’شہباز شریف سے ملاقات مثبت رہی، حکومتیں تشکیل پا چکیں اب عوام کے مسائل پر بات ہو گی‘: علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اُن کی وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی پہلی ملاقات مثبت رہی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، خیبرپختوا کو وفاق کی جانب سے واجبات کی ادائیگی اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی جیسے معاملات پر بات ہوئی۔ دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لگاتار دوسرے روز بھی مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 753 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ہر قسم کی ملاقات پر پابندی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    حکومتِ پنجاب نے سیکورٹی خطرات کے پیش نظر اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات پر دو ہفتے کی پابندی عائد کردی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیز نے سینٹرل جیل اڈیالہ کے حوالے سے تھریٹ الرٹ سے آگاہ کیا ہے جن کے مطابق ریاست مخالف چند گروہ، جنھیں پاکستان کے دشمن ممالک کی حمایت حاصل ہے، نے اڈیالہ جیل پر ٹارگٹ حملوں کا منصوبہ بنایا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ جیسا کہ ان حملوں کا مقصد ملک میں انارکی اور لاقانونیت پھیلانا ہے لہذا اس حوالے سے بنا وقت ضائع کیے اقدامات لینا لازم ہیں لہذا دو ہفتے کے لیے اڈیالہ میں ہر قسم کی عوامی ملاقاتوں، میٹنگز، انٹرویوز پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔

  2. صدر آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا تنخواہ نہ لینے کا اعلان

    پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری اپنے عہدے کے عوض ماہانہ تنخواہ نہیں لیں گے۔

    پی پی پی کے مطابق صدر مملکت نے یہ فیصلہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیش ِنظر کیا ہے۔ ’صدر مملکت نے قومی خزانے پر بوجھ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا، تنخواہ نہ لینے کو ترجیح دی۔‘

    یاد رہے کہ اس قبل وفاقی وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ہونے والے محسن نقوی نے بھی انھی بنیادوں پر تنخواہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف میں سینیٹ کے انتخاب میں ایک دوسرے کی حمایت پر اتفاق ہو گیا

    سینیٹ الیکشن کے لیے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان ایک دوسرے کے امیدواروں کی حمایت کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پی پی پی رہنما نیئر بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہو گی سینیٹ الیکشن میں گیلانی صاحب کا ساتھ دیں تاکہ اچھا ماحول بنے۔

    پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں اچھی ورکنگ تعلقات کے لیے ہم دونوں ایک دوسرے کو ووٹ کریں گے۔

    اس موقع پر نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ ہمارے صدر نے ہمیشہ مفاہمت سے سیاست کی ہے اور آج کی ملاقات کا مقصد سینیٹ کے انتخابات ہیں۔

    یاد رہے اس سے قبل جے یو آئی کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے صدر اور وزریراعظم کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  4. جوان سے آرمی چیف کے عہدے تک پہنچنے والے جنرل موسیٰ اور آپریشن جبرالٹر سمیت وہ عسکری منصوبے ’جن کا کوئی مالک نہیں‘

  5. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، انڈیکس میں 953 پوائنٹس کمی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انڈیکس میں 953 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 64801 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز سے فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جو پورے ٹریڈنگ سیشن کے دوران جاری رہا۔

  6. وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے امریکی قونصل جنرل کرسٹن کے ہاکنز کی ملاقات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے امریکی قونصل جنرل کرسٹن کے ہاکنز نے ملاقات کی ہے۔

    امریکی قونصل جنرل کرسٹن ہاکنز نے وزیر اعلی مریم نواز شریف پہلی خاتون وزیراعلی منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔

    ملاقات میں معاشی تعاون کے فروغ اور پاکستانی طالب علموں کے لیے امریکی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سکالر شپ کے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور پنجاب کی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر گفتگو ہوئی۔

    وزیراعلی مریم نواز شریف نے امریکی قونصل جنرل کو پنجاب اور امریکہ کے مابین اچھے تعلقات کے فروغ دینے کی کاوشوں کو سراہا۔

