’شہباز شریف سے ملاقات مثبت رہی، حکومتیں تشکیل پا چکیں اب عوام کے مسائل پر بات ہو گی‘: علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اُن کی وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی پہلی ملاقات مثبت رہی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، خیبرپختوا کو وفاق کی جانب سے واجبات کی ادائیگی اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی جیسے معاملات پر بات ہوئی۔ دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لگاتار دوسرے روز بھی مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 753 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ نئے لائیو پیج پر خبروں کا جائزہ لینے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. سٹاک مارکیٹ میں مندی: انڈیکس میں 750 پوائنٹس سے زائد کی کمی کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی مندی کا رجحان ریکارڈ کی گیا اور کاروباری اوقات کے اختتام تک انڈیکس میں 753 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد 100 انڈیکس 64048 پوائنٹس کی سطح تک گِر گیا ہے۔

    بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر خریداری کا رجحان دیکھا گیا تاہم اس کے بعد مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ رہا اور کاروبار کے اختتام پر مارکیٹ میں 753 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز شدید مندی ریکارڈ کی گئی جبکہ انڈیکس میں بڑی کمی دیکھی گئی۔

    یاد رہے کہ منگل کے روز سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 953 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کے انڈیکس میں گذشتہ مہینے ہونے والے انتخابات کے بعد کافی اضافہ دیکھا گیا تھا اور اب سرمایہ کار منافع کمانے کے لیے حصص فروخت کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق اِس کے ساتھ سرمایہ کار 18 مارچ کو مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کے تعین کے بارے میں بھی پاکستان سے آئی ایم ایف سے مذاکرات کا انتظار کر رہے ہیں۔

    ٹاپ لائن سکیورٹیز سے منسلک سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار معاذ ملا نے بی بی سی کو بتایا کہ مارکیٹ میں حصص کی زیادہ فروخت کی بڑی وجہ مثبت عوامل کی کمی ہے جو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں نے پاکستان سے آئی ایم ایف کے مذاکرات پر محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کے تعین تک بھی انتظار کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا آج تقریباً تمام شعبوں کے حصص میں فروخت دیکھی گئی جس کی وجہ سے انڈیکس میں اتنی بڑی کمی واقع ہوئی۔

    تجزیہ کار احسن محنتی نے بھی سٹاک مارکیٹ میں کمی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور شرح سود کی پالیسی کے اعلان کے علاوہ ملک میں معاشی اشاریوں میں کمی کو قرار دیا۔

  3. ’شہباز شریف سے ملاقات مثبت رہی، حکومتیں تشکیل پا چکیں اب عوام کے مسائل پر بات ہو گی‘: علی امین گنڈاپور

    گنڈاپور

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab/ Geo

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اُن کی وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی پہلی ملاقات مثبت رہی ہے جس میں تحریک انصاف کے اسیر کارکنان، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، صوبہ خیبرپختوا کو وفاق کی جانب سے واجبات کی ادائیگی اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی جیسے معاملات پر بات ہوئی ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس میں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے انھیں مختلف معاملات پر اپنی مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس موقع پر ن لیگ کے رہنما امیر مقام اور احسن اقبال بھی موجود تھے۔

    علی امین کا کہنا تھا کہ ’اب حکومتیں تشکیل پا چکی ہیں اور اب عوام کے مسائل پر بات ہونی ہے۔ خیبرپختونخوا کے مسائل، خاص طور پر امن و امان کے مسئلے، پر بات ہوئی۔ یہ ملاقات مثبت رہی۔ شہباز شریف نے اپنی مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کروائی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم (وفاق) خیبرپختونخوا سے جو وعدہ کریں گے وہ پورا کریں گے۔‘

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بھی پاکستان کے معاشی مسائل کا ادراک ہے اور ہم (واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے وفاق سے) کوئی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے جو پورا نہ ہو سکے۔ مگر ہمارے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے اور اس کے تحت عوام کی ہم سے توقعات ہیں جن پر ہم پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔‘

    اس موقع پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے انھی جذبات کا اظہار کیا جن کا اظہار وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کیا۔ ’وزیراعظم نے یقین دلوایا کہ خیبرپختونحوا کے واجبات کے حوالے سے وعدے پورے ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دور کے بعد 19 مارچ کو وزارت خزانہ کے افسران خیبرپختونخوا کے متعلقہ افسران کے ساتھ بیٹھ کر واجبات کی ادائیگی کے معاملے پر کام کریں اور تجویز دیں گے۔‘

