آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تحریکِ انصاف کا احتجاج: سردار لطیف کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کر لیا گیا

پاکستان تحریکِ انصاف کے لاہور میں کیے جانے والے احتجاج کے دوران سردار لطیف کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ سمیت کئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ادھر پاکستان کے 14ویں صدرآصف علی زرداری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے 200 سے زائد گھر مکمل تباہ

    بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے سب سے زیادہ نقصان ساحلی شہر گوادر میں ہوا جہاں 1200 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں میں پانچ اضلاع میں 12سو 70 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے رپورٹ میں کہا ہے کہ سب سے زیادہ گھروں کو نقصان گوادر شہر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پہنچا جن کی مجموعی تعداد 12 سو 33 سے زیادہ ہے ۔

    تاہم ان میں سے 235 سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گوادر میں بارشوں کے دوران 80 کشتیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    گوادر سے متصل ضلع کیچ میں مجموعی طور 25 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں سے پانچ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

    وفاقی اور بلوچستان حکومت کی جانب سے گھروں اور کشتیوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے۔

  2. صدر عارف علوی نے جسٹس نعیم اختر افغان کی بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی کی منظوری دے دی

    پاکستان کے صدر عارف علوی نے تین ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

    ایوانِ صدر کے مطابق صدر عارف علوی نے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان کی بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان تعیناتی کی منظوری دی ہے۔

    صدر عارف علوی نے جسٹس نعیم اختر افغان کی تعیناتی کی منظوری آئین کے آرٹیکل 175 (اے) کے تحت دی ہے۔

    اس کی علاوہ صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 196 کے تحت بلوچستان ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج محمد ہاشم خان کو بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعینات کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔

    ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے صدر نے جسٹس ملک شہزاد احمد خان کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔

    جسٹس ملک شہزاد احمد خان لاہور ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

  3. پولیس کا اڈیالہ جیل کو ’بڑی تباہی‘ سے بچانے کا دعویٰ: ’عمران خان کو کسی اور جیل میں منتقل کرنے کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے‘

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اڈیالہ جیل پر مبینہ حملے کے منصوبے اور عسکریت پسندوں کی گرفتاری پر سوالات اُٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ’انھیں صرف ایک خدشہ ہے اور وہ عمران خان کی حفاظت ہے۔‘

    جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پیغام میں پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’اڈیالہ جیل پر دہشتگرد حملے کی کوشش کے حوالے سے حالیہ انکشافات سے متعدد سوالات پیدا ہو رہے ہیں، نہ صرف اس کی سچائی پر بلکہ اس پر بھی کہ عمران خان کو کسی اور جیل میں منتقل کرنے کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان سرگرمیوں کو مزید محدود کیا جا سکے۔‘

    خیال رہے بدھ کی رات کو راولپنڈی پولیس نے ایک بیان میں اڈیالہ جیل کو ’بڑی تباہی‘ سے بچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    راولپنڈی کے سی پی او سید خالد ہمدانی سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ روالپنڈی پولیس اور محکمہ انسداد دہشتگردی کی مشترکہ کارروائی میں ’تین دہشتگرد بھاری اسلحہ اور بارود سمیت گرفتار‘ کیے گئے ہیں۔

    پولیس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے اور انھیں تفتیش کے لیے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

    پولیس کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے افراد کے پاس سے اڈیالہ جیل کا نقشہ، ہینڈ گرینیڈ، خود کار ہتھیار اور آئی ای ڈی برآمد ہوا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک ہائی پروفائل شخصیت پاکستان کے ایک انتہائی محفوظ اور زیرِنگرانی جیل میں ہوں اور پھر بھی سکیورٹی کی ایسی کوتاہی دیکھنے میں آئے۔‘

    خیال رہے سابق وزیرِاعظم عمران خان کو توشہ خان، سائفر اور عدت مکمل ہونے سے قبل نکاح کے مقدمات میں سزا سُنائی جا سکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

    عمران خان کے وکلا نے ان سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

  4. عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی، اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو اسمبلی بلائیں گے: پی ٹی آئی

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ان کی جماعت کے منتخب نمائندوں کو سابق وزیرِاعظم عمران خان سے ملاقات کرنے نہیں دے رہے۔

    جمعرات کو اسد قیصر کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ پارٹی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دے رہے اور اس کے خلاف وہ تحریکِ استحقاق قومی اسمبلی میں جمع کروائیں گے۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں نہ صرف اُٹھائیں گے بلکہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو اسمبلی کے فلور پر بھی بلائیں گے۔

