تحریکِ انصاف کا احتجاج: سردار لطیف کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کر لیا گیا
پاکستان تحریکِ انصاف کے لاہور میں کیے جانے والے احتجاج کے دوران سردار لطیف کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ سمیت کئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ادھر پاکستان کے 14ویں صدرآصف علی زرداری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
لائیو کوریج
صدارتی انتخاب کا عمل جاری، آصف زردری نے بھی ووٹ کاسٹ کر دیا
،تصویر کا ذریعہPTV
رکن قومی اسمبلی اور آصف زرداری نے بھی صدارتی امیدوار کے لیے اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا ہے۔ دونوں صدارتی امیدوار آصف زرداری اور ان کے مد مقابل محمود خان اچکزئی دونوں قومی اسمبلی کے اراکین ہیں۔
اس وقت صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل پارلیمنٹ سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بھی جاری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق ان انتخابات میں پریزائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
آصف زرداری: ’اٹھارویں ترمیم پارلیمنٹ نے کی ہے، ہم نے صرف ایڈوائز دی تھی‘
،تصویر کا ذریعہPPP
صدارتی امیدوار آصف زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ نے کی ہے، ہم نے صرف ایڈوائز دی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں کہ آپ نے پہلے بھی 18ویں ترمیم دی مزید کیا اقدام کریں گے اس کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ’پہلے بھی جو ہوا پارلیمنٹ نے کیا اب بھی پارلیمنٹ کرے گی۔‘
ملک کے 14ویں صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا آغاز
پاکستان کے 14ویں صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ہے۔
صدرِ پاکستان کو عوام کے منتخب نمائندے یعنی ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب کرتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے صدر کے انتخاب والے دن ان تمام ایوانوں (قومی اسمبلی، چاروں صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ آف پاکستان) کو پولنگ سٹیشن کا درجہ دیا جاتا ہے اور پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر صدر پاکستان کے انتخاب میں ریٹرنگ آفیسر کے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور پولنگ کے تمام تر عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔
صدارتی الیکشن جیتنے کے لیے آئین کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے سادہ اکثریت یا 349 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
آئین کے مطابق، صدارتی انتخاب میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جاتا ہے۔ سابق صدر آصف زرداری کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار محمود خان اچکزئی سے ہے۔
صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کی صدارتی انتخابات موخر کرنے کی درخواست مسترد
الیکشن کمیشن نے اپوزیشن اتحاد کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کی صدارتی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے مطابق 30 دن میں صدارتی انتخاب لازمی شرط ہے۔
واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی نے گذشتہ روز الیکشن کمیشن کو درخواست دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک الیکٹورل کالج مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک صدارتی الیکشن ملتوی کرائے جائیں۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی سمیت دیگر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا چکے جن کی جانچ پڑتال بھی ہو چکی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر پر مشتمل الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے محمود خان اچکزئی کے خط کو درخواست میں بدل کر اس پر سماعت کی اور پھر یہ متفقہ فیصلہ دیا کہ صدارتی انتخابات کو محض اس وجہ سے نہیں روکا جا سکتا کہ ابھی مخصوص نشستوں سے متعلق مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
محمود خان اچکزئی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط میں کیا لکھا تھا؟
سُنّی اتحاد کونسل کے نامزد کردہ صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ 9 مارچ کو ہونے والے صدارتی انتخاب کو ملتوی کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو لکھے گئے خط میں محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں ابھی بھی خالی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر شیڈول کے مطابق صدارتی انتخاب ہوتا ہے تو یہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکینِ اسمبلی کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکٹورل کالج مکمل کیے بغیر صدارتی انتخاب کا انعقاد ’غیر قانونی اور پاکستان کے آئین کی روح کے خلاف‘ ہوگا۔
