یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔۔ تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے لاہور میں کیے جانے والے احتجاج کے دوران سردار لطیف کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ سمیت کئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ادھر پاکستان کے 14ویں صدرآصف علی زرداری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔۔ تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاجی ریلی نکالنے کے علاوہ احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔
احتجاجی ریلی کا آغاز تحریک انصاف کے دفتر سے ہوا۔
ریلی کے شرکا نے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا کہ عوام نے 8 مارچ کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف ہرقسم کے پروپیگینڈہ کو مسترد کرکے ان کو بھرپور مینڈیٹ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو چھین کر عوامی رائے کی توہین کی گئی۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ ان تمام نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے جن پر ان کو اکثریت حاصل تھی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے لاہور میں کیے جانے والے احتجاج کے دوران سردار لطیف کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مھابق سلمان اکرم راجہ کو اچھرہ میں احتجاجی ریلی کے دوران حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ میاں محمود الرشید کے بیٹے ڈاکٹر حسن محمود کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ میاں محمود الرشید کے بیٹے کو شادمان میں ریلی سے حراست میں لیا گیا۔ رکن پنجاب اسمبلی ہارون اکبر کو بھی اچھرہ سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یاد رہے تحریک انصاف نے آٹھ فروری کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی کال پر آج (10 مارچ کو) ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں انتخابی دھاندلی کے خلاف پُرامن احتجاج میں شریک رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPPP
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زردرای نے ملک کے 14ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کی تقریب حلف برداری آج شام چار بجے ایوان صدر میں منعقد ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آصف زرداری سے ان سے حلف لیا۔
گذشتہ روز آصف علی زرداری 411 ووٹ لے کر ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔
الیکشن کمیشن نے آصف علی زرداری کے صدر مملکت منتخب ہونے کا حتمی نتیجہ جاری کردیا۔
اصدارتی انتخاب کا حتمی نتیجہ فارم 7 کی صورت میں چیف الیکشن کمشنر نے جاری کیا۔
فارم 7 کے مطابق آصف زرداری 411 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ ان کے مدمقابل محمود خان اچکزئی 181 ووٹ حاصل کرسکے۔
فارم 7 کے مطابق کل 1044 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ نو مسترد ہوئے اس طرح درست ووٹوں کی تعداد 1035 تھی۔
آصف زرداری کو قومی اسمبلی سے 255، پنجاب اسمبلی سے 246 (43)، سندھ اسمبلی سے 151 (58) خیبرپختونخوا اسمبلی سے 17 (8) اور بلوچستان اسمبلی سے 47 ووٹ ملے، انہیں ملنے والے مجموعی ووٹ 716 تھے، جو 411 بنتے ہیں۔
محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی سے 119، پنجاب اسمبلی سے 100 (18)، سندھ اسمبلی سے 9 (3)، خیبرپختونخوا اسمبلی سے 91 (41) اور بلوچستان اسمبلی سے کوئی ووٹ نہیں ملا، اس طرح مجموعی طور پر انھیں 319 ووٹ ملے، یوں انھیں کل 181 بنتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف نے آٹھ فروری کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی کال پر آج (10 مارچ کو) ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال گذشتہ روز آصف علی زرداری کے دوسری مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہونے کے بعد دی گئی تھی۔
پی ٹی آئی اعلامیے کے مطابق اسلام آباد میں دوپہر دو بجے کارکنان اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ انٹرچینج پر جمع ہوں گے اور پھر نیشنل پریس کلب کی طرف بڑھیں گے۔
جبکہ کراچی میں پی ٹی آئی نے ضلع ملیر میں ڈی سی آفس سے داؤد چورنگی تک مظاہروں کا اعلان کیا ہے، کورنگی نمبر 2، حیدری مارکیٹ، نارتھ ناظم آباد، نیا ناظم آباد میں، لیاری، شیرشاہ پراچہ چوک میں بھی پرامن احتجاج ہوگا۔
جبکہ لاہور میں جی پی او چوک، فیصل آباد میں گھنٹہ گھر چوک، ملتان میں خانیوال روڈ پر ساہو چوک پر احتجاج کیا جائے گا۔ پارٹی نے پشاور کے کبوتر چوک پر بھی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہKPK Police
ابتدائی تفصیلات کے مطابق تھانہ ناصر باغ کی حدود ناصر باغ روڈ پر مبینہ موٹر سائیکل دھماکہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی آپریشنز کاشف آفتاب عباسی، ایس پی ورسک ڈویژن تیمور خان، ڈی ایس پی ریگی جاوید اختر بھاری نفری کے ہمراہ فوری موقع پر پہنچ گئے ہیں۔
مبینہ دھماکہ کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے بی ڈی یو ٹیم، سی ٹی ڈی اور دیگر یونٹس بھی موقع پر موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نومنتخب صدر آصف علی زرداری کی تقریب حلف برداری آج شام چار بجے ایوان صدر میں ہوگی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آصف زرداری سے حلف لیں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے آصف علی زرداری کو دوسری مرتبہ صدر پاکستان منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بطور صدر پاکستان انتخاب، جمہوری اقدار کا تسلسل ہے۔