    اسد قیصر نے مزید کہا کہ وہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ’گرینڈ الائنس‘ بنانے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم پوری تحریک چلائیں گے۔ جو فارم 45 کے ذریعے اراکین بنے ہیں انھیں ہم اسمبلی سے نکالیں گے۔‘

    پی ٹی آئی رہنما کے مطابق ان کا مقصد ان تمام جماعتوں کو اکھٹا کرنا ہے جنھیں انتخابات کے حوالے سے تحفظات ہیں۔

  5. حسن اور حسین نواز کے وارنٹِ گرفتاری معطل، 14 مارچ تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی استدعا منظور کرلی ہے۔

    جمعرات کو احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے حسن اور حسین نواز کو 14 مارچ تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایوان فیلڈ، العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس میں عدم پیشی کی بنا پر دونوں کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

  6. سُنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستیں نہ ملنے کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

    سُنّی اتحاد کونسل نےپنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

    جمعرات کو سُنّی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کے جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ان کے وکیل اشتیاق اے خان نے دائر کی۔

    دائر کی گئی درخواست میں الیکشن کمیشن، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سُنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ الاٹ کرکے رولز اور قوانین کی خلاف وزری کی ہے۔

    درخواست میں لاہور ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کے لیے چار خطوط لکھے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سُنّی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کے بجائے درخواست کو ابتدائی طور پر سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

    درخواست گزار کے مطابق الیکشن کمیشن کا یہ اقدام الیکشن ایکٹ 104 اور آئین کے آرٹیکل 51 سے متصادم ہے۔

    سُنی اتحاد کونسل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق جیتنے والے امیدواروں کے حساب سے مخصوص نشستیں سیاسی جماعت کو ملنی چاہییں۔

    درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن کا اقدام الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 اور رول 94 کے تحت کالعدم قرار دے۔

  7. شراب، اسلحہ برآمدگی کیس: مقامی عدالت نے علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے شراب اور اسلحہ برآمدگی کے مقدمے میں مقامی عدالت کی طرف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت میں مقامی عدالت کی جانب سے انھیں اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کی تھی۔

    جمعرات کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے اس درخواست پر سماعت کی۔

    علی امین گنڈاپور کے وکیل ظہور الحسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کو عدم پیشی کی بنا پر اشتہاری قرار دیا گیا تھا مگر اب اُن کے مؤکل عدالت میں پیش ہو کر اس مقدمے کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ اُن کے مؤکل کتنا عرصہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ علی امین گنڈاپور چند سماعتوں پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔

    علی امین کے وکیل نے جمعرات کو بھی اپنے مؤکل کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے انھیں حاضری سے ایک دن کے استثنی کی درخواست دی، جو منظور کر لی گئی۔

    عدالت نے درخواست گزار کو 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے اور ایک مقامی ضامن دینے کا بھی حکم دیا ہے۔

    عدالت نے یہ مقدمہ واپس ٹرائل کورٹ کو واپس بھجواتے ہوئے سماعت 14 مارچ تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف 2016 میں اس وقت تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہوا تھا جب وہ عمران خان سے ملنے کے لیے بنی گالہ جا رہے تھے کہ راستے میں لگے ہوئے ناکے پر پولیس اہلکاروں نے انھیں روکا اور ان کے قبضے سے شراب کی بوتل اور اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔

  8. بریکنگ, سنی اتحاد کونسل نے پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    سنی اتحاد کونسل نے پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

    حامد رضا نے درخواست ایڈوکیٹ اشتیاق اے خان کی وساطت سے درخواست دائر کی ہے۔

    اس درخواست میں الیکشن کمیشن، پیپلز پارٹی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے رولز اور قوانین کی خلاف وزری کی ہے۔‘

    درخوسات میں کہا گیاکہ ’درخواست گزار نے الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کے لیے چار خطوط لکھے ۔ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں دینے کی بجائے درخواست کو ابتدائی طور پر سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

    درخواست میں کہا گیا کہ ’الیکشن ایکٹ 104 اور آئین کے آرٹیکل 51 سے متصادم ہے۔ الیکشن ایکٹ کے مطابق جیتنے والے امیدواروں کے حساب سے مخصوص نشستیں سیاسی جماعت کو ملے گی۔الیکشن کمیشن نہ تو ٹریبونل ہے، نہ عدالت۔‘

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ’عدالت الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104، رول 94 خلاف آئین قرار دے۔‘

  9. اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل طلب کر لی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب سے پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل 13 مارچ تک طلب کر لی۔