محمود خان اچکزئی کا اپنے خط میں کہنا تھا کہ سُنی اتحاد کونسل نے اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں پیٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ درخواست کنندہ کو امید ہے کہ عدالت سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے فیصلہ سُنّی اتحاد کونسل کے حق میں ہی آئے گا۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خط میں استدعا کی تھی کہ ’اس صورتحال میں صدارتی انتخاب واضح طور پر ناممکن ہے اس لیے اسے الیکٹورل کالج کے مکمل ہونے تک ملتوی کیا جائے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے صدارتی امیدوار محمود محمود خان اچکزئی کیجانب سے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر صدارتی انتخابات ملتوی کرنے کے مطالبے کو غیرجمہوری قرار دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
آصف زرداری بمقابلہ محمود اچکزئی: ملک کے 14ویں صدر کا انتخاب آج ہوگا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے 14ویں صدر کا انتخاب آج عمل میں لایا جائے گا۔ سابق صدر آصف زرداری کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار محمود خان اچکزئی سے ہے۔
اس صدارتی انتخاب میں چاروں صوبائی اسمبلیاں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان ملک کے نئے صدر کا چناؤ کریں گے۔
چیف الیکشن کمشنر ان انتخابات میں ریٹرننگ افسر کے فرائض سر انجام دیں گے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں صبح دس سے شام چار بجے تک پولنگ ہو گی۔
صدارتی انتخاب کا طریقہ کار
تمام صوبائی اسمبلیوں کو یکساں نمائندگی دینے کے لیے ملک کی تین بڑی صوبائی اسمبلیوں کو ملک کی سب سے چھوٹی، بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد کے برابر 65 ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جاتا ہے جبکہ باقی تینوں اسمبلیوں میں سے ہر ایک اسمبلی کی تعداد کو بلوچستان اسمبلی کی تعداد پر تقسیم کیا جاتا ہے اور جو عدد آتا ہے، اس اسمبلی کے اتنے اراکین کا مل کر ایک ووٹ بنتا ہے۔
مثلاً، پنجاب اسمبلی کی 371 نشستوں 65 سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کا جواب 5.7 آتا ہے۔ اس کا مطلب پنجاب اسمبلی کے 5.7 ارکان مل کر صدارتی الیکشن کا ایک ووٹ بناتے ہیں۔
تاہم اس وقت اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد مکمل نہیں۔ الیکشن میں آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے بعد از انتخابات سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر لی جس کے بعد سنی اتحاد کونسل نے اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مختص نشستیں میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے سُنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد، سنی اتحاد کونسل نے اس اقدام کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ جس پر عدالت نے سپیکر قومی اسمبلی کو خیبرپختونخوا کے کوٹے سے منتخب ہونے والی نو خواتین اراکینِ قومی اسمبلی، جو کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی تھیں، کو حلف لینے سے روک دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کی حلف برداری، سُنّی اتحاد کونسل کا احتجاج
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعے کو مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین
نے حلف لے لیا ہے۔
اس حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما عمر
ایوب کا کہنا تھا کہ آج اسمبلی میں جو حلف لیا گیا ہے وہ غیر آئینی ہے اور اس کی
کوئی اہمیت نہیں۔
قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو بتایا کہ انھیں
عدالت یا الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں پر حلف نہ دینے کی کوئی ہدایات
موصول نہیں ہوئی ہیں۔
خیال رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 4 مارچ کو سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور
اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کردی تھی اور 5 مارچ کو سنی اتحاد
کونسل کے حصے کی مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کا حکم دے دیا
تھا۔ سنی اتحاد کونسل نے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے بارے میں درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کے
لارجر بنچ نے سماعت13 مارچ تک ملتوی کر دی تھی اور الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم
امتناع میں بھی 13 مارچ تک توسیع دے دی تھی۔
منصور عثمان اعوان نے قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ
کے حکمِ امتناع کا اطلاق خیبرپختونخوا کے حصے میں آنے والی خواتین کی مخصوص نشستوں