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کا نتیجہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق آصف علی زرداری 411 ووٹ لے کر ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ان کے حریف محمود خان اچکزئی کو 181 ووٹ ملے۔
پاکستان میں صدر کے انتخاب میں پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بیک وقت ہوتے ہیں اور الیکٹورل کالج میں کُل ملا کر 1185 ووٹ ہوتے ہیں۔
پاکستان کی اسمبلیوں میں اس وقت 92 نشستیں خالی ہیں۔ سنیچر کو ہونے والے انتخاب میں 1044 اراکینِ اسمبلی اور سینیٹ نے ووٹ دیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخاب کا نتیجہ وفاقی حکومت کو بھیجا جا چکا ہے اور ان کی جانب سے آصف علی زرداری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن اتوار کو جاری کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہNational Assembly
’جن لوگوں نے کہا تھا کہ میں انھیں روڈ پر گھسیٹوں گا، ان سے آج خود کو صدر منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈلوا رہے ہیں۔‘
نیشنل اسمبلی میں اپوزیشن بینچ کی جانب سے یہ آواز تب آئی جب شہباز شریف اور پھر ان کے بیٹے حمزہ شہباز نے صدر کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ کاسٹ کیا۔
آصف علی زرداری ایک بار پھر صدر منتخب ہو چکے ہیں اور اس بار ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ایک منقسم پارلیمان کی ذمہ داری بھی ہو گی۔
مسلم لیگ ن کے عرفان صدیقی نے کہا کہ ’ہم ایک ہی کشتی میں سوار ہیں اور اس نظام کو ہمیں ایک ساتھ گھسیٹ کے لے کر جانا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’زرداری صاحب کی اچھی بات یہ ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔ چاہے وہ ان کا حریف ہو یا پھر وہ ان کی اپنی جماعت کا ہو۔ ان میں لوگوں سے بنا کر رکھنے کا سلیقہ ہے۔‘
جبکہ عمر ایوب سے جب اسمبلی کے باہر بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ان کی جماعت کو انھیں آرام کرنے دینا چاہیے اور میں اور میری جماعت ان کو اپنا صدر نہیں مانتے کیونکہ ہم حالیہ الیکشن بھی نہیں مانتے۔‘
ووٹنگ ٹھیک دس بجے شروع ہو گئی اور اس دوران آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، شہباز شریف اور نواز شریف اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کرنے پہنچے۔
صدر کے انتخاب کے لیے محمود خان اچکزئی بھی ایوان میں ایک جگہ کھڑے نواز شریف کو ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ ایک وقت میں ایسا لگا کہ وہ ان سے سلام دعا کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔
لیکن وہ جہاں کھڑے تھے وہیں خاموشی سے کھڑے رہے۔ سکیورٹی اس قدر سخت تھی کہ آصف علی زرداری کو بھی قریبی رشتہ دار لانے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی آصفہ بھی نظر آئیں اور جیسے ہی آصف علی زرداری نے ووٹ کاسٹ کرلیا، آصفہ بھی ان کے ساتھ چلی گئیں۔
عمران خان کی حامی جماعتیں آج پورا دن پارلیمان میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو طعنے تشنے دیتے ہوئے دیکھی گئیں لیکن جہاں بات پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں کی آئی تب زیادہ تر نے آصف علی زرداری کو پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک زرداری ن لیگ پر بھاری۔‘
اس پر پی پی کی جماعت کی ایک رکن نے جواباً کہا کہ ’ایسے ہی نہیں کہا جاتا کہ ایک زرداری کی سب سے یاری۔‘
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کا نتیجہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق آصف علی زرداری 411 ووٹ لے کر ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ان کے حریف محمود خان اچکزئی کو 181 ووٹ ملے۔
پاکستان میں صدر کے انتخاب میں پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بیک وقت ہوتے ہیں اور الیکٹورل کالج میں کُل ملا کر 1185 ووٹ ہوتے ہیں۔
پاکستان کی اسمبلیوں میں اس وقت 92 نشستیں خالی ہیں۔ سنیچر کو ہونے والے انتخاب میں 1044 اراکینِ اسمبلی اور سینیٹ نے ووٹ دیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخاب کا نتیجہ وفاقی حکومت کو بھیجا جا چکا ہے اور ان کی جانب سے آصف علی زرداری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن اتوار کو جاری کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہPMLN/X
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے بچوں کو پنجابی زبان سکھائیں۔
سنیچر کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’پنجابی لوگ جب پنجابی زبان بولتے ہیں تو فخر سے نہیں بولتے بلکہ بچوں کو یا تو اردو سکھاتے ہیں یا انگریزی سکھاتے ہیں اور ہم سب یہی کرتے ہیں، میں اپنے آپ کو اس میں شامل کر کے کہہ رہی ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں آج ماں، باپ سے بھی یہ بات کہوں گی کہ اگر آپ کا تعلق پنجاب سے ہے تو آپ اس پر فخر محسوس کریں، اپنے بچوں کو پنجابی سکھائیں۔‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ بچوں کو انگریزی سکھانا بھی ضروری ہے کیونکہ ہم نے دنیا سے بھی مقابلہ کرنا ہے اور اردو قومی زبان ہے اس لیے وہ بھی بولنی چاہیے۔