    عدالت میں رپورٹ جمع کرائی گئی کہ اعظم سواتی کے خلاف وفاقی پولیس میں دو جبکہ ایف آئی اے میں تین مقدمات درج ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے اعظم سواتی کی اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حصول کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔

    درخواست گزار کی جانب سے علی بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    سٹیٹ کونسل نے پولیس اور ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات عدالت میں پیشکیں۔ رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی کے خلاف 2مقدمات وفاقی پولیس جبکہ 3مقدمات ایف آئی اے میں درج ہیں۔ ایف آئی اے کے تینوں مقدمات سائبر کرائم سے متعلق ہیں۔

    ایف آئی اے کے دومقدمات میں ضمانت منظور جبکہ ایک مقدمہ میں مسترد ہوچکی ہے۔ پٹیشنر کے وکیل نے کہا نیب کے کیسز کی تفصیلات بھی چاہیں۔

    عدالت نے نیب سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی۔

  10. بشری بی بی اور عمران خان کی ملاقات سے متعلق درخواست پر سپریڈنٹ اڈیالہ جیل آرڈر پاس کریں: اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نےعمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی سب جیل میں موجودگی سے متعلق عدالت نے ریورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے اسلام آباد انتظامیہ کے سینیر افسر کو سب جیل بنی گالہ کا دورہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

    بشری بی بی کی بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کر رہے ہیں۔

    سماعت کے دوران بنی گالہ منتقلی کی چیف کمشنر کی منظوری کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

    عدالت نے سٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ یہ گھر کس کی ملکیت ہے ؟ کیا مالک مکان کی مرضی سے یہ ہوا ہے ؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’جب کسی کے گھر کو آپ سب جیل قرار دیتے ہیں تو کیا مالک سے اجازت لیتے ہیں؟ کیا اس کیس میں گھر کے مالک سے آپ نے اجازت لی؟

    سٹیٹ کونسل نے جواب دیا کہ ’بشری بی بی کیونکہ سابق فرسٹ لیڈی ہیں اس لیے ان کی سکیورٹی کے لیے بنی گالہ منتقلی ہوئی ہے۔‘

    بشری بی بی کے وکیل عثمان گل کا کہنا تھا کہ ’یہ پورا پراسس ہی غیر قانونی ہے یہ آئی جی جیل خانہ جات کا کام تھا ، جب بشری بی بی اڈیالہ جیل میں داخل ہو چکیں تھیں تو سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کا منتقلی اختیار نہیں تھا۔ یہ آئی جی جیل خانہ جات کا اختیار تھا ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ پٹشنر کو بنی گالہ میں کس طرح رکھا گیا ہے؟

    وکیل عثمان گل نے بتایا کہ ’بنی گالہ کے ایک کمرہ میں بند کرکے رکھا گیا ہے۔ جبکہ ، سٹیٹ کونسل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ میں جیل حکام سے پوچھ کر عدالت کو بتاؤں گا۔

    اس موقعے پر وکیل عثمان گل عدالت بیلف مقرر کر دے وہ جا کر دیکھ کر آج ہی ریورٹ دے دے ، 31 جنوری کے بعد ایک دن بھی عمران خان کی بشری بی بی سے ملاقات کی اجازت نہیں دے گئی۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کی درخواست پر سپریڈنٹ جیل آرڈر پاس کرے، سپریڈنٹ جیل آرڈر کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کرائیں۔

  11. دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات: تمام سرکاری اور غیر سرکاری افراد کو محدود سکیورٹی اور اسلحہ رکھنے کی ہدایت

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس اسلحے کی نمائش اور غیر ضروری پروٹوکول کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات عمل میں لا رہی ہے۔

    اسلام آباد آنے والے تمام سرکاری اور غیر سرکاری افراد اپنے ہمراہ صرف ایک گاڑی میں حفاظتی عملہ لا سکیں گے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی بھی عہدیدار یا شخص کے ساتھ اسلحے کی نمائش کے مرتکب افراد ہوئے تو بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

    ہدایات کے مطابق دیگر صوبوں کے عہدیداران اپنے ہمراہ صرف ضروری سکیورٹی اور جیمرز لا سکیں گے۔

    پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد پولیس وزرائے اعلیٰ اور گورنر صاحبان کو رہنمائی اور حفاظت کےلیے سہولت فراہم کرے گی۔

    اسلام آباد میں دیگر صوبوں کے ہاؤسز پر تعینات پولیس افسران کو اسلام آباد پولیس کے سکیورٹی ڈویژن سے رابطے کے بعد مسلح رہنے کی اجازت ہوگی۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق نئے پارلیمانی سال کے آغاز اور اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دیگر تقریبات اور اہم پروگراموں کی وجہ سے مجوزہ طریقہ کار کا از سر نو اعادہ کردیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔

  12. سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا معاملہ: پشاور ہائی کورٹ کے لارجر بنچ نے سماعت13 مارچ تک ملتوی کر دی, عزیزاللہ خان ، بی بی سی اردو، پشاور

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے بارے میں درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کے لارجر بنچ نے سماعت13 مارچ تک ملتوی کر دی ہے اور الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع میں بھی 13 مارچ تک توسیع دے دی گئی ہے۔

    لارجر بنچ نے جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نےاس درخواست کی سماعت کی ہے ۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ آج اٹارنی جنرلاور ایڈووکیٹ جنرل کو طلب کیا تھا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل سے رابطہ ہوا ہے وہ آج سپریم کورٹ میں ہیں۔ عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتی بھی آج ہونی ہے۔

    گذشتہ روز سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی جس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ گذشتہ روز دو رکنی بنچ نے سماعت کی تھی جس میں چیف جسٹس سے لارجر بنچ تشکیل نے کی درخواست کی گئی تھی۔

    گذشتہ روز بنچ نے مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین سے خلاف نہ لینے کا حکم دیا تھا۔ آج سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بابر اعوان ایڈووکیٹ اور قاضی محمد انور ایڈووکیٹ پیش ہوئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 4 مارچ کو سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کردی تھی اور 5 مارچ کو سنی اتحاد کونسل کے حصے کی مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ سنی اتحاد کونسل نے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

  13. نواز شریف کے دو بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دو بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    ان دونوں ملزمان کو ایون فیلڈ العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس میں عدم پیشی کی بنا پر نہ صرف اشتہاری قرار دیا گیا تھا بلکہ ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے تھے۔

    ملزمان کی جانب سے وکیل مصباح الدین عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ اُن کے مؤکل عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں اس لیے ان کے وارنٹ گرفتاری معطل کیے جائیں۔ عدالت کے استفسار پر وکیل نے کہ اُن کے مؤکل 12 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے اس درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اگر عدالت ملزمان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دے۔

    انھوں نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری جاری ہی اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ ملزم کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے پابند کیا جا سکے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کے بعد سپریم کورٹ نے نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور دو بیٹوں کے خلاف تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

    ایون فیلڈ ریفرنس میں ان ملزمان کے علاوہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر بھی شامل تھے۔

    یہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد نواز شریف کے دونوں بیٹے لندن چلے گئے تھے اور تقریبا سات سال سے وہ پاکستان واپس نہیں آئے جس پر عدالت نے انھیں اشتہاری قرار دیا تھا۔

    فلیگ شپ ریفرنس میں سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو اپنے بیٹے حسن نواز کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے اور اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا تھا جبکہ اسی ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج نے نواز شریف کو بری کر دیا تھا۔

    حسن نواز اور حسین نواز کے اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد عدالت نے ان دونوں کو ان تینوں ریفرنس میں الگ کر دیا تھا اور باقی تینوں ملزمان نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو سزائیں سنائی تھیں۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان تینوں افراد کو ان مقدمات سے بری کر دیا تھا۔

  14. پشاور ہائی کورٹ: خواتین اور اقلیتی نشستوں پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف لارجر بینچ تشکیل, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں کے بارے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

    پانچ رکنی لارجر بینچ جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں آج 12 بجے اس کیس کی سماعت کرے گا۔ لارجر بینچ میں جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر سُنی اتحاد کونسل کی درخواست پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر مخصوص نشستوں پر اراکین سے جمعرات تک حلف نہ لیں۔

    سُنی اتحاد کونسل نے پشاور ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ وہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین کو حلف لینے سے روکنے کے احکامات جاری کرے۔ بدھ کو سُنّی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے الیکشن کمیشن آف پاکستان فیصلے کے خلاف کیس پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

    سُنّی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور نے پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رُکنی بینچ کو بتایا تھا کہ انتخانی نشان چھن جانے کے باعث پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑے اور بعد میں انہوں نے سُنّی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں 21 مخصوص خواتین اور چار اقلیتی نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کردہ گئی ہیں۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سُنّی اتحاد کونسل کے وکیل سے پوچھا کہ یہ کیس صرف خیبرپختونخوا کی حد تک ہے یا پورے ملک تک؟ قاضی انور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے پورے ملک کے لیے ایک ہی فیصلہ دیا ہے۔