پر ہوتا ہے اور آج ان آٹھ نشستوں پر کسی نے حلف نہیں لیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج حلف لینے والے افراد کا تعلق خیبر پختونخوا سے نہیں،
اس لیے ان کے نزدیک پشاور ہائی کورٹ کے حکم کی توہین نہیں ہوئی ہے۔
مخصوص نشستوں کے فیصلے تک صدارتی انتخاب ملتوی کیا جائے: محمود خان اچکزئی کا الیکشن کمیشن کو خط
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سُنّی اتحاد کونسل کے نامزد کردہ صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی نے الیکشن
کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ 9 مارچ کو ہونے والے صدارتی
انتخاب کو ملتوی کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو لکھے گئے خط
میں محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں
ابھی بھی خالی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر شیڈول کے مطابق صدارتی
انتخاب ہوتا ہے تو یہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکینِ اسمبلی کے بنیادی
آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ الیکٹورل کالج مکمل کیے بغیر
صدارتی انتخاب کا انعقاد ’غیر قانونی اور پاکستان کے آئین کی روح کے خلاف‘ ہوگا۔
محمود خان اچکزئی کا اپنے خط میں کہنا تھا کہ
سُنی اتحاد کونسل نے اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں پیٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ درخواست کنندہ کو امید ہے
کہ عدالت سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے فیصلہ سُنّی اتحاد کونسل کے حق میں ہی آئے
گا۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خط میں استدعا کی ہے
کہ ’اس صورتحال میں صدارتی انتخاب واضح طور پر ناممکن ہے اس لیے اسے الیکٹورل کالج
کے مکمل ہونے تک ملتوی کیا جائے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے صدارتی امیدوار محمود محمود خان اچکزئی کیجانب سے
الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر صدارتی انتخابات ملتوی کرنے کے مطالبے کو غیرجمہوری
قرار دیا ہے۔
پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ محمود خان
اچکزئی کی جانب سے لکھا گیا خط جمہوری عمل کی تکمیل میں رخنہ ڈالنے اور جمہوریت کو
پٹڑی سے اتارنے کی کوشش ہے۔
خیال رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 4 مارچ کو سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور
اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کردی تھی اور 5 مارچ کو سنی اتحاد
کونسل کے حصے کی مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کا حکم دے دیا
تھا۔ سنی اتحاد کونسل نے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے بارے میں درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کے
لارجر بنچ نے سماعت13 مارچ تک ملتوی کر دی تھی اور الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم
امتناع میں بھی 13 مارچ تک توسیع دے دی تھی۔
خیال رہے سُنّی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پنجاب میں مخصوص
نشستیں نہ دینے کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کر رکھا ہے۔
صدارتی انتخاب: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی
ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے
احکامات جاری کردیے ہیں۔
جمعے کو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی کی زیرِصدارت منعقد ہوا
جس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے درخواست کی کہ 9 مارچ کو ہونے والے صدارتی
انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے لیے سینیٹر اعجاز چوہدری کی سینیٹ میں حاضری یقینی بنائی
جائے۔
سینیٹ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ
سینیٹر اعجاز چوہدری 9 مئی 2023 سے متعدد مقدمات میں پنجاب پولیس کی حراست میں ہیں۔
انھوں نے ڈپٹی چیئرمین سے درخواست کی کہ صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے لیے
سینیٹر اعجاز چوہدری کی اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بحیثیت سینیٹ اگر ہمارے پاس اتنی طاقت اور ہمت نہیں
ہے کہ ہم اپنے ایک سینیٹر کو صدارتی ووٹ کے لیے بُلا سکیں تو پھر یہ ایک شرمناک فعل
ہوگا۔‘
سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری بیمار ہیں، ان کے طبی
معائنے کے لیے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور اس
دوران انھیں پارلیمنٹ لاجز میں رہنے کی اجازت دی جائے۔
سینیٹر علی ظفر کی تقریر کے بعد سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی نے سینیٹ
کے سیکریٹری کو حکم دیا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سیکریٹری صاحب اعجاز چوہدری صاحب کا پروڈکشن آرڈر جاری
