سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں القادر ٹرسٹ کرپشن ریفرنس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے کور کمانڈر کانفرنس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کی تائید کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان افراد کو سخت سزا دی جائے جو نو مئی کے پُرتشدد واقعات میں ملوث ہیں۔
بدھ کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کا تعین کیا جائے۔
عدالت میں موجود صحافی فرخ محمود کے مطابق ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی میں کوئی فوج کے خلاف نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات پر تنقید فوج پر تنقید کیسے ہو سکتی ہے؟
انھوں نے کہا کہ نو مئی کا بیانیہ آٹھ فروری کو ناکام ہو گیا اور لوگ نہیں مانے کہ ہم نے کوئی غداری کی ہے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے میں ملوث افراد کو بھی سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
انھوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ سانحہ نو مئی پر ابھی تک جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنایا گیا؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سانحہ نو مئی کی آزادانہ انکوائری میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دے کر جمہوریت کی نفی کی گئی اور یہ غیر آئینی عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ جن جماعتوں کی مخصوص نشستیں نہیں بنتی تھیں ان کو کیسے دی جا سکتی ہیں۔
سابق وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان میں بھی عوام کو مینڈیٹ سے محروم کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ملک ٹوٹا۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ موجودہ الیکشن ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ دھاندلی زدہ الیکشن تھا۔
انھوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن پر آتا ہے اور انتخابات میں جیتنے والوں کو بھی پتہ ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔
عدالت میں موجوداڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کا سب سے بڑا یو ٹرن پہلے ووٹ کو عزت دو اور اب بوٹ کو عزت دو ہے۔
انھوں نےکہا کہ ان انتخابات میں تین جماعتوں کو فائدہ ہوا ہے جن کے ساتھ ان کی جماعت نے مذاکرات کرنے سے انکار کیا ہے۔
دوسری جانب القادر ٹرسٹ کرپشن ریفرنس میں عدالت نے تین گواہان کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں جبکہ دو پر جرح بھی مکمل کرلی گئی ہے۔