    پشاوہ ہائی کورٹ نے دلائل سُننے کے بعد حکمِ امتناع جاری کردیا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس معاملے پر کل تک جواب جمع کروانے کا حکم جاری کیا ہے۔

    عدالتی حکم میں سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا اس عدالت کے پاس فیصلہ معطل کرنے کا اختیار ہے؟ عدالت نے حکم میں پوچھا ہے کہ کیا مخصوص نشستوں کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے تحریری حکم نامے میں سوال اُٹھایا ہے کہ کیا خواتین اور اقلیتوں کے مخصوص نشستوں کے لئے فہرست جمع نہ کرنے کے بعد سُنّی اتحاد کونسل کا ان سیٹوں پر حق بنتا ہے؟

    تحریری حکم نامے میں سوال اُٹھایا گیا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 51(6) اور سیکشن 104 کے ساتھ الیکشن ایکٹ کے 2017 کے رولز 92 اور 94 کی غلط تشریح کی ہے؟ تحریری حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ چیف جسٹس اس کیس کی سماعت کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیں۔

  15. گذشتہ روز عمران خان نے کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے اور نو مئی کے واقعات کے بارے میں کیا کہا؟

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں القادر ٹرسٹ کرپشن ریفرنس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے کور کمانڈر کانفرنس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کی تائید کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان افراد کو سخت سزا دی جائے جو نو مئی کے پُرتشدد واقعات میں ملوث ہیں۔

    بدھ کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کا تعین کیا جائے۔

    عدالت میں موجود صحافی فرخ محمود کے مطابق ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی میں کوئی فوج کے خلاف نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات پر تنقید فوج پر تنقید کیسے ہو سکتی ہے؟

    انھوں نے کہا کہ نو مئی کا بیانیہ آٹھ فروری کو ناکام ہو گیا اور لوگ نہیں مانے کہ ہم نے کوئی غداری کی ہے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے میں ملوث افراد کو بھی سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    انھوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ سانحہ نو مئی پر ابھی تک جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنایا گیا؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سانحہ نو مئی کی آزادانہ انکوائری میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دے کر جمہوریت کی نفی کی گئی اور یہ غیر آئینی عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ جن جماعتوں کی مخصوص نشستیں نہیں بنتی تھیں ان کو کیسے دی جا سکتی ہیں۔

    سابق وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان میں بھی عوام کو مینڈیٹ سے محروم کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ملک ٹوٹا۔

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ موجودہ الیکشن ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ دھاندلی زدہ الیکشن تھا۔

    انھوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن پر آتا ہے اور انتخابات میں جیتنے والوں کو بھی پتہ ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

    عدالت میں موجوداڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کا سب سے بڑا یو ٹرن پہلے ووٹ کو عزت دو اور اب بوٹ کو عزت دو ہے۔

    انھوں نےکہا کہ ان انتخابات میں تین جماعتوں کو فائدہ ہوا ہے جن کے ساتھ ان کی جماعت نے مذاکرات کرنے سے انکار کیا ہے۔

    دوسری جانب القادر ٹرسٹ کرپشن ریفرنس میں عدالت نے تین گواہان کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں جبکہ دو پر جرح بھی مکمل کرلی گئی ہے۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    پاکستان میں گذشتہ روز کی سب سے اہم خبر سپریم کورٹ کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دینا تھی۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس کے علاوہ وہ کون سی خبریں تھیں جو ہم نے آپ کے لیے اس لائیو پیج میں پیش کیں۔

    • ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں ملا: سپریم کورٹ کی رائے
    • سپیکر قومی اسمبلی جمعرات تک مخصوص نشستوں پر اراکین سے حلف نہ لیں: پشاور ہائی کورٹ
    • نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے: عمران خان کی کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے کی تائید
    • فوج اگر سیاست میں آئے گی تو کوئی کور کمانڈرز کانفرنس کی قرارداد مجھے تنقید سے نہیں روک سکتی: مولانا فضل الرحمان
    • پنجاب کی کابینہ: ’آدھے لوگ مریم نواز کا انتخاب، آدھے حمزہ شہباز کے قریب‘
    • ’قوم اپنی آنکھوں سے دھاندلی دیکھ سکتی ہے‘: پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کے فارم 45 کے اجرا پر ردِعمل
    • اسد طور کی گرفتاری: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کے گرفتاری کے طریقہ کار پر سوالات اُٹھا دیے
  17. بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کو پاکستان میں دن بھر کی اہم خبروں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

    گذشتہ دو روز کی خبروں کے لیے بی بی سی اردو کے گذشتہ لائیو پیج پر آئیں۔