طورخم سرحد پر ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ’تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی‘
طورخم سرحد پر پاکستان کی جانب ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی میں دونوں اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
لائیو کوریج
’سفارش بھی چلتی ہے اور میرٹ بھی‘: پاکستان کے سول ایوارڈز ہر سال متنازع کیوں ہو جاتے ہیں؟
چوہدری پرویز الٰہی کا معائنہ کے پی کے ڈاکٹروں سے کروانے کے مطالبے پر عظمیٰ بخاری کا جواب
پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے مشیراطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر الزام لگانے سے قبل اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ پڑھ لیتے۔
خیال رہے کہ بیرسٹر سیف نے مطالبہ کیا ہے کہ اڈیالا جیل میں قید چوہدری پرویز الٰہی کا طبی معائنہ کے پی کے ڈاکٹروں سے کروانے کی اجازت دی جائے۔
انھوں نے کہا کہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پرویزالٰہی جیل میں گرنے سے زخمی ہوئے ہیں یا ان پر تشدد ہوا ہے اور پرویز الٰہی پر اگر تشدد ثابت ہوا تو مریم نواز پر مقدمہ درج کرائیں گے۔
تاہم دوسری جانب وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ’ اڈیالہ جیل کے حکام کے مطابق پرویز الٰہی واش روم میں گرے اور زخمی ہوئے، آپ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر الزام لگانے سے قبل اڈیالہ حکام کی رپورٹ پڑھ لیتے۔‘
صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ پرویز الٰہی کا علاج کروانے کے بجائے اپنے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کا علاج کروائیں جو لوگوں کو افسران کو اینٹیں مارنے کے مشورے دے رہے ہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
طورخم سرحد پر ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ’ہاتھا پائی‘, عزیز اللہ خان/بی بی سی اردو، پشاور

،تصویر کا ذریعہSocial Media
طورخم سرحد پر پاکستان کی جانب ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی میں دونوں اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طورخم بارڈر پر ایف آئی اے اور ایف سی کے مابین ’تلخ کلامی‘ اور ’ہاتھا پائی‘ کے معاملے پر ایف سی حکام کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ’آج صبح طورخم بارڈر پر ایف آئی اے اور ایف سی کے کچھ اہلکاروں کے مابین رش کم کرنے کے حوالے سے تلخ کلامی ہوئی۔
’جس کے بعد وہاں موجود دونوں اداروں کے اہلکاروں کے مابین ہاتھا پائی ہوئی۔ جس میں دونوں اطراف کے اہلکاروں کو ہلکے زخم آئے۔‘
ایف سی حکام نے مزید کہا کہ ’طورخم بارڈر پر مسافروں کے رش کی وجہ سے وہاں موجود ادارے کوشش کرتے ہیں کہ سکیورٹی کو مدںظر رکھتے ہوئے تمام قانونی کارروائی پوری کی جائے تاکہ کوئی دہشتگرد یا غیر قانونی فرد دونوں ممالک میں داخل نہ ہو سکے۔‘
’اس دوران ڈیوٹی پر مامور سٹاف پر ضروت سے زائد افراد کا رش اور روزے کی حالت میں ڈیوٹی دینے میں ایسے نامناسب واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔‘
ایف سی نے مزید کہا کہ اس واقعے پر ’دونوں اداروں کے حکام نے نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر معاملہ حل کر دیا۔ اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات لیے جائیں گے۔‘
خیال رہے کہ اس واقعے سے متعلق منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس لڑائی میں ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکار زخمی ہوئے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق اس ہاتھا پائی میں ایف آئی اے کے چار اہلکار زخمی ہوئے جبکہ طورخم سرحد پر آمدورفت عارضی طور پر بند کر دی گئی جس سے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کی دوبارہ تشکیل
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی صدارت پر تنازع کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اسے دوبارہ تشکیل دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو اس کی صدارت سونپ دی ہے۔
جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق اب ای سی سی کے چیئرمین وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ہوں گے اور کمیٹی اراکین میں وزیر اقتصادی امور، وزیر تجارت، وزیر پاور، وزیر پیٹرولیم اور وزیر منصوبہ بندی شامل ہوں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین وزیراعظم خود بنے تھے۔
پاکستانی تاجر انڈیا کے ساتھ تجارت بحال کرنا چاہتے ہیں: اسحاق ڈار
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان میں تاجروں کی جانب سے انڈیا کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے بعد حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔
سنیچر کو لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل کے ساتھ پریس کانفرنس کےدوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کاروباری افراد چاہتے ہیں انڈیا کے ساتھ تجارت بحال ہو، اس کا جائزہ لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہمسائے تبدیل نہیں کیے جاسکتے اور ’ہمیں اپنے پڑوسیوں کےساتھ ہی رہنا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ افغانستان نے دہشتگرد گروہوں کے خلاف معنی خیز اقدام نہ کیے جس پر پاکستان نے کارروائی کی۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لندن میں سیاسی اور کاروباری افراد سے ملاقات میں بھی ایکس (ٹوئٹر) کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ ’اس کی بحالی سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے کردار ادا کروں گا۔ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔‘
’ریکوڈک منصوبے کی فزیبیلٹی اس سال کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو
بلوچستان کے ضلع چاغی میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے حکام نے کہا ہے کہ ریکوڈک کی فزیبیلٹی اس سال کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی۔
یہ بات اسلام آباد میں بیرک گولڈ کمپنی کے سی ای او مارک برسٹوو کی سربراہی میں پروجیکٹ کے ایک وفد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو ایک ملاقات کے دوران بتائی۔
اس موقع پر سابق نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ بھی موجود تھے۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے کے لیے بلوچستان کے ڈومیسائل کے حامل افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے اور بیرک گولڈ کی جانب سے خواتین سمیت 100 افراد کو فنی تربیت بھی فراہم کی جا چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ کمپنی نے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت ریکوڈک کے قریب تین سکولز بھی قائم کیے ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کی معاشی و اقتصادی ترقی میں نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ ’حکومت سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہی ہے۔‘
وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت مقامی افراد کی بہبود کے منصوبوں میں وسعت دیکر اسے عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔
وسعت اللہ خان کا کالم ’بات سے بات‘: تاریخ نہ سہی کیلنڈر ہی سیدھا کر لو
جنوبی وزیرستان کے 1200 پولیس اہلکار دو دن سے ہڑتال پر کیوں ہیں؟
شہریار خان کی وفات: بھوپال کی شہزادی عابدہ سلطان کے بیٹے کا شاہی محل سے ملیر تک کا سفر
ملک میں عملاً اس وقت آئین معطل ہو چکا ہے، عمران خان جلد جیل سے باہر ہوں گے: رہنما تحریک انصاف

،تصویر کا ذریعہGOHAR ALI KHAN
23 مارچ کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر علی خان نے کہا کہ پاکستان حاصل کرنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ آزادی اور جمہوریت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ کوئی بھی سیاسی کارکن کبھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے۔ جیل میں صرف مجرم ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے استدعا کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دے کہ ووٹ ’ویریفائی ایبل‘ ہو۔
انھوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ عمران خان بھی جلد ہی جیل سے باہر ہوں گے۔
ملک میں اس وقت آئین عملاً معطل ہو چکا ہے: اسد قیصر
تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں آئین عملاً معطل ہو چکا ہے۔ انھوں نے ملک کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کر کے کہا کہ ’چیف جسٹس صاحب ہمیں آپ سے امیدیں تھیں مگر آپ نے آئین اور قانون کا رستہ نہیں اپنایا۔‘
اسد قیصر نے چیف جسٹس سے مزید کہا کہ ’میں آپ سے امید رکھتا ہوں کہ اگر اب بھی آپ نے اپنی غلطیوں کو نہیں سنواریں گے تو آپ تو چلے جائیں گے مگر پھر تاریخ میں آپ کا نام اچھے الفاظ میں یاد نہیں رکھا جائے گا۔
اسد قیصر نے کہا کہ 23 مارچ ہمارے لیے ایک نئے عہد و پیمان کا دن ہے اور ہم نے سوچنا ہے کہ 23 مارچ کی جو قرارداد تھی آیا وہ آج پوری ہوئی ہے۔ کیا پاکستان جس مقصد کے لیے بنا تھا وہ پورا ہوا۔

ان کے مطابق یہ تصور تھا کہ جہاں تمام شہریوں کے حقوق برابر ہوں گے اور کسی کو یہ اختیار نہیں ہو گا کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کرے بلکہ وہ آئین اور قانون کے تابع ہو گا، کوئی کسی پر ظلم نہیں کر سکے گا۔
انھوں نے کہا کہ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے۔ عملاً آئین معطل ہو چکا ہے، سب سے بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