  7. بریکنگ, پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، انڈیکس میں 1050 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انڈیکس میں 1050 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد انڈیکس 64700 کی سطح پر آگیا ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز سے فروخت کا دباؤ غالب رہا جو پورے ٹریڈنگ سیشن کے دوران دیکھا گیا سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان پاکستان کی وفاقی کابینہ کے بننے کے ایک دن بعد دیکھا گیا جس میں بینکر محمد اورنگزیب پاکستان کے نئے وفاقی وزیر خزانہ بنے۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار مندی کے رجحان کی وجہ پرافٹ ٹیکنگ کو قرار دیتے ہیں تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن کے بعد مارکیٹ میں بہت زیادہ خریداری دیکھی گئی اور انڈیکس میں تقریباً 5900 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تاہم اب سرمایہ کار فروخت کر کے نفع کما رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا دوسری جانب اگرچہ حکومت بن چکی ہے تاہم اب سرمایہ کار پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا انتظار کر رہے ہیں کیوں کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے شرح سود میں کمی کی توقع کم ہے جس سے مارکیٹ میں مایوسی ہے

  8. یہ حکومت چلے گی؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  9. مسلم لیگ نے وزارت خزانہ کے لیے اپنے ’آزمودہ‘ اسحاق ڈار کی بجائے محمد اورنگزیب کا انتخاب کیوں کیا؟

  10. پاکستان میں وفاقی کابینہ کا اعلان، اسحاق ڈار وزیرِ خارجہ اور محسن نقوی وزیر داخلہ مقرر

    وفاقی کابینہ، پاکستان، شہباز شریف، اسحاق ڈار، محسن نقوی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نومنتخب وزیرِاعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ تشکیل دے دی ہے۔

    وفاقی کابینہ میں شامل وزرا کی اکثریت کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے۔ تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف کو دفاع، دفاعی پیداوار اور ہوا بازی کی وزارتیں سونپی گئی ہیں جبکہ اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ بنایا گیا ہے۔

    وفاقی کابینہ میں رانا تنویر حسین کو وزیر برائے انڈسٹریز، ق لیگ کے چوہدری سالک حسین کو وزیر برائے سمندر پار پاکستانی، استحکامِ پاکستان پارٹی کے عبدالعلیم خان کو وزیر برائے نجکاری، جام کمال خان کو وزیر برائے کامرس، انجینیئر امیر مقام کو وزیر برائے قومی ورثہ، سردار اویس احمد خان لغاری کو وزیر برائے ریلویز، عطا اللہ تارڑ کو وزیر برائے اطلاعات و نشریات اور متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنایا گیا ہے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی کابینہ مین قیصر احمد شیخ کو میری ٹائم افیئرز، ریاض احمد پیرزادہ کو ہاؤسنگ اینڈ ورکس، مصدق ملک کو پیٹرولیم اور توانائی، محمد اورنگزیب کو خزانہ و ریونیو، سابق بیوروکریٹ احمد چیمہ کو اقتصادی امور اور سابق نگراں وزیرِ اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو وزارتِ داخلہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

  11. بریانی: ایسا پکوان جو دورانِ رمضان انڈیا و پاکستان کے دسترخوانوں پر راج کرتا ہے

  12. محمد اورنگزیب نے وفاقی وزیر برائے خزانہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

    وفاقی کابینہ کے رُکن محمد اورنگزیب نے باضابطہ طور پر وفاقی وزیر برائے خزانہ کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

    وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق وزارت میں ان کی آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور بعدازاں انھیں سینیئر افسران کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخاب کے لیے پولنگ 2 اپریل کو ہو گی: الیکشن کمیشن, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ کے الیکشن کے لیے شیڈول جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس الیکشن میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد (آج) پیر سے الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اور صوبائی الیکشن کمشنرز کے دفاتر سے کاغذات نامزدگی حاصل کر سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق امیدوار کاغذات نامزدگی 16 مارچ تک ریٹرنگ افسران کے پاس جمع کروا سکتے ہیں جبکہ سینیٹروں کے انتخاب کے لیے پولنگ دو اپریل کو ہو گی۔

    یاد رہے کہ سنہ 20198 میں چھ سال کی مدت کے لیے منتخب ہونے والے 52 سینیٹر 12 مارچ 2024 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ تاہم سابقہ فاٹا سے منتخب چار ارکان سینیٹ کی جانب سے خالی ہونے والی نشستوں پر سینیٹ کا انتحاب نہیں ہو گا کیونکہ 2018 میں سابقہ فیٹا کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد سینیٹ میں فاٹا کے لیے مختص نشستیں آئینی ترمیم کے تحت خم ہو چکی ہیں۔ لہذا کُل 48 نشستوں پر سینیٹ کا انتخاب عمل میں آئے گا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کی 29 جنرل نشستوں، 8 خواتین کے لیے مخصوص نشستوں، 9 علما اور ٹیکنوکریٹ نشستوں جبکہ دو غیرمسلم نشستوں پر انتخاب ہو گا۔

  14. صحافت سے ریاست تک کا سفر: سابق نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی کی بطور وفاقی وزیر تعیناتی کو کیسے دیکھا جا رہا ہے؟