کریں صدارتی انتخاب کے لیے، یہ ان کا حق ہے اور وہ سینیٹ کے ایک رُکن ہیں۔‘
عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا تبصرہ: ’انتخابی شکایات کا منصفانہ حل چاہتے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تصدیق کی ہے کہ انھیں پاکستان کے سابق
وزیرِاعظم اور تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے ایک خط
موصول ہوا ہے، تاہم اس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے اندرونی سیاسی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے لیے ادارہ جاتی ماحول ٹھیک ہونے کی بڑے اہمیت ہوتی ہے لہٰذا تمام انتخابی شکایات صاف
اور شفاف طریقے سے حل کی جانی چاہیے۔
خیال رہے گذشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ آئی ایم
آف کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کریں گے کہ کوئی بھی نیا مالیاتی پروگرام شروع کرنے سے
قبل مبینہ انتخابی دھاندلی کے معاملے پر غور کریں اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ
کریں۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولی کوزیک کا کہنا ہے کہ آئی
ایم ایف پاکستان میں نئی کابینہ کی تشکیل کے فوراً بعد سٹینڈ بائی معاہدے کے دوسرے
جائزے کے لیے مشن بھیجنے کے لیے تیار ہے۔
2024
میں پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات اور ملک کے لیے اگلے آئی ایم ایف پروگرام کے
تخمینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ 11 جنوری
کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے
جائزے کی منظوری دی، جس کے بعد سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت کل ادائیگی تقریباً 1.9
ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
کوزیک کا کہنا تھا کہ فی الحال بین الاقوامی ملیاتی ادارے کی توجہ موجودہ سٹینڈ
بائی پروگرام کی تکمیل پر ہے، جو اپریل 2024 میں ختم ہو رہا ہے۔ ’ہم معاشی استحکام
کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکومت کے ساتھ پالیسیوں پر کام کرنے کے منتظر ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں پاکستانی حکام نے معاشی استحکام کو
برقرار رکھنے اور افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی کے موقف کو
برقرار رکھا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
جب ان سے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سوال پوچھا گیا تو انھوں نے اس
پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد
آئی ایم ایف پاکستان اپنا مشن بھیجنے کو تیار ہے۔
الیکشن وقت پر کروانے میں جسٹس طارق مسعود کا بھی کردار تھا: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
،تصویر کا ذریعہSupreme Court/Website
سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے جج جسٹس سردار
طارق مسعود کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عام انتخابات وقت پر کروانے میں ان کے ساتھی جج کا بہت
بڑا کردار تھا۔
جمعے کو فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ لاہو ہائی کورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر
سے تاخیر کا شکار ہوسکتے تھے لیکن انھوں نے اور ساتھی ججوں نے چھٹیوں سے پہلے رات
کو بیٹھ کر اس آرڈر کے خلاف کیس سُنا۔
خیال رہے الیکشن سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے اپنے
ایک فیصلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انتخابات میں بیوروکریٹس کو بطور الیکشن
افسران استعمال کرنے سے روکا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد انتخابات کے
التوا کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں لاہور ہائی
کورٹ کا حکم معطل کر دیا تھا۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جسٹس طارق مسعود کا الیکشن
کو التوا سے بچانے کے لیے پسِ منظر میں بھی ایک کردار تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ الیکشن سے متعلق کیس
تین سینیئر ججز پر مشتمل بینچ بنا کر سننا چاہتے تھے لیکن جسٹس اعجاز الاحسن نے بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ان کے بعد دوسرے سینئر جج کو ساتھ
بٹھایا اور رات 12 بجے الیکشن سے متعلق فیصلہ سنایا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہوتا تو صدرِ پاکستان اور الیکشن کمیشن کی دی
ہوئی تاریخ پر الیکشن نہ ہوتے۔
صدر عارف علوی کو الوداعی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
جمعے کے روز صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو الوداعی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عارف علوی نے 9 ستمبر 2018 کو پاکستان کے 13ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔
سنیچر کے روز، پاکستان کے 14ویں صدر کا انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ حکومتی اتحاد کی جانب سے سابق صدر اور پاکستان پیپلرز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری صدارتی امیدوار ہیں۔ ان کا مقابلہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ہے۔
’خواتین کو یکساں ترقی کے مواقع کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر تقریبات اور ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔
خواتین کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خواتین کو مساوی حقوق اور یکساں ترقی کے مواقع کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نےخواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ترقی پسند معاشرے کی تشکیل کے لئے خواتین کو قومی دھارے میں لانا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون وزیر اعلیٰ کا انتخاب ملک میں خواتین کا سیاسی عمل اور ملک کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار کی عکاسی ہے۔
دوسری جانب، پچھلے کئی سالوں کی طرح اس سال بھی ملک کے کئی شہروں بشمول کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملتان میں عورت مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
لاہور، اسلام آباد اور ملتان میں مارچ کا آغاز دوپہر دو بجے ہوگا جبکہ کراچی میں جلوس ڈھائی بجے نکلے گا۔
نئی کابینہ کی تشکیل کے فوراً بعد مشن پاکستان آنے کو تیار ہے: آئی ایم ایف
،تصویر کا ذریعہIMF
بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولی کوزیک کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان میں نئی کابینہ کی تشکیل کے فوراً بعد سٹینڈ بائی معاہدے کے دوسرے جائزے کے لیے مشن بھیجنے کے لیے تیار ہے۔
2024 میں پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات اور ملک کے لیے اگلے آئی ایم ایف پروگرام کے تخمینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ 11 جنوری کو، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے جائزے کی منظوری دی، جس کے بعد سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت کل ادائیگی تقریباً 1.9 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
کوزیک کا کہنا تھا کہ فی الحال بین الاقوامی ملیاتی ادارے کی توجہ موجودہ سٹینڈ بائی پروگرام کی تکمیل پر ہے، جو اپریل 2024 میں ختم ہو رہا ہے۔ ’ہم معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکومت کے ساتھ پالیسیوں پر کام کرنے کے منتظر ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں، پاکستانی حکام نے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی کے موقف کو برقرار رکھا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
آئی ایم ایف ڈآئریکٹر کا کہنا تھا کہ اس دوران پاکستان نے توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے ٹیرف میں بروقت ایڈجسٹمنٹ بھی کیے۔
جب ان سے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سوال پوچھا گیا تو انھوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد آئی ایم ایف پاکستان اپنا مشن بھیجنے کو تیار ہے۔
گذشتہ روز کی اہم خبروں
گذشتہ روز کی کچھ اہم خبروں کا خلاصہ
جمعرات کے روز، سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف نو شکایات کا جائزہ لیا اور انھیں مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا۔ کونسل نے قرار دیا ہے کہ جسٹس نقوی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دینا چاہیے تھا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ان کو 14 مارچ تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں میں بلوچستان کے پانچ اضلاع میں 12سو 70 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 235 سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔
سُنّی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ دینے کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری کی حمایت کرے گی اور ان کو ووٹ دے گی۔
بریکنگ, ہم صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری کی حمایت کریں گے اور ان کو ووٹ دیں گے: ایم کیو ایم
،تصویر کا ذریعہPPP
متحدہ قومی موومنٹ نے پاکستان کے نئے صدر کے لیے آصف زرداری کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری کی حمایت کریں گے اور ان کو ووٹ دیں گے۔‘
ان کے مطابق ایم کیو ایم نے ہی سب سے پہلے آصف زرداری کا نام صدر کے طور پر تجویز کیا تھا۔ بلاول بھٹو کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما بھی ایم کیو ایم سے ووٹ اور حمایت مانگنے گئے تھے۔
بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری آج ہونے والی میٹنگ بہت اچھی رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ خود کراچی میں پیدا ہوئے ہیں اور ایم کیو ایم کی بھی کراچی میں سیاست ہے اور اب ہم مل کر اس شہر کے مسائل حل کرنے پر کام کریں گے۔