اسد قیصر کے مطابق ہماری خواتین جیلوں میں ہیں۔ پنجاب ایک پولیس سٹیٹ بن چکا ہے، جہاں جلسے جلوسوں کی اجامت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ کوئی اپنی مرضی سے فیصلے نہیں کر سکتا۔ کوئی اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ملک کو چلائے گا، اور اس کی مرضی سے لوگ آگے پیچھے ہوں گے، وہ وقت گزر گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ کسی کے باپ کا ملک نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے، پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے، ضمنی انتخابات میں عوام کے پاس جائیں گے۔‘
اسد قیصر نے کہا کہ ’نو مئی پر آزاد جوڈیشل کمیشن بنائیں اور تحقیقات کریں۔ پتا چل جائے گا کہ محسن نقوی اور آئی جی پنجاب ہے یا کوئی اور ہے؟
انھوں نے کہا کہ ’ہم پر امن لوگ ہیں، قانون پر یقین رکھتے ہیں مگر ہمیں اس حد تک نہ لے جائیں جہاں پھر حالات آپ کے ہاتھ میں نہیں رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت اسمبلی میں بیٹھے تو مسترد شدہ لوگ ہیں، عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے۔ یہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا مینڈیٹ ہی نہیں رکھتے ہیں۔‘
اسد قیصر نے کہا کہ ’جب تک عوام کا حق واپس نہیں لیں گے، تمھیں چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔‘
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاشی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہPM OFFICE
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم ان کے پچھلے دور میں سعودی عرب نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کے لیے کلیدی کردار ادا کیا جس کو ’پاکستان میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے دورے پر آئے سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود سے ملاقاتیں کی ہیں۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس ملاقات میں ’علاقائی امن و سلامتی اور خطے کی سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔‘
اس موقع پر وزیر اعظم نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کونسل کے قیام سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک ون ونڈو آپریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے کاروبار اور سرمایہ کاری میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے سعودی وزیر دفاع سے کہا کہ ’ہم آپ کے بڑے بھائی سعودی ولی عہد عزت مآب جناب محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو کہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔‘
ادھر ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر زرداری نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ’پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ممالک کا برادرانہ رشتہ مشترکہ عقیدے اور تاریخی تعلقات سے عبارت ہے۔‘
صدر نے ’مشکل وقت میں پاکستان کو فراہم کی جانے والی حمایت‘ پر سعودی عرب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے خصوصی عطائے اعزازات تقریب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود کو نشان پاکستان ایوارڈ سے بھی نوازا۔
ہرنائی میں 12 کان کنوں کی ہلاکت، دکی میں کان پر کام کرنے والے تین افراد اغوا, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی ایک کان میں 12 کان کنوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
کوئٹہ پریس کلب کے باہر یہ مظاہرہ پاکستان ورکرز فیڈریشن کے زیر اہتمام کیا گیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ جدید حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں حادثات ایک معمول بن گئے ہیں۔
انھوں نے جدید حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیداروں کو حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ کوئلہ نکالنے سے غرض ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے کانکنوں کو مناسب تربیت بھی نہیں دی جاتی ہے۔ پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ مناسب حفاظتی انتظامات اور کارکنوں کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال کوئلہ کانوں میں ایک سو 80سے 200 کانکنوں کی ہلاکت ہوتی ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ کوئلہ کانوں میں انسانی جانوں کی ضیاع کو روکنے کے لیے جدید حفاظتی انتظامات اورکانکنوں کی تربیت کو یقینی بنانے کے علاوہ ٹھیکیداری نظام کو ختم کیا جائے۔
مظاہرے کے شرکا نے دکی میں کوئلہ کان سے اغوا ہونے والے کانکنوں کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ دکی سے کوئلہ کان پر کام کرنے والے تین افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