  15. ’بادی النظر میں پولیس اور ایف آئی اے صحافیوں پر حملوں کی تفتیش کی بجائے ملزمان کی سہولت کاری کر رہی ہے‘: سپریم کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صحافیوں کو ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز اور مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف کیس میں آج (پیر) ہونے والی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کو کسی صورت ہراساں کرنا ناقابل برداشت ہے کیونکہ پریس کی آزادی بنیادی حقوق میں شامل ہے۔

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں پولیس اور ایف آئی اے صحافیوں پر حملوں کی تفتیش کی بجائے سہولت کاری کر رہی ہے۔

    سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صحافی اسد طور کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف شر انگیزی کی مہم چلانے کا الزام لگایا گیا، تاہم عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ کیا ایف آئی اے کو کسی جج یا رجسٹرار نے اس ضمن میں شکایت درج کروائی ہے؟ اس پر ایف آئی اے حکام نے اس کا جواب نفی میں دیا۔

    حکمنامے کے مطابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کے مندرجات کو اگر مان بھی لیا جائے تو یہ قابل دست اندازی جرم نہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صحافی اسد طور کے خلاف ایف آئی آر میں درج سیکشن 9 اور 10 کا اس کیس میں اطلاق نہیں ہوتا۔

    سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اٹارنی جنرل اس معاملے کو دیکھ کر حکومت کو ایڈوائز کریں۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اسد طور کے خلاف ایف آئی آر مبہم ہے اور اس میں عائد کردہ دفعات سول سرونٹ سے متعلق ہیں۔

    عدالت نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے ازخود نوٹس کیس کی مزید کارروائی 25 مارچ تک ملتوی کر دی۔

  16. شہباز شریف کی 19 رُکنی کابینہ میں شامل ’نئے چہرے‘ کون ہیں؟

  17. 19 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا، محسن نقوی، محمد اورنگزیب اور احد چیمہ بھی وفاقی وزیر بن گئے

    Cabinet

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزیراعظم شہباز شریف کی 19 رکنی وفاقی کابینہ میں شامل تمام وزرا نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے نئے وزرا سے حلف لیا۔ حلف لینے والوں میں محمد اورنگزیب، احد چیمہ اور محسن نقوی بھی شامل ہیں۔

    یہ تینوں ابھی نہ تو اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ ہی سینیٹ کا حصہ ہیں۔

    اسحاق ڈار اور مصدق ملک بھی وفاقی وزرا میں شامل ہیں۔

    نئی وفاقی کابینہ میں خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان، جام کمال خان، انجنیئر امیر مقام، سردار اویس احمد خان لغاری، عطااللہ تارڑ، خالد مقبول صدیقی، قیصر احمد شیخ، میاں ریاض حسین پیرزادہ، محمد اسحاق ڈار اور مصدق ملک شامل ہیں۔

  18. صدر مملکت آصف علی زرداری کو گارڈ آف آنر پیش، تقریب کا اہتمام ایوان صدر میں ہوا

    Asif Zardari

    ،تصویر کا ذریعہpresident.gov.pk

    صدارت کا منصب سنبھالنے پر آصف علی زرداری کو گارڈ آف آنر پیش کردیا گیا ہے۔ نومنتخب صدرِ مملکت آصف زرداری کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کی تقریب ایوان صدر میں منعقد کی گئی۔

    صدر زرداری گارڈ آف آنر کی تقریب کے لیے بگھی میں تشریف لائے۔ مسلح افواج کے دستوں نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    گارڈ آف آنر کی تقریب میں بلاول بھٹو، آصفہ اور بختاور بھٹو بھی شریک تھیں۔

    Asif Zardari

    ،تصویر کا ذریعہpresident.gov.pk

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب غیر آئینی ہیں، پولیس افسران کو احتساب کے لیے کمیٹیوں میں بلائیں گے: عمر ایوب

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے کہا ہے کہ دھاندلی کے ذریعے ہمارے امیدواروں کو ہرایا گیا، کل ہم نے ملک بھر میں پر امن احتجاج کیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمارے 100 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، پولیس نے اپنی بنیادی ذمہ داری نہیں نبھائی۔‘

    ان کے مطابق پارٹی کے رہنماؤں لطیف کھوسہ، سلمان اکرم راجا اور دیگر کو گرفتار کیا گیا، ہم آئین وقانون میں رہتے ہوئے اسمبلیوں اور ملک میں مظاہرے کریں گے، پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے اور رہے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ انسپکٹر جنرل پنجاب مسلم لیگ ن کے گھریلو ملازم بن گئے ہیں۔