انھوں نے ایک کہاوت کا استعمال کیا کہ: ’کوّا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسا ہی کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہم دوسروں کی روایات پر چل پڑے ہیں اور اپنے جڑوں کو، اپنی ثقافت کو، اپنی اقدار کو ہم بھول چکے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سُنّی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی نے آصف علی زرداری کو پاکستان کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔
سنیچر کو صدارتی انتخاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’میں زرداری صاحب کو مبارکباد دینے گیا تھا لیکن وہ وہاں نہیں تھے، وہاں نوید قمر اور رضا ربانی بیٹھے تھے میں نے انھیں مبارکباد دی۔‘
خیال رہے ووٹنگ کے دوران آصف زرداری کو پارلیمنٹ سے 255 اور ان کے مخالف امیدوار محمود خان اچکزئی کو 119 ووٹ ملے تھے۔
محمود خان اچکزئی نے صدارتی انتخاب میں نامزد کرنے پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’عمران خان صاحب میرے اس وقت کے دوست ہیں جب ہم نے اے پی ڈی ایم (آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) بنائی تھی۔‘
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے اور وہ میاں نواز شریف سے ’درخواست‘ کریں گے کہ اپنی پارٹی کے سمجھدار لوگوں کو یہ ٹاسک سونپیں۔
’ہمیں ایک دوسرے کو سنبھالنا ہے اور یہ بہت آسانی سے ہوسکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری دوسری بار پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔
آصف زرداری کو پارلیمنٹ سے 255 اور ان کے مخالف امیدوار محمود خان اچکزئی کو 119 ووٹ ملے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں آصف علی زرداری نے 47 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف محمود خان اچکزئی صوبائی اسمبلی میں کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکے۔
پنجاب اسمبلی میں آصف علی زرداری کو 246 جبکہ محمود خان اچکزئی کو 100 ووٹ ملے۔
سندھ اسمبلی میں آصف علی زرداری کو 151 جبکہ محمود خان اچکزئی کو نو ووٹ ملے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو 91 جبکہ آصف علی زرداری کو 17 ووٹ ملے۔
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے پر آصف علی زرداری کو مبارکباد دی ہے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ بطور صدر آصف علی زرداری اپنی آئینی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں مل کر پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے محنت کریں گی۔

پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں صدر کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے دروازے بند کردیے گئے ہیں اور اب ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگا۔
خیال رہے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری اور سُنّی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ امیدوار محمود خان اچکزئی صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ خان نے بھی رائے حق دہی کا استعمال کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور سپیکر اسمبلی بابر سلیم نے بھی ووٹ پول کر دیا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی صدارتی انتخابات میں ووٹ کاسٹ کیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی صدارتی ووٹنگ کے دوران مشاورت کر رہے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے- جمیعت العلما اسلام، جماعت اسلامی اور حق دو تحریک نے صدارتی انتخاب میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا ہے جبکہ بی این پی عوامی نے بائیکاٹ کیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 65 ہے۔ سردار اختر مینگل اور جام کمال کی قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے کی وجہ سے بلوچستان اسمبلی کی دو نشستیں خالی ہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی کے ایک حلقے کے نتیجے کا تاحال اعلان نہیں ہوا ہے۔
جمیعت العلما اسلام کے امیر مولانا عبدالواسع نے بتایا کہ جے یو آئی صدارتی انتخاب میں غیرجانبدار رہے گی۔
بلوچستان اسمبلی میں جے یوآئی کے اراکین کی تعداد 12 بنتی ہے۔ بی این پی عوامی کے صدر اسد بلوچ نے بطور احتجاج انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔
حق دو تحریک اور جماعت اسلامی نے بھی صدارتی انتخاب میں غیرجانبدار رہنے کا اعلان کیا ہے- حق دو تحریک ،جماعت اسلامی اور بی این پی عوامی کے بلوچستان اسمبلی میں ایک ایک رکن ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہونے والا صدارتی الیکشن غیرقانونی اور غیر آئینی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج مکمل نہیں ہے۔
عمر ایوب نے کہا کہ ہم نے بار ہا اس عمل پر اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر بھی اعتراض اٹھایا تھا کہ پہلے مخصوص نشستوں کا معاملہ واضح ہونا چاہیے۔
عمر ایوب نے کہا کہ وہ مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے عمل کی مذمت کرتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری آج بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ عارف علوی اپنی مدت سے زیادہ صدر رہے۔ ان کے مطابق عارف علوی کو چاہیے تھا کہ وہ مدت پوری ہونے پر خود ہی گھر چلے جاتے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں میں کابینہ کے نام آپ کے سامنے ہوں گے۔