فون پر رابطہ کرنے پر دکی پولیس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں میں کان کا چوکیدار اور دو کانکن شامل ہیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق مغوی چوکیدار جوہر خان کا تعلق دکی سے ہے جبکہ کانکنوں شاہ خان اور باچا خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے۔
اہلکار نے بتایا کہ تاحال ان افراد کے اغوا کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے۔
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے کسی دہشتگرد گروپ کو برداشت نہیں کریں گے: صدر زرداری

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست اور امن سے محبت کرنے والا ملک ہے تاہم ’پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے کسی دہشتگرد گروپ کو برداشت نہیں کریں گے۔‘
یوم پاکستان کے موقع پر اپنی تقریر کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا خواہشمند ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست اور امن سے محبت کرنے والا ملک ہے تاہم یہ بات واضح کرتے ہیں کہ ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اپنے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کسی گروپ یا دہشتگردی کو برداشت نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ایک جمہوری اتحادی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ ’ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے اور معاشی استحکام کے لیے یکسوئی سے کام کریں۔‘
آصف زرداری کے مطابق ’ہمیں قومی اتفاق رائے کے ساتھ موثر حکمت عملی، دانشمندانہ انتظام، صوبوں اور وفاق کے مابین بہتر روابط کی اشد ضرورت ہے۔‘
دوسری طرف یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’ہم پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجوں سے پوری طرح آگاہ ہیں جن میں مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے شعبے کا بڑھتا ہوا گردشی قرضہ، مالیاتی اور تجارتی خسارہ اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی کا عفریت شامل ہیں تاہم بحیثیت قوم ہم نے غیر معمولی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہے اور وقت کی کسوٹی پر پورا اترنا ہے۔‘
مسیحا کی مدتِ ملازمت: محمد حنیف کا کالم
کوہستان: ’بغیر طلاق کے بیوی سے نکاح‘ کرنے والے شخص کا شوہر کے ہاتھوں قتل
صدر آصف علی زرداری نے قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کا اعلان کردیا
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے یومِ پاکستان 23 مارچ اور عید الفطر کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں 90، 90 روز کی کمی کی منظوری دے دی ہے۔
ایوانِ صدر کے مطابق سزاؤں میں کمی کا اطلاق قتل، جاسوسی، ریاست مخالف سرگرمیوں، زنا، چوری، ڈکیتی، اغوا اور دہشت گردی کے مقدمات میں سزا یافتہ مجرموں پر نہیں ہوگا۔
سزا میں کمی کا اطلاق مالی جرائم اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے مجرموں پر بھی نہیں ہوگا۔
پینسٹھ سال سے زائد عمر کے مرد قیدی جو اپنی ایک تہائی قید کاٹ چکے اس سہولت کا اطلاق ان پر ہوگا اور 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدی جو ایک تہائی قید کاٹ چکی ان کی بھی سزا میں کمی کی جائے گی۔
اٹھارہ سال سے کم عمر افراد جو اپنی ایک تہائی سزا کاٹ چکے ان پر بھی سزا میں کمی کا اطلاق ہوگا۔
صدر مملکت نے سزاؤں میں کمی کی منظوری آئین کے آرٹیکل 45 اور رولز آف بزنس کے رول 15 اے کے تحت دی۔
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے اپیلوں پر سماعت 25 مارچ کو مقرر کردی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کے لیے 25 مارچ کو مقرر کردی ہیں۔
انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رُکنی بینچ کرے گا۔
بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید بینچ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل سپریم کورٹ کے سابق جج سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھے رکنی بینچ نے نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا تھا، تاہم انھوں نے اس ضمن میں دائر ہونے والی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک فوجی عدالتوں کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سویلین افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کے حکومتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
پاکستان کا چینی مارکیٹ میں 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ، اس سے ملک کو کیا فائدہ ہو گا؟, تنویر ملک، صحافی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس سال 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کیے جائیں گے جس کے ذریعے پہلی مرتبہ چینی مارکیٹ سے پیسہ اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے ’بلوم برگ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت آنے والے دنوں میں مزید بانڈز بھی جاری کرے گی۔