    عمر ایوب نے کہا کہ پولیس کا ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو کچلا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ’ان پولیس افسران کا احتساب ہوگا، ہمارے خلاف کارروائیوں میں ملوث پولیس افسران کو کمیٹیوں میں بلائیں گے۔‘

    عمر ایوب نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب غیر آئینی ہیں، 9 فروری کو فارم 45 تبدیل کرکے فارم 47 بنائے گئے، 9 فروری کو ملک بھر دھاندلی کا ورلڈ ریکارڈ دیکھا گیا۔

  20. ہمارا نام استعمال کر کے جو دفعات اسد طور پر لگائی گئیں، وہ لگتی ہی نہیں: چیف جسٹس کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Asad Toor

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صحافیوں کو ایف آئی اے نوٹسز اور ہراساں کیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

    پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل پاکستان بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

    مطیع اللہ جان اغوا، ابصارعالم پر حملے کے مقدمات میں غیر تسلی بخش کارکردگی پر چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایک کرائم کی ریکارڈنگ موجود ہے، ان ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکے؟‘ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ ان کو ہٹا دیا جانا چاہیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ چار سال ہو گئے اور آپ کو کتنا وقت چاہیے؟ کیا آپ کو چار صدیاں چاہییں؟

    چیف جسٹس نے اسلام آباد کے آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کاہ آئی جی صاحب آپ آئے کیوں ہیں یہاں؟ کیا آپ اپنا چہرہ دکھانے آئے ہیں؟ کسی صحافی کو گولی مار دی جاتی ہے کسی کی گھر میں جا کر پٹائی کی جاتی ہے۔

    بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اسد طور جیل میں ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’وہ کیوں جیل میں ہیں؟‘ وکیل نے بتایا کہ اسد طور پر حکومتی افسران کا وقار مجروح کرنے کا الزام ہے۔

    ‏چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کے ججز کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی۔ انھوں نے استفسار کیا کہ کیا کسی جج یا رجسٹرار نے صحافیوں کے خلاف شکایت کی تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے اسد طور کے خلاف ایف آئی آر پر ایڈشنل ڈی جی ایف آئی اے کو مخاطب کر کے ریمارکس دیے کہ ’ہمارا نام استعمال کر کے آپ نے اپنا کام کر لیا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں صحافیوں کی ہراسگی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ اسد طور کی ایف آئی آر میں پیکا سیکشن نو دس اور چوبیس لاگو نہیں ہوتے۔

    ‏چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اسد طور کے خلاف مقدمہ میں سنگین نوعیت کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’اس مقدمے میں حساس معلومات سمیت عائد دیگر دفعات کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ انکوائری نوٹس میں لکھا گیا کہ عدلیہ کے خلاف مہم پر طلب کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ایف آئی آر میں عدلیہ کے خلاف مہم کا ذکر تک نہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ تو عدلیہ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی گئی ہے۔

    بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ’صحافیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سے پہلے ہی جے آئی ٹی قائم کی گئی ہے، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آئی ایس آئی کا نمائندہ جے آئی ٹی میں کیسے شامل ہوسکتا ہے؟‘ آئی ایس آئی انٹیلی جنس ایجنسی ہے قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کا نفاذ آئی ایس آئی کا دائرہ اختیار نہیں ہے، کیوں نہ ایف آئی اے کو توہین عدالت کا نوٹس دیں۔

    چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ’سپریم کورٹ کے کسی جج نے ایف آئی اے کو شکایت کی نہ رجسٹرار نے، سپریم کورٹ کا نام استعمال کرکے تاثر دیا گیا جیسے عدلیہ کے کہنے پر کارروائی ہوئی۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ’اس طرح تو عوام میں عدلیہ کا امیج خراب ہوگا۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے کے متعلقہ افسر خود عدلیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پوچھا کہ اسد طور پر حملہ کس نے کیا اس کی رپورٹ دو اور آپ نے اسد طور ہی کے خلاف پرچہ کاٹ دیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیے کہ ’آپ نے یہ مہربانی ہم پر کیوں کی کہ ہمارا نام استعمال کر کے ایف آئی آر کاٹ دی، جو دفعات اسد طور پر لگائی گئیں یہ لگتی ہی نہیں، تھوڑی اور بھی دفعات پھینک دیتے نا مقدمے میں، کیا ہم یہ حکم دیں کہ ایف آئی آر اس ایف آئی اے اہلکار کے خلاف درج کی جائے جس نے ہمیں بدنام کیا؟‘