آئن سٹائن چیلنجز سے نہیں ڈرا، شہباز شریف بھی نہیں ڈریں گے: آصف زرداری کا عشائیے سے خطاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ آصف علی زرداری پاکستان کے نئے صدر ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت مشکل چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے سربراہان، سینیٹرز اور ارکان اسمبلی کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹھیک کہا کہ واقعی چیلنجز مشکل ہیں، ہم شہباز شریف کے پیچھے کھڑے ہوں گے، ناممکن کچھ بھی نہیں، ہم پاکستان کو بنائیں گے۔
آصف زرداری نے کہا کہ ایگلری کلچر بنیادی مسئلہ ہے، اسے ٹھیک کریں اور ڈیمز بنائیں، ہم چین کے لیے فورس ملٹی پلائر بن جائیں، پورا بلوچستان خالی پڑا ہے، صرف پانی لاناہے، مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں، محنت کریں گے، کام کریں گے اور آپ دوستوں کی مدد سے پاکستان کو بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ذوالفقارعلی بھٹو کا ریفرنس بھیجا تو کوئی نہیں سمجھتا تھا کیا ہوسکتا ہے یا کیا ہو گا، میں سمجھ رہا تھا کہ کیا ہوسکتا ہے، آپ نے دیکھا تاریخ نے پلٹا کھایا، تاریخ مانی ذوالفقار علی بھٹو کا جوڈیشل مرڈر تھا۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری دوسری مرتبہ منتخب ہونے والے پہلے سویلین صدر ہوں گے، پارلیمنٹ کو اختیارات کی واپسی کا اعزاز بھی آصف زرداری کو حاصل ہوا، امید ہے آصف زرداری بطور صدر مملکت وفاق کو مضبوط کریں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے 18ویں ترمیم کرکے صدر پاکستان کے تمام اختیارات پارلیمنٹ کو دیے تھے، پاکستان کے نظام میں کوئی بھی اپنا اختیار نہیں دیتا، تاریخ آصف زرداری کویاد رکھےگی۔
پاکستان میں ہتک عزت کے قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے: مرتضیٰ سولنگی
سابق نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیک نیوز ایک عالمی وبا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ
ایک نیا فیشن ہے اور اس میں سیٹھ میڈیا بے حد قصوروار ہے، جہاں پروفشنل ایڈیٹرز کا
کردار ختم ہو گیا ہے۔ جعلی خبریں پھیلانے والے پلیٹ فارمز اربوں روپے کا کاروبار
کر رہے ہیں۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ’فیک نیوز کو روکنے کا
ایک طریقہ یہ ہے کہ ڈالہ بھیجو، پکڑو اور اندر کر دو۔‘
ان کے مطابق لندن نیویارک یا کہیں بھی اور آپ
یہ نہیں کر سکتے۔ انھوں نے تجویز دی کہ ملکی سطح پر پروفشنل صحافیوں کا ایک بورڈ
بننا چاہیے جو کم از کم جعلی خبروں پر کسی صحافی کو ایک مذمتی سرٹیفکیٹ ہی جاری
کر دے۔ انھوں نے ہتک عزت قوانین کو سخت کرنے کی تجویز بھی دی۔
ڈیجیٹل میڈیا اور فیک نیوز پر اس سیمینار کا انعقاد
نجی ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم وی نیوز نے کیا تھا۔ اس تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی
کے رہنما قمر زمان کائرہ، اینکر پرسن طلعت حسین، صحافی ابصار عالم، عمر چیمہ، اسد بیگ اور ثنا مرزا نے بحث میں حصہ لیا۔
قمر الزمان کائرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کہ
سوشل میڈیا تو صرف ایک ذریعہ ہے، پروپیگنڈا تو پہلے سے موجود ہے۔ ان کےمطابق میڈیا ہمارے سماج ہی کا حصہ ہے اور جو
برائیاں ہمارے سماج میں ہیں وہ میڈیا میں بھی ہیں۔ جو بندہ جتنا چیخ کے بولتا ہے
اتنی ہی اسے ویورشپ ملتی ہے، ہمارے معاشرے میں اخلاقی قدریں کمزور ہوئی ہیں، لیکن
اب تو مسئلہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حملے سے کیسے بچیں گے؟
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا میٹرز فار
ڈیموکریسی کے اسد بیگ نے کہا کہ سب سے زیادہ جعلی خبریں ایکس سابقہ ٹوئٹر اور یوٹیوب پر ہوتی
ہیں، ہم خبروں کی تصدیق کے حوالے سے فیکٹ چیک پر کام کرتے ہیں۔
ان کے مطابق 170 خبروں کا فیکٹ چیک کیا تو ان
میں سے 87 ایک سیاسی جماعت کے فائدے کے لیے تھیں۔ ان کے مطابق جعلی خبروں کا تعلق
پاور اور پیسے کے ساتھ ہے۔
اسد بیگ کے مطابق غلط خبریں سیاسی اور مالی
فائدے کے لیے دی جاتی ہیں۔ امریکہ میں صدر جو بائیڈن کی آواز میں لوگوں کو پیغامات
بھجوائے گئے۔ اسد بیگ نے بتایا کہ حالیہ انتخابات کے حوالے سے 81 فیصد جعلی خبریں
ٹوئٹر پر تھیں لیکن ٹوئٹر اور انٹرنیٹ بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ
انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا الگورتھم کا توڑ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
اداروں کے نقصانات قرضے لے کر پورے کرنے پڑ رہے ہیں: وزیرِاعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے نومنتخب
وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ملکی اداروں کے نقصانات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ حکومتوں
کو ان کو پورا کرنے کے لیے قرضے پڑ رہے ہیں۔
جمعرات کو اتحادی جماعتوں
کے رہنماوں کو دیے گئے عشائیے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف کا
کہنا تھا کہ پاکستان میں گیس اور بجلی کے سیکٹر پر گردشی قرضے کی مجموعی مالیت
پانچ کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا 825 ارب روپے ہے جبکہ سالانہ
تقریباً 500 ارب روپے کی بجلی چوری کی جا رہی ہے۔
ٹیکس بڑھانے کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گمبھیر معاشی
صورتحال کا سامنا ہے۔
انھوں نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ آصف علی
زرداری اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہوں گے اور پاکستان کے صدر منتخب ہوں گے۔
صدارت کے امیدوار آصف علی زرداری کا اس موقع پر
کہنا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف مشکل چیلنجز سے نہیں ڈریں گے اور پاکستان پیپلز
پارٹی ان کے پیچھے کھڑی ہو گی۔
بریکنگ, سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے جسٹس سید مظاہر علی نقوی مس کنڈکٹ کے مرتکب قرار
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT
سپریم
جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا
ہے۔
واضح
رہے کہ مظاہر نقوی پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں۔ ان کے استعفے کے بعد سپریم کورٹ نے سپریم
جوڈیشل کونسل کو ایسے جج کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا اختیار دیا تھا جو کونسل
کی کارروائی کے دوران مستعفی ہو جائے۔
خیال
رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 29 فروری اور یکم مارچ کو ہوا تھا۔
سپریم
جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف نو شکایات کا جائزہ لیا اور انھیں قصوروار
قرار دیا۔ کونسل نے قرار دیا ہے کہ جسٹس نقوی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دینا چاہیے تھا۔
کونسل
کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے
ججز کے خلاف الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کی تشہیر بھی ہوئی۔ متعدد ججز نے اس پر
تحفظات کا اظہار کیا کہ اگر وہ ایسے الزامات کا جواب دیتے ہیں تو پھر یہ مس کنڈکٹ
کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
کونسل
کے مطابق ایسے ججز کو صفائی دینے کا موقع دیا گیا ہے اور اب متعدد ججز کے خلاف کارروائی
ختم کی گئی ہے جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک جج کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دنوں
میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
جسٹس مظاہر علی نقوی کے خلاف الزامات پر سپریم جوڈیشل کونسل نے گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے اور پھر شواہد کی روشنی میں انھیں قصوروار قرار دینے کا فیصلہ سنا دیا۔
جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر الزامات کیا تھے؟
سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بتائی گئی تھیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائی تھیں۔
میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک تھیں۔
اس شکایت میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک تھی۔
شکایت کے ساتھ منسلک دستاویزات میں کہا گیا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ 4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا جبکہ اسے 7 کروڑ 20 لاکھ کا ڈکلیئر کیا گیا۔
ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13 کروڑ میں اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر دیا اور بعد ازاں اسے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کا ڈکلیئر کیا۔
ان دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4 کنال کا پلاٹ 10 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ جج نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کی مدد سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ صرف پانچ لاکھ روپے میں دلوایا جبکہ مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت اس وقت بیس لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔
ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے دو بیٹوں کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ محض نو لاکھ روپے میں دیے گئے جبکہ مارکیٹ میں ان پلاٹ کی ویلیو تین کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
ان دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ مذکورہ جج کی بیٹی کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں دس ہزار برطانوی پاؤنڈز دبئی سے ٹراسنفر کیے گئے۔