    احسن اقبال نے مزید بتایا کہ ’وزیراعظم نے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا اور وفاق کی ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے گی جو صوبے کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاق کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔‘

    احسن اقبال کے مطابق وزیراعظم نے اُن قیدیوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی کہ جن کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں۔ ’وزیراعظم یہ یقینی بنائیں گے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ قانون کے مطابق سب کو انصاف ملنا چاہیے۔‘

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’آج کی ملاقات کا خلاصہ یہ ہے کہ سیاست اپنی اپنی مگر ریاست سانجھی ہے، ملک کے لیے ہم سب نے ایک جسم ایک جان بن کر ان خطرات کا مقابلہ کرنا ہے جن کا ہم سب کو سامنا ہے۔ اس ضمن میں وفاق اپنا پورا کردار ادا کرے گا۔‘

    چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کے ٹرانسفر کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ اس معاملے پر جو ضوابط ہیں وہ پورے کیے جائیں گے۔’وزیراعظم نے کہا کہ آپ صوبے میں جو بھی ٹیم لانا چاہتے ہیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ان کی شہباز شریف سے بانی تحریک انصاف کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور ’ہم نے انھیں بتایا کہ آگے سینیٹ کے انتخابات آنے والے ہیں اور رہنماؤں کو عمران خان سے مشاورت کرنی ہوتی ہے اس لیے ملاقات پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے اس معاملے پر مثبت ردعمل دیا اور کہا کہ میری ملاقات بھی ان سے جلد ممکن بنائی جائے گی۔‘

    علی امین کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ ’خان صاحب کے ساتھ پولیٹیکل انگیجمنٹ بہت ضروری ہے، یہ ہو گی تو سیاسی مسائل حل ہوں گے۔ اس پر ان (شہباز) کا ردعمل مثبت تھا۔‘

    ایک سوال کے جواب میں علی امین کا کہنا تھا کہ انھوں نے دھاندلی کا معاملہ بھی وزیراعظم کے سامنے رکھا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قانونی فورمز موجود ہیں اور ٹریبیونلز بن چکے ہیں، اور ادارے موجود ہیں، اگر کوئی ایسی چیز سامنے آتی ہے اور کوئی حلقہ کھلتا ہے تو وہ اسے سپورٹ کریں گے۔

  4. پاکستان میں ناقص چھپائی والے ہزار کے نوٹ: کرنسی کی پرنٹنگ کیسے ہوتی ہے اور اس معاملے کا ذمہ دار کون ہے؟

  5. یورپی یونین کو کوئی خط لکھا اور نہ ہی خط لکھنے کا ارادہ ہے، پاکستان تحریک انصاف

    gohar khan

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے یورپی یونین کو نہ ہی کوئی خط لکھا اور نہ ہی خط لکھنے کا ارادہ ہے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس جھوٹ، لغویات اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں، زبردستی ملک پر قابض ہونے والے دوسروں کو حب الوطنی کا درس دے رہے ہیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف مقبول ترین جماعت ہے جو وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی کرتی ہے، یورپی یونین کو کوئی خط لکھا گیا اور نہ ہی خط لکھنے کا کوئی ارادہ ہے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کے لیےکاوشیں سب کے سامنے ہیں، اسحاق ڈار کی نااہلی آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں تاخیر کاسبب بنی اور بانی پی ٹی آئی کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے دوسری قسط جاری کی گئی۔

  6. بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر گمشدگی کیس کی اپیلیں میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر گمشدگی کیس میں اپیلیں میرٹ پر سننے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بدھ کو سائفر گمشدگی کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں اپیل کا کہیں ذکر نہیں مگر پروسیجر اور لا بتایا گیا ہے۔

    جس پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ سزا کے خلاف اپیل ٹرائل کا ہی تسلسل ہے۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے اپیل سننے پر دواعتراضات عائد کیے تھے۔

    اس پر چیف جسٹس نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اپیل بھی ٹرائل کا تسلسل ہوتی ہے، اس نکتے پر آپ ہمیں بتائیں۔

    اس پر ایف آئی اے کے پراسکیوٹر نے کہا کہ میری استدعا ہو گی کہ اپیل صرف اس صورت میں ٹرائل کا تسلسل ہے جہاں ایکٹ میں اپیل کا حق دیا گیا ہو، اگر قانون میں اپیل کا حق ہی نہیں دیا گیا تو معاملہ ٹرائل کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔

    اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم پیر سے ان اپیلوں کو میرٹ پر سنیں گے۔ عدالت نے سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 18 مارچ تک ملتوی کر دی۔

  7. بریکنگ, 190 ملین پاؤنڈ کیس: ’سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے، انتخابی دھاندلی پر سپریم کورٹ جائیں گے‘، عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت میں استغاثہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے مزید تین گواہان کے بیانات قلمبند کرلیے گئے ہیں۔

    جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں مقدمے کی سماعت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب کچھ جھوٹ پر چل رہا ہے، الیکشن جھوٹے ہوئے، اداروں کی ساکھ ختم کر دی گئی۔

    کمرۂ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی تھریٹ کا کہا جا رہا ہے یہ بھی جھوٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے، ادارے تباہ ہو چکے ہیں اور انتخابات میں پی ٹی آئی کو میدان میں نہیں آنے دیا گیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ووٹر نے پولنگ ڈے پر ان سے بدلہ لیا،لیکن ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے مزید کہا ہے کہ ’انھوں نے مینڈیٹ چھین کر قوم کی امید ختم کر دی ہے۔‘

    کمرۂ عدالت میں موجود جیل کے اہلکار کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ میری ساری پیشگوئیاں سچ ثابت ہوئیں،اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اپریل سنہ 2022 میں سری لنکا میں اقتصادی بحران نے شدت اختیار کر لی تھی اور اس کے زر مبادلہ کے زخائر تقریباً خالی ہو گئے تھے جس کے بعد ملک میں پرتشدد احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

    سری لنکن عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہو گئی تھیں۔ جبکہ ملک میں ایندھن کی دستیابی بھی متاثر اور دواؤں کی قلت کی وجہ سے نظامِ صحت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔

    مشتعل عوام نے سری لنکا کے حکمران خاندان پکشے کے گھر کو نذر آتش کر دیا تھا جبکہ صدر راجا پکشے خود ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

    ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، وکلا تک سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارا پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ بھی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پھر پیسہ چلنے والا ہے،گذشتہ سینیٹ انتخابات میںیوسف رضا گیلانی کا بیٹا پکڑا گیا،آج تک سزا نہیں ہوئی

    دوسری جانب اس مقدمے کی سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج ناصرجاوید رانا نے استغاثہ کے مزید تین گواہان کی شہادت قلمبند کی جس کے بعد عدالت نے مزید سماعت 16 مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

  8. بریکنگ, آئی ایم ایف کا جائزہ اجلاس 14 سے 18 مارچ کو ہو گا جس کے بعد 1.1 ارب ڈالر کی حتمی قسط جاری ہو گی

    IMF

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزارت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات 14 سے 18 مارچ تک شیڈول ہیں اور پاکستان نے اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت آخری قسط ملنے کے تمام اہداف پورے کرلیے ہیں۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا تو جائزہ مشن 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی سفارش کرے گا اور جائزہ مشن کی سفارشات کی آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد قسط جاری ہو گی۔

  9. ’خالی خزانے‘ اور امن و امان سمیت خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو کون سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں؟

  10. وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا

    محسن

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA/MOHSIN NAQVI/FACEBOOK

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔

    وزارت داخلہ آمد پر سیکریٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی سمیت وزارت کے سینیئر حکام نے وفاقی وزیر داخلہ کا خیر مقدم کیا۔

    وزیر داخلہ کی زیر صدارت اہم اجلاس میں ملک میں امن وا مان کے قیام اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کی بات کی گئی۔

    محسن نقوی وزارت داخلہ اور اس کے ذیلی اداروں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ محسن نقوی پاکستان کے 49 ویں وفاقی وزیر داخلہ ہیں۔

  11. عمران خان سے ملاقات کا معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرینٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 مارچ کے لیے نوٹس جاری کر دیا

    مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جج ثمن رفعت امتیاز نے سپرانٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    سماعت کے دوران وکیل عبدالہادی کی جانب سے دیے گئے دلائل میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹھ مارچ 2024 کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ سپرینٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے جان بوجھ کر حکم عدولی کرتے ہوئے ملاقات نہ کروائی۔‘

    عدالت نے سپرینٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 مارچ کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔

  12. صدر زرداری کا ’ملکی معاشی چیلنجز‘ کے پیشِ نظر تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ: ’یہ ایسا ہی ہے کہ آپ بریانی کھا لیں اور زیرہ نہ کھائیں‘

  13. اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر عائد پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر

    اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر عائد پابندی کے خلاف پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر ملاقاتوں پر پابندی نہ ہٹائی گئی تو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال دیں گے۔

    واضح رہے کہ حکومتِ پنجاب نے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات پر دو ہفتے کی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

  14. ’زہر دے دو اب یہ تکلیف برداشت نہیں ہو رہی‘: دو بہنوں کا اکلوتا بھائی جس کے اعضا عطیہ کرنے سے سات افراد کو نئی زندگی ملی

  15. ’دس حلقوں کا آڈٹ، سیاسی قدیوں کی رہائی، پرامن احتجاج کا حق‘ : تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے تین شرائط بتا دیں

    protest

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے تین شرائط رکھ دی ہیں۔ ان شرائط میں دس حلقوں کا آڈٹ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور احتجاج کرنے کی اجازت شامل ہیں۔

    تحریک انصاف کے رہنما عاطف خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دس حلقے ایسے بتائے جہاں اسے یہ شک ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے اور دس حلقے ہم بتاتے ہیں جہاں آڈٹ کیا جائے اور وہاں کے فارم 45 نکالے جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو مارا جاتا ہے، اس طرح تو یہ حکومت معاملے حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

    تحریک انصاف کے ہی ایک سینیئر رہنما اور عمران خان کے وکیل علی ظفر نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان تین شرائط کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو ختم کیا جائے اور بات چیت کے لیے حکومت ماحول سازگار کرے۔

    علی ظفر نے کہا کہ ایک بار حکومت تحریک انصاف کے ان تین مطالبات پر عمل کرے تو اس کے بعد ہم حکومت سے معیشیت، قومی مفاد اور سکیورٹی ایشوز پر بات کر سکتے ہیں۔

  16. اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا فیصلہ عمران خان سمیت تمام قیدیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہے: وزیر اطلاعات پنجاب

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات پر پابندی کا اقدام صرف عمران خان کی نہیں بلکہ تمام قیدیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    جیو کے پروگرام میں اینکر شاہزیب خانزادہ سے بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ سنجیدہ سکیورٹی الرٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چند روز پہلے ایک آپریشن کے بعد چند دہشت گرد پکڑے گئے تھے، جو فی الحال زیر تفتیش ہیں اور اُن کے پاس سے اڈیالہ جیل کے نقشے برآمد ہوئے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان مبینہ دہشت گردوں سے دوران تفتیش تمام معلومات حاصل ہوئیں جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا اور آئندہ دو ہفتوں میں اڈیالہ جیل میں کومبنگ آپریشن ہوں گے، سکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر کیا جائے گا اور جیل کے عملے کی مکمل سکروٹنی کی جائے گی۔

    تحریک انصاف کے الزامات کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ بے بنیاد الزامات عائد کرتی ہے، حکومت نے یہ سب عمران خان کے لیے نہیں کیا، عمران خان کو جیل میں تمام تر سہولیات میسر ہیں اور ان سے کوئی سہولت واپس نہیں لی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت سیریس تھریٹ الرٹ تھا، جو کانفیڈینشل ہے اور اس کی تفصیل زیادہ نہیں بتائی جا سکتیں۔ عمران خان کی سکیورٹی زیادہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ہائی پروفائل قیدی ہیں۔‘

  17. سندھ: 8 رکنی صوبائی کابینہ نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا

    صوبہ سندھ کی صوبائی کابینہ کے 8 اراکین نے اپنے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے وزرا سے ان کے عہدوں کا حلف لیا ہے۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے آفس سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق شرجیل انعام میمن کو محکمہ ٹرانسپورٹ، محکمہ ایکسائز اور ٹیکسیشناینڈ نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان دیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر عذرا پیچوہو کو محکمہ صحت اور بہبود آبادی کی وزارت دی گئی ہے، سید ناصر حسین شاہ کو محکمہ توانائی اور منصوبہ بندی اور ترقیات کی وزارت، سید سردار علی شاہ کومحکمہ تعلیم اور محکمہ مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ کا قلمداندیا گیا ہے۔

    اسی طرح سعید غنی کو محکمہ لوکل گورنمنٹ، جام خان شورو کو محکمہ آبپاشیاور محکہ خوراک، ضیا الحسن کو محکمہ داخلہ، سردار محمد بخش خان مہر کو محکمہ زراعت، علی حسن زرداری کو جیل خانہ جات کا قلمدان، سید ذوالفقار علی شاہ کو محکمہ کلچر اور ٹورازم، اللہ بخش ڈنو خان بھیو کو محکمہ جنگلات کا قلمدان دیا گیا ہے۔