پاکستان کے وزیر خزانہ کی جانب سے پانڈا بانڈز کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو موجودہ مالی سال کے باقی عرصے میں چار ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ادا کرنا ہے۔
پاکستان ماضی میں بین الاقوامی مارکیٹ میں یورو بانڈ اور سکوک بانڈ جاری کر چکا ہے اور اس کے ذریعے قرضہ حاصل کیا گیا ہے۔ ماضی میں جاری کیے گئے یورو بانڈ کی ایک ارب ڈالر کی قسط پاکستان کو آئندہ ماہ ادا کرنی ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ کی جانب سے پانڈا بانڈ کے ذریعے قرضہ لینے کے بارے میں مالیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ پانڈا بانڈ کے ذریعے بین الاقوامی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کا پاکستان کا یہ پہلا تجربہ ہو گا۔
کراچی میں مقیم مالیاتی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار یوسف سعید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بانڈ بنیادی طور پر چینی مارکیٹ میں جاری کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے قرضہ حاصل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بانڈ کے ذریعے چینی کرنسی میں قرضہ ملتا ہے جسے بعد میں ڈالر میں تبدیل کرلیا جاتا ہے۔
پانڈا بانڈ جاری کرنے کی وجہ پر بات کرتے ہوئے یوسف سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موجودہ مالی سال کے باقی مہینوں میں چار ارب ڈالرکا بیرونی قرضہ ادا کرنا ہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر سے زائد پیسے ملنےہیں اور اسی طرح ایشائی ترقیاتی بینک سے بھی کچھ پیسے ملیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف پانڈا بانڈ کے ذریعے بیرونی قرضے کی ادائیگی کے لیے پیسوں کا انتظام کیا جائے گا تو دوسری جانب پاکستان کافی عرصے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں کوئی بانڈ جاری نہیں کر سکا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس بانڈ کے ذریعے پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ میں ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو بھی جانچ لے گا کہ ملک کو اس بانڈ کے ذریعے کتنا قرضہ ملتا ہے اور وہ قرضہ کس شرح سود پر حاصل ہوتا ہے۔
پانڈا بانڈ کے ذریعے ایک عام آدمی کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
یوسف سعید کہتے ہیں کہ اس سے براہ راست عام آدمی تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، تاہم اگر یہ پیسے مل جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور اس سے روپے کی قدر کو استحکام حاصل ہو گا۔
انہوں نے کہا کیونکہ پاکستان کی معیشت کو تیل، کھانے کا تیل، کھانے پینے کی دوسری اشیا اور صنعت کو درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے اس لیے ایک مستحکم روپیہ ان کی قیمت میں اضافے کو روکے گا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کا معاملہ: پشاور ہائی کورٹ نے سپیکر اور ڈپٹی کو نوٹس جاری کر دیے
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مخصوص نشستوں کی جواتین امیدواروں نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے اور کہا ہے کہ عدالت نے سُنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیس کو خارج کردیا ہے اور اب یہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب امیدواروں سے حلف لیں۔
جمعے کو پشاور ہائی کورٹ میں درخواست پی پی پی کی رہنما شازیہ طہماس اور دیگر خواتین امیدواروں نے دائر کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 109 کے تحت صوبے کے گورنر کے پاس اسمبلی کا اجلاس بُلانے کا اختیار ہوتا ہے۔
اس درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کے دو ججز جسٹس شکیل احمد اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے سماعت کی۔
دورانِ سماعت جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ان مخصوص نشستوں کے حوالے سے لارجر بینچ بھی فیصلہ کر چکا ہے۔
خیال رہے پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو 14 مارچ کو مسترد کر دیا تھا۔
دوران سماعت جسٹس شکیل احمد نے پوچھا کہ کیا خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس آج بھی نہیں ہورہا؟ جس پر پی پی پی کی خواتین امیدواروں کی نمائندگی کرنے والے وکیل ثاقب رضا ایڈووکیٹ نے کہا کہ انھیں اسمبلی سے ایک پریس ریلیز موصول ہوئی ہے جس کے مطابق آج اجلاس نہیں ہو رہا۔
عدالت کی جانب سے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر چار روز میں جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 26 مارچ تک ملتوی کردی۔
