ایک ساتھ ہیں، دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔‘

  9. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک اکاؤنٹ کے ذریعے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر فوج مخالف مہم سے متعلق حکومتی وزرا کے الزامات کی تردید کی ہے۔
    • عام انتخابات کے بعد پاکستان کے تین صوبوں میں وزرا اعلیٰ کے انتخاب کے بعد وہاں کابینہ فوری طور پر تشکیل پا گئیں لیکن بلوچستان میں دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود کابینہ کی تشکیل نہیں ہوسکی ہے۔
    • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کا دورہ کیا اور اس سیل میں بھی گئیں جہاں نواز شریف قید رہے۔ انھوں نے اس دورے سے متعلق ایکس پر لکھا کہ یہ جذباتی لمحات ہیں جب میں نے تین بار کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے جیل سیل کو دیکھا۔
    • پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی 48 خالی نشستوں کے لیے دو اپریل کو منعقد ہونے والے الیکشن میں کل 135 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
    • سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت تحریک انصاف رواں ہفتے انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت لے کر سپریم کورٹ جائیں گے۔
  10. بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    پاکستان، لائیو پیج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہاں آپ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات سے متعلق خبروں، تجزیوں اور تبصروں سے باخبر رہ سکتے ہیں!