    احسان الرحمان مزاری اور سید نجمی عالم کو وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

  18. فروری 2024 میں ملک میں کاروں کی فروخت میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    TOYOTA PAKISTAN

    ،تصویر کا ذریعہTOYOTA PAKISTAN

    پاکستان میں اس سال فروری کے مہینے میں کاروں میں فروخت میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق فروری میں ملک بھر میں 9709 کاریں فروخت ہوئیں جو گذشتہ سال فروری کے مقابلے میں 57 فیصد زیادہ ہیں جب ملک میں 6185 کاروں کی فروخت ہوئی تھی۔ تاہم جنوری کے مقابلے میں آٹھ فیصد کم کاریں فروخت ہوئیں۔

    موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں کاروں کی فروخت میں 41 فیصد کی کمی ہوئی جب تقریباً ساٹھ ہزار کاریں فروخت ہوئیں۔

    گذشتہ مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں ایک لاکھ ایک ہزار کاریں فروخت ہوئی تھیں۔

  19. بریکنگ, وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو نااہل قرار دینے کی درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے منظور

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ‏الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو نااہل قرار دینے کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی ہے۔

    ‏یاد رہے جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما محمد کفیل نے علی امین گنڈا پور کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے کی درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کی تھی۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ علی امین گنڈا پور نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی جائیداد سے متعلق غلط بیانی کی ہے لہدا انھیں نااہل کیا جائے۔

    منگل کے روز اس درخواست پر الیکشن کمیشن کے دو رُکنی بینچ نے سماعت کر کے اسے قابل سماعت قرار دیا جس کے بعد تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق اس کیس کی آئندہ سماعت 26 مارچ کو ہو گی۔

  20. ہمیں خان صاحب سے ملنے دیا جائے اور بتایا جائے پابندی کے احکامات کہاں سے آئے: بیرسٹر گوہر, ’ان کا مقصد عمران خان کو آئسولیٹ کرنا ہے‘ عمر ایوب خان

    تحریکِ انصاف کے چیئرمین گوہر خان کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اجازت دی تھی کہ منگل اور جمعرات کے دن روٹین کی ملاقاتیں کی جا سکتی لیکن جب آج صبح ہم ملاقات کے لیے جانے لگے تو ہمیں ملاقات نہیں کرنے دی گئی اور بتایا گیا کہ دوہفتے کے لیے ملاقات پر بلینکٹ پابندی لگائی گئی ہے۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ وہ کوئی عام قیدی نہیں کہ ایسے ملاقات پر پابندی لگا دی جائے جو غیر آئینی غیر قانونی ہے۔

    انھوں نے اس پابندی کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہمیں ملنے دیا جائے اور بتایا جائے پابندی کے احکامات کہاں سے آئے۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ اس پابندی کا مطلب ہے خان صاحب کی جان کو خطرہ ہے۔

    ’ان کا مقصد عمران خان کو آئسولیٹ کرنا ہے‘ عمر ایوب خان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ جیل کے باہر ہمارے بہت سے پارلیمنٹیرین موجود ہیں جن کے پاس عدالت کا حکم نامہ ہے جس پر تحریر ہے کہ اگر اڈیالہ جیل کے حکام عمران خان سے ملاقات سے روکیں گے تو جرمانہ عائد ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس وقت آئی جی جیل خانہ جات، وزیر داخلہ پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب عدالتی حکم نامے کو ماننے سے انکاری ہیں۔ انھوں نے سیکورٹی کے نام پر ڈھونگ رچایا ہوا ہے اور ان کا مقصد عمران خان کو آئسولیٹ کرنا ہے۔

    ’سپریڈنٹ اڈیالہ کا کہنا ہے کہ کوئی ملاقات نہیں کرسکتا کیونکہ اوپر سے اداروں کے احکامات ہیں‘ علیمہ خان کا الزام

    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے چیک اپ کے لیے ہم نے ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف کی درخواست کورٹ میں دائر کی ہے تاکہ وہ عمران خان سے ملاقات کرکے ان کا چیک اپ کرسکیں لیکن سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ کا کہنا ہے کہ کوئی ملاقات نہیں کرسکتا کیونکہ اوپر سے اداروں کے احکامات ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہر دفعہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے آئی ایس آئی سے یا اداروں سے اجازت لینی پڑتی ہے۔‘