سپریم
جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا
ہے۔
واضح
رہے کہ مظاہر نقوی پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں۔ ان کے استعفے کے بعد سپریم کورٹ نے سپریم
جوڈیشل کونسل کو ایسے جج کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا اختیار دیا تھا جو کونسل
کی کارروائی کے دوران مستعفی ہو جائے۔
خیال
رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 29 فروری اور یکم مارچ کو ہوا تھا۔
سپریم
جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف نو شکایات کا جائزہ لیا اور انھیں قصوروار
قرار دیا۔ کونسل نے قرار دیا ہے کہ جسٹس نقوی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دینا چاہیے تھا۔
کونسل
کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے
ججز کے خلاف الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کی تشہیر بھی ہوئی۔ متعدد ججز نے اس پر
تحفظات کا اظہار کیا کہ اگر وہ ایسے الزامات کا جواب دیتے ہیں تو پھر یہ مس کنڈکٹ
کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
کونسل
کے مطابق ایسے ججز کو صفائی دینے کا موقع دیا گیا ہے اور اب متعدد ججز کے خلاف کارروائی
ختم کی گئی ہے جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک جج کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دنوں
میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
جسٹس مظاہر علی نقوی کے خلاف الزامات پر سپریم جوڈیشل کونسل نے گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے اور پھر شواہد کی روشنی میں انھیں قصوروار قرار دینے کا فیصلہ سنا دیا۔
جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر الزامات کیا تھے؟
سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بتائی گئی تھیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائی تھیں۔
میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک تھیں۔
اس شکایت میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک تھی۔
شکایت کے ساتھ منسلک دستاویزات میں کہا گیا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ 4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا جبکہ اسے 7 کروڑ 20 لاکھ کا ڈکلیئر کیا گیا۔
ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13 کروڑ میں اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر دیا اور بعد ازاں اسے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کا ڈکلیئر کیا۔
ان دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4 کنال کا پلاٹ 10 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ جج نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کی مدد سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ صرف پانچ لاکھ روپے میں دلوایا جبکہ مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت اس وقت بیس لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔
ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے دو بیٹوں کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ محض نو لاکھ روپے میں دیے گئے جبکہ مارکیٹ میں ان پلاٹ کی ویلیو تین کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
ان دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ مذکورہ جج کی بیٹی کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں دس ہزار برطانوی پاؤنڈز دبئی سے ٹراسنفر کیے